شام

جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی علیحدگی، اسرائیل اور سعودیہ کی تائید

تحریر: ثاقب اکبر

بالآخر امریکہ نے 2015ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان پر پوری دنیا کی طرف سے مایوسی، تشویش، ناپسندیدگی اور مذمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کی تائید صرف دو ممالک نے کی ہے۔ ان میں سے ایک اسرائیل ہے اور دوسرا سعودی عرب ہے۔ اس معاہدے کے دیگر تمام فریقوں نے امریکہ کے اس اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے باوجود اسے قائم رکھنے کے لئے پرعزم ہیں اور معاہدے کے دیگر فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ایرانی صدر نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے بغیر بھی اس جوہری معاہدے پر قائم رہے گا اور وہ اس حوالے سے چین، روس اور دیگر یورپی ممالک سے مشاورت کریں گے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنے کے لئے انتظار کرنا ہوگا کہ پانچ دیگر بڑے ممالک کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مفادات کو نظر میں نہ رکھا گیا تو میں اپنے عوام سے بات کروں گا اور انہیں ان فیصلوں سے آگاہ کروں گا، جو اس سلسلے میں کئے جا چکے ہیں۔

  • مشاہدات: 44

شام پر اتحادی حملے کے محرکات

تحریر: سید اسد عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ہی ملک میں متعدد جہتوں سے تنقید کا سامنا ہے، ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی جن کو ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی جانب سے انتخابات کے دوران میں مراعات کے معاملے کی تحقیق پر معزول کیا، نے ٹرمپ کے اخلاق کو امریکی منصب صدارت کے لئے ناموزوں قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں طبی طور پر بھی ان کو صدر کے لئے نامناسب شخص قرار دیا ہے۔ اپنی معزولی کے ایک برس بعد انہوں نے ایک ٹی وی کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنے وفاداروں میں گھرے ہوئے ہیں، انہوں نے انہیں کسی گروہ کے سرغنہ سے تشبیہ دی۔ کومی نے کہا کہ یہ شخص اپنے گرد ہر شخص کو داغدار کر دے گا۔ اس سے قبل امریکہ میں دیگر بہت سی اہم شخصیات جن میں قانون دان، ماہرین نفسیات، وکلا، سماجی کارکن شامل ہیں، ٹرمپ کی ذہنی حالت، پالیسیوں، شخصیت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخاب سے قبل کی تقاریر اور اب کی پالیسیوں پر تنقید امریکی میڈیا کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ایف بی آئی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیق کے اگلے مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل اور قریبی ساتھی نیز رازدان مائیکل کوہن کی گردن تک پہنچ چکی ہے۔ کوہن کے گھر، ہوٹل اور دفتر پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ مائیکل ڈونلڈ ٹرمپ کے رازدان ہیں، یہ وہی وکیل ہیں جنھوں نے ایک فاحشہ کو رقم دینے کا انکشاف کیا تھا۔ امریکہ میں اس چھاپے اور کوہن کی تحقیقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس پر ٹرمپ کافی بے چین نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ادارے کی کارروائی کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ امریکی میڈیا چینلز کی نظریں ان تحقیقات کے نتائج پر ہیں۔

  • مشاہدات: 94

شام پر حملہ تو بنتا تھا

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

شام ایک ہنستا مسکراتا ملک تھا۔ یہاں کی یونیورسٹیاں اور میڈیکل نظام خطے میں موجود دیگر ممالک سے بہت اچھے تھے۔ بہت سلیقے سے شام کا انفرسٹکچر بنایا گیا تھا۔ ریلوے اور روڑ کا نظام پورے ملک کو باہم مربوط کئے ہوئے تھا۔ یہاں مسلکی و مذہبی آہنگی موجود تھی۔  اہلسنت کے بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے، جنہوں نے قرآن، حدیث اور فقہ میں بہت کام کیا اور ان کیا ہوا کام بنیادی نوعیت کا ہے۔ دمشق سے بنیادی اسلامی علوم کی کتب بڑے پیمانے پر شائع کی جاتی تھیں۔ دمشق یونیورسٹی کا شعبہ علوم اسلامی جدید اسلامی موضوعات پر کام کر رہا تھا۔ اسی طرح حضرت زینبؑ کے حرم میں قائم حوزہ علمیہ میں دنیا بھر کے طلباء زیر تعلیم تھے۔ درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ شام کے مسیحی مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات کو ادا کر رہے تھے۔ شام کوئی پابندیوں میں جکڑا ہوا ملک نہیں تھا۔ یہاں عورتوں کو بھی آزادی حاصل تھی، وہ گاڑی چلا سکتیں تھیں، وہ ملک کے اندر اور باہر سفر کرسکتی تھیں، اسی طرح شامی خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ تھی۔ ایسی صورت حال میں عرب بہار کے نام سے خطے میں طوفانی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس کے آغاز پر ہی اسے اتنے بڑے پیمانے پر کوریج اور دنوں میں ملکوں کا نظام تبدیل ہو جانے سے ہی کئی ماہرین نے اسے مشکوک قرار دیا۔

  • مشاہدات: 91

شام کے مسئلے پر ’’جنیوا 3‘‘ مذاکرات سے توقعات

تحریر: ثاقب اکبر



کل 31 جنوری 2016ء کو جنیوا میں شام کے بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام مذاکرات کا نیا دور منعقد ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کو جنیوا 3 قرار دیا گیا ہے۔ قبل ازیں گذشتہ برس اکتوبر۔نومبر میں ویانا میں جو مذاکرات ہوئے تھے، ان میں شام کے مسئلے کے حل کے لئے آئندہ 18ماہ کا ایک شیڈول طے پایا تھا،

  • مشاہدات: 1313

بحران سے نکلتا ہوا شام

تحریر: ثاقب اکبر

اگرچہ منقسم فرینڈز آف سیریا ایک بڑی شکست سے دوچار ہوچکے ہیں، لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ ابھی انکے سینے میں بہت سے ارمان باقی ہیں اور وہ شام اور اس خطے کے دیگر ممالک میں دہشتگردی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، تاکہ اسرائیل کی طرف عرب اور مسلم عوام متوجہ نہ ہوسکیں اور اسرائیل کی صہیونی حکومت محفوظ رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر اوباما نے اپنے عوام کی منشاء کیخلاف شام میں حکومت مخالف دہشتگردوں کو جدید ٹینک شکن میزائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر اوباما نے حال ہی میں مشرق وسطٰی میں دہشتگردی کیخلاف اپنی نام نہاد جنگ کے لیے 5 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

  • مشاہدات: 1379