مشال خان، مسئلہ قانون کا نہیں ذہنیت کا ہے

تحریر: ثاقب اکبر



13 اپریل 2017ء کو مردان کی عبدالولی خان یورنیورسٹی میں شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کو مشتعل طلبہ اور دیگر افراد نے توہین رسالت کا الزام لگانے کے بعد یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تشدد کرکے قتل کر دیا۔ اس قتل کے بارے میں مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں اور اس پر اظہار رائے کا سلسلہ جاری ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس اپنے مقام پر اس پر تحقیق کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ سینیٹ میں مختلف جماعتوں کے نمائندوں نے اس پر اظہار خیال کیا ہے۔ ٹی وی چینلز پر مسلسل اس حوالے سے ٹاک شوز چل رہے ہیں، اخبارات میں خبروں کے علاوہ کالم لکھے جا رہے ہیں۔ شذرے اور اداریے تحریر کئے جا رہے ہیں۔ علمائے کرام اپنے نقطہ ہائے نظر سے اس پر اظہار رائے کر رہے ہیں۔ بعض اسے خاص مذہبی ذہنیت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ بعض اس موقع پر قانون توہین رسالت پر رائے زنی کر رہے ہیں۔ بعض کی رائے میں اس کے پیچھے نیشنل عوامی پارٹی ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اپنے کالے کرتوت چھپانے کے لئے الزامات کے پیچھے چھپ رہی ہے۔ غرض ہر کوئی اپنے اپنے حساب سے اس ہولناک اور غم ناک قتل پر اظہار رائے کر رہا ہے۔



ہم سمجھتے ہیں کہ اس قتل کے محرکات جو بھی ہوں، ہمیں اس ذہنیت کا پوری توجہ سے تجزیہ کرنا چاہیے، جو اس قتل کے لئے بروئے کار آئی یا لائی گئی ہے۔ پاکستان کے چوٹی کے علمائے کرام نے اس دردناک سانحے پر مختلف پہلوؤں سے بات کی ہے، ان کا جائزہ لینے کے بعد ہم مذکورہ ذہنیت پر بات کریں گے۔ معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی کا کہنا ہے کہ توہین رسالت پر قانون بنانا اور اس پر عمل کروانا صرف ریاست کا کام ہے، کسی بھی شخص کو حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کو سزا سنائے یا قتل کر دے۔ کراچی کے معروف عالم دین مفتی محمد نعیم نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ مردان یونیورسٹی میں طالب علموں نے مشال پر غلط الزام عائد کرکے اسے شہید کر دیا۔ اے آر وائی کے پروگرام ’’سوال یہ ہے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی نعیم نے کہا کہ مردان کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، ملک میں توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، کیونکہ قصور وار ہونے کا فیصلہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اطلاعات سامنے آئی ہیں، اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ طلبہ نے آپس کے جھگڑے میں مشال پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا اور اسے جان سے مار دیا۔ میں اسے شہید کہوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص گستاخئ رسول کا مرتکب ہوتا ہے تو عدلیہ کو چاہیے کہ اس کا فیصلہ فوری طور پر سنائے اور ملزم کو سزا دے۔ معاشرے میں عدم برداشت کی وجہ سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مولانا سمیع الحق نے بھی مشال خان کے قتل کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف الزام کی بنیاد پر کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خان زادہ کے ساتھ‘‘ میں بات کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی، مفتی راغب نعیمی، علامہ امین شہیدی اور مفتی نعیم نے کہا کہ توہین مذہب حساس معاملہ ہے، اس کا ثبوت الزام لگانے والے ہی کو دینا ہوتا ہے، بلاجواز اپنے مقاصد کے لئے کسی پر بھی بے بنیاد الزام لگانا اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا کہ خود توہین مذہب، کیونکہ اس طرح کے الزام لگا کر کسی بھی شخص کی جان خطرے میں ڈال دی جاتی ہے اور اس سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے۔ اسی پروگرام میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ توہین رسالت کا الزام ایک سنگین الزام ہے، یہ الزام ثابت کرنا اسی کی ذمہ داری ہوگی جو الزام لگائے گا۔ مفتی راغب نعیمی نے اس موقع پر کہا کہ ایسے الزام سے پہلے ہزار مرتبہ سوچ لینا چاہیے، اس معاملے کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ بے گناہ شخص پر الزام لگایا جائے تو الزام لگانے والے کی سزا بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ اس بات پر اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اتفاق کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی ایک مہذب معاشرے کا حصہ ہے اور اگر کوئی جرم کا ارتکاب بھی کرے تو کسی فرد یا تنظیم کو حق نہیں کہ وہ کسی کو جاہلانہ طریقے سے سزا دے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوئی مہذب شہری اس قسم کے خوفناک اقدام کی حمایت نہیں کر سکتا اور مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں روایتی تحقیقات سے بڑھ کر کچھ ہونا چاہیے۔ قتل کے تمام محرکات کو عوام کے سامنے جلد از جلد پیش کیا جانا چاہیے۔ سینیٹ میں بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ مذہبی راہنماؤں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر کوئی فرد کسی دوسرے فرد پر جھوٹا الزام لگائے تو اسے بھی توہین رسالت کے قانون کے تحت سزا برداشت کرنا ہوگی۔

