سیاسی

امریکی افغان پالیسی اور پاکستان کا جوابی بیانیہ

تحریر: ثاقب اکبر

دیر سے سہی البتہ آہستہ آہستہ امریکہ کی جنوبی ایشیا اور خاص طور پر افغانستان کے بارے میں جدید حکمت عملی کے جواب میں پاکستان کا بیانیہ واضح ہونا شروع ہوگیا ہے۔ شاید اس سلسلے میں سب سے واضح وہ بیانات ہیں، جو پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے 5 اور 6 اکتوبر 2017ء کو امریکہ میں اپنے دورہ کے موقع پر دیئے ہیں۔ اگرچہ وہ چند روز پہلے بھی وزیراعظم کے ہمراہ امریکہ جا چکے ہیں اور وہاں پر ان کے دیئے گئے بیانات کو پاکستان میں حوصلہ افزا نہیں سمجھا گیا۔ تاہم پاکستان میں واپسی پر سیاسی اور عسکری قیادت نے ان کے دورۂ امریکہ کے پس منظر میں جو مشاورت کی، اس کے نتائج وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ امریکہ میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ امریکی صدر کی 21 اگست کی تقریر میں افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے جس پالیسی کا اعلان کیا گیا، اس پر سب سے پہلا ردعمل چین کی طرف سے آیا، جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے کرتے 16 گھنٹے صرف کر دیئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا دفتر خارجہ امریکی صدر سے ایسی تقریر کی توقع نہیں کررہا تھا، ورنہ وہ پہلے سے متعلقہ اداروں سے مشورہ کرکے اپنی حکمت عملی کو طے کرچکا ہوتا۔ بہرحال اس تاخیر کی وجہ جو بھی ہو، پاکستان کی طرف سے ردعمل میں گومگو کی جو کیفیت محسوس ہو رہی تھی، اب آہستہ آہستہ چھٹتی چلی جا رہی ہے۔ چنانچہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے 5 اکتوبر 2017ء کو یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب کے دوران کہا کہ دراصل امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ گذشتہ چار سالوں کے دوران میں F-16 اور JF-17 تھنڈر طیارے جنگ میں دہشت گردرں کے خلاف اہم ہتھیار تھے، لیکن امریکہ نے اردن سے کہا کہ وہ پاکستان کو پرانے F-16 طیارے فراہم نہ کرے، یوں امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے لئے رکاوٹ ڈالی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا، اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا تو اسے بہت نقصان ہوگا۔ امریکہ کے کئی اہم عہدیداروں نے ابھی تک یہی لب و لہجہ اختیار کر رکھا ہے۔

  • مشاہدات: 42

ایران ترکی روابط میں نیا ابھار

ثاقب اکبر

ایران اور ترکی کے مابین تاریخی طور پر اتار چڑھاﺅ آتا رہا ہے۔ تاہم جدید تاریخ میں 22اپریل1926 کو ایران اور ترکی کے مابین دوستی کا پہلا معاہدہ ہوا، اس پر تہران میں دستخط کیے گئے۔دوستی،غیر جانبداری اور ایک دوسرے کے خلاف عدم جارحیت اس معاہدے کے اصول قرار پائے۔ اس معاہدے میں طے پایا کہ دونوں ملکوں میں موجود ایسے عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جاسکے گی جو حکومتوں کے خلاف مصروف عمل ہوں اور امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔ دونوں ملکوں کو اس وقت بھی داخلی طور پر کرد اقلیتوں سے مسائل درپیش تھے۔ 2جولائی 1934کو رضا شاہ پہلوی نے مصطفی کمال اتاترک کی دعوت پر ترکی کا دورہ کیا،فوجی سربراہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ انھوں نے ترکی کے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اسی دوران میں وہ مصطفی کمال کے جدید ریفارمز سے بہت متاثر ہوئے۔ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کو ایک سیکولر ریاست بنانے کا فیصلہ ایرانی بادشاہ نے اسی دورے کے دوران میں کیا۔ اگست 1955میں سینٹو کا معاہدہ عمل میں آیا جس میں ایران ،ترکی ،عراق ،پاکستان اور برطانیہ شامل تھے۔ اس معاہدے کو برطانوی سرپرستی میں ایک فوجی معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال پہلی مرتبہ پاکستان بھی علاقے کے ان ممالک کے ساتھ ایک اتحاد میں شریک ہو گیا۔ یہ معاہدہ اس امر کی بھی غمازی کرتا ہے کہ اس کے رکن ممالک سوویت اشتراکیت کے مقابلے میں یکسو ہو گئے تھے۔ جولائی1964میں ترقی کے لیے ایک علاقائی تعاون کے عنوان سے ایران،ترکی اور پاکستان کے مابین ایک نیا معاہدہ طے پایا جسے آرسی ڈی (Reginal Cooperation for Development) کہتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت جنرل ایوب خان کی حکومت تھی۔ تینوں ملکوں کے مابین دوستی کا یہ سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔

