عرب بادشاہتیں تباہی کے دہانے پر

تحریر: سید اسد عباس
ٹیپو سلطان کا بہت معروف جملہ ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی جری ترین قوم یعنی عربوں اور ان کے شاہوں کو جو طعنے دیئے ہیں اور جس انداز سے ان کی توہین کی ہے اس نے پوری امت مسلمہ کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ شاہ سلمان مجھے تم سے محبت ہے لیکن تم بادشاہ ہو اور اگر امریکہ تمہاری پشت پناہی نہ کرے تو تم دو ہفتے نہیں نکال سکتے۔ ہم تمہاری حفاظت کرتے ہیں، ہمیں اس حفاظت کے بدلے رقم دو۔ ایسا ٹرمپ نے پہلی مرتبہ نہیں کہا۔ چند روز پہلے بھی وہ اپنے ٹویٹ میں ایسی ہی بات کہہ چکا ہے کہ ہم تمہاری حفاظت کرتے ہیں اور تم تیل کی قیمتیں بڑھا رہے ہو۔ ٹرمپ کے یہ جملے جہاں ایک جانب طعنہ ہیں، وہاں اعتراف بھی ہیں کہ جی ہاں سعودی بادشاہت امریکی ایما پر قائم ہے۔ دنیا بھر میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والا آج خود تسلیم کر رہا ہے کہ ہم اپنے مکروہ مقاصد کے لئے عرب بادشاہتوں کو بچا رہے ہیں۔ ٹرمپ کا بیان اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ سعودیہ کے ہر اقدام کے پیچھے ہمارا ہی ہاتھ ہے، ٹرمپ نے تو ثابت کر دیا کہ سعودیہ کوئی آزاد ریاست نہیں بلکہ ایک امریکی کالونی ہے، جہاں کی حکومت کا تحفظ ہمارے کندھوں پر ہے اور اگر ہم سعودیہ کا ساتھ چھوڑ دیں تو یہ حکومت دو ہفتے بھی نہیں نکال سکے گی۔

 
یہ بات کسی دیوانے کی بڑ نہیں ہے۔ عرب بادشاہتوں نے اپنے آپ کو عوام سے اس قدر دور کیا کہ اب ان کے ریاستی اقتدار کا دارومدار امریکہ اور اس کے حواریوں پر ہی ہے۔ امریکہ اور مغربی ریاستیں عرب ریاستوں کو انقلاب اسلامی ایران کے بعد ایران سے دھمکاتی رہیں اور اس خوف کو ہوا بنا کر اربوں ڈالر کا اسلحہ انہیں بیچا۔ اسے معلوم تھا کہ ان کو کچھ بھی دے دو، یہ ہمیں آنکھیں نکالنے کی حیثیت میں نہیں ہیں۔ اسرائیل جو مسلمانوں کا حقیقی دشمن تھا، اسے دوست بنا کر پیش کیا گیا اور ایران جس نے براہ راست کسی بھی عرب ملک پر حملہ نہیں کیا تھا، حتی ایسا کرنے کی دھمکی بھی نہیں دی تھی، اسے عربوں کے لئے ملک الموت بنا کر پیش کیا گیا۔

ایران کا عربوں سے اختلاف عوامی حقوق کے حوالے سے تھا، مسئلہ اپنے عوام کو حق سے محروم رکھنے کا تھا۔ خواہ عرب حکمران جس قدر بھی برے تھے، ایران نے کبھی نہیں کہا کہ ہم ان کے ملک پر حملہ کریں گے یا ان پر قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن ان عرب حکمرانوں کو شوق تھا کہ خود ہی آبیل مجھے مار کی گردان دہراتے رہیں اور اپنے عوام کو بھی ایران و فوبیا سے دوچار کرتے رہیں۔ کل کی بات ہے، محمد بن سلمان ایران کو دھمکیاں دیتا ہوا نظر آیا، ایرانی نظام کو اپنے لئے خطرہ قرار دے رہا تھا۔ بجائے اس کے کہ اپنے مسائل کو حل کرتے، اپنے عوام پر پابندیوں اور سختیوں کا خاتمہ کرتے، یمن پر جارحیت کا خاتمہ کرتے، ایران کو دھمکانا شروع کر دیا۔ اقتدار کے نشے میں یہ اس بات کو بھول گئے کہ جس پر انحصار کرکے یہ سب باتیں کر رہے ہیں، کل وہی ہمیں آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس راہ فرار کوئی نہ ہوگی۔
 
