شام

شام کے مسئلے پر ’’جنیوا 3‘‘ مذاکرات سے توقعات

تحریر: ثاقب اکبر



کل 31 جنوری 2016ء کو جنیوا میں شام کے بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام مذاکرات کا نیا دور منعقد ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کو جنیوا 3 قرار دیا گیا ہے۔ قبل ازیں گذشتہ برس اکتوبر۔نومبر میں ویانا میں جو مذاکرات ہوئے تھے، ان میں شام کے مسئلے کے حل کے لئے آئندہ 18ماہ کا ایک شیڈول طے پایا تھا،

  • مشاہدات: 374

بحران سے نکلتا ہوا شام

تحریر: ثاقب اکبر

اگرچہ منقسم فرینڈز آف سیریا ایک بڑی شکست سے دوچار ہوچکے ہیں، لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ ابھی انکے سینے میں بہت سے ارمان باقی ہیں اور وہ شام اور اس خطے کے دیگر ممالک میں دہشتگردی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، تاکہ اسرائیل کی طرف عرب اور مسلم عوام متوجہ نہ ہوسکیں اور اسرائیل کی صہیونی حکومت محفوظ رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر اوباما نے اپنے عوام کی منشاء کیخلاف شام میں حکومت مخالف دہشتگردوں کو جدید ٹینک شکن میزائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر اوباما نے حال ہی میں مشرق وسطٰی میں دہشتگردی کیخلاف اپنی نام نہاد جنگ کے لیے 5 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

  • مشاہدات: 652

شام تیسری عالمی جنگ کا میدان اور امت مسلمہ

اسد عباس تقویتحریر: سید اسد عباس تقوی 

جہاں تک حزب اللہ کے معرکہ القصیر میں شامل ہونے کا معاملہ ہے تو یقین جانیے کہ اس تنظیم کی قیادت کے لیے یہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔ حزب اللہ جو پوری دنیا میں بالعموم اور عرب دنیا میں بالخصوص صیہونی ظلم و بربریت کے خلاف مقاومت اور جرات کے ایک استعارے کے طور پر جانی جاتی ہے، کو اس جنگ میں شرکت سے سب سے بڑا نقصان، مقام اور حیثیت کا نقصان ہے۔ حزب اللہ لبنان کے شیعہ، سنی حتی کہ عیسائی عوام کی جماعت ہے، جو لبنان میں وحدت کا سب سے بڑا مظہر سمجھی جاتی ہے۔ شام کے علاقے القصیر میں شامی افواج کے ہمراہ جبہۃ النصرۃ کے خلاف میدان جنگ میں آنے کا فیصلہ اس گروہ کی شامی عوام اور شام میں موجود مزارات کے خلاف کارروائیوں، اس گروہ کی تکفیری منہج اور اس منہج کے سبب خطے پر پڑنے والے اثرات نیز اسرئیل کے شام پر حملوں کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔

  • مشاہدات: 866

شام میں جنگ آزماؤں کی الٹتی، بدلتی تدبیریں

تحریر: ثاقب اکبر

شام کی موجودہ صورت حال سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ شدت پسند گروہ زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کرنے کی خواہش میں ایک دوسرے پر پَل پڑے ہیں اور مختلف گروہوں کو علاقے کی مختلف حکومتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ خاص طور پر یہ آویزش قطر اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان نمودار ہو رہی ہے۔ دونوں حکومتوں کی خواہش ہے کہ ان کے زیراثر گروہ زیادہ قوی ہوں۔ بعید نہیں کہ اس کے اثرات علاقے کی سیاست پر مزید وسیع اور گہرے ہوں، کیونکہ دونوں ممالک قبل ازیں مصر کی اخوان المسلمین کی حکومت کے حوالے سے مختلف طرز عمل اختیار کرچکے ہیں۔

  • مشاہدات: 488

شام کے مسئلے میں حزب اللہ کا کردار

تحریر: ثاقب اکبر

شام سے آنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حزب اللہ کی حمایت سے شامی فوج نئے محاذ کھول رہی ہے اور انتہا پسند باغی گروہوں کو اس وقت سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جنیوا کے مذاکرات میں امریکہ اور اس کے حامی شام مخالف گروہوں کی عزت بچانے کے لیے کیا مراعات حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اب بھی تمام گروہوں کو جنگ کا راستہ ترک کرکے حقیقی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور شام کی قسمت کا فیصلہ شامی عوام کی رائے کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

  • مشاہدات: 981