دیگر

مودی کا دورہ مشرق وسطٰی اور ہمارے عرب دوست

 

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

انڈیا کے وزیراعظم بہت تیزی سے ان ممالک کے دورے کر رہیں، جن کے ساتھ پاکستان کے  قریبی تعلقات رہے ہیں۔ وہ ایک طرح سے پاکستان کے دوستوں کی  تعداد کم کرنا چاہتے ہیں، جس سے پاکستان خطے میں تنہائی کا شکار ہو جائے۔ ویسے تو مودی رسک لیتے رہتے ہیں، نوٹ بندی جیسے اندرونی اقدامات ہوں یا کشمیر کے جواب میں بڑی چالاکی سے بلوچستان کے ایشو کو اٹھانا ہو وہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ گجرات کے قصاب کے نام سے مسلم دنیا میں معروف شخصیت جس کے دور حکومت میں ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی تنگ ہو گئی ہے، وہ بڑی مکاری سے مسلمان ممالک کو پاکستان سے دور کر رہا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اسرائیل سے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کرکے استحکام بخشنے والا چند عربوں کو ایسے بھا جاتا ہے کہ اس کے لئے بچھے بچھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے انڈیا کا دورہ کیا، جو انڈیا اسرائیل تعلقات میں بنیادی تبدیلیاں لیکر آیا، اس کے نتیجے میں کچھ عرب حکومتیں انڈیا سے دور ہوسکتی تھیں، بالخصوص عرب میڈیا میں ہندوستان کے خلاف ایک فضا بنی تھی، ہندوستان نے بڑی حکمت سے تمام معاہدے اسرائیل سے کر لئے اور عربوں کو راضی کرنے کے لئے اقوام متحدہ میں ووٹ فلسطین کے حق میں دے دیا۔

  • مشاہدات: 148

گلوبل ویلیج، روہنگیا اور نظر انداز مناظر

تحریر: ثاقب اکبر

دنیا واقعاً ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ کیسے ساری دنیا روہنگیا کے مظلوموں کے لیے بیدار ہو گئی ہے اور حرکت میں آ گئی ہے۔ اقوام متحدہ میانمار کی حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے،امریکی اور برطانوی ادارے چیخ رہے ہیں، مسلمان حکومتیں احتجاج کررہی ہیں، ترکی کے وفود بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کی مدد کے لیے پہنچ گئے ہیں، حکومت پاکستان نے بھی آواز احتجاج بلند کی ہے، ایران کی حکومت نے عالمی اداروں کو بیداری کا پیغام دیا ہے۔ تہران میں لاکھوں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں، انڈونیشیا اور ملائیشیا نے میانمار سے احتجاج کیا ہے، چین نے بھی صدائے احتجاج بلند کی ہے، بھارت میں مسلمانوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ پوپ نے فریاد کی ہے ۔سوشل میڈیا اور ریگولر میڈیا چیخ رہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتیں مسلسل احتجاج کررہی ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے اور نوبل انعام کے بعض حصہ دار بھی بول اٹھے ہیں۔

  • مشاہدات: 175

عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی گونج

ثاقب اکبر

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے 26ستمبر2014کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کو جس طرح سے اٹھایا ہے اس سے عالمی سطح پر ایک مرتبہ پر مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا ہے۔ اس فورم پر اس مسئلہ کے اٹھائے جانے پر دنیا کے مختلف ملکوں میں موافق اور مخالف تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے اندر بھی اس سلسلے میں مختلف طرح کا ردعمل سامنے آیا ہے۔

  • مشاہدات: 704

مسلمان اب کیا کریں؟

تحریر: ڈاکٹر راشد شاز
نئی دہلی

ہندوستانی مسلمان اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل اور نازک مرحلے میں ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ یہ وقت بہر طور ایک نئی ابتداء کا طالب ہے، پرانی ترکیبوں سے اب کام نہیں چل سکتا۔ مسئلہ کا ایک خوشگوار پہلو یہ ہے کہ1947ء میں ہی ہمیں صورتحال کی سنگینی کا جو ادراک ہوجانا چاہیئے تھا اور جس پر کانگریس کی سیاسی منافقت اور مکروہ سیکولر ازم نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ دل گرفتہ حقیقت اب پوری طرح مبرہن ہو گئی ہے۔

  • مشاہدات: 1200