شام و عراق میں داعش کی شکست اور اسکا مستقبل

تحریر: ثاقب اکبر

شام اور عراق کی حکومتوں نے چند روز پہلے سرکاری طور پر اعلان کیا ہے کہ ان کے ملکوں میں داعش کو مکمل شکست دی جا چکی ہے۔ اس سلسلے میں البتہ بچے کھچے عناصر کے خلاف اِکا دُکا کارروائیاں جاری ہیں۔ ایران کی سپاہ پاسداران کے القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے بھی ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے نام اپنے ایک مکتوب میں یہ واضح کیا ہے کہ داعش کو شام اور عراق میں مکمل شکست ہوچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شام میں داعش کا آخری قلعہ ابوکمال تھا، جہاں سے امریکی و صہیونی گروہ داعش کا پرچم اتار کر شام کی حکومت کا پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ اس طرح دولت اسلامیہ عراق و شام کے نام سے قائم کی گئی جعلی خلافت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ دونوں ملکوں کا لاکھوں مربع کلو میٹر علاقہ اس خطرناک گروہ کے قبضے میں آچکا تھا۔ اس گروہ نے ان دونوں ملکوں کے ہزاروں دیہات، شہروں اور اہم ترین صوبائی مراکز پر قبضہ کر لیا تھا۔ ہزاروں کارخانے اور فیکٹریاں اور ہزاروں تنصیبات اس کے تصرف میں آچکی تھیں۔ راستے، پل اور تیل اور گیس کی اہم ترین تنصیبات اور لائنز کے علاوہ توانائی پیدا کرنے والے دیگر مراکز بھی اس کے قبضے میں جا چکے تھے۔ انہوں نے اپنے قبضے میں موجود ان تمام چیزوں اور علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا اور دونوں قوموں کے تاریخی ورثے کو بموں کے ذریعے سے اڑا دیا۔


جنرل قاسم سلیمانی نے لکھا ہے کہ ایک ابتدائی اندازے کے مطابق اس خبیث اور دہشگرد گروہ کے ہاتھوں تقریباً پانچ سو ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ اس گروہ کے ہاتھوں بہت سے دردناک جرائم سرزد ہوئے۔ انہوں نے بچوں کے سروں کو کاٹا، زندہ انسانوں کی کھال ادھیڑی، بے گناہ لڑکیوں اور عورتوں کو گرفتار کیا اور ان کی عزت پامال کی، انسانوں کو زندہ جلایا اور اجتماعی طور پر سینکڑوں جوانوں کو ذبح کیا۔ اس ظالم گروہ کے ظلم اور ستم سے بچنے کے لیے کئی ملین انسان دربدر اور آوارہ وطن ہوئے۔ اس سیاہ فتنے کے ہاتھوں مسجدیں اور مسلمانوں کے دیگر مقدسات تباہ ہوئے۔ انہوں نے کئی مسجدوں کو امام مسجد اور نمازیوں سمیت بموں سے اڑا دیا۔ جنرل قاسم سلیمانی نے اپنے مکتوب میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس گروہ سے نجات کے لئے آپ کی حکیمانہ راہنمائی اور مرجع عالی قدر حضرت آیت اللہ سیستانی کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انہوں نے عراق اور شام کی افواج، ان دونوں ملکوں کے جوانوں خاص طور پر حشد الشعبی، حزب اللہ اور دیگر مسلمان جوانوں کے ایمان افروز کردار کا بھی ذکر کیا ہے۔

جنرل قاسم سلیمانی کے مکتوب کے جواب میں آیت اللہ خامنہ ای نے جہاں قربانیاں دینے والے تمام مجاہدوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے، وہاں اس کامیابی کے پیچھے اللہ کی نصرت کی طرف اس آیت کے حوالے سے اشارہ کیا ہے: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ "اور جب تم نے یہ کنکریاں پھینکیں تو تم نے نہیں بلکہ اللہ نے پھینکیں۔" اپنے جواب میں انہوں نے زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ اس کامیابی کے باوجود دشمن کی سازشوں سے غفلت نہیں ہونا چاہیے، جن قوتوں نے بہت بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے اس منحوس سازش کو جنم دیا، وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گی اور کوشش کریں گی کہ وہ اس خطے کے کسی اور علاقے میں یا کسی اور صورت میں یہ سلسلہ جاری رکھیں۔ لہٰذا جذبے، بیداری اور اتحاد کو باقی رکھنا ضروری ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے جواب کے آخر میں جس امر کی نشاندہی کی ہے، وہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے گردوپیش سے اور مشرق وسطٰی سے جس طرح کی خبریں آ رہی ہیں، وہ اس امر کی حکایت کرتی ہے کہ داعش کی اہم قیادت کو امریکہ نے اپنے آئندہ کے منصوبوں کے لئے محفوظ بھی کیا ہے اور مختلف علاقوں میں منتقل بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے گذشتہ دنوں بی بی سی نے Raqqa's Dirty Secret کے نام سے جو رپورٹ جاری کی ہے، وہ اس امر کی حکایت کرتی ہے کہ رقہ پر قبضے اور شامی افواج کی داعش کے علاقوں پر کامیاب یلغار کے بعد امریکی اور برطانوی اداروں کے زیر سرپرستی داعش سے وابستہ ہزاروں افراد کو کرد فورسز کے زیر قبضہ علاقوں سے گزار کر شام کے مختلف علاقوں میں پہنچایا ہے اور ان میں سے بعض ترکی بھی پہنچے ہیں۔

