لبنان

تیونس کی پارلیمینٹ میں حزب اللہ کی حمایت

تحریر: ثاقب اکبر

عام طور پر ہمارے ہاں خبروں میں حکمرانوں کا موقف بیان کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ ان کے نظریئے کو قوموں کے نظریئے کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن جب عوامی جدوجہد کی لہریں نمایاں ہوتی ہیں اور انقلابی تحریک منہ زور ہو جاتی ہے تو پھر تجزیہ نگار بیان کرنے لگتے ہیں کہ عوام پہلے ہی اپنے حکمرانوں کے خلاف تھے۔ عرب ممالک میں یہ کیفیت زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے۔ 2010ء کے آخر اور 2011ء کے آغاز میں جب تیونس سے ایک انقلابی تحریک اٹھی اور مصر تک آپہنچی تو ہمارے ہاں اسے مغرب کی پیروی میں ”عرب بہار“ کا نام دیا گیا، لیکن رفتہ رفتہ اس بہار کی ”مہار“ پھر عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ آگئی اور اس نے جدھر چاہا اس کا رُخ موڑ دیا۔ تیونس میں ایک مرتبہ پھر وہی ماضی کی پالیسیاں بروئے کار آنے لگیں۔ تیونس کی حکومت عرب لیگ اور دیگر پلیٹ فارمز پر امریکن ورلڈ آرڈر کے ساتھ دکھائی دینے لگی۔ مصر میں بھی اخوان المسلمین کی حکومت کو مغرب کی آلہ کار فوج نے چلتا کیا۔ شام میں اسلحے اور دہشت گردی کے زور پر ”جمہوری انقلاب“ کو امپورٹ اور پروموٹ کیا گیا۔ یمن میں عوامی انقلاب کو زمینی اور بحری ناکہ بندی اور فضائی بمباری کے ذریعے دبانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ایسا نہیں کہ عرب عوام نے اپنا موقف تبدیل کر لیا اور عالمی و علاقائی حقیقتیں ان سے صرف نظر ہوگئی ہیں۔ اسلامی بیداری کی امواج اب بھی ابھرتی اور منافقت و استبداد کی دیواروں سے ٹکراتی رہتی ہیں۔ بعض ممالک میں عوامی جدوجہد سے آنے والی تبدیلیوں اور پاپولر فورسز کے جذبہ جہاد و شہادت کے نتیجے میں رونما ہونے والے تغیرات کو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔

  • مشاہدات: 160

حزب اللہ سے خوفزدہ صہیونی حکمران اور یہودی عوام

تحریر: ثاقب اکبر 
 
اس وقت (30 جنوری 2015ء بروز جمعہ بوقت عصر) جب ہم یہ سطور سپرد قلم کر رہے ہیں تو لبنان سمیت پوری عرب دنیا بلکہ مشرق وسطٰی کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے تمام افراد حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے خصوصی خطاب کے منتظر ہیں جو بیروت میں سید الشہداء کمپلیکس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کیا جائے گا۔

  • مشاہدات: 1665