پاکستان کے ممتاز مذہبی راہنماؤں کے ان بیانات سے مندرجہ ذیل چیزیں ظاہر ہوتی ہیں:
1۔ توہین مذہب یا توہین رسالت کا قانون عوام کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے بلکہ اس کے بارے میں قانون کا طے کردہ طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے اور عدالتوں میں الزام لگانے والے یا والوں کو اپنا یہ الزام ثابت کرنا ہوگا۔
2۔ جو غلط الزام لگائیں، ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں آنا چاہیے۔
3۔ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہونے والا واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
4۔ توہین رسالت کا الزام بہت خطرناک ہے اور اسے بہت سوچ سمجھ کر لگانا چاہیے۔
ان نکات پر اہل مذہب ہی نہیں بلکہ پاکستان کے اہل سیاست اور سماجی راہنماؤں کا بھی اتفاق ہے۔ اس امر سے قطع نظر کہ اس المناک واقعے کے محرکات کیا ہیں، یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ اس کے لئے بہرحال مذہبی جذبات ہی کا سہارا لیا گیا ہے۔ جیسا کہ واقعہ کے مرکزی ملزم وجاہت نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں واضح کیا ہے اور کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مشال اور اس کے ساتھیوں پر توہین رسالت کا الزام لگانے کے لئے کہا اور انہی کے کہنے پر میں نے طلبہ کے سامنے یہ الزام مشال پر لگایا، جس کی وجہ سے طلبہ مشتعل ہوگئے۔

اگرچہ خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مشال پر توہین مذہب کا جو الزام لگایا گیا ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ بہرحال واقعے کی تفصیلات میں ہم نہیں جاتے، لیکن یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو براینگختہ کیا گیا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے، جس پر معاشرے کے اہل حل و عقد، خاص طور پر علمائے کرام کو غور و فکر کرنا ہے۔ علماء کی ذمہ داری فقط یہ نہیں کہ وہ مسئلے کے قانونی اور شرعی پہلوؤں کو بیان کریں اور اس واقعے کی مذمت کریں۔ انہیں یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کہ معاشرے کی مذہب کے حوالے سے جو ذہنی ساخت بن چکی ہے اور جو نہایت خطرناک ہے، اس کی اصلاح کی کوئی تدبیر کریں اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر ایسے واقعات آئندہ بھی ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔

عموماً علمائے کرام کے خطبات جمعہ کا لہجہ جذباتی ہوتا ہے اور یہ جذباتیت کسی نہ کسی مخالف مکتب فکر کے خلاف ہوتی ہے۔ علمائے کرام کے عمومی خطاب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایسے علمائے کرام بھی موجود ہیں، جو عوام کو جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے خطبوں میں بھی اور اپنے اقدامات میں بھی، لیکن جب تک ہم اس حقیقت کا اعتراف نہیں کریں گے کہ ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی مسلکی مساجد جو دیہات سے لے کر بڑے شہروں میں موجود ہیں اور ایک ایک محلے میں ماشاء اللہ کئی مساجد موجود ہیں، ان میں بھاری اکثریت سطحی مذہبی جذباتیت کو فروغ دینے والے مولوی صاحبان موجود ہیں۔ یہ بات ہم نے اس لئے کہی ہے کہ زمینی حقائق کو قبول کئے بغیر ہم مسائل کی اصلاح نہیں کرسکتے۔ ہم کسی ایک مسلک کی بات نہیں کر رہے بلکہ تمام مکاتب فکر ہمارے پیش نظر ہیں اور جہاں تک مکاتب فکر کا تعلق ہے، ان کا ہم احترام کرتے ہیں، لیکن سطحی اور سستی جذباتیت اور شعلہ بیانیاں آگ لگانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کر سکتیں۔

محبوب خدا اور باعث تخلیق جہاں کی محبت ہمارے ایمان ہی کا نہیں ہمارے پورے وجود کا حصہ ہے۔ یہ جتنی گہری ہو حق ادا نہیں ہوتا۔ بقول علامہ اقبالؒ:
در دل مسلم مقام مصطفٰی است
آبروی ما ز نام مصطفٰی است

یہ محبت جتنی گہری ہو، اتنا ہی انسان کامل ہوتا چلا جاتا ہے۔ عاشق مصطفٰی کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ آنحضرتؐ رحمۃ للعالمین ہیں اور قرآن حکیم میں ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے: "فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَ اسْتَغْفِرْلَھُمْ " اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لئے نرم خو ہیں اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو وہ آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے، آپ انہیں معاف کر دیں اور ان کے لئے طلب مغفرت کریں۔  ہمیں نبی پاکؐ کے ماننے والوں کو نبی پاکؐ ہی کے اسوہ کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ دعوت کی حکمت عملی بھی قرآن حکیم نے واضح طور پر بتائی ہے، دوسروں سے بات کرنے کا ڈھنگ بھی سکھایا ہے۔ لغو باتوں کے سامنے سے بزرگواری سے گزر جانے کی تعلیم بھی اللہ تعالٰی ہی نے دی ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اسلام کی جامع تعلیمات اور آنحضرتؐ کے کامل خوبصورت اسوہ کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

دوسرے مسالک کے بارے میں ہم نے جس طرح کے فتوے دے رکھے ہیں اور جو رویہ اختیار کر رکھا ہے، وقت آگیا ہے کہ اس پر نظرثانی کی جائے۔ انتہا پسندانہ فتوے واپس لئے جائیں، وسعت نظری اور وسعت فکری سے تاریخ میں ہونے والے غلط فیصلوں سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیا جائے۔ ایک ہی لاٹھی سے تمام غیر مسلموں کو ہانکنے کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ملک سے باہر اگر کوئی غیر مسلم اسلامی شعائر کی توہین کرتا ہے تو ہمارے ہاں لوگ باہر نکل کر اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ شروع کر دیتے ہیں۔ ہم غیر مسلم معاہد اور غیر معاہد میں فرق بھی روا نہیں رکھتے۔ تحقیق و جستجو سے ہم بہت حد تک عاری ہوچکے ہیں۔ الزامات اور تہمتیں ہیں کہ ان کی کوئی حد نہیں رہی۔ پھر الزامات اور تہمتوں ہی کی بنیاد پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔

اپنے اپنے گروہوں میں ہم ایسے مگن ہیں کہ حق و باطل کی پہچان کا معیار ہم سے کھو گیا ہے۔ خبر لانے والے کے بارے میں قرآن تو کہتا ہے کہ جب کوئی فاسق تمھارے پاس خبر لے آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کر لیا کرو، لیکن اگر خبر لانے والا ہمارے اپنے گروہ کا، مسلک کا یا پارٹی کا ہو تو پھر وہ کیسے فاسق قرار پا سکتا ہے۔ ہم سماجی، فکری اور روحانی طور پر عجیب تنزل کا شکار ہیں۔ اصلاح کرنے والے بھی مشکل اور مخمصے میں ہیں۔ اس کے لئے بڑے علماء کو اور ایسے افراد کو جن کا معاشرے میں کوئی اثر و رسوخ ہے، ہر تفریق و تقسیم سے بالاتر ہو کر بڑی روح کے ساتھ بڑے فیصلے کرنا ہیں، ورنہ اس سطحی جذباتیت کا شکار ہم سب ہو جائیں گے اور انتہا پسند جذباتی نسل کے ساتھ اہل علم و فضل اور اہل سیاست و ریاست سب کے دامن تک جذباتیت کے الاؤ جا پہنچیں گے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز