عمان کا صہیونی اکائی کو ریاست ماننا

 
تحریر: سید اسد عباس
 
اربعین حسینی کی گہما گہمی میں جزیرہ عرب کے ایک چھوٹے مگر تزویراتی طور پر اہم ملک عمان نے ناجائز صہیونی اکائی کے وجود کو تسلیم کر لیا۔ عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علاوی نے بحرین میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران میں کہا کہ اسرائیل خطے کی ایک ریاست ہے اور ہم سب اس بات کو سمجھتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کے وجود کو بحیثیت ریاست تسلیم کیا جائے۔ یوسف بن علاوی مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کی حمایت میں بات کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کے لئے ہمیں اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔ عمان کے وزیر خارجہ نے یہ خطاب عرب ممالک کی ایک اہم تزویراتی کانفرنس کے دوران میں کیا۔ اس سے ایک روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے عمان کا ایک خفیہ دورہ کیا، جس کے حوالے سے پاکستان کے بارے بھی افواہ اڑی کہ اسرائیلی جہاز پاکستان آیا تھا یا پاکستانی حدود سے گزر کر عمان اترا۔ بہرحال عمان کے سربراہ سلطان قابوس نے اس دورے کے بعد عمان کی جانب سے اسرائیل کے ریاستی وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ عمان اور اسرائیل کے روابط نئے نہیں ہیں، عمان نے عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کا ساتھ نہ دیا۔ 1979ء میں دو اسرائیلی افسر جن میں ایک جنرل اور دوسرا موساد کا رکن تھا، عمان گئے اور وہاں ان کی سلطان قابو سے ملاقات کروائی گئی۔ 1994ء میں اسرائیلی وزیراعظم اسحق رابین عمان گیا، 1996ء میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط قائم ہوئے۔ یہ تعلقات فلسطین میں دوسری انتفاضہ یعنی 2000ء کے بعد سے تعطل کا شکار تھے، تاہم اب یعنی اکتوبر 2018ء میں عمان نے اسرائیل کے ریاستی وجود کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس وفد کے اہم رکن موساد کے سربراہ بھی تھے، بعض مبصرین کے مطابق اس اہم حکومتی عہدیدار کی وفد میں موجودگی اس ملاقات کے اہتمام میں موساد کے کردار کی غمازی کرتی ہے۔ واشنگٹن ٹائم کے مطابق ایک اسرائیلی افسر نے بھی اس ملاقات کے انعقاد میں موساد کے کردار کی تصدیق کی ہے۔ اس افسر کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اور اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا موساد کے عمان سے تعلقات کا ثمرہ ہے۔ عمان، مصر اور اردن کے بعد تیسرا عرب ملک ہے، جس نے صیہونی ریاست کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔
 
عمان کے سیاسی امور کی خبر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اڑھائی ملین کی آبادی والے اس ملک میں جہاں تقریباً دو ملین تارکین وطن ملازمت کے سلسلے میں موجود ہیں، نظم سلطنت کو چلانے میں برطانیہ کے بعد موساد کا اہم ترین کردار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور عمان کے مابین تعلقات ہمیشہ خفیہ طور پر دوستانہ رہے۔ یہاں یہ اہم سوال جنم لیتا ہے کہ سلطان قابوس نے کئی دہائیوں پر محیط ان خفیہ تعلقات کو اچانک سے طشت از بام کیوں کیا؟ اس سے ان کو کیا فوائد حاصل ہوئے اور اسرائیل کا اس میں کیا فائدہ ہے۔؟ سلطان قابوس ایک آزادانہ خارجہ پالیسی کے حامل حکمران تصور کئے جاتے ہیں، جو خطے میں موجود قوتوں کی تقلید کے بجائے ان سے مختلف موقف رکھتے ہیں۔

