کرد راہنماءبارزانی کا مستقبل

تحریر : ثاقب اکبر

مسعود بارزانی معروف کرد راہنما ملا مصطفی بارزانی کے بیٹے ہیں۔ وہ ایک عرصے سے عراقی کردستان کو ایک الگ مملکت بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ کردستان کی الگ مملکت کا تصور تو بہت پرانا ہے اور امریکی پینٹاگان کی طرف سے شائع ہونے والے ایک مجلے میں عالم اسلام کے نئے ممالک بنانے کے لیے جو نقشہ شائع کیا گیاتھا اس میں بھی کردستان کو ایک الگ ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جب امریکا نے عراق پر قبضہ کرلیا تو 2003میں عراق کا نیا آئین بنانے کے لیے پیشرفت کے دوران میں عراقی کرد علاقوں کو ایک نیم خود مختار مملکت کی حیثیت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ کرد نمائندوں نے امریکا اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی موجودگی میں کردستان کے نیم خود مختار علاقے کے لیے جن حدود سے اتفاق کیا،بارزانی مسلسل اس سے زیادہ علاقے اپنی حدود میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے امریکا، برطانیہ اور فرانس سے مطالبہ کیاکہ کردستان کی نئی حد بندی کے لیے اقدام کریں۔ان کی نئی خواہشات ترکی کی سرحد تک پہنچتی تھیں۔ بہرحال انھوں نے سب سے پہلے کرکوک میں کرد فوج جسے پیش مرگہ کہتے ہیں داخل کردی۔یاد رہے کہ صوبہ کرکوک کردستان کی ان حدود میں شامل نہیں ہے جنھیں آئینی طور پر نیم خود مختار مملکت کردستان میں شامل کیا گیا ہے۔ عراق کی وفاقی حکومت نے اس کی مخالفت کی اور مسلسل اس بات پر زور دیا کہ کرکوک سے پیش مرگہ کو واپس بلایا جائے جسے بارزانی کی حکومت نے سنا ان سنا کردیا۔

عراق میں دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر داعش کے ساتھ حکومت کی نبردآزمائی کو بارزانی نے اپنے لیے ایک غنیمت موقع سمجھا کہ جمہوریت اور عوامی حقوق کے نام پر کردستان کی علیحدگی کے لیے پیش رفت کی جائے۔ انھوں نے کرد مملکت کی حدود کے لیے جو نئے مطالبات شروع کیے ان کے مطابق کرد مملکت دو برابر ہوجاتی ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان علاقوں میں آزادی کے لیے ریفرنڈم کروا کر دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ کرد عراق کی وفاقی حکومت سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ ان کی نظر سب سے زیادہ کرکوک پر تھی جو سب سے زیادہ گیس اور تیل پیدا کرنے والا عراقی صوبہ ہے۔بارزانی نے اس اثنا میں غیر ملکی کمپینوں سے بالا بالا گیس اور تیل کی ترسیل کے معاہدے بھی شروع کردیے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے کسی احتجاج پر انھوں نے کان نہیں دھرے۔ وہ سب سے زیادہ تیل اسرائیل کو فراہم کرتے رہے جس کی پائپ لائن ترکی سے گزرتی ہے اور اسرائیل کو سستے داموں تیل فراہم کرتی ہے۔ اسرائیل کے شروع ہی سے بارزانی اور بعض دیگر کرد قبائل سے روابط رہے ہیں۔ مصطفی بارزانی کے ساتھ اسرائیلی قیادت کے روابط دیرینہ تھے جو بعد میں مسعود بارزانی کے ساتھ بھی برقرار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس نے 25ستمبر2017کو علیحدگی کے لیے کروائے گئے کردستان کے ریفرنڈم کی حمایت کی۔ کردوں سے اسرائیلی روابط 1960کی دہائی سے قائم ہو گئے تھے۔ اس نے کردوں کو فوجی تربیت بھی مہیا کی۔ نیز کردوں کو اسلحہ بھی فراہم کیا جس میں اینٹی ایئر کرافٹ آر ٹلری بھی شامل تھی۔ جب پہلی خلیجی جنگ کے موقع پر امریکا نے عراق کے خلاف آپریشن ڈیزرٹ سٹارم شروع کیا تو اسرائیل نے امریکا سے تقاضا کیا کہ کرد علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے۔

2004میں اسرائیلی میڈیا نے کرد راہنماﺅں مسعود بارزانی اور جلال طالبانی کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم ایئریل شیرون کی ملاقات کی خبر دی اور اس بات کی تصدیق کی کہ عراقی کردستان کے راہنماﺅں کے ساتھ اسرائیل کے قریبی روابط ہیں۔ خود مسعود بارزانی نے کویت میں مئی 2006میں اپنے ایک دورے کے دوران میں کرد اسرائیل تعلقات کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ اسی موقع پر میڈیا نے سابق اسرائیلی وزیردفاع موشے دایان کے ساتھ مسعود بارزانی کے والد مصطفی بارزانی کی تصاویر بھی شائع کیں۔ شروع میں ترکی کو بھی ان روابط پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور آئل پائپ لائن کرد علاقوں سے آتے ہوئے ترکی سے گزرتی تھی، ترکی کو بھی سستے داموں تیل مل جاتا تھا اور اسرائیل تک تیل کی رسائی سے بھی اسے مالی مفادات ملتے تھے۔ نیز اسرائیل کے ساتھ ترکی کے بھی قریبی تعلقات چلے آرہے تھے۔ تاہم 25ستمبر2017کے ریفرنڈم کی ترکی نے کھل کر مخالفت کی کیونکہ ترکی کے نزدیک اس کے نتیجے میں خود ترک کرد علاقوں میں علیحدگی کی تحریک کو تقویت ملتی ہے۔

