فلسطین

علامہ اقبال، قائداعظم اور فلسطین (2)

تحریر: ثاقب اکبر

 جیسا کہ ہم گذشتہ قسط میں یہ بیان کر آئے ہیں کہ علامہ اقبال نے 7 اکتوبر 1937ء کو قائد اعظم کے نام فلسطین کے مسئلے پر ایک مکتوب روانہ کیا۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا یہ خط ملنے کے ایک ہفتے بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 15 اکتوبر 1937ء میں لکھنؤ میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے کا تفصیلی ذکر کیا اور برطانوی حکمرانوں کو تنبیہ کی کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کے حقوق پامال نہ کریں۔ انھوں نے کہا:

  • مشاہدات: 556

علامہ اقبال، قائد اعظم اور فلسطین (1)

تحریر: ثاقب اکبر

ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقاؤں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے، اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے، تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنماؤں کے جرأت مندانہ اور دوٹوک موقف سے آگاہ ہوسکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے۔

  • مشاہدات: 621