قطر کی مشکلیں اور ٹرمپ کی ’’برکتیں‘‘

تحریر: ثاقب اکبر

کیسے ہوسکتا ہے کہ جناب ٹرمپ مسلمانوں کے خطے میں آئیں اور پھر ان کی ’’برکتیں‘‘ پورے خطے پر برسنا نہ شروع ہو جائیں۔ پہلے تو ان پر ڈالروں، تحفوں اور شاہی نوازشوں کی بارش ہوئی اور اب ان کے جانے کے چند دن بعد ان کی ’’برکتیں‘‘ برسنا شروع ہوگئی ہیں۔ سعودی عرب کے شاہی خاندان و ہمنواؤں کے قطریوں کے ساتھ جو تازہ ’’سلام و پیام‘‘ کا سلسلہ سامنے آیا ہے، وہ جناب ٹرمپ ہی کی ’’ٹرپلیوں‘‘ کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی وجہ سے ہی خطے میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے الزام میں قطر پر اس کے ہمسایہ ممالک نے دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ان کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں اور حالیہ واقعات ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کے خوف کے خاتمے کی ابتدا ہو۔ پیر 5 جون 2017ء کو سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ابتدائی طور پر اپنے قریبی اتحادیوں سے قطر کے بائیکاٹ کا اعلان کروانے کے بعد سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے کہ وہ قطر سے اپنے تعلقات منقطع کریں۔ چنانچہ موریطانیہ اور مالدیپ نے بھی قطر سے اپنے تعلقات توڑ لئے ہیں۔ اردن نے توڑے تو نہیں لیکن سفارتی تعلقات کو ایک درجہ کم کر لیا ہے۔ یمن کی نام نہاد حکومت جو دراصل سعودیہ ہی کے رحم و کرم پر باقی ہے، نے بھی قطر سے تعلقات توڑنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان اور دیگر کئی ملکوں نے سعودی عرب کی اس خواہش پر عمل نہیں کیا۔ خلیج تعاون کونسل کے بھی دو اہم اراکین کویت اور اومان نے بھی قطر سے سفارتی تعلقات منقطع نہیں کئے۔



بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے اپنے حالیہ سفر کے دوران سعودی عرب سے کہا تھا کہ قطر انتہا پسند نظریات کی حمایت کر رہا ہے اور انہیں فنڈ دے رہا ہے۔ گذشتہ منگل کو صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا کہ میں نے اپنے مشرق وسطٰی کے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ انتہا پسند نظریات کا اب مزید فروغ نہیں ہوگا تو موجود رہنماؤں نے قطر کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ سعودی عرب کے دورے میں بادشاہ سے ملاقات اور وہاں پچاس ممالک کی شرکت کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اتنہا پسندی کے فروغ کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں گے اور تمام کا اشارہ قطر کی جانب تھا۔ شاید یہ دہشت گردی کے خوف کے اختتام کی شروعات ہوں۔ صدر ٹرمپ کی ان ٹویٹس سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ خلیج تعاون کونسل میں نئی خلیج کی بنیاد صدر ٹرمپ کے دورہ ریاض میں ہی رکھی گئی۔ اگرچہ اس کی وجوہات پہلے سے جمع کی جا رہی تھیں۔ اس وقت تک جو بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں، ان میں سے سب سے نمایاں قطر کی طرف سے اخوان المسلمین اور حماس کی حمایت ہے۔ قطر نے مصر میں قائم ہونے والی اخوان المسلمین کی حکومت سے تعاون کیا، وہ مصر کے صدر ڈاکٹر مرسی کی حمایت کرتا رہا، جبکہ سعودی عرب نے 2013ء میں وہاں اخوان المسلمین کی حکومت کے خاتمہ کے لئے فوج کی حمایت کی اور جنرل سیسی نے جب صدر مرسی کی حکومت کا تختہ پلٹا تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس کی بھرپور مالی پشت پناہی کی۔ مصر کی موجودہ حکومت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اسی طرح قطر گذشتہ چند برسوں سے فلسطین میں قائم تنظیم حماس کا بھی حامی رہا ہے۔ علاوہ ازیں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ایران کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ یہ الزامات اس امر کے لئے کافی ہیں کہ قطر کو دہشت گرد قرار دے دیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ حماس اور اخوان المسلمین کے خلاف کارروائی کے لئے پس پردہ اسرائیل کا ہاتھ بھی کارفرما ہے۔ صدر ٹرمپ کے مشرق وسطٰی کے حالیہ دورے کا ایک بنیادی مقصد اسرائیل کو زیادہ محفوظ اور طاقتور بنانا بھی تھا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر وہ گوشہ جہاں سے اسرائیل کے لئے خطرے کا امکان ہوسکتا ہے، اسے پوری طرح ہموار کر دیا جائے۔ قطر میں اگرچہ خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا فضائی اڈہ موجود ہے اور قطر امریکہ کے وفادار اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود اسے یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ جن تنظیموں کو اسرائیل دہشت گرد قرار دے، ان کے ساتھ وہ اچھے تعلقات رکھے۔ قطر سعودی تنازعے کو قطر کی اقتصادی طاقت کے پہلو سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ دورے میں صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 110 ارب ڈالر کا اسلحہ بیچنے کا معاہدہ کیا ہے اور اس کے علاوہ بھی 250 ارب ڈالر کے سودے کئے ہیں۔ ریاض میں صدر ٹرمپ کی خوش گپیوں اور ٹرپلیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ مختلف بادشاہوں سے امریکی اسلحے کی تعریف کرتے پائے گئے، یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا اسلحہ بڑا خوبصورت ہوتا ہے۔ یقینی طور پر امریکہ کو یہ اندازہ ہے کہ سعودی عرب اب زیادہ عرصہ اور زیادہ مقدار میں امریکی معیشت کا سہارا نہیں بن سکتا، لہٰذا ضروری ہے کہ علاقے کی دیگر خوشحال ریاستیں زیادہ سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے رجوع کریں۔ اس سلسلے میں قطر امکانی طور پر ایک اہم خریدار ہوسکتا ہے۔ اسے خریدار بنانے کے لئے ہمسایوں سے خوفزدہ کرنا ضروری ہے۔ موجودہ صورت حال کو اس تاجرانہ اور ظالمانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پہلے بھی عربوں سے لوٹ مار کے لئے ان کے سامنے ایران کو ہوّا بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

