فلسطین

امریکہ کا یک ریاستی حل، فلسطین کا خاتمہ

 

تحریر: ثاقب اکبر

گذشتہ برس مئی میں ریاض میں ”اسلامی کانفرنس“ کی صدارت اور دیگر تقریبات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیدھے اسرائیل جا پہنچے۔ ہم نے اسی زمانے میں لکھا تھا کہ یہ جدید تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ امریکی راہنما سعودی عرب سے براہ راست اسرائیل گئے، جو اس امر کا اظہار ہے کہ اب سعودی عرب کو کھلے بندوں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کیسے اور کس سطح کے تعلقات رکھتا ہے۔ امریکی صدر نے اسرائیل پہنچ کر ایک نئی بات کہی اور وہ یہ تھی کہ امریکہ اس علاقے کے لئے دو ریاستی کے علاوہ یک ریاستی حل پر بھی غور کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کی ریاست کا نظریہ ختم ہو جائے گا اور یہاں صرف اسرائیل باقی رہے گا۔ ایسا ہونا اسی صورت میں ممکن ہوسکتا تھا کہ امریکہ صہیونیوں کی خواہش کے مطابق بیت المقدس کو ان کا دارالحکومت تسلیم کرلے۔ یہی وہ ایام تھے، جب صہیونی ریاست کے قیام کو 69 برس پورے ہوئے اور ان دنوں اسرائیل میں اس ریاست کی سالگرہ منائی جا رہی تھی اور دوسری طرف فلسطینی یوم نکبہ منا رہے تھے، یعنی تباہی و بربادی کا دن۔ فلسطینیوں کے لئے یہ ان کی تاریخ میں تباہی اور بربادی ہی کا دن ہے، جبکہ باہر سے لا کر آباد کئے گئے صہیونیوں کے لئے یہ خوشی اور مسرت کا دن ہے۔

  • مشاہدات: 34

قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنیکے امریکی اقدام پر پاکستانی ردعمل

تحریر: ثاقب اکبر

برصغیر کے مسلمان اور اسلامی قائدین پہلے دن سے ہی برطانیہ کی اس نیت کو بھانپ گئے تھے کہ وہ فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کی ایک ناجائز ریاست قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے قائداعظم اور علامہ اقبال کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یہ دونوں شخصیات خاص طور پر اسلامی ضمیر کی ترجمان کی حیثیت رکھتی ہیں، پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں قائداعظم نے اور ان کی قیادت میں مسلم لیگ نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی 1947ء میں جب قائداعظم پاکستان کے گورنر جنرل تھے تو اس وقت کے صہیونی حکومت کے وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین نے سفارتی تعلقات کے قیام کی خواہش پر مبنی ایک ٹیلی گرام قائداعظم کے نام بھجوایا۔ جس کا جواب بانی پاکستان نے سرکاری طور پر ان الفاظ میں دیا: ”دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کے بجائے جان دے دیگا۔ مجھے توقع ہے کہ یہودی ایسے شرمناک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میری خواہش ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اپنے ہاتھ اٹھا لیں اور پھر میں دیکھوں کہ یہودی بیت المقدس پر کیسے قبضہ کرتے ہیں۔ عوام کی آرزوﺅں کے خلاف پہلے ہی 5 لاکھ یہودیوں کو بیت المقدس میں بسایا جا چکا ہے۔ میں جاننا چاہوں گا کہ کیا کسی اور ملک نے انہیں اپنے ہاں بسایا ہے۔؟ اگر تسلط قائم کرنے اور استحصال کا سلسلہ جاری رہا تو پھر نہ امن قائم ہوگا اور نہ جنگیں ختم ہوں گی۔"

  • مشاہدات: 202

علامہ اقبال، قائداعظم اور فلسطین (2)

تحریر: ثاقب اکبر

 جیسا کہ ہم گذشتہ قسط میں یہ بیان کر آئے ہیں کہ علامہ اقبال نے 7 اکتوبر 1937ء کو قائد اعظم کے نام فلسطین کے مسئلے پر ایک مکتوب روانہ کیا۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا یہ خط ملنے کے ایک ہفتے بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 15 اکتوبر 1937ء میں لکھنؤ میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے کا تفصیلی ذکر کیا اور برطانوی حکمرانوں کو تنبیہ کی کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کے حقوق پامال نہ کریں۔ انھوں نے کہا:

  • مشاہدات: 930

علامہ اقبال، قائد اعظم اور فلسطین (1)

تحریر: ثاقب اکبر

ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقاؤں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے، اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے، تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنماؤں کے جرأت مندانہ اور دوٹوک موقف سے آگاہ ہوسکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے۔

  • مشاہدات: 853