جنرل راحیل شریف کی نئی تقرری، مسئلہ پاکستان کا ہے۔۔حصہ سوم

تحریر: ثاقب اکبر



گذشتہ نشست میں ہم نے بھارت کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بڑھتے ہوئے معاشی و فوجی تعلقات اور تعاون کے بارے میں کچھ اعداد و شمار پیش کئے تھے۔ یہ تینوں وہی ممالک ہیں جنھوں نے زیر بحث فوجی اتحاد کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ان معروضات کے آخر میں ہم نے عرض کیا تھا: ’’ان حقائق و اعداد و شمار پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکوں کے مابین تعلقات کی بنیاد ان کے اپنے مفادات ہیں نہ کہ عقائد اور جذبات۔ عرب ممالک کے ساتھ بھارت کے تعلقات مذکورہ بالا فوجی اتحاد کے قیام کے بعد نہ فقط یہ کہ کسی ٹھہراؤ کا شکار نہیں ہوئے بلکہ گذشتہ تاریخ کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھے ہیں۔‘‘ اس ضمن میں پاکستان کے معروف دانشور اور پاکستان کی تاریخ پر اتھارٹی سمجھے جانے والے محقق ڈاکٹر صفدر محمود نے بھی گذشتہ دنوں ایک کالم ’’مستقبل کی آنکھ‘‘ کے زیر عنوان سپرد قلم کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ہمارے دشمن ہمارے دشمن ہیں۔ ضروری نہیں کہ سعودی عرب یا یو اے ای یا کوئی مسلمان ملک انہیں اپنا دشمن سمجھے۔ ہر ملک کے اپنے اپنے معاشی، مادی اور سیاسی مفادات ہیں اور ہر ملک اپنے اپنے مفادات کا تعاقب کرنے میں آزاد ہے۔ قومی ریاستوں، قومیت پرستی اور جغرافیائی حدود نے ذہنوں اور جسموں کو بھی تقسیم اور محدود کر دیا ہے۔ کم سے کم مستقل قریب میں علامہؒ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کو اس سمت میں ایک قدم سمجھنا بھی فی الحال حقیقت پسندی کے تقاضوں سے انحراف کرنا ہے۔"



ظاہر ہے کہ یہ حقائق جو لوگ حکومت سے باہر ہیں اور معاملات پر نظر رکھتے ہیں، انہیں دکھائی دیتے ہیں تو پھر جن کے سامنے عالمی حقائق اپنی اصل ماہیت میں موجود ہیں، وہ بہتر طور پر صورت حال کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا موجودہ حالات میں جب کہ او آئی سی کا تجربہ امت اسلامیہ کے سامنے ہے، اس نئے اسلامی فوجی اتحاد کا مستقبل بھی اہل نظر کے لئے روشن ہے۔ البتہ اس اتحاد سے جو نفسیاتی کیفیت پیدا ہوتی ہے، وہی مقصود ہو تو الگ بات ہے۔ اس اتحاد میں فوجی نقطۂ نظر سے سب سے زیادہ اہمیت پاکستان ہی کی ہے، کیونکہ پاکستان کی فوج اور اس کے وابستہ اداروں کی مین پاور تقریباً پندرہ لاکھ افراد پر مشتمل ہے، جن میں تقریباً ساڑھے چھ لاکھ فعال فوج کا حصہ ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے پاس تین ہزار جنگی ٹینک، ایک ہزار بتیس ایئر کرافٹ، تریسٹھ بحری جہاز، پاکستان نیوی کے پاس ایک سو ایک ایئر کرافٹ اور آٹھ سب میرنز ہیں۔ دنیا میں پاکستان کی فوج چھٹی بڑی فوج ہے اور یہ عالم اسلام کی سب سے بڑی فوج سمجھی جاتی ہے، جبکہ ایٹمی ہتھیاروں کے اعتبار سے بھی پاکستان واحد مسلمان مملکت ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب معاشی لحاظ سے عالم اسلام کی بہت بڑی قوت ہے۔ اس کی فوج کا کوئی زمینی جنگ کا تجربہ تو نہیں، البتہ گذشتہ دو برس سے اس کی فضائیہ اپنے عسکری لحاظ سے کمزور ہمسایہ یمن کے خلاف داد و شجاعت دے رہی ہے۔ سعودی عرب اپنے کل بجٹ کا پچیس فیصد فوجی مقاصد کے لئے خرچ کرتا ہے، جو تقریباً اٹھاسی بلین ڈالر بنتا ہے، جبکہ پاکستان کا کل بجٹ گذشتہ برس اکتالیس بلین ڈالر سے کچھ زیادہ تھا۔ سعودی عرب کے عسکری اداروں سے وابستہ افراد کی کل تعداد چھ لاکھ اٹھاسی ہزار ہے، جبکہ فعال فوجیوں کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ البتہ اس کے نیشنل گارڈ سے بھی دو لاکھ افراد وابستہ ہیں۔ اس فوج کو زمینی کارروائی کا تجربہ فقط بحرین میں ہے، جو چند لاکھ نفوس کا ایک جزیرہ ہے، جہاں سعودی فوج وہاں کی شاہی حکومت کے ایماء پر داخل ہوئی اور شاہی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والے نہتے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے تجربے سے گزری۔

