پاکستان میں کتنے انسان رہ گئے ہیں؟ّ

تحریر: سید اسد عباس



کل، ملک سے باہر مقیم ایک دوست نے نہایت چبھتا ہوا مگر درست سوال پوچھا کہ پاکستان میں کتنے انسان رہ گئے ہیں۔؟ کسی دوست نے جواب لکھا کہ بہت کم اور جتنے رہ گئے ہیں، وہ بھی جان بچاتے پھرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی درسگاہ ولی خان یونیورسٹی میں ایک انسان پر ہونے والے تشدد اور اس کی لاش پر دیگر انسان نماوں کی اچھل کود کو دیکھ کر تو ایسے ہی لگتا ہے کہ واقعی ملک میں انسانوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے۔ مشال خان کا بہیمانہ قتل پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں، جن میں انسان نما درندوں نے انسانیت کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ کہیں کوئی بنت حوا جلائی گئی، کہیں جوڑے اینٹیں پکانے والی بھٹی میں جھونکے گئے، کہیں عصمت تار تار کرکے سر بازار پھرایا گیا، کہیں دین کے نام پر دن دھیاڑے انسانوں کو قتل کرکے انکی لاشوں کا مثلہ کیا گیا۔


مشال خان اور اس کے دو ساتھی کامریڈ تھے، کیمونسٹ تھے یا کچھ اور، ان کے نظریات جو بھی تھے، کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ ان سے زندہ رہنے کا حق چھینے۔ مشال خان کا قتل اور اور اسکے دیگر دو ساتھیوں پر بہیمانہ تشدد نیز اس قبیل کے دیگر واقعات میں ایک مخصوص طبقہ یا فقط حملہ آور قصوروار نہیں بلکہ پورا معاشرہ اور بالخصوص وہ افراد جو معاشرے میں وعظ و نصیحت، قانون کے نفاذ اور عدل و انصاف کے ذمہ دار ہیں، برابر کے شریک ہیں۔ بہت مشہور قول ہے کہ معاشرہ کفر سے تو قائم رہ سکتا ہے ظلم سے نہیں۔ جس معاشرے میں عدل و انصاف نام کی کوئی چیز نہ ہو، جہاں عدالتوں سے مجرم باعزت بری ہو جائیں، جہاں عوام میں یہ تاثر عام ہو کہ عدالت سے انصاف نہیں ملنا، مجرم اگر طاقتور ہوا تو آزاد ہو جائے گا، وہاں لوگ خود منصف بن جاتے ہیں اور جہاں ان کا بس چلے، وہاں وہ اپنی بربریت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مشال خان کی لاش پر ہم نے یہی منظر دیکھا۔

مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ہونے والے اس اندوہناک واقعہ کے بارے ابھی وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ مشال خان اور اس کے دو ساتھی جو مشال کے ہمراہ شدید زخمی ہوئے، کا اصل جرم کیا تھا۔ کیوں ایک جتھا ان پر یوں پل پڑا اور انہیں لاٹھیوں، پتھروں اور لاتوں سے اس قدر زدو کوب کیا کہ ان میں سے ایک یعنی مشال خان جانبر نہ ہوسکا۔ شنید یہ ہے کہ معاملہ توہین مذہب سے متعلق تھا، جس پر مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو جوش آیا اور پھر ایک انسان کو تکبیر کی صداؤں کے ساتھ انتہائی بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ سچ کہوں، نہ قلم میں اتنی سکت ہے کہ اس ظلم پر نوحہ لکھ سکوں اور نہ ہی زبان ساتھ دیتی ہے کہ اس واقعہ پر اظہار افسوس کروں۔ دل و دماغ معاشرتی رویوں سے سے اس قدر مایوس ہے کہ امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ کس کو کہا جائے کہ اپنی اصلاح کی کوشش کرو، کیا ان علماء، دانشوروں اور واعظین کو جو پوری دنیا کی اصلاح اور وعظ و نصیحت کا بیڑا سر پر اٹھائے پھرتے ہیں؟ کس کو کہا جائے کہ ملک میں نظام عدل کو نافذ کرو، کیا ان کو جن کے اپنے مقدمے عدالتوں میں چل رہے ہیں۔؟ کس کو کہا جائے کہ قانون نافذ کرو، کیا ان کو جن کا کاروبار حیات لاقانونیت کے باعث رواں دواں ہے۔؟


کہنے کو ہمارا معاشرہ ایک مسلم معاشرہ ہے، جہاں قرآن کی تعلیم بھی ہے اور معاشرتی سطح پر اس کی اقدار کا دور دورہ بھی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اسلام اور قرآن نیز اس دین امن و سلامتی کے نام پر ایک بدنما داغ ہیں، جو اب پوری دنیا میں عریاں ہوا چاہتا ہے۔ بانی پاکستان کا خیال تھا کہ ہم ریاست کی شکل میں ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کریں گے، جہاں ہم قرآن کریم کے زریں اور آفاقی اصولوں و قوانین پر عمل کرکے دنیا میں ایک مثال بنیں گے، مثال تو ہم بن گئے، تاہم بصد افسوس انسانیت کی نہیں بربریت و حیوانیت کی۔

معاشرے کے ایک طبقے کی جانب سے دوسرے گروہ یا طبقے کے خلاف کئے گئے انسانیت سوز جرائم کی فہرست کو اگر مرتب کیا جائے تو اقبال کے خوابوں کی سرزمین، قائداعظم محمد علی جناح کی اسلامی تجربہ گاہ کا نام اس فہرست میں ضرور نظر آئے گا۔

گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام، روہینگا مسلمانوں پر بدھ مت کے پیروکاروں کے حملے، نائجیریا میں مخالف قبیلے کا قتل عام، سیاہ فام باسیوں کے خلاف امریکی سفید فاموں کا رویہ، دنیا میں پھیلی درندگی کی چند معاشرتی مثالیں ہیں، ریاستی بربریت اس سے سوا ہے۔ تاہم ایک مسلمان ریاست میں دین کے نام پر مذہبی اقلیت پر دھاوا اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے معاشرے سے دین اور دینی اقدار کا جنازہ اٹھ چکا ہے اور اگر یہ ظلم و بربریت دین کے نام پر روا رکھی جا رہی ہے تو یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ دین غلط ہاتھوں میں کھلونا بن گیا ہے، جنھوں نے اپنی من مانیوں اور عصبیت کو دین کا نام دے رکھا ہے۔ اگرچہ یہ بات تکراری ہے، مگر چونکہ معاشرہ اس اہم ترین حکم کو فراموش کئے ہوئے ہے، لہذا اس کا دہرانا ضروری ہے کہ دنیا کا کوئی بھی دین بے گناہ انسان کے قتل کی اجازت نہیں دیتا اور گناہگار یا بے گناہ قرار دینے نیز اس پر حد جاری کرنے کا استحقاق عوام کے پاس نہیں بلکہ مقتدر اداروں منجملہ عدلیہ اور انتظامیہ کوحاصل ہے۔ اسلام فسادفی الارض کو گناہ کبیرہ اور عظیم جرم قرار دیتا ہے۔



اپنے پہلے سوال اور اس کے جواب کی جانب لوٹتے ہیں، اسی سوال اور اس کے جواب میں ہمارے مسائل کا حل پنہاں ہے۔ پاکستان میں کتنے انسان رہ گئے ہیں؟ کم رہ گئے ہیں اور جتنے رہ گئے ہیں جان بچاتے پھرتے ہیں۔۔۔ یہی کم تعداد امید کی کرن ہے۔ انھی کو کمر ہمت باندھ کر اس پاک سرزمین اور پاکستانی معاشرے کو ان غیر انسانی رویوں سے بچانا ہوگا، اگرچہ مسائل بہت بڑھ چکے ہیں اور صورتحال مایوسی کی حدوں کو چھو رہی ہے، تاہم عزت و امن و سکون کے ساتھ زندہ رہنے اور اپنی نئی نسلوں کو ایک بہتر پاکستان دینے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں اور یہی دین اسلام کی تعلیم اور پرکھوں کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ
موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے

بشکریہ اسلام ٹائمز