انقلاب اسلامی ایران، انتالیس برس۔حصہ اول

 

تحریر: ثاقب اکبر

ایران کا اسلامی انقلاب 11فروری 1979ء کو امام خمینی کی قیادت میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ 11فروری 2018ء کو اس انقلاب کو 39 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ دنیا میں بہت سے انقلاب آئے ہیں، جدید تاریخ میں فرانس کا انقلاب اور پھر روس کا اشتراکی انقلاب بڑے انقلابات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایران میں آنے والا انقلاب دیگر انقلابات سے ماہیت اور اپنی تاثیر کے اعتبار سے خاصا مختلف ہے۔ یہ انقلاب ابھی تک اپنے اثرات دنیا پر مرتب کر رہا ہے اور اس کی پیش رفت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شاہ ایران جو امام خمینی کی پندرہ سالہ جلا وطنی کے بعد تہران میں اترنے سے پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکا تھا، شہنشاہوں کی تاریخ میں اپنی ایک خاص حیثیت رکھتا تھا۔ وہ اس خطے میں امریکہ کی آشیرباد رکھنے والا ایک انوکھا لاڈلا حکمران تھا، اس کا کروفر مثالی تھا۔ سعودی عرب سے بھی زیادہ اس کی شہنشاہیت کو قوی اور موثر سمجھا جاتا تھا۔ سعودی شاہی خاندان سے اس کے بڑے قریبی تعلقات تھے۔ ایک مرتبہ جب وہ سعودی عرب کے دورے پر پہنچا تو شاہ عبدالعزیز کے شہزادے اس کے سامنے رقص کر رہے تھے۔ ایسا ہی رقص کچھ عرصہ پہلے ہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریاض آمد کے موقع پر ان کے حضور ہوتا دیکھا ہے۔  امریکہ کے ساتھ شاہ ایران کے قریبی تعلقات یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کے ایران میں اثر و رسوخ کا یہ عالم تھا کہ شاہ نے بیک جنبش قلم ایران میں موجود پچاس ہزار امریکیوں کو سفارتکاروں کا درجہ دے دیا اور حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اس ملک میں جو بھی جرم کریں، ایران میں ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا۔

ملک کے وزیراعظم سے لے کر ہر چھوٹا بڑا عہدیدار اور فوجی اس کے سامنے غلاموں اور وفادار ملازموں کی سی حرکتیں کرتا تھا۔ ایک مرتبہ شاہ اپنی پارلیمان میں داخل ہوا تو وقت پوچھا، اسے بتایا گیا کہ چھ بجے ہیں۔ اس نے اپنی گھڑی پر دیکھا تو اسے بہت ناگواری کا احساس ہوا کہ یہ کیسی گھڑی ہے، جو اس وقت پانچ بجا رہی ہے۔ اس نے اپنی گھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اسے اتارو اور اس پر چھ بجے کا وقت کر دو۔ وزیراعظم نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا: میں آپ پر قربان جاﺅں، آپ گھڑی اتارنے کی زحمت کیوں کرتے ہیں، ہم پورے ملک کا وقت ایک گھنٹہ پیچھے کر دیتے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔ حکومت نے اعلان کر دیا اور پورے ملک میں گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی گئیں۔ پھر ایک دن آیا جب دنیا میں امریکہ سمیت کوئی ملک اس گردِ آوارہ کو اپنی دہلیز پر پناہ دینے کو تیار نہ تھا۔ اس کا طیارہ اسے کبھی ایک ملک اور پھر دوسرے ملک لئے پھرتا تھا۔ آخر مصر کے صدر سادات نے کہا کہ مصر فرعونوں کی سرزمین ہے، آپ مصر تشریف لے آئیں۔ شاہ مخلوع قاہرہ جا پہنچا اور وہیں پر نہایت مختصر عرصے کے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔ کوئی اس کا جنازہ پڑھانے والا نہ تھا۔ چار پانچ افراد نے مل کر اسی گھر میں اسے دفن کر دیا، جس میں وہ قیام پذیر تھا اور آج تک حالت یہ ہے کہ ”مر گیا مردود نہ فاتحہ نہ درود۔" شاہ کی بیوی جو ملکہ فرح پہلوی کے نام سے جانی جاتی تھی، آج ذلت و گمنامی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ کوئی اس کا حال پوچھنے کو نہیں آتا۔ شام ڈھلتی ہے تو شراب کے نشے میں دھت دیواروں کو احکام جاری کرکے اپنا نشہ حکمرانی پورا کرتی ہے۔"فَاعتَبِرُو یٰٓاُولِی الاَبصَارِ"(الحشر:۲)

دوسری طرف امام خمینی ہیں، حکمرانی تو انہوں نے فقط ایران میں قائم کی، لیکن ان کی محبتیں سرحدوں کے پار اور نسلوں کے اس طرف سفر کرتی چلی جا رہی ہیں اور دنیا پر یہ حقیقت ان کے نام سے پھر آشکار ہو رہی ہے:
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
ایران میں آنے والے انقلاب کی ایک خصوصیت جو اسے جدید دور کے دیگر تمام انقلابوں سے منفرد کرتی ہے، وہ اس کا مذہبی تشخص ہے۔ یہ تشخص اس پہلو سے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ جب 1979ء میں یہ انقلاب آیا تو دنیا میں دو نظام حکم فرما تھے، ایک سرمایہ داری نظام، جس کی قیادت امریکہ کر رہا تھا اور دوسرا اشتراکی نظام، جس کا مدار مہام سوویت یونین تھا۔ ایران کا انقلاب ”لا شرقیہ و لا غربیہ“ کے نعرے پر برپا ہوا، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم نہ سرمایہ داری نظام کو قبول کرتے ہیں اور نہ اشتراکی نظام کو۔ اس نعرے کا دوسرا حصہ تھا ”جمہوریہ اسلامیہ۔“ ایران کی وزارت خارجہ کی عمارت پر یہ نعرہ آج بھی نمایاں طور پر لکھا دکھائی دیتا ہے۔ اُس وقت دنیا میں رائج دونوں نظام کائنات کی مادی شناخت پر استوار تھے، یوں سمجھا جاتا تھا کہ شاید عالمِ سیاست سے مذہب ہمیشہ کے لئے بے دخل ہوگیا ہے، کیونکہ ہر چھوٹے بڑے ملک کو اپنی سرپرستی کے لئے امریکہ کی طرف دیکھنا پڑتا تھا یا سوویت یونین کی طرف۔ عملی طور پر دنیا دو قطبوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اگرچہ دنیا میں غیر جانبدار تحریک کے نام پر ایک پلیٹ فارم موجود تھا، تاہم رفتہ رفتہ وہ اپنی افادیت کھو رہا تھا اور آج تو بالکل وہ یوں ہے جیسے نہیں ہے۔

ایران کا انقلاب اسلامی انقلاب کے عنوان سے برپا ہوا، جس کی قیادت امام خمینی کر رہے تھے۔ امام خمینی ایک مسلّم فقیہ تھے اور ان کی دینی زعامت کو ایک دنیا تسلیم کرتی تھی۔ ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ انہیں اس انقلاب کے قائد کے طور پر ایرانی عوام نے بسروچشم تسلیم کیا تو اس کی ایک اہم وجہ ان کی دینی حیثیت ہی تھی۔ البتہ وہ عام مذہبی راہنماﺅں سے یقیناً مختلف تھے۔ وہ مذہبی حکومت کی تشکیل کے بارے میں ایک خاص نقطہ نظر رکھتے تھے۔ ان کی کتاب ”اسلامی حکومت یا ولایت فقیہ“ کے عنوان سے انقلاب کی کامیابی سے کئی سال پہلے ہی شائع ہوچکی تھی، جو ان کے لیکچرز پر مشتمل تھی، یہ لیکچرز انہوں نے نجف اشرف میں جلا وطنی کے دور میں اپنے شاگردوں کے سامنے دیئے تھے۔ اس میں انہوں نے اسلامی حکومت کے بارے میں اپنے تصور کو دینی متون کی مدد سے ثابت کیا تھا۔ انقلاب کی اسی اساس اور شعار کی وجہ سے دنیا میں رائج نظاموں کے قائدین نے اس کی مخالفت کی۔ انقلاب آیا تو شاہ کی وفادار فوج تقریباً مضمحل ہوچکی تھی۔ بہت سے فوجی جرنیل ماضی میں اپنے مظالم کی وجہ سے انقلابی عدالتوں کو مطلوب تھے۔ بہت سے داخلی مسائل پیدا ہوچکے تھے، جو ابھی حل طلب تھے کہ 1980ء میں عراقی حکومت نے عالمی طاقتوں کے ایماء پر ایران پر حملہ کر دیا۔ صدر صدام جو ایک وحشی ڈکٹیٹر کے نام پر انسانی تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے، اس جارحیت کی قیادت کر رہے تھے۔ عالمی طاقتوں کے علاوہ رجعت پسند عرب حکومتوں نے بھی صدام حکومت کی بھرپور حمایت کی۔ دولت اور اسلحہ فراواں اس کی پشت پر موجود تھا۔ تباہی پھیلانے کے تمام وسائل موجود تھے اور ایران میں انقلاب ابھی ابتدائی مرحلوں میں تھا، تاہم آٹھ سال تک امام خمینی نے اس جارحیت کا مقابلہ جس انداز سے کیا اور ان کے عوام نے جس ایثار و قربانی سے ان کا ساتھ دیا، تاریخ اس کی مثال ڈھونڈا کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