مظلوم امریکیوں کا قتل عام

تحریر: ثاقب اکبر

آج (29 جون 2018ء) کو ایک مرتبہ پھر امریکہ سے ایک ہولناک سانحے کی خبر آئی ہے، جس کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں ایک مقامی اخبار کے دفتر پر ایک مسلح شخص نے فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور کئی ایک زخمی ہوگئے۔ اخبار کے دفتر کو ہدف بنا کر حملہ کیا گیا تھا۔ مسلح شخص نے نیوز روم میں فائرنگ کرکے ان افراد کو قتل کیا۔ امریکہ میں آئے روز قتل کے اندوہناک واقعات ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے چند ایک ہمارے اخبارات میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ آج کل ہمارے ٹی وی چینلز اور اخبارات کو مقامی اور زیادہ سے زیادہ قومی خبروں کے علاوہ کوئی چیز نہیں سوجھتی بلکہ وہ زیادہ تر سیاستدانوں کی نوک جھونک سے بھرپور بریکینگ نیوز چلا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کہاں کتنے لوگ کس نے مار دیئے ہیں، کی کسے خبر ہوسکتی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اپنے ہی سویلین لوگوں کے ہاتھوں سے سب سے زیادہ امریکی شہری قتل ہوتے ہیں۔ تمام شعبوں کے اور ہر عمر کے لوگ مارے جا رہے ہیں اور مارنے والوں میں بھی ہر طرح کے اور ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ شاید یہ کہنا بجا ہو کہ دنیا میں سب سے زیادہ قتل و غارت اور دہشتگردی کے واقعات امریکہ میں ہوتے ہیں۔ البتہ یہ امر بھی حقیقت رکھتا ہے کہ امریکی عوام کے پاس سب سے زیادہ اسلحہ موجود ہے، جبکہ اس میں سے بہت سا اسلحہ قانونی بھی ہے۔

امریکہ میں یہ تحریک کئی مرتبہ چل چکی ہے کہ اسلحے کے حصول کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں اور لوگوں کے پاس موجود اسلحہ اکٹھا کیا جائے، جہاں ناگزیر ضرورت ہے، وہاں کسی کو اس کے لئے لائسنس جاری کیا جائے۔ اس کے لئے خاص طور پر سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں تحریک چلی تھی اور خود امریکی صدر نے شہریوں کے پاس موجود اسلحے کے حوالے سے نئی قانون سازی کا عندیہ دیا تھا، لیکن طاقتور اسلحہ فروش ان کے راستے میں حائل ہوگئے اور انہوں نے اس سلسلے میں قانون سازی نہیں ہونے دی۔ آخر کار امریکی صدر ہی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ وہی اسلحہ ساز ہیں جو پوری دنیا کو طرح طرح کا اسلحہ بیچتے ہیں اور قوموں کو آپس میں لڑاتے ہیں۔ جہاں بھی دو ملکوں یا دو قوموں کے درمیان جھگڑا پیدا ہو جائے، امریکی اسلحہ فروشوں کی چاندی ہو جاتی ہے بلکہ وہ تو اپنے سیاسی قائدین کی مدد اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ وہ اسلحہ فروشی کے لئے ایسے حالات پیدا کریں کہ قومیں زیادہ سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدیں۔ چنانچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض میں منعقد ہونے والے اسلامی ممالک کے اجلاس کی صدارت کے موقع پر امریکی اسلحے کی تعریف کی اور مختلف عرب راہنماﺅں سے کہا کہ امریکہ کا اسلحہ بہت خوبصورت ہے۔

