عراق

داعش تو اک بہانہ ہے۔۔ اسلام اصل نشانہ ہے

تحریر: سید اسد عباس تقوی

امریکہ بہادر داعش کے عراق کے شمالی علاقوں پر قبضے کے بعد سے بہت پھرتیاں دکھا رہا ہے۔ ابھی داعش کے قبضے کو چند ہی دن گزرے تھے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے عراق کا دورہ کیا، اس دورے کے دوران جان کیری نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے علاوہ، کئی ایک سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ اسی دورے کے دوران جان کیری عراق کے نیم خود مختار کرد علاقوں میں بھی گئے، جہاں انہوں نے کرد قائدین سے ملاقاتیں کیں۔

  • مشاہدات: 604

عراق، حقیقی انقلاب کی طرف گامزن

تحریر: ثاقب اکبر

ایک طرف شیعہ راہنما آیت اللہ العظمٰی سید علی سیستانی نے جہاد دفاعی کا حکم جاری کیا ہے، جسے واجب کفائی قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف معروف اہل سنت عالم دین مفتی امینی نے کہا ہے کہ داعش کے اس گروہ کا اہل سنت والجماعت سے کوئی واسطہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی فوج کہے گی، ہم عمامہ اتار کر فوجی کی وردی پہن کر ان دشمنان ملک و ملت سے جہاد کریں گے۔ یاد رہے کہ پہلے ہی 11 اہل سنت علماء کو موصل میں داعش دہشت گرد اپنی بیعت نہ کرنے پر سفاکانہ طریقے سے قتل کرچکے ہیں، جن میں موصل کی سنی جامع مسجد کے امام بھی شامل ہیں۔

  • مشاہدات: 1185

داعش کے حملے میں پنہاں مثبت پہلو

تحریر: سید اسد عباس تقوی

عراق داعش کے لیے ایک مشکل میدان بن چکا ہے۔ داعش کے موصل اور تکریت پر قبضے کو عراقی حکومت اس وقت ایک موقع میں تبدیل کرنے کی جانب گامزن ہے۔ عراقی سکیورٹی ادارے جو نیٹو فورسز کے تربیت یافتہ نیز انہی کے انتخاب کردہ ہیں، کو ایک مرتبہ پھر ری اسٹرکچر کیا جا رہا ہے۔ اس ری اسڑکچرنگ میں عراق کے اہم ہمسائے کا کلیدی کردار ہے۔ یہی وجہ ہے داعش کے حملے کا سنتے ہی امریکی صدر اوباما کو عراق میں داعش کے خلاف لڑنے کی سوجھی اور انہوں نے اعلان کیا کہ ہم داعش کے خلاف عراق کی ہر طرح سے مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم ماضی کے تجربات نیز شام کی صورتحال کے تناظر میں اب وقت آچکا ہے کہ خطے کے یہ اہم ممالک اپنے دفاع کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم اور حکمت عملی ترتیب دیں۔ یہ بہت بہترین وقت اور موقع ہے کہ جس میں داعش کے فتنہ کو اس خطہ سے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاسکتا ہے۔

  • مشاہدات: 874

عراق میں دہشتگردی کا کھیل

تحریر: ثاقب اکبر

پاکستان اور عراق میں ہونیوالی دہشتگردی اور دہشتگرد گروہوں میں بہت سی مماثلتیں اور مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ عراقی دہشتگرد بھی کسی ریاست، آئین اور منتخب حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ عراقی دہشتگرد بھی فرقہ وارانہ اور تکفیری فکر کے حامل ہیں۔ وہ اپنے ہم فکر افراد کے علاوہ باقی سب کو گمراہ، کافر، مشرک اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ وہ کسی قانون قاعدے کو قبول نہیں کرتے۔ وہ بھی سرحدوں کے آرپار ہر طرف اپنی دہشتگردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے کام کو جہاد کہتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں ایک تکفیری گروہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے اکثریتی فرقے کے نام سے متعارف کرواتا ہے، عراق کا یہ دہشتگرد ٹولہ بھی اسی طرح کے نام اور عنوان سے اپنے آپ کو متعارف کرواتا ہے۔

  • مشاہدات: 460