گولان ہائیٹس، امریکی سلطنت کی رسوائی

 تحریر: ثاقب اکبر

امریکی صنم نے اتنی بے وفائیاں کی ہیں کہ اب اس کے عاشقوں نے بھی مجبور ہو کر اسے بے وفا کہنا شروع کر دیا ہے، عالم یہ ہے کہ صنم کے بے وفا ہونے پر سب عاشقوں کا اتفاق ہوگیا ہے اور اس کی بے وفائی کا اشتہار بھی سب نے مل کر دے دیا ہے۔ رقیبوں اور مخالفوں کی نظر میں تو امریکی صنم پہلے ہی اعلانیہ طور پر بے وفا تھا۔ عاشقوں کی زبان پہلے یوں گویا ہوا کرتی تھی:
اگر دلبر کی رسوائی ہمیں منظور ہو جائے
صنم تو بے وفا کے نام سے مشہور ہو جائے
امریکی صنم نے اب ایسی رسوا کن حرکتیں شروع کر دی ہیں کہ کسی میں بھی صبر کا یارا نہیں رہا۔ کئی عالمی محفلوں میں اس کی ایک تازہ ترین رسوا کن حرکت کے خلاف قرارداد مذمت منظور ہوگئی ہے۔ یہ تازہ ترین حرکت ٹرمپ کے دور میں ہی ہوسکتی تھی، جس نے ساری دنیا میں سے فقط ایک اسرائیل کا انتخاب کر لیا ہے اور اس کی نازبرداریاں کیے چلا جا رہا ہے، چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ حالیہ حرکت 25 مارچ کو کی گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی مقبوضہ گولان ہائیٹس پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو جائز قرار دینے کی دستاویز پر دستخط کر دیئے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیے گئے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا: "باون سال بعد وقت آگیا ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر گولان ہائیٹس پر اسرائیلی خود مختاری کو تسلیم کر لے، جو اسٹرٹیجک اور سکیورٹی کے تناظر میں اسرائیل اور خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے۔" امریکا جو ابھی تک ”انا ولاغیری“ کے زعم سے نہیں نکلا اور دنیا کو ”انا ربکم الاعلیٰ“ کا حکم دیئے چلا جا رہا ہے اور یہ دیکھ نہیں رہا کہ دنیا بدل چکی ہے اور کوئی اس کے سامنے اب سر جھکانے کو تیار نہیں ہے، ایک کے بعد دوسری رسوا کن حرکت کیے چلا جا رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے روس اور فرانس نے مشترکہ طور پر اسی مسئلے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس کونسل کے اراکین کی تعداد پندرہ ہے، امریکہ کے علاوہ تمام چودہ اراکین نے اس امریکی فیصلے کو مسترد کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی گولان ہائیٹس پر حاکمیت کا اعلان بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی اور گولان کی حیثیت میں تبدیلی ناممکن ہے۔ سکیورٹی کونسل نے امریکی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ واشنگٹن کے سیاسی مبصرین نے اسے امریکا کی بہت بڑی سفارتی شکست قرار دیا ہے، جس کا ذمہ دار وہ ٹرمپ انتظامیہ کو ٹھہرا رہے ہیں۔
 
اس موقع پر اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے زور دے کر یہ بات کہی کہ گولان شام کا ناقابل جدائی حصہ ہے اور امریکا کے یک طرفہ اقدامات ناکام ہوں گے۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے کے معاون نے واضح طور پر کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق گولان ہائیٹس شام کا حصہ ہیں، جن پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس صورت حال کی تبدیلی کو چین مسترد کرتا ہے۔ یکم اپریل کو تیونس میں عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ اس میں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سیکرٹری فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ یورپی یونین کو گولان ہائیٹس سے متعلق امریکا کا یہ فیصلہ منظور نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ گولان ہائیٹس کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال کر کسی بحران کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان نے بھی اس امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے 27 مارچ 2019ء کو ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں خاص طور پر 1981ء میں منظور کی گئی قرارداد نمبر497 اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی اور عالمی قواعد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
 
سعودی عرب نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گولان ہائیٹس شام کا مقبوضہ علاقہ ہے اور اس پر اسرائیل کی علمداری تسلیم کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ پالیسی یو ٹرن کی وجہ سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق عرب پارلیمنٹ نے گولان ہائیٹس پر اسرائیلی قبضہ تسلیم کرنے کے اعلان کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے سے خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کی ایک نئی لہر سر اٹھا سکتی ہے اور اس عدم استحکام کا ذمہ دار صرف امریکا ہوگا۔ عرب پارلیمنٹ کے سربراہ مشعل بن فھم السلمی نے کہا کہ عرب ممالک امریکی صدر کے ناجائز فیصلے کو قبول نہیں کرتے۔
 