اس پس منظر میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی ایک تجربہ کار اور کئی آزمائشوں سے گزری ہوئی فوج کے ایک ایسے سپہ سالار کو اس اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سونپنا نفسیاتی طور پر کس قدر اہم ہے کہ جس نے اپنے تین سالہ دور سپہ سالاری میں پاکستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کئے اور جس کی وجہ سے اسے اپنے ملک میں تمام طبقوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ یہاں تک کہ ملک کے بہت سے گروہ اور افراد کی خواہش تھی کہ ان کو تین سال مزید توسیع مل جائے، تاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنے کامیاب معرکے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں، بلکہ بعض گروہ تو اس خواہش کا اظہار کرنے سے بھی نہیں چوکے کہ وہ مارشل لاء لگائیں اور ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن جائیں۔

بعض تجزیہ کار اور مذہبی و سیاسی راہنما مسلسل یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ نیا فوجی اتحاد عالم اسلام کے دیرینہ مسائل جن میں کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ شامل ہے، کے حل کے لئے کوئی کردار ادا کر سکے گا۔ ہماری رائے ہے کہ ایسے خیال پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے:
ایں خیال است محال است و جنون است
اس کی وجوہات سمجھنے کے لئے کسی فلسفی اور عالمی سطح کے دانشور کا دماغ نہیں چاہیے۔ اگر واقعاً کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل کو حل کرنا مقصود ہوتا تو او آئی سی کے دو حصے کرنے کی ضرورت نہ تھی، کیونکہ یہ دونوں عالم اسلام کے دیرینہ مسائل ہیں اور خاص طور پر او آئی سی کی تخلیق میں ہی صہیونیت کے خلاف عالم اسلام کا ردعمل مضمر تھا۔ جب او آئی سی معرض وجود میں آئی تو تقریباً تمام عالم اسلام اسرائیل کے خلاف متحد تھا۔ آج بڑے بڑے مسلمان ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی ہی نہیں بلکہ اقتصادی اور فوجی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں۔

ترکی سمیت ایسے کئی مسلمان ملک ہیں، جو اسرائیل کے ساتھ مل کر فوجی مشقیں بھی کرتے ہیں۔ وہ تمام مسلمان ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہیں، وہ اس موجودہ اسلامی فوجی اتحاد کا حصہ ہیں۔ جبکہ وہ مسلمان ممالک جو گذشتہ کئی برسوں سے عملی طور پر اسرائیل کی توسیع پسندانہ کارروائیوں کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہیں، اس اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔ اسرائیل جب سے معرض وجود میں آیا ہے، اس نے عربوں کے خلاف ہر جنگ میں عربوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور شرمناک ہزیمت ہی عربوں کے حصے میں آئی ہے جبکہ فقط ایک معرکے میں اسرائیل نے اپنی شکست تسلیم کی ہے اور وہ ہے 2006ء میں حزب اللہ کے خلاف اس کی جنگی کارروائیاں، جن میں اسے امریکہ کی کھلم کھلا حمایت حاصل تھی اور کئی عرب ممالک نے اس اسرائیلی جارحیت کے موقع پر حزب اللہ کے خلاف موقف اختیار کیا۔ آج وہ عرب ممالک حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں اور زیر نظر اسلامی فوجی اتحاد کا حصہ ہیں۔

جہاں تک کشمیر کا مسئلہ ہے تو پاکستان آج کشمیر ہی کی وجہ سے بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور کشمیر ہی کی وجہ سے پاکستان پر کئی جنگیں مسلط کی جا چکی ہیں۔ جبکہ مذکورہ اسلامی فوجی اتحاد کے بانی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے بھارت سے تعلقات کا ذکر ہم گذشتہ قسط میں کر چکے ہیں، یہاں صرف یاد دہانی کے طور پر کہتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم کو ان کے سعودی عرب کے گذشتہ برس دورے کے دوران میں سعودی عرب کے سب سے اعلٰی سول اعزاز شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا گیا اور مجموعی تجارتی حجم کے لحاظ سے پاک سعودی تجارت کی نسبت بھارت سعودی تجارت کا حجم دس گنا ہے۔ ہم یہاں پر ڈاکٹر صفدر محمود کے اس جملے پر اپنی آج کی گفتگو ختم کرتے ہیں۔۔۔ ہمارے دشمن ہمارے دشمن ہیں، ضروری نہیں کہ سعودی عرب یا یو اے ای یا کوئی مسلمان ملک انہیں اپنا دشمن سمجھے۔ یعنی کشمیر کے مسئلے پر بھارت سے معرکہ بالآخر پاکستان ہی کو کشمیری عوام کے سامنے مل کر لڑنا ہے۔

بشکریہ: اسلام ٹائمز