سیاسی

شریعت اور آئین

تحریر: سید ثاقب اکبر

پاکستان میں شریعت اور آئین کے حوالے سے بحثیں جاری رہتی ہیں۔ ہمارے لکھاری بھی اس موضوع پر مشق سخن کرتے رہے ہیں۔ ایک دینی طالب علم کی حیثیت سے ہم نے بھی مناسب سمجھا کہ اس حوالے سے چند معروضات اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کریں۔
۱۔ یہ آج کی بات نہیں بلکہ ہم ایک عرصے سے ایک گروہ کی طرف سے یہ پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں کہ جب قرآن و سنت موجود ہے تو پھر آئین کی کیا ضرورت ہے۔ یہ لوگ دراصل سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ریاست کیا ہوتی ہے اور اسے آئین کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ پاکستان یا کسی بھی ملک کا آئین اٹھا کر اگر یہ لوگ دقت نظرسے دیکھیں تو یہ کوئی ایسا مخمصہ نہیں کہ جو سمجھ نہ آسکے۔ مثلاً پاکستان کا آئین یہ بتاتا ہے کہ وفاقی حکومت کیسے بنتی ہے، قانون سازی کا اختیار کس کو ہے، پاکستان میںطاقت کے مراکز کون کون سے ہیں، عدلیہ کیسے معرض وجود میں آتی ہے، فوجی سربراہ کیسے بنتے ہیں، فوج کے اختیارات کیا ہیں، صوبوں میں حکومتیں کیسے بنتی ہیں، صوبوں اور وفاق کے درمیان تعلقات کی بنیاد کیا ہے، بنیادی انسانی حقوق کیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ ساری باتیں قرآن و سنت میں صراحت سے بیان ہوئی ہیں؟ کیا قرآن و سنت میں صوبوں اور وفاقی حکومت کے مابین تعلقات کار کو بیان کیا گیا ہے؟

  • مشاہدات: 13

معرکۂ تلعفر، عراق میں داعش کی شکست کا آخری مرحلہ

تحریر: ثاقب اکبر

عراق میں داعش کی شکست کے آخری مرحلے کا آغاز معرکۂ تلعفر سے ہوگیا ہے۔ تلعفر داعش کے ہاتھوں میں رہ جانے والا آخری اہم قصبہ ہے۔ اس کے علاوہ دو چھوٹے قصبے مزید اس کے قبضے میں ہیں۔ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے تلعفر کو آزاد کروانے کے لئے 20 اگست 2017ء بروز اتوار عراق کی سرکاری فوج نے حملے کا آغاز کیا ہے، جسے اینٹی ٹیررزم فورس، عراق کی فیڈرل پولیس اور عباس بریگیڈ کی حمایت حاصل ہے۔ یاد رہے کہ عباس بریگیڈ عوامی رضاکار فورس کا حصہ ہے، جسے الحشد الشعبی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حملے کا آغاز عراق کے وزیراعظم اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر حیدر العبادی کے اعلان سے ہوا۔ انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تلعفر کو آزاد کروانے کے لئے معرکہ شروع ہو رہا ہے اور عراقی ایک اور کامیابی کے نزدیک پہنچ گئے ہیں۔ اب تلعفر بھی ان علاقوں سے آملے گا جو دہشت گرد گروہ داعش سے آزاد ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں داعش سے کہتا ہوں کہ مجاہد قوتوں کے مقابلے میں ان کے پاس دو ہی راستے ہیں، ہتھیار ڈال دیں یا مرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ہم تمام میدانوں میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ انہوں نے تمام معرکوں میں شکست کھائی ہے، اب بھی شکست ان کے مقدر میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مسلح افواج، حشد الشعبی، اینٹی ٹیررزم فورس اور فیڈرل پولیس تلعفر کی آزادی کے لئے تیار ہیں، انہیں فضائیہ نیز میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں کی مکمل مدد حاصل ہے۔ انہوں نے مسلح افواج سے کہا کہ حق آپ کے ساتھ ہے اور ساری دنیا آپ کے ساتھ ہے۔ ہمارے بیٹے تمام صوبوں سے اکٹھے ہوئے ہیں، تاکہ تلعفر کو آزاد کروائیں، داعش عراقی عوام میں تفرقہ پیدا نہیں کرسکتی۔ عراق کے تمام لوگ داعش کے خلاف اور عراق کی زمین کو آزاد کروانے کے لئے متحد ہوچکے ہیں۔