سلطان قابوس نے ابتداء میں یمن پر سعودی اتحاد کی بمباری کا ساتھ نہ دیا، تاہم بعد میں اس اتحاد کا حصہ بنے اور اب دوبارہ اس حملے کے مخالف ہوچکے ہیں، اسی طرح ایران کے حوالے سے سلطان قابوس کا موقف واضح ہے، وہ دیگر ریاستوں کے برخلاف ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کے حامی ہیں اور کہا جاتا ہے امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والی پانچ ملکی نیوکلیئر ڈیل کی ابتدائی ملاقاتوں کا آغاز سلطان قابوس کے محلات سے ہی ہوا تھا، علاوہ ازیں وہ ایران کے ساتھ تجارت کو وسعت دینے کے حوالے سے بھی کافی سنجیدہ ہیں۔ اسی طرح سلطان قابوس نے قطر کے حوالے سے خلیجی ممالک کے موقف کے برخلاف قطر سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ اسے تجارتی سرگرمیوں کے لیے اپنی بندرگاہ مہیا کی۔
 
حالات سے لگتا ہے کہ اسرائیل کے ناجائز وجود کو تسلیم کرنے میں سلطان قابوس اور ان کے ملک کو کچھ تجارتی، سفارتی اور معاشی فوائد حاصل ہوئے ہوں گے، تاہم ان تعلقات کے رسمی ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوا ہے۔ اسرائیل کی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں خفیہ تعلقات کی حکمت عملی کامیاب ہوئی ہے اور آج ایک اور عرب ریاست اس حکمت عملی کا شکار ہوچکی ہے۔ کوئی چھڑی سے پیٹا جا رہا ہے اور کسی کو گاجریں کھلا کر رام کیا جا رہا ہے ۔ مقصد ایک ناجائز ریاست کو عربوں اور مسلمانوں سے تسلیم کروانا ہے۔ سلطان قابوس کا یہ اعلان خدا نہ کرے، دوسرے عربوں کے لئے ایک مثال بن جائے اور وہ عمان کے دیکھا دیکھی اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کو طشت از بام کرنا شروع کریں اور اس کے وجود کو تسلیم کرتے جائیں۔ میری نظر میں یہ اصول پسندی اور حق خود ارادیت کی سب سے بڑی شکست ہوگی اور دھونس، دھاندلی، فریب، ظلم و جبر اور لالچ کی فتح۔ ایک ناجائز، غاصبانہ اور ظلم پر مبنی ریاست کو کسی بھی وجہ سے تسلیم کرنا اور اس کے جائز حقداروں کے حق کو حالات کے سبب فراموش کر دینا، تاریخ انسانیت کا سیاہ ترین باب ہے۔

یہ فقط فلسطینیوں کے حق آزادی، حق ملکیت، حق اقتدار کا ہی انکار نہیں بلکہ حریت پسندی، آزادی اور حمیت جیسی عظیم انسانی اقدار کا انکار ہے۔ عرب حکمران کی جانب سے اسرائیل کے وجود کو قبول کرنے نے جہاں فلسطینیوں کی دہائیوں پر محیط قربانیوں کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی ہے، وہیں اس تسلیم نے یہ پیغام دیا ہے کہ اپنی آزادی اور حریت کے لئے خون بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، عزت و ناموس کا تحفظ بے معنی چیزیں ہیں۔ آپ زیر تسلط آچکے، اس کو قبول کر لیں اور اس کے خلاف آواز اٹھانا چھوڑ دیں۔ غاصب، ظالم اور جارح کے تسلط کو قبول کرنے کا یہ وطیرہ طاغوتی طاقتوں کے حوصلوں کو بلند کرے گا، ان کا اپنے ظلم کی طاقت پر یقین مزید پختہ ہوگا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سلطان قابوس اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین حالات کو بہتر بنانے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم یہ قیاس کرنے والوں کو شاید اسرائیل کی گذشتہ ستر سالہ تاریخ کا اندازہ نہیں ہے۔ سلطان قابوس جیسے کئی مصالحت کار آئے اور زیر خاک پنہاں ہوگئے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر نہ اپنے مظالم کو بند کیا اور نہ ہی اپنے جارحانہ عزائم سے باز آیا۔
بشکریہ اسلام ٹائمز