ٹویٹ کرو، تاکہ پہچانے جاؤ

 

تحریر: ثاقب اکبر



امیرالمومنین حضرت علیؑ نے ایک موقع پر فرمایا تھا: ’’بولو تاکہ پہچانے جاؤ‘‘ ہم جب بھی یہ فرمان پڑھتے تو سوچتے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب بھی بولیں گے، پہچانے جائیں گے۔ جب سے سوشل میڈیا آیا ہے، بولنے کا عمل زیادہ تر زبان کے بجائے انگلیوں کے ذریعے سے ہو رہا ہے۔ ان دنوں تو کئی ملکوں میں ٹویٹس نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ یہاں تک کہ کہا جاسکتا ہے: ’’ٹویٹ کرو تاکہ پہچانے جاؤ‘‘ ہم تو کہیں گے کہ بات اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے، اب بعض ٹویٹس پر تو یوں کہا جاسکتا ہے: ’’ٹویٹ کرو، تاکہ پکڑے جاؤ‘‘ چند روز پہلے معروف بھارتی گلوکار سونو نگم کو ایک ٹویٹ بہت بھاری پڑ گیا۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: ’’وہ مسلمان نہیں لیکن روز صبح کیوں ان کو اذان کی آواز سے اٹھنا پڑتا ہے۔" انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’’کب تک بھارت میں ایسی مذہبی ریتیوں کو نبھانا پڑے گا۔" اس ٹویٹ کے بعد وہ تنازعات میں گھر گئے اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا۔ سونو نگم کے جواب نے بحث کو ختم نہیں کیا بلکہ یہ اور بھی پیچیدہ ہوگئی۔


ان دنوں پاکستان میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے ایک ٹویٹر پیغام پر بحث جاری ہے۔ انہوں نے ڈان لیکس کے بارے میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے دستخطوں سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: ’’ڈان لیکس کا نوٹیفکیشن نامکمل ہے اور رپورٹ انکوائری بورڈ سفارشات کے مطابق نہیں ہے، اس رپورٹ کو مسترد کیا جاتا ہے۔‘‘ اس پر کراچی میں موجود وزیر داخلہ چوہدری نثار آگ بگولہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹویٹس پاکستان کی جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس نوٹیفکیشن جاری نہیں کرسکتا۔ اداروں میں ٹویٹس کے ذریعے ایک دوسرے کو مخاطب نہیں کیا جاتا۔ نوٹیفکیشن وزارت داخلہ نے جاری کرنا ہوتا ہے اور ہم نے کوئی نوٹیفکیشن جاری ہی نہیں کیا تو پھر یہ بھونچال کیسے آگیا۔ چوہدری نثار کے بیان پر طرح طرح کے تبصرے جاری ہیں۔ پیپلز پارٹی کے راہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار مریم نواز کے ٹویٹس بند کروائیں تو پھر مانیں گے۔

مریم نواز کا نام آیا تو ان کے ٹویٹس بھی آج کل بحث اور مناظرے بلکہ خصوصی ٹی وی مذاکروں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے 2 مئی کو ایک ٹویٹ میں پانامہ لیکس کو ردی کا ٹکڑا قرار دے دیا اور لکھا کہ اسے باقی دنیا میں ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ پانامہ پر انحصار کرنے والوں اور وزیراعظم کا استعفٰی چاہنے والوں کو خاک چاٹنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ پیپرز کرپشن کے حوالے سے نہیں تھے، جبکہ اسے جاری کرنے والوں نے بھی اس کا دعویٰ نہیں کیا، اس لئے شکست خوردہ خطرے کے انتہائی قریب ہیں۔ مریم نواز کے ٹویٹ کے فوری بعد ایک جرمن صحافی باسٹین اوبر مائر نے ان کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ پانامہ پیپرز کرپشن سے ہی متعلق ہیں اور یہ تمام حقائق پر مبنی ہیں۔ جرمن صحافی نے مزید کہا کہ پانامہ کا ایشو 150 ملکوں میں چل رہا ہے اور یہ حقائق پر مبنی ہے، ہمیں کسی کی حکومت گرانے کا شوق نہیں۔ یاد رہے کہ یہ جرمن صحافی پانامہ پیپرز کو مرتب کرنے والے اور اس کی تحقیق کرنے والے افراد میں شامل ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ یوں ہیں:Sorry to tell you Panamapapers are about corruption. We found an astonishing number of corruption cases in the documents- and all real.