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیظ نے امریکی صدر کے اعلان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گولان ہائیٹس پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرنا عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی برادری کے اصولی موقف کی توہین ہے۔ سوڈان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارت خارجہ امریکی انتظامیہ کے گولان ہائیٹس پر اسرائیلی خود مختاری کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کا اقدام جارحیت کو جائز اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو تباہ کرتا ہے۔ ترکی نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے 25 مارچ ہی کو ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں اس فیصلے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ناپسندیدہ ہے اور ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بدقسمتی پر مبنی فیصلہ ہے، جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ مغربی ایشیا میں مسئلے کے حل کے بجائے مسئلے کا حصہ ہے۔
 
کویت کے نمائندے نے سلامتی کونسل میں کہا کہ مقبوضہ گولان ہائیٹس عرب سرزمین کا حصہ ہیں، جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ہم اس پر اسرائیلی حاکمیت کو قبول کرنے کے امریکی فیصلے پر اظہار افسوس کرتے ہیں اور ایک مرتبہ پھر تاکید کرتے ہیں کہ عرب سرزمینوں پر اسرائیلی قبضہ علاقے اور دنیا کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ عراق کی مختلف تنظیموں کے اتحاد ”حزب اللہ“ کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ یہ بات نہیں سمجھ پائے کہ غاصب صہیونی ریاست کے مفادات کی جانبدارانہ حمایت علاقے کی اقوام پر یہ بات ثابت کر رہی ہے کہ واشنگٹن کی سیاست کا مقابلہ فقط مزاحمت کے ذریعے ممکن ہے۔ لبنان کی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ گولان ہائیٹس پر صہیونی ریاست کے قبضے کو امریکا کی طرف سے درست تسلیم کرنا عالم اسلام اور جہان عرب کی توہین ہے۔ یمن کی ”انصار اللہ“ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک خطرناک فیصلہ ہے، جس کا ہدف علاقے کے دیگر ممالک بھی ہیں۔ یہ اقدام علاقے کے تمام ممالک کو کھلے علاقے میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔
 
شام کے نمائندے بشار الجعفری نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ گولان شام کا حصہ ہے اور شام کا حصہ رہے گا۔ امریکی اور اسرائیلی بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شام کا حصہ بھی ڈیل آف سینچری کا ایک حصہ قرار پائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکا سخاوت و بخشش کا جذبہ رکھتا ہے تو اسے چاہیئے کہ اپنے اموال میں سے کچھ صہیونی ریاست کو بخش دے۔ اگر وہ اپنے اس جذبے میں سچا ہے اور اسرائیل کو راضی کرنا چاہتا ہے تو پھر اپنی دو ریاستیں اسرائیل کو دے دے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ یکطرفہ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ شاید سب سے زیادہ دلچسپ بیان شام کے نمائندے بشار جعفری کا ہی قرار پائے گا، جنھوں نے امریکا کو صائب مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اموال میں سے کچھ بخش کر اسرائیل کو خوش کرے۔ ورنہ کسی کے اموال کو بخشنا حلوائی کی دکان پر پر نانا جی کی فاتحہ ہی قرار پا سکتا ہے۔ امریکا کا گولان ہائیٹس کے بارے میں مذکورہ فیصلہ عالمی سطح پر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کے نفاذ کے لیے ایک قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔
 
سطور بالا سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ دنیا بدل چکی ہے، لیکن اس تبدیلی کا امریکی قیادت کو ابھی تک ادراک نہیں ہوسکا۔ اگر یہی حال رہا تو ایک دن امریکا پیچھے پلٹ کر دیکھے گا تو کوئی اس کا ساتھ دینے والا دکھائی نہیں دے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح سے اسرائیل کی خوشنودی کے لیے بگ ٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں، اس کے نتیجے میں امریکا کو جس سطح کے نقصانات پہنچ سکتے ہیں، اس کا اندازہ کرتے ہوئے امریکی سیاستدانوں، دانشوروں اور تھنک ٹینکس کو فوری طور پر کچھ اقدامات کرنا چاہئیں۔ صدر ٹرمپ امریکا کو پوری دنیا میں تنہا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، امریکا کو صدر ٹرمپ سے نجات حاصل کرنا چاہیئے، کچھ عرصہ مزید وہ امریکا پر مسلط رہ گئے تو شاید نقصان بہت زیادہ ہو جائے۔
 
بشکریہ اسلام ٹائمز