تہران میں حال ہی میں (22 اور 23 نومبر2017ء) کو محبان اہلبیتؑ کے عنوان سے جو عالمی کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں افغانستان کے نامور راہنما استاد محقق نے دوسرے روز کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کے شمالی علاقوں میں دس ہزار داعشی جمع ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل اپنے مختلف انٹرویوز میں یہی بات افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی کرچکے ہیں۔ جناب حامد کرزئی نے روسی ٹی وی چینل (RT) کو اکتوبر کے آغاز میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ کے داعش سے رابطے ہیں۔ امریکہ افغانستان میں داعش کو اسلحہ فراہم کرکے اس کی مدد کر رہا ہے، جبکہ جنگجو تنظیم داعش افغانستان میں امریکی فوجی اڈے بھی استعمال کر رہی ہے اور امریکی اڈوں سے غیر فوجی رنگ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعش کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سابق افغان صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کی موجودگی ہی میں داعش افغانستان میں قائم ہوئی ہے۔ ٹرمپ حکومت کو ہمارے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ پہلے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد تھے، لیکن اب داعش سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم امریکہ سے سوال کریں کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی اور موجودگی کے باوجود داعش نے کس طرح افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شک سے بھی زیادہ یقین ہے کہ داعش کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا جاتا ہے اور یہ ملک کے صرف ایک حصے میں نہیں بلکہ کئی حصوں میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کو اسلحہ کی فراہمی کی خبریں افغان شہری ہی نہیں بلکہ حکومت میں موجود افراد اور دیہات میں رہنے والے افراد بھی دے رہے ہیں۔ ملک بھر سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ داعش کو امریکی مدد حاصل ہے۔

جناب حامد کرزئی کا یہ انٹرویو جیو نیوز کی ویب سائٹ پر 8 اکتوبر 2017ء کو شائع کیا گیا۔ پاکستان کے تمام اہم ٹی وی چینلز اور اخبارات میں بھی جناب حامد کرزئی کا یہ انٹرویو شائع ہوا۔ اس انٹرویو کے بعد بھی جناب حامد کرزئی کئی ایک انٹرویو اور بیانات میں اپنا یہی موقف دہرا چکے ہیں۔ حال ہی میں ایک افغان گورنر نے بھی یہی بات کہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ امریکہ داعش کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا، امریکہ کی تمام تر کارروائیاں طالبان کے خلاف ہیں۔ ہم اپنے متعدد تجزیات میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ روس، چین اور پاکستان کو بھی افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور طاقت کے حوالے سے تشویش ہے۔ اس سلسلے میں تینوں ممالک کے مابین کئی ایک مشاورتی نشستیں ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران کا تفصیلی دورہ کیا ہے۔ ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت کے علاوہ انہوں نے ایران کی فوجی قیادت سے بھی خصوصی ملاقاتیں کی ہیں۔ اگرچہ ان ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں بلکہ صرف کلی ہم آہنگی کے حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم اس میں شک نہیں کہ ان امور پر یقیناً تبادلہ خیال کیا گیا ہوگا، جو دونوں ملکوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روس اور ایران پہلے ہی داعش کے خلاف جنگ کا تجربہ کر چکے ہیں۔ اس جنگ میں انہیں چین کی تائید بھی حاصل رہی ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ تمام علاقائی طاقتیں داعش کے نئے فتنے سے نمٹنے کے لئے ایک ہم آہنگ حکمت عملی اختیار کریں گی اور اس خطے میں بھی داعش اور اس کے سرپرستوں کو عبرتناک شکست ہوگی۔