شام پر اتحادی حملے کے محرکات

تحریر: سید اسد عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ہی ملک میں متعدد جہتوں سے تنقید کا سامنا ہے، ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی جن کو ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی جانب سے انتخابات کے دوران میں مراعات کے معاملے کی تحقیق پر معزول کیا، نے ٹرمپ کے اخلاق کو امریکی منصب صدارت کے لئے ناموزوں قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں طبی طور پر بھی ان کو صدر کے لئے نامناسب شخص قرار دیا ہے۔ اپنی معزولی کے ایک برس بعد انہوں نے ایک ٹی وی کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنے وفاداروں میں گھرے ہوئے ہیں، انہوں نے انہیں کسی گروہ کے سرغنہ سے تشبیہ دی۔ کومی نے کہا کہ یہ شخص اپنے گرد ہر شخص کو داغدار کر دے گا۔ اس سے قبل امریکہ میں دیگر بہت سی اہم شخصیات جن میں قانون دان، ماہرین نفسیات، وکلا، سماجی کارکن شامل ہیں، ٹرمپ کی ذہنی حالت، پالیسیوں، شخصیت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخاب سے قبل کی تقاریر اور اب کی پالیسیوں پر تنقید امریکی میڈیا کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ایف بی آئی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیق کے اگلے مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل اور قریبی ساتھی نیز رازدان مائیکل کوہن کی گردن تک پہنچ چکی ہے۔ کوہن کے گھر، ہوٹل اور دفتر پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ مائیکل ڈونلڈ ٹرمپ کے رازدان ہیں، یہ وہی وکیل ہیں جنھوں نے ایک فاحشہ کو رقم دینے کا انکشاف کیا تھا۔ امریکہ میں اس چھاپے اور کوہن کی تحقیقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس پر ٹرمپ کافی بے چین نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ادارے کی کارروائی کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ امریکی میڈیا چینلز کی نظریں ان تحقیقات کے نتائج پر ہیں۔


دوسری جانب شام میں اتحادی افواج اور ان کے جنگجوؤں کو زمینی شکست کا سامنا ہے۔ دمشق کا مضافاتی علاقہ مشرقی غوطہ جو پہلے جنگوؤں کے کنڑول میں تھا، میں شامی افواج اور اس کے اتحادیوں کی پیش رفت جاری تھی۔ ادلب کے علاوہ پورے شام میں اب کوئی علاقہ نہیں بچا، جہاں شامی افواج کا کنٹرول نہ ہو۔ داعش کے زیر نگیں علاقے شامی افواج کے قبضے میں ہیں، ایک معرکہ شمالی شام میں جاری ہے۔ ادلب میں سکون ہے، جس کا سبب شاید شام، ترکی اور روس کے مابین کوئی معاہدہ ہے۔ ایسی صورتحال میں مغرب کا شام کی جنگ میں کردار بالکل ختم ہوتا نظر آرہا ہے جبکہ اس ملک میں روس اور ایران کا رسوخ انتہائی حد تک بڑھ چکا ہے۔ دمشق کے مضافاتی علاقے مشرقی غوطہ پر حملے کے دوران میں شام کے شہر دوما میں مجوزہ طور پر کیمیائی حملے کی خبریں سامنے آئیں۔ کیمیائی حملے کی خبر دینے والا میڈیا اور مغربی ادارے اس وقت تک اس حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ یا کسی اور فورم پر اپنے علم الیقین کے نعرے کے علاوہ کوئی اور ٹھوس ثبوت مہیا نہیں کرسکے، جس سے دنیا کو نظر آئے کہ واقعاً کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ نہ ہی کسی آزاد ذریعے نے اس واقعہ کے ہونے کی تصدیق کی ہے۔ چند ایک ویڈیوز ہیں، جو نہیں معلوم کہ اسی واقعہ کی ہیں یا اس قبل کہیں فلمبند کی گئیں۔