قطر جس کا کل رقبہ 11,586 کلو میٹر ہے اور آبادی 27 لاکھ کے قریب ہے، علاقے کی ایک زبردست اور مضبوط معیشت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی جی ڈی پی 353 ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور فی کس آمدنی 145,894 ڈالر ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ قطر کی فوج تقریباً گیارہ ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ امریکہ کے قطر میں متعین فوجیوں کی تعداد ایک ذریعے کے مطابق 10 ہزار ہے۔ قطر میں موجود امریکہ کی فوجی طاقت کا قطر کسی صورت مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس وقت خطے میں جو تیز رفتار پیش رفت ہو رہی ہے، اس کے مطابق سعودی عرب نے ثالثی کے لئے آنے والے امیر کویت کے ذریعے امیر قطر کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمارے 10 مطالبے فوری طور پورے کریں، ورنہ ہم قطر کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرسکتے ہیں۔ قطر کی مجبوری یہ ہے کہ اس کی زمینی سرحد صرف سعودی عرب سے ملتی ہے۔ قطر کی غذائی اور دیگر ضروریات کا 90 فیصد سعودی عرب ہی کے راستے سے پہنچتا ہے۔ سعودی عرب نے یمن کے خلاف لڑنے والے قطری دستے واپس بھیج کر اسے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم تمھیں سیدھا کرنے کے لئے آخری حد تک جا سکتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ قطر کے پاس بظاہر اس کے سوا کوئی چارا نہیں کہ وہ سعودی عرب کی دھمکیوں کے جواب کے لئے امریکہ کی منت سماجت کرے۔ ظاہر ہے کہ جناب ٹرمپ جب قطر کو اس کے طاقتور ہمسائے سے’’نجات‘‘ دلانے کے لئے آگے بڑھیں گے تو اس کی قیمت وصول کریں گے۔ اس کے لئے قطر کو اپنا قبلہ بھی درست کرنا ہوگا، نیز قطر سے یہ بھی کہا جائے گا کہ طاقتور ہمسایوں سے آئندہ کے لئے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی طاقت میں اضافہ کریں۔ اس طرح موجودہ حالات میں صدر ٹرمپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی پانچوں انگلیاں بھی گھی میں ہیں اور سر ایک کڑاھی سے نکل کر دوسری کڑاھی میں جانے والا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ قطر کی صورت حال میں کوئی نیا عنصر پیدا نہیں ہوسکتا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ کیا قطر کی قیادت میں اتنا عزم اور دم خم ہے کہ وہ سعودی عرب کے مقابلے میں ایران اور ترکی کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا سکے۔ نیز کیا خود اس کے اپنے ملک میں موجود امریکہ اسے اجازت دے گا کہ وہ نہ فقط حماس اور اخوان المسلمین کی حمایت جاری رکھے بلکہ ایران کے ساتھ بھی اپنے روابط مزید استوار کر لے۔ شاید اسی صورت حال کے پیش نظر امریکی صدر نے سعودی عرب اور قطر کو پیشکش کی ہے کہ وہ ضرورت محسوس کریں تو وائٹ ہاؤس میں آکر آپس میں مذاکرات کرسکتے ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب نے فی الحال تو کسی کی ثالثی قبول کرنے سے انکار کیا ہے، لیکن آخر کار اس کی ’’بزرگوں‘‘ کے سامنے اطاعت شعاری کی سرشت روبکار آ ہی جائے گی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز