مودی کا دورہ مشرق وسطٰی اور ہمارے عرب دوست

 

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

انڈیا کے وزیراعظم بہت تیزی سے ان ممالک کے دورے کر رہیں، جن کے ساتھ پاکستان کے  قریبی تعلقات رہے ہیں۔ وہ ایک طرح سے پاکستان کے دوستوں کی  تعداد کم کرنا چاہتے ہیں، جس سے پاکستان خطے میں تنہائی کا شکار ہو جائے۔ ویسے تو مودی رسک لیتے رہتے ہیں، نوٹ بندی جیسے اندرونی اقدامات ہوں یا کشمیر کے جواب میں بڑی چالاکی سے بلوچستان کے ایشو کو اٹھانا ہو وہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ گجرات کے قصاب کے نام سے مسلم دنیا میں معروف شخصیت جس کے دور حکومت میں ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی تنگ ہو گئی ہے، وہ بڑی مکاری سے مسلمان ممالک کو پاکستان سے دور کر رہا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اسرائیل سے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کرکے استحکام بخشنے والا چند عربوں کو ایسے بھا جاتا ہے کہ اس کے لئے بچھے بچھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے انڈیا کا دورہ کیا، جو انڈیا اسرائیل تعلقات میں بنیادی تبدیلیاں لیکر آیا، اس کے نتیجے میں کچھ عرب حکومتیں انڈیا سے دور ہوسکتی تھیں، بالخصوص عرب میڈیا میں ہندوستان کے خلاف ایک فضا بنی تھی، ہندوستان نے بڑی حکمت سے تمام معاہدے اسرائیل سے کر لئے اور عربوں کو راضی کرنے کے لئے اقوام متحدہ میں ووٹ فلسطین کے حق میں دے دیا۔



تاریخ میں پہلی بار انڈیا کے کسی وزیراعظم نے فلسطین کا درورہ کیا ہے اور اس دورے کے موقع پر مودی کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ہندوستان غیر جانبدار تحریک کا رکن ہونے کی وجہ سے ماضی میں فلسطین کاز کی حمایت کا جو موقف رکھتا ہے، اس سے انحراف کرچکا ہے، اب اس کے اسرائیل سے دفاعی تعلقات ہیں، مگر فلسطینوں کو تعلیمی اداروں اور انفراسٹرکچر میں کچھ مدد دے کر خود کو ان کا دوست ثابت کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ماہرین کو یہ سوچنا چاہیے کہ انڈیا اسرائیل سے تعلقات رکھ کر اور اس سے تمام مفادات اٹھا کر بھی فلسطینوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو رہا ہے کہ وہ اسرائیل کا نہیں ان کا دوست ہے اور ہم قیام پاکستان سے لیکر آج تک اسرائیل کے وجود کے ہی انکاری ہیں، مگر اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ شائد اب ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں، ورنہ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ ہمارے وزیراعظم بھی فلسطین کا دورہ کریں، جو ہماری اسلامی ذمہ داری بھی ہے اور اس میں بھرپور انداز میں فلسطینوں کی حمایت کا اعلان کریں۔ اردن اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہیں، کشمیر سمیت ہر مسئلے پر اردن نے پاکستان کی حمایت کی ہے، اسی طرح پاکستان کے فوجی دستے اردن میں مقیم رہے ہیں اور اردن کے فوجی پاکستان میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے اردن کا بھی دورہ کیا، جس میں دونوں ممالک نے تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر اتفاق کیا ہے اور حیران کن طور پر یہ تیس سال بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا دورہ اردن تھا۔