  • مشاہدات: 34

بھارت اور اسرائیل کے مابین تعلقات کے ہوش ربا حقائق

تحریر: ثاقب اکبر

ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام 18 جولائی 2017ء کو اسلام آباد میں ایک سیمینار منعقد ہوا، جس کا عنوان ’’مودی کا دورہ اسرئیل اور مسئلہ کشمیر‘‘ تھا۔ اس سیمینار کا مقصد بھارت اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کے جنوبی ایشیا خاص طور پر پاکستان اور کشمیر پر پڑتے ہوئے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔ اس سیمینار میں مختلف دینی مذہبی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ متعدد دانشوروں نے بھی شرکت کی اور موضوع کی مناسبت سے اظہار خیال کیا۔ ان میں ممتاز کشمیری دانشور جناب شیخ تجمل الاسلام بھی شامل تھے۔ وہ اس وقت کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں بھارت کے ہتھکنڈوں کے پیچھے اسرائیلی اور صہیونی دماغ کو حقائق کے ساتھ آشکار کیا اور بتایا کہ کیسے کشمیر کی تحریک حریت کو دبانے اور کشمیریوں کو آزادی کی آرزو کو ناکام کرنے کے لئے مظالم کے انوکھے طریقے اسرائیل ہی بھارتیوں کو سکھا رہا ہے، کیونکہ خود اس نے فلسطینیوں پر یہ سارے طریقے آزمائے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مختلف ہتھیار جو بھارت کشمیر میں استعمال کر رہا ہے، وہ اسے اسرائیل ہی نے مہیا کئے ہیں یا ان کے پیچھے اسرائیلی ٹیکنالوجی کارفرما ہے۔ انہوں نے بھارت اور اسرائیل کے تاریخی روابط کی بھی نشاندہی کی اور یہ واضح کیا کہ بھارت مہاتما گاندھی کی روش سے ہٹ کر 1949ء ہی سے اسرائیل کے ساتھ روابط کی بنیاد رکھ چکا ہے، جسے حالات کو دیکھ کر آہستہ آہستہ آشکار کیا گیا ہے۔ آیئے اس سلسلے میں ہم ان کے بتائے ہوئے چند چشم کشا حقائق پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

  • مشاہدات: 60

داعش کیخلاف پاکستان کی تیاریاں

تحریر: ثاقب اکبر

16 جولائی 2017ء کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ سرحد پار سے دولت اسلامیہ کا اثر روکنے کے لئے راجگال میں خیبر فور آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مضبوط ہوتی ہوئی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا پاکستانی علاقے میں اثر روکنے کے لئے اس آپریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارا چنار سے گرفتار ہونے والوں کا تعلق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ثابت ہوا ہے۔ داعش کے افغانستان میں قدم جمانے کا آغاز 2014ء کے آخر میں ہوا اور وہ زیادہ نمایاں طور پر جنوری 2015ء میں سامنے آئی، جب اس نے مشرقی صوبہ ننگر ہار میں میں ایک بڑے حصے پر کنٹرول کر لیا۔ اس سلسلے میں 25 فروری 2017ء کو بی بی سی نے اپنے نامہ نگار داؤد عظمی کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب دولت اسلامیہ مشرق وسطٰی سے باہر باضابطہ طور پر نمودار ہوئی۔ اس نے چند ہی ہفتوں میں افغانستان کے پانچ صوبوں ہلمند، ذبول، فرح، لاگر اور ننگر ہار میں مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اڑھائی برس سے زیادہ کی مدت میں افغانستان کے اندر داعش کا اصل چیلنج افغان طالبان کے لئے ظاہر ہوا ہے۔ داعش افغان طالبان کا غلبہ ختم کرنا چاہتی ہے، علاوہ ازیں اس کا ہدف افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجو بھی ہیں۔ داعش کی کوشش یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لئے نئی بھرتی کے ساتھ ساتھ طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرے اور جو شامل نہ ہوں، ان کے خلاف کارروائی کرے۔ بظاہر ننگر ہار غیر اعلانیہ طور پر افغانستان میں داعش کا دارالحکومت ہے، جو داعش کے تصور کے مطابق دولت اسلامیہ صوبہ خراسان کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • مشاہدات: 75

ملی یکجہتی کونسل، ایک ایمان افروز نشست

تحریر: ثاقب اکبر

ملی یکجہتی کونسل جو کئی برسوں سے پاکستان میں مسلمانوں کے مابین اتفاق و اتحاد اور اسلامی اقدار کے احیاء کے لئے کوشاں ہے، میں مجھے بھی قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ اور ان کے بعد بھی مسلسل کچھ کردار ادا کرنے کی توفیق میسر ہے۔ قائدین کی تقریریں سننے اور ان کی باہمی گفتگو میں شریک ہونے کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ ان میں سے کئی ایک مواقع کو تاریخی اور تاریخ ساز قرار دیا جاسکتا ہے۔ البتہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ عید کے دوسرے روز 27 جون بروز منگل جماعت اسلامی کے مرکز لاہور میں جو ہنگامی نشست منعقد ہوئی، وہ ہر لحاظ سے ایمان افروز تھی۔ یہ نشست جو ہنگامی تو تھی ہی اور فقط ایک دن کے نوٹس پر طلب کی گئی تھی، عید کے دوسرے دن منعقد ہو رہی تھی، جو یقینی طور پر سال بھر کے مصروف ترین دنوں میں سے سمجھا جاتا ہے اور عام طور پر بہت سے لوگ ان دنوں کو اپنے اہل خانہ کے لئے مختص کرتے ہیں۔ دلوں میں ایمان کی مضبوطی ہی ہو تو امت کے کسی عظیم کام کے لئے لوگ ان دنوں میں گھر سے باہر نکلتے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے روحانی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ملی یکجہتی کونسل کے قائدین میں سے جس کے لئے بھی کچھ گنجائش تھی، اس نے اس میں شرکت کے لئے اپنے آپ کو مسئول جانا اور بعض قائدین دور دراز کا سفر کرکے اس میں شریک ہوئے۔

  • مشاہدات: 87