ایک بے رحم سرمایہ دار یا بے رحم سرمایہ داروں کا نمائندہ ہی ایسی بات کرسکتا ہے۔ کون نہیں جانتا ہے کہ اسلحہ انسان کشی کے کام آتا ہے۔ امریکہ کا جدید ہولناک اور خطرناک اسلحہ دنیا میں تباہی پھیلا رہا ہے اور یہی اسلحہ امریکہ کے اندر انسان کشی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سب سے آسان قتل نوجوانوں، بچوں اور طلبہ کا ہے، چنانچہ امریکہ میں زیادہ تر سکول کے بچوں ہی کو قتل کیا جاتا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2013ء سے لے کر 2018ء کے آغاز تک سکولوں اور سکولوں کے آس پاس قتل اور دہشتگردی کے 291 واقعات رونما ہوئے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک واقعہ کے نتیجے میں پاکستانی نوجوان طالبہ بھی ہلاک ہوگئی تھیں، جن کی نعش بعدازاں کراچی پہنچائی گئی۔ امریکہ کی اس وقت آبادی بتیس کروڑ سڑسٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اپریل 2017ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی عوام کے پاس رجسٹرڈ اسلحے کی تعداد 44,36,096 تھی۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کل اسلحہ امریکی عوام کے پاس کس قدر ہے کیونکہ وہ ملک جس میں متعدد علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہوں، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کس ریاست میں یہ تحریک کس درجے تک پہنچ چکی ہے اور آزادی پسندوں کے پاس کس قدر اسلحہ موجود ہے۔ اسلحہ فروش سرمایہ داروں کو چونکہ اپنی دولت سے غرض ہے، امریکی وفاق قائم رہتا ہے یا نہیں شاید ان کو اس سے زیادہ سروکار نہ ہو، اس لئے وہ ہر ریاست میں زیادہ سے زیادہ اسلحہ بیچنے کے درپے ہیں۔

امریکہ کے اندر عوام جن مشکلات سے دوچار ہیں، اس کا ایک اظہار 2011ء میں امریکی عوام کے وال اسٹریٹ دھرنے میں ہوچکا ہے۔ یہ دھرنا کئی ماہ تک جاری رہا تھا اور اس کی حمایت میں دنیا بھر کے سینکڑوں شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے۔ دنیا کے تقریباً آٹھ سو سے زیادہ شہروں میں ایک ہی روز ان امریکی عوام سے ہم آہنگی کے لئے مظاہرے کئے گئے تھے۔ اس زمانے میں اس دھرنے کو عرب بہار کے مقابلے میں امریکی بہار کہا گیا تھا اور خود امریکیوں نے بعض بینرز پر لکھا تھا کہ ”آﺅ امریکیو، امریکی بہار کے لئے جدوجہد کریں۔“ ان مظاہروں میں حصہ لینے والے امریکیوں کا کہنا تھا کہ وہ آزاد نہیں ہیں بلکہ امریکہ کے ننانوے فیصد عوام ایک فیصد امیر طبقے کے غلام ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ عام آدمی ان سے یہ طاقت چھین لے۔ ان مظاہروں نے پوری دنیا کو ششدر کرکے رکھ دیا تھا اور ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ امریکی عوام اپنے اوپر حاکم سرمایہ داری نظام سے کس قدر نالاں ہو چکے ہیں۔ جیسے دیگر دنیا کے آزادی پسندوں کو استعماری طاقتیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دبا دیتی ہیں یا ان کی تحریکوں کا رخ موڑ دیتی ہیں، یہی حال وال اسٹریٹ تحریک کا بھی ہوا، لیکن اس تحریک کی لہریں ضرور امریکی معاشرے کی مختلف تہوں میں موجود ہیں۔ اس تحریک سے اندازہ ہوتا تھا کہ امریکی عوام کس قدر حقائق کو سمجھتے ہیں اور انہیں جب بھی موقع ملا وہ سرمایہ داری نظام سے آزادی کے لئے درست فیصلہ کریں گے۔