 ریفرنڈم کی عراق،ایران،شام اور ترکی کی طرف سے مخالفت کی وجہ بہت واضح ہے کیونکہ ان تمام ممالک میں کرد آبادیاں موجود ہیں۔ شام میں بھی کردوں کو امریکی سرپرستی حاصل ہے، ترکی جس کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ نے بھی علیحدگی کے لیے کروائے جانے والے اس ریفرنڈم کی مخالفت کی۔ امریکا اوریورپ نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ ابھی داعش کے خلاف جنگ باقی ہے ،اس لیے کسی نئے مسئلے کا آغاز نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ نے بھی یہی نقطہ نظر اختیار کیا۔ تاہم بارزانی ایک آزاد مملکت کا سربراہ بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے بہرحال یہ ریفرنڈم کروا کر ہی چھوڑا۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق یوں لگتا ہے کہ جیسے مسعود بارزانی کے اقتدار کا سورج نصف النہار سے اب تیزی سے غروب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا اظہار عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے حکم پر سوموار 16اکتوبر2017کی صبح عراقی سیکورٹی فورسز کے کرکوک کی طرف پیش قدمی سے ہوا۔ حیدر العبادی اس سے پہلے کرد فورسز پیش مرگہ کو کرکوک خالی کرنے کے لیے 72گھنٹے کا الٹی میٹم دے چکے تھے۔ اس الٹی میٹم کی مدت گزرنے کے بعد عراقی فورسز نے کارروائی کا آغاز کیا اور دو دن کے اندر اندر 95فیصد صوبہ کرکوک کا علاقہ کرد فورسز سے خالی کروا لیا۔ اس وقت صرف شہر الدبس کے مغرب میں تیل اور گیس کا کچھ علاقہ کردستان کی نیم خود مختار حکومت کے کنٹرول میں باقی رہ گیا ہے جو بظاہر جلد خالی کروا لیا جائے گا۔ اس دوران میں ایک آدھ جھڑپ کے علاوہ کوئی خونی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ تمام فوجی تنصیبات ، گیس اور تیل کے تمام ذخائر عراقی حکومت کو واپس مل گئے ہیں۔ حیدر العبادی کا ایک بیان امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے 19اکتوبر2017کو شائع کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ عراق متحد رہے گا اور حکومت کردستان زوال پذیر ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک مستحکم عراق علاقے اور دنیا کے استحکام کے لیے بہتر ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ کردستان کی حکومت چند عہدیداروں اور ان کے خاندانوں کی کرپشن کی وجہ سے روبہ زوال ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کرد حکومت سے تقاضا کرتے ہیں کہ عراقی آئین کے سامنے سر تسلیم خم کرے اورمذاکرات کا آغاز کرے۔

دریں اثنا عراقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ عراق کی سیکورٹی فورسز کرکوک میں اپنے ٹھکانوں پر موجود ہیں اور وہ ہرگز انھیں ترک نہیں کریں گی۔اس وقت خود کردوں کے اندر اختلاف رائے کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ بہت سے کرد راہنما کہہ رہے ہیں کہ مسعود بارزانی اور کردستان ڈیموکریٹک یونین میں ان کے چند قریبیوں نے، جنھیں کردستان میں بارزانی مافیا کہا جاتا ہے، گذشتہ تین برسوں میں عراقی قوم کے گیس اور تیل کے ذخائر کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور ترکی کے راستے انھیں سستے داموں اسرائیل کو فروخت کیا۔بغداد حکومت کی کرکوک میں کامیاب فوجی کارروائی نے مسعود بارزانی کو بہت کمزور کردیا ہے اور آزادی کے نام پر کروائے جانے والے ریفرنڈم کے ذریعے بارزانی نے ایک آزاد خود مختار کردستان کا حکمران بننے کا جو خواب دیکھا تھا وہ بکھر کر رہ گیا ہے۔خود کرد پارلیمنٹ نے بارزانی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ پیش مرگہ کی کرکوک میں شکست کے فوری بعد کرد راہنما یوسف محمد نے مسعود بارزانی سے مطالبہ کیا کہ وہ اقتدار سے الگ ہوں۔ کئی ایک کرد تنظیمیں بارزانی کی طرف سے کروائے جانے والے ریفرنڈم پر شدید تنقید کررہی ہیں اوراسے غیر قانونی قرار دے رہی ہیں۔ یہ صورتحال یقینی طور پر بارزانی کے لیے خوفناک ہے۔ کرد پارلیمنٹ کے ایک اور رکن ہوشیار عبداللہ نے کہا ہے کہ حیرت ہے کہ مسعود بارزانی نے ابھی تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا کیونکہ اب وہ ایک غیر قانونی صدر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے ملک کے مختلف اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ بارزانی سے تعامل اور تعاون نہ کریں۔

اس وقت جب کہ کرد علاقوں کے چاروں طرف کی سرحدیں بند ہو چکی ہیں ،زمینی اور فضائی راستوں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ بظاہر یہ امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد بارزانی حکومت سے الگ ہوجائیں گے۔ ان کا مستقبل سیاسی طور پر بہت تاریک ہو چکا ہے۔ انھوں نے اسرائیل اور امریکا سے مدد نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا ہے لیکن خطے کے حالات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکا بلاواسطہ اس وقت بارزانی کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ اسرائیل کے ساتھ بارزانی کے تعلقات منظر عام پر آنے کے بعد عراقی عوام میں بھی وہ ایک قابل نفرت شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں مزید کیا حقائق سامنے آتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ اب عراقی کردستان کی علیحدگی کی تحریک ہی دم نہیں توڑ گئی بلکہ گریٹر کردستان کا منصوبہ بھی ضعف اور کمزوری کا شکار ہوچکا ہے۔

بشکریہ تجزیات آن لائن