مصر

مصر کا انقلاب تکمیل کے نئے مرحلے میں

تحریر: ثاقب اکبر

آج جبکہ حزب النور اور اس کے سرپرست بادشاہوں کی حقیقت اخوان المسلمین پر آشکار ہوچکی ہے، حقیقی دوست اور دشمن اس پر کھل چکے ہیں اور استعماری قوتوں کے خلاف اس کے حامی اور کارکن خم ٹھونک کر پھر سے کھڑے ہوگئے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں، انھیں پوری دنیا کے عدل و انصاف کے علمبرداروں کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان میں بھی ملی یکجہتی کونسل نے مصر میں حکومت پر فوجی قبضے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ ایسے میں توقع کی جانا چاہیے کہ اخوان قیادت روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے ماضی کے تجربات سے بہتر طور پر استفادہ کرے گی۔ امامت کے بارے میں علامہ اقبال (رہ) کے نظریئے کے مطابق حاضر و موجود سے بیزار ہو کر اور ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً کے قرآنی حکم کی روشنی میں آگے بڑھے گی۔

  • مشاہدات: 484

ہم تمھیں مسترد کرتے ہیں کیونکہ

تحریر: سید اسد عباس تقوی

مصر میں دو بڑے مذہبی ادارے جو ملکی سیاست میں اہم کردار کے حامل ہیں، یعنی جامعہ الازھر اور مصر کا کیتھولک چرچ بھی مرسی حکومت کی سیاسی پالیسیوں اور اقدامات سے چنداں خوش نہ تھے۔ ان دونوں اداروں کی نظر میں مرسی حکومت فقط اخوانی افراد کی فلاح اور بہتری کے لیے سرگرم عمل تھی۔ جامعہ الازھر اور کیتھولک چرچ کے مطابق اس حکومت نے عوام میں مذہبی حد بندیوں کو مزید گہرا کیا۔ یہی سبب ہے کہ جامعہ الازھر اور مصر کے کیتھولک چرچ نے مرسی حکومت کے خلاف ’’تحریک تمرد‘‘ کا کھل کر ساتھ دیا۔ اخوان کے مسلکی جھکاؤ کے تاثر کو مزید گہرا کرنے میں قریہ ابو مسلم کے واقعہ نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس واقعہ میں قاہرہ کے نواحی علاقے ابو مسلم میں جامعہ الازھر کے عالم دین شیخ حسن شحاتہ اور ان کے چار ساتھیوں کا نیمہ شعبان کے موقع پر وحشیانہ قتل نیز ان کی لاشوں کی بے حرمتی اور اس پر حکومتی اداروں کی بے بسی اور خاموشی نے بھی کئی ایک سوالات کو جنم دیا۔

  • مشاہدات: 528