امریکہ کے موجودہ صدر ویسے تو مسلسل اپنے بیانات اور اقدامات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتے ہیں، لیکن اپنے ٹویٹس پر بھی وہ نئے تنازعات کھڑے کر لیتے ہیں۔ فروری 2017ء میں جب سہیون شریف پر حملہ ہوا تو امریکی صدر نے سہیون شریف کو سویڈن سمجھا اور بقول ہمارے ایک سینیئر صحافی کے مسلمانوں اور مسلم ملکوں سے گھبرائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بدحواسیاں جاری ہیں۔ فلوریڈا میں انہوں نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سہیون کو سویڈن سمجھا اور وہاں ہونے والی دہشتگردی کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمان تارکین وطن کو اپنے بغض کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے دیکھا کہ جرمنی میں کیا ہوا، اب جو سویڈن میں ہوا، کوئی اس پر یقین کرے گا؟ انہوں نے اپنے ہاں تارکین وطن مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کو جمع کر لیا ہے، اب انہیں وہ مشکلات پیش آرہی ہیں، جن کا انہوں نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہ ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان پر خود سویڈن کے وزیراعظم سٹیفن نے پریس کانفرنس میں حیرت کا اظہار کیا۔

ٹویٹر کا سلسلہ جب سے شروع ہوا ہے، اس طرح کے ہنگامے پوری دنیا میں برپا ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس جولائی میں کانگریس کے ایک راہنما دگ وجے سنگھ کی ٹویٹس پر مدھیہ پردیش اسمبلی میں بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور صدر نے ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لئے ملتوی کر دی۔ دگ وجے سنگھ نے اپنے ٹویٹ میں بدعنوانی کے ایک کیس پر تحقیق کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی طرح جولائی 2015ء میں بھارت کے معروف اداکار سلمان خان کے ایک ٹویٹ پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا، جس کے بعد آخرکار سلمان خان کو وہ ٹویٹ ہٹانا پڑا۔ ان اور ایسے واقعات کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’پہلے غور کرلو پھر ٹویٹ کے ذریعے شور کر لو۔‘‘ یہ محاورہ ’’پہلے تولو پھر بولو‘‘ کی جگہ لے سکتا ہے۔ جب نیا نیا کمپیوٹر کا رواج شروع ہوا تھا تو ہم بعض مدرسوں میں جاتے تھے تو ہمیں بتایا جاتا تھا کہ ہم اپنے طلبہ کو کمپیوٹر بھی سکھا رہے ہیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم ’’جدید علوم‘‘ سے بھی اپنے طلبہ کو بہرہ ور کر رہے ہیں۔ ہم سوچتے تھے کہ اگر یہ طلبہ وہی ہوئے جس کا اظہار فرقہ پرست مولوی صاحبان کی کتابوں سے ہوتا ہے تو پھر کمپیوٹر کے ذریعے فرقہ پرستی میں اضافہ ہی ہوگا کمی نہیں ہوگی۔

ٹیکنالوجی کی ترقی کا مطلب انسانیت کی ترقی نہیں ہے۔ جب تک ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے بنیادی اصولوں کے مطابق انسانوں کی تربیت نہ ہو اور وہ اعلٰی انسانی اور سماجی اقدار کے ساتھ قلبی طور پر وابستہ نہ ہوں تو پھر پہلے زمانے میں کہتے تھے کہ گدھے پر کتابیں لادنے کا کیا فائدہ اور آج کہا جاسکتا ہے کہ غیر تربیت یافتہ انسان کے ہاتھ میں ٹیکنالوجی کا ہتھیار دینے کا نتیجہ فساد اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ "ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ" انسانوں نے جو کچھ کسب کیا، اس کے نتیجے میں بر و بحر میں فساد ظاہر ہوگیا۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی امریکہ کے حکمرانوں کے ہاتھ آئی تو جاپان کے دو ہنستے بستے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی آن کی آن میں تباہی اور بربادی کا نقشہ پیش کر رہے تھے۔ اسی امریکہ نے جب مدر آف آل بمز ایجاد کیا تو اسے اس وقت تک قرار نہ آیا، جب تک اس کے ذریعے سے اس نے افغانستان میں تباہی مچا کر تماشا نہ دیکھ لیا۔(بشکریہ اسلام ٹائمز)