ان مظاہروں میں شریک عوام کا ایک بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی امریکی افواج کو واپس بلایا جائے اور مظاہرین کا کہنا تھا کہ افغانستان اور عراق پر مسلط کی گئی جنگوں پر ٹریلین ڈالرز کا خرچ امریکی عوام پر زبردستی مسلط کیا گیا۔ ان افواج کو واپس امریکہ لایا جائے اور ان کے ذمے صرف امریکی سرحدوں کا دفاع ہونا چاہیے۔ مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت مالیاتی اداروں کو بچانے کے لئے بے پناہ قرضے لے رہی ہے اور ان قرضوں کی ادائیگی کا سارا بوجھ عوام پر لاد رہی ہے۔ بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عوام کو دی گئی سہولیات میں کٹوتی کی جا رہی ہے۔ مظاہرین میں مقبول ترین نعرہ یہ تھا کہ ایک فیصد سے اقتدار چھین کر ننانوے فیصد عوام کے سپرد کیا جائے۔ بعض امریکی ریاستوں کے عوام کا تاثر یہ ہے کہ اگر وہ وفاق سے علیحدہ ہو جائیں تو ان کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔ ان کے وسائل وفاق صحیح طور پر استعمال نہیں کر رہا، جس کی وجہ سے کئی ایک امریکی ریاستوں کے اندر احساس محرومی پایا جاتا ہے۔

یہ حقائق اس وقت کھل کر سامنے آتے ہیں، جب محروم ریاستوں میں سے کسی میں کوئی قدرتی آفت نمودار ہوتی ہے۔ اس وقت لوئیسیانا، ٹیکساس، مونٹانا، انڈیانا، مسیسپی، کینٹکی، شمالی کیرولینا، الاباما، فلوریڈا، جارجیا، نیوجرسی، کولوراڈو، اوریگون اور نیو یارک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ امریکی عوام اپنے حکمرانوں کی وجہ سے پوری دنیا میں خوف میں مبتلا رہتے ہیں، کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک کے عوام امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں مقبول ترین نعرہ ”مردہ باد امریکہ“ ہے۔ اس کا اثر دنیا میں سفر کرنے والے بے گناہ امریکیوں پر بھی ہوتا ہے کیونکہ لوگ انہیں نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں، یہ ظالم سرمایہ دار حکمرانوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس کے خلاف جو چاہے بول دیتے ہیں۔ ان دنوں یورپی یونین بھی ان کی توپوں کی زد میں ہے، جب کہ روایتی طور پر مغربی یورپ ان کے اتحادیوں پر مشتمل رہا ہے۔ گذشتہ دنوں امریکی صدر نے کینیڈا کے وزیراعظم کے لئے بھی سخت زبان استعمال کی۔ چین بھی امریکی صدر کی سرزنش سے محفوظ نہیں۔ عرب خلیج تعاون کونسل کے اندربھی دراڑیں ڈالنے میں صدر ٹرمپ کا بنیادی کردار سامنے آچکا ہے۔

تل ابیب سے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کی ہے۔ یہ قرارداد عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں کے خلاف ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتی ہے۔ مئی 2018ء میں استنبول میں او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں بھی اس امریکی فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکمران دنیا میں سب سے زیادہ ناپسند کئے جانے والے حکمران ہیں اور داخلی طور پر امریکی عوام اپنے حکمرانوں سے نالاں ہیں۔ تاہم یہ امر باعث تاسف ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ظلم و زیادتی ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھتی ہے لیکن مظلوم امریکیوں کو بے رحم امریکی سرمایہ داروں سے نجات دلانے کے لئے دنیا سے بالعموم آواز نہیں آتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا میں آزادی پسند اور عدل و انصاف سے محبت کرنے والے لوگ ان مظلوم امریکی عوام کے لئے بھی آواز بلند کریں۔ یہ آواز بیک وقت مشرق و مغرب سے اٹھانا چاہیے۔ یورپی، ایشیائی، افریقی اور دیگر خطوں کے عوام کو اسی طرح سے امریکی عوام کے لئے آواز اٹھانی چاہیے، جیسے ہر سال یکم مئی کو شکاگو کے شہیدوں کے لئے آواز اٹھائی جاتی ہے۔