دوما کے کیمیائی حملے کی خبر کی تحقیق کے لئے اقوام متحدہ کی کیمیائی ہتھیاروں پر قابو پانے والے ماہرین پر مشتمل ٹیم دوما پہنچ چکی ہے۔ ان تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، کیا حقائق سامنے آتے ہیں، ان سب سے صرف نظر کرتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام میں تین مقامات پر میزائل داغ دیئے، جو کہ مجوزہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے ریسرچ سنٹر اور دو ڈپوؤں پر داغے گئے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اقوام متحدہ اور دنیا بھر میں مکے لہراتے نظر آئے کہ ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ ہم نے کیمیائی ہتھیار تباہ کر دیئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شامی سفارت کار نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے سفارتکاروں سے سوال کر دیا کہ اگر واقعاً ان مقامات پر کیمیائی ہتھیار موجود تھے، جن پر آپ نے حملہ کیا اور جنہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تباہ کیا تو ان کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات کہاں ہیں۔ بات ہے بھی سوال انگیز کہ کیمیائی مادے اور مہلک گیسیں تو ٹام ہاک میزائلوں سے تباہ نہیں ہوسکتیں۔ ٹام ہاک تو عمارتوں، گاڑیوں کو تباہ کرسکتا ہے، وہاں موجود کیمیائی مادوں کو نہیں۔ اگر واقعی ان مقامات پر کیمیائی مادے موجود تھے تو وہ یقیناً شام کی فضاؤں میں پھیل چکے ہوں گے اور اس سے لاکھوں انسان متاثر ہوئے ہوں گے، تاہم ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، جس سے لگتا یہی ہے کہ یا تو ٹام ہاک پھلجھڑیاں تھیں جو شام کی فضاؤں میں ہی پھٹ گئیں یا پھر جن مقامات پر یہ میزائل نہایت عجلت میں مارے گئے، ان مقامات پر کوئی ایسا کیمیائی ہتھیار نہیں تھا، جو فضا کو آلودہ کرسکتا۔ روس اور شام کا یہی کہنا ہے کہ شام میں کوئی کیمیائی مواد نہ تھا اور یہ مجوزہ کیمیائی حملہ شام کو نشانہ بنانے کے لے کیا گیا۔

میری نظر میں سطور بالا میں بیان کئے گئے دو مناظر یعنی ٹرمپ پر موجود سیاسی اور تحقیقاتی دباؤ اور دوسرا شام میں روس، ایران کا بڑھتا ہوا رسوخ نیز مغرب کے لئے کم ہوتے امکانات دوما کے کیمیائی حملے کی وجوہات فراہم کرتے ہیں۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے اور ان کو عملی جامہ پہنانے نیز ان کے شواہد فراہم کرنے والے نے یقیناً ان دونوں مناظر کو مدنظر رکھا ہوگا اور اس کے ذہن میں ہوگا کہ کسی طرح جنگ کا پانسہ پلٹا جائے۔ اسے اچھی طرح سے علم ہے کہ ٹرمپ اس وقت اندرونی طور پر شدید تنقید کا شکار ہے، اسے سانس لینے کے لئے ایک موقع کی تلاش ہے۔ اس منصوبہ ساز نے یقیناً وہ ثبوت امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو مہیا کئے، جن پر ان تینوں ممالک نے یقین بھی کیا اور اس کے خلاف اقدام کی ٹھان بھی لی۔ اس منصوبہ ساز کو یہ بھی علم تھا کہ روس شام میں فعال ہے، اگر امریکہ، برطانیہ اور فرانس مل کر حملہ کرتے ہیں تو یقیناً روس، ایران اور حزب اللہ کی جانب سے خاطر خواہ جواب آئے گا اور یوں اس خطہ کے ایک عالمی جنگ کی لپیٹ میں آنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

بساط بہت خوب بچھائی گئی، اس کی پیروی بھی کی گئی۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اس امر پر مجبور ہوئے کہ وہ عالمی قوانین اور درپیش خطرات کو پس پشت ڈالتے ہوئے شام پر حملہ کر دیں۔ ان ممالک نے تین مخصوص مراکز پر حملہ کیا اور پھر اپنی فتح کا شادیانہ بجا دیا کہ ’’مشن پورا ہوگیا۔‘‘ روس، ایران اور شام نے سیاسی بالیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان حملوں کا فوجی جواب نہ دیا بلکہ معاملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لے جایا گیا۔ وہ منصوبہ ساز جس نے خطے میں ایک بڑی جنگ کا خواب دیکھا تھا، اس کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ اب دوبارہ ٹرمپ پر تنقید کا آغاز ہوچکا ہے کہ تم نے یہ کیوں کہا ’’مشن پورا ہوگیا۔‘‘ تمہارا مشن تھا کیا؟ تم تو وہی ہو جو اپنی پالیسیاں بدلتے رہتے ہو، تمہارے خلاف تو ایف بی آئی کی تحقیقات چل رہی ہیں۔ یعنی جب منصوبہ مکمل نہ ہوا تو ٹرمپ پر اندرونی سیاسی دباؤ بحال کر دیا گیا۔ مرتا کیا نہ کرتا، اب روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگائی جانے کے اعلانات سامنے آرہے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ان حملوں کے لئے کہیں سے سرمایہ کاری بھی ہوئی ہے اور سرمایہ کار وہی ہے، جس نے افغانستان میں بھی روس کے خلاف سرمایہ کاری کی تھی۔ حالات اور مقام بدلا ہے، کردار بالکل وہی ہیں، جو اسی کی دہائی میں تھے۔ ہاں شام میں ہونے والے ان کیمیائی حملوں کے غل غپاڑے میں فلسطین میں مظاہرین کے قتل اور احتجاج کا معاملہ تو کہیں منوں مٹی تلے دب گیا۔ کاش مسلمان اپنے حقیقی دشمن کو جان سکیں اور اس کی سازشوں سے آگاہ ہوسکیں ۔۔۔۔۔کاش!

بشکریہ اسلام ٹائمز