  • مشاہدات: 48

شریعت اور آئین

تحریر: سید ثاقب اکبر

پاکستان میں شریعت اور آئین کے حوالے سے بحثیں جاری رہتی ہیں۔ ہمارے لکھاری بھی اس موضوع پر مشق سخن کرتے رہے ہیں۔ ایک دینی طالب علم کی حیثیت سے ہم نے بھی مناسب سمجھا کہ اس حوالے سے چند معروضات اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کریں۔
۱۔ یہ آج کی بات نہیں بلکہ ہم ایک عرصے سے ایک گروہ کی طرف سے یہ پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں کہ جب قرآن و سنت موجود ہے تو پھر آئین کی کیا ضرورت ہے۔ یہ لوگ دراصل سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ریاست کیا ہوتی ہے اور اسے آئین کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ پاکستان یا کسی بھی ملک کا آئین اٹھا کر اگر یہ لوگ دقت نظرسے دیکھیں تو یہ کوئی ایسا مخمصہ نہیں کہ جو سمجھ نہ آسکے۔ مثلاً پاکستان کا آئین یہ بتاتا ہے کہ وفاقی حکومت کیسے بنتی ہے، قانون سازی کا اختیار کس کو ہے، پاکستان میںطاقت کے مراکز کون کون سے ہیں، عدلیہ کیسے معرض وجود میں آتی ہے، فوجی سربراہ کیسے بنتے ہیں، فوج کے اختیارات کیا ہیں، صوبوں میں حکومتیں کیسے بنتی ہیں، صوبوں اور وفاق کے درمیان تعلقات کی بنیاد کیا ہے، بنیادی انسانی حقوق کیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ ساری باتیں قرآن و سنت میں صراحت سے بیان ہوئی ہیں؟ کیا قرآن و سنت میں صوبوں اور وفاقی حکومت کے مابین تعلقات کار کو بیان کیا گیا ہے؟

  • مشاہدات: 58

معرکۂ تلعفر، عراق میں داعش کی شکست کا آخری مرحلہ

تحریر: ثاقب اکبر

عراق میں داعش کی شکست کے آخری مرحلے کا آغاز معرکۂ تلعفر سے ہوگیا ہے۔ تلعفر داعش کے ہاتھوں میں رہ جانے والا آخری اہم قصبہ ہے۔ اس کے علاوہ دو چھوٹے قصبے مزید اس کے قبضے میں ہیں۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے تلعفر کو آزاد کروانے کے لئے 20 اگست 2017ء بروز اتوار عراق کی سرکاری فوج نے حملے کا آغاز کیا ہے، جسے اینٹی ٹیررزم فورس، عراق کی فیڈرل پولیس اور عباس بریگیڈ کی حمایت حاصل ہے۔ یاد رہے کہ عباس بریگیڈ عوامی رضاکار فورس کا حصہ ہے، جسے الحشد الشعبی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حملے کا آغاز عراق کے وزیراعظم اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر حیدر العبادی کے اعلان سے ہوا۔ انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تلعفر کو آزاد کروانے کے لئے معرکہ شروع ہو رہا ہے اور عراقی ایک اور کامیابی کے نزدیک پہنچ گئے ہیں۔ اب تلعفر بھی ان علاقوں سے آملے گا جو دہشت گرد گروہ داعش سے آزاد ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں داعش سے کہتا ہوں کہ مجاہد قوتوں کے مقابلے میں ان کے پاس دو ہی راستے ہیں، ہتھیار ڈال دیں یا مرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ہم تمام میدانوں میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ انہوں نے تمام معرکوں میں شکست کھائی ہے، اب بھی شکست ان کے مقدر میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مسلح افواج، حشد الشعبی، اینٹی ٹیررزم فورس اور فیڈرل پولیس تلعفر کی آزادی کے لئے تیار ہیں، انہیں فضائیہ نیز میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں کی مکمل مدد حاصل ہے۔ انہوں نے مسلح افواج سے کہا کہ حق آپ کے ساتھ ہے اور ساری دنیا آپ کے ساتھ ہے۔ ہمارے بیٹے تمام صوبوں سے اکٹھے ہوئے ہیں، تاکہ تلعفر کو آزاد کروائیں، داعش عراقی عوام میں تفرقہ پیدا نہیں کرسکتی۔ عراق کے تمام لوگ داعش کے خلاف اور عراق کی زمین کو آزاد کروانے کے لئے متحد ہوچکے ہیں۔

  • مشاہدات: 75

بھارت اور اسرائیل کے مابین تعلقات کے ہوش ربا حقائق

تحریر: ثاقب اکبر

ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام 18 جولائی 2017ء کو اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد ہوا، جس کا عنوان ’’مودی کا دورہ اسرئیل اور مسئلہ کشمیر‘‘ تھا۔ اس سیمینار کا مقصد بھارت اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کے جنوبی ایشیا خاص طور پر پاکستان اور کشمیر پر پڑتے ہوئے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ اس سیمینار میں مختلف دینی مذہبی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ متعدد دانشوروں نے بھی شرکت کی اور موضوع کی مناسبت سے اظہار خیال کیا۔ ان میں ممتاز کشمیری دانشور جناب شیخ تجمل الاسلام بھی شامل تھے۔ وہ اس وقت کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں بھارت کے ہتھکنڈوں کے پیچھے اسرائیلی اور صہیونی دماغ کو حقائق کے ساتھ آشکار کیا اور بتایا کہ کیسے کشمیر کی تحریک حریت کو دبانے اور کشمیریوں کو آزادی کی آرزو کو ناکام کرنے کے لئے مظالم کے انوکھے طریقے اسرائیل ہی بھارتیوں کو سکھا رہا ہے، کیونکہ خود اس نے فلسطینیوں پر یہ سارے طریقے آزمائے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مختلف ہتھیار جو بھارت کشمیر میں استعمال کر رہا ہے، وہ اسے اسرائیل ہی نے مہیا کئے ہیں یا ان کے پیچھے اسرائیلی ٹیکنالوجی کارفرما ہے۔ انہوں نے بھارت اور اسرائیل کے تاریخی روابط کی بھی نشاندہی کی اور یہ واضح کیا کہ بھارت مہاتما گاندھی کی روش سے ہٹ کر 1949ء ہی سے اسرائیل کے ساتھ روابط کی بنیاد رکھ چکا ہے، جسے حالات کو دیکھ کر آہستہ آہستہ آشکار کیا گیا ہے۔ آیئے اس سلسلے میں ہم ان کے بتائے ہوئے چند چشم کشا حقائق پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

  • مشاہدات: 101