2015ء میں بھارتی وزیراعظم متحدہ عرب امارات آئے تھے، یہ 34 برس بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا دورہ متحدہ عرب امارات تھا۔ متحدہ امارات کو پاکستان کے ایک اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا تھا، یمن میں فوج نہ بھیجنے سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں جو ناراضگی ہوئی، ان ممالک نے اس کا بدلہ انڈیا کی حمایت کی صورت میں لیا۔ دبئی کی تاریخ میں پہلی بار کسی کو عوامی اجتماع کی اجازت دی گئی، جس کے نتیجے میں دبئی سٹیڈیم میں  پچاس ہزار بھارتیوں کے اجتماع سے مودی نے خطاب کیا۔ اسی دورہ میں متحدہ عرب امارات نے انڈیا کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ انڈیا کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کی حمایت کریں گا، یہ انڈیا کی بڑی سفارتی کامیابی تھی، اسی طرح متحدہ عرب امارات نے انڈیا میں پچھتر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، جو سی پیک میں ہونے والی پنتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے تیس ارب ڈالر زیادہ ہے۔ خطہ عرب سے بت پرستی ختم ہوگئی تھی، جب بہت سے ہندوستانی دبئی آئے تو ان کے لئے دو مندر بھی بنائے گئے، مگر یہ بڑے مندر نہیں ہیں، مودی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہندوستان کو ایک مندر بنانے کی جازت دے دی جائے، جو حکومت نے دے دی اور اب ایک بہت بڑا مندر تعمیر کیا جا رہا ہے، جو اگلے چند سال میں مکمل ہو جائے گا۔

سعودی عرب جو ہمارا اہم اتحادی رہا ہے، اس نے ہندوستانی وزیراعظم کو دورہ کی دعوت دی، جس میں جہاں دیگر تجارتی و دفاعی معاہدے ہوئے، وہیں مودی کا سعودی عرب کا سب سے بڑا سول ایوارڈ انڈیا کے وزیراعظم کو دیا گیا۔ اہلیان پاکستان کے لئے یہ خبر ایک دھماکے سے کم نہ تھی، اسی لئے عام پاکستانیوں کا اس پر شدید ردعمل آیا، مگر وہ قلم جو دن رات چاہ بہار میں ہندوستانی سرمایہ کاری پر کاری ضربیں لگا رہے تھے، خاموش رہے۔ ارض حرمین کا بادشاہ ایک ایسے ملک کے وزیراعظم کو ایوارڈ دے، جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں تو یقیناً یہ عمل باعث تعجب ہے۔ اس دورہ میں انڈیا اور سعودیہ کے درمیان دفاعی اور اقتصادی پارٹنر شپ کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ اس سے ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ سب سے بڑا مفاد ہے، جب مفاد ہو تو برادر اسلامی کہہ کر لے لو، جب مفاد نہ ہو تو بے شک مسلمانوں کے دشمن کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ ان تمام ملاقاتوں میں دہشتگردی کے خلاف تعاون کے نام پر کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو ایک دہشتگرد تحریک کے طور پر پیش کیا گیا اور مظلوم کشمیریوں کو انتہاء پسند اور تشدد پسند کہا گیا۔ مجھے تعجب ہوتا ہے، وہ انڈیا جو انسانی بنیادوں پر فلسطین کی مدد کا دعویٰ دار ہے، جو وہ اگر کسی دور میں تھا بھی تو اب نہیں ہے، وہ کس طرح کشمیر کے انسانوں پر ستم ڈھا رہا ہے۔ انڈیا کی اس حکمت عملی کو کاؤنٹر کرنے کی ضرورت ہے، سب سے پہلے پڑوس سے آغاز کرنا چاہیے اور افغانستان اور پاکستان میں موجود غلط فہمیوں کو دور کیا جائے، اسی طرح ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا جائے اور ان عناصر کی سرکوبی کی جائے، جو ان تعلقات کو خراب کر رہے ہیں۔ تمام اسلامی ممالک سے اچھے اور مضبوط تعلقات کو خارجہ پالیسی میں ایک اصول قرار دیا جائے اور ان خامیوں کو دور کیا جائے، جن کی وجہ سے اسلامی ممالک دور ہوئے بالخصوص فلسطین کے مسئلہ پر پاکستانی کاوشوں کا مزید اجاگر کیا جانا بہت ضروری ہے، تاکہ اہل فلسطین اور دیگر مسلمان اس سے آگاہ ہوسکیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز