سعودی عرب

اخوان اور حماس کیخلاف سعودی اقدامات

وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطٰی میں مسئلہ فقط سعودی عرب اور ایران کے مابین اختلاف کا ہے یا مسئلہ شیعہ سنی کا ہے یا پھر عرب عجم کا ہے، وہ یا تو رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے درپے ہے یا پھر حقائق سے بے خبر۔ کون نہیں جانتا کہ اخوان المسلمین اور حماس انقلابی نقطۂ نظر رکھنے والے اہل سنت کی تنظیمیں ہیں، جو عرب دنیا کے عوام میں وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ یہ تنظیمیں اور ان کے زیر اثر عوام اگر سعودی عرب کے خلاف ہیں تو مسئلہ عرب و عجم یا شیعہ سنی کا کہاں رہا؟ کہنا تو یہ چاہیے کہ عرب ہوں یا عجم، سعودی شاہی خاندان کے طرز عمل سے ہر جگہ مسلمان نالاں ہیں۔ جیسا کہ ہمارے خطے کی جماعت اسلامی کی قیادت اخوان المسلمین کے خلاف سعودی اقدامات کی مخالفت کر رہی ہے۔ یہ صورتحال اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالم اسلام میں کس طرح کی تبدیلیاں دستک دے رہی ہیں۔ ایسے میں ڈیڑھ ارب ڈالر ’’تحفے‘‘ کے طور پر وصول کرکے ان ریاستوں سے فوجی معاہدے کرنا اور تزویراتی بندھنوں میں بندھنا کہاں کی دانشمندی ہے۔؟

  • مشاہدات: 2812

عرب شیوخ کی مہربانیاں

میاں صاحب فرماتے ہیں کہ ہم بحرین یا سعودیہ فوج نہیں بھیج رہے۔ ممکن ہے یہ بات سچ ہو، لیکن اگر فوج بھیج بھی دی جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ سعودی و بحرینی فرمانروا جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے وہ کرچکے۔ اب تو ملت اسلامیہ پاکستان کو ان دورہ جات کے اثرات جو فی الوقت سبز باغوں کی مانند لہلاتے ہوئے نظر آرہے ہیں، سے گزرنا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم تقریباً تیس سال قبل افغان جہاد کے موقع پر اسی قسم کے سرسبز باغات سے گزرے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس سبز باغ کے پھل کی شیرینی جو چند ایک دہنوں تک پہنچی، نے پوری پاکستانی قوم کا کلیجہ چھلنی کر دیا۔

  • مشاہدات: 708