جب سے ٹرمپ نے شاہ سلمان کے بارے یہ بیانات دیئے ہیں، اس وقت سے لے کر تادم تحریر کسی بھی عرب حکمران کو اتنی جرات نہیں ہوئی کہ اس بیان کی مذمت ہی کر دیں۔ ان کی غیرت نے جوش مارا ہے یا نہیں پاکستانی عوام یہ جملے سن کر شرم سے پانی پانی ہوچکی ہے۔ پاکستانی کی نظر میں ٹرمپ کی یہ دھمکی سعودی شاہ کو نہیں بلکہ خادم الحرمین کا دعویٰ کرنے والے کو دی گئی ہے اور وہ طبلہ بردار اکتالیس ملکی فوج یوں چپ سادھے ہوئے ہے، جیسے امریکہ نے یوگوسلاویہ کے بارے کوئی بات کی ہو۔ اگر امریکہ ہی عرب بادشاہتوں کا تحفظ کر رہا ہے تو یہ طبلے والے کس کام کے لئے رکھے گئے ہیں۔ کیا ان کا کام فقط نہتے لوگوں پر ہی بمباری ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے، تاہم اب بھی عربوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنی روش کو اگر درست کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں تو اس کی کوشش کریں۔ ٹرمپ نے تو ظاہر کر دیا کہ اب نہ آپ کی معیشت آزاد ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی، اندرونی طور پر بھی وہ آپ پر جس طرح مسلط ہے، آپ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ اگر اسے بغاوت کا شائبہ بھی ہوا تو دو ہفتے دور کی بات ہے، دو دن میں آپ کی بادشاہت اور اقتدار کا خاتمہ آپ ہی کے رشتہ داروں کے ذریعے کروا دے گا۔ صدام، حسنی مبارک، کرنل قذافی اور علی عبد اللہ صالح کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔
 
دنیا بھر میں بادشاہتیں آئینی بادشاہت کا روپ دھار چکی ہیں، تاہم آپ اب بھی عوام پر پرانے طور طریقوں سے مسلط ہیں۔ عوام سے اسی دوری نے آپ کے معاشروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ایک خاص طبقہ جو آپ کا وفادار ہے، اسے اس قدر نوازا ہے کہ وہ نکما ہوچکا ہے اور وہ جو آپ سے اختلاف رکھتے ہیں، دنیا میں در بدر اپنی جانیں بچاتے پھرتے ہیں۔ آبادیوں کی آبادیاں آپ نے فقط اس لئے اجاڑ دیں کہ وہ آپ کے مخالف تھے۔ اپنی ان کمیوں کو پورا کرنے کے لئے ہر غاصب کی طرح آپ نے طاقت کے مراکز پر انحصار کیا۔ حالانکہ آپ کا مذہب واضح تلقین کرتا تھا کہ فقط اپنے خدا پر بھروسہ کرو۔ عمان آپ کے ہمسائے میں ایک چھوٹا سا ملک ہے، مگر کسی غیر ملکی طاقت پر انحصار نہیں کرتا۔ عمان کا بادشاہ اپنے عوام میں محبوب ہے۔ بہرحال اب شاید ان مشوروں کا وقت گزر چکا ہے۔ یہ احساس آپ کو بہت پہلے ہونا چاہیئے تھا۔ اب تو آپ کے پاس ٹرمپ کے حکم کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔
 
اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے آپ نے ہر امریکی حکم پر سرتسلیم خم کیا، عراق کے خلاف جنگ، یمن پر چڑھائی، اسرائیل سے دوستی، فلسطینیوں کی حمایت سے پہلو تہی، فلسطین، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی، برادر اسلامی ملک ایران کے خلاف ہرزہ سرائی، مصر میں ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا خاتمہ اور سیسی کی تعیناتی، سوویت یونین کے خلاف جنگ میں سرمائے اور جوانوں کی فراہمی، شام پر حملوں کے لئے ہر طرح کا تعاون، لیبیا پر حملوں میں مدد، دنیا میں شدت پسندانہ سوچ کو رواج دینا، شدت پسند گروہوں کی مالی امداد اور ان کی مذہبی پشت پناہی، اپنے معاشرے کی بے راہ روی اور تنزلی، اب جب سب کچھ برباد ہوچکا ہے تو اکڑ کیسی۔ اب یقیناً ٹرمپ آپ سے یہی کہے گا کہ تم دو ہفتے نہیں نکال سکتے۔ اقتدار کو مزید آگے بڑھانا ہے تو ہمیں پیسے دو اور ہمارے ہر حکم کو مانو۔
 
میرا خیال ہے کہ سعودی شاہی خاندان اور اس کے دیگر مصاحبوں کے دن اب گنے جا چکے ہیں۔ ورنہ گذشتہ سو برسوں سے ان بادشاہتوں کو برداشت کرنے والا امریکہ عالمی سطح پر کبھی ان کو اس انداز سے رسوا نہ کرتا۔ میرا خیال ہے کہ عراق، شام، لیبیا کی دولت لوٹنے کے بعد اب اس کا اگلا نشانہ تیل کی دولت سے مالا مال یہ ممالک ہیں۔ ان عرب حاکموں کے پاس اب دو ہی راستے ہیں یا تو مکمل طور پر سر تسلیم ہو جائیں یا بغاوت کریں۔ ہر دو صورتوں میں ان کا انجام تباہی ہی ہے۔ اگر ان کا اقتدار قائم رہتا ہے تو اس سے مراد یہی ہے کہ سر خم کر دیئے اور اگر ان کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ بغاوت کی کوشش کی۔ عرب ریاستوں کی عوام کو اپنے وسائل کی حفاظت کے لئے میدان عمل میں آنے کے لئے آمادہ ہونا چاہیئے، ورنہ یہ خونخوار بھیڑیا ان پر رحم نہیں کرے گا۔
 
بشکریہ اسلام ٹائمز
 
بشکریہ اسلام ٹائمز