ایران

انقلاب اسلامی ایران، انتالیس برس۔ آخری حصہ

 

تحریر: ثاقب اکبر

فروری 1979ء میں جب ایران میں انقلاب اسلامی کامیاب ہوا تو اس سے پہلے اسرائیل ایک بڑی قوت کے طور پر سامنے آچکا تھا۔ وہ اپنے ارد گرد کی عرب حکومتوں کو کئی ایک جنگوں میں شکست فاش سے دوچار کرچکا تھا اور ان کی وسیع و عریض زمینوں پر اس کا قبضہ تھا۔ اردن کا ایک علاقہ ہی نہیں بلکہ بیت المقدس کا وہ حصہ بھی اس کے قبضے میں آچکا تھا، جو اردن کے پاس تھا۔ صحرائے سینا اور مصر کا وسیع و عریض علاقہ اس کے قبضے میں تھا۔ جنوبی لبنان کا بہت سا علاقہ اس کے فوجی قبضے میں جا چکا تھا۔ شام کی جولان ہائٹس پر اس کا قبضہ تھا۔ اس طرح اسرائیل ایک بڑی طاقت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کو ناقابل شکست قرار دے رہے تھے۔ شاہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی ہی نہیں بلکہ ہمہ پہلو تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ اسرائیل کا ایک بڑا سفارتخانہ تہران میں موجود تھا۔ ایسے میں تہران میں نئی حکومت قائم ہوئی تو اس نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ مشرق وسطٰی میں یہ ایک بہت بڑا واقعہ تھا، جو بعض لوگوں کی نظر میں ایک انہونی کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسرائیل کے حوالے سے خطے میں یہ الٹی طرف ایک پہلا قدم تھا۔ اتنا ہی نہ ہوا بلکہ تہران میں اسرائیل کے سفارتخانے کی عمارت انقلابی حکومت نے فلسطین کی تنظیم الفتح کے حوالے کر دی اور یاسر عرفات نے آکر تہران میں فلسطینی سفارتخانے کا افتتاح کیا۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ تہران میں قائم ہونے والی نئی حکومت کا رخ کیا ہے اور وہ آنے والے دور میں کس طرح کے ارادے رکھتی ہے۔

  • مشاہدات: 229

انقلاب اسلامی ایران، انتالیس برس۔ حصہ دوئم

 

تحریر: ثاقب اکبر

کہاں فرعون صفت شاہ ایران اور کہاں ایک مرد درویش شب زندہ دار، عالم و فقیہ اور غریب پرور۔ شاہ ایران نے بعض ایسے کام کئے جن کی مثال شاید دنیا کے دیگر فرعونوں کے ہاں بھی نہ مل سکے۔ اس نے اپنے شہنشاہی نظام کے اڑھائی ہزار سالہ جشن منانے کا فیصلہ کیا۔ اسے بتایا گیا کہ اس وقت ایران کے شمسی کیلنڈر میں اڑھائی ہزار سال پورا ہونے میں ایک ہزار ایک سو اسی سال باقی ہیں۔ اس نے حکم دیا کہ کیلنڈر کو 1180برس پیچھے کر دیا جائے، تاکہ شاہ، ایران کے شاہی نظام کا اڑھائی ہزار سالہ جشن برپا کرسکے اور پھر ایسا ہی کیا گیا۔ ایرانی کیلنڈر میں 1180 برس کا اضافہ کر دیا گیا۔ یہ وہی موقع تھا جس میں پاکستان کے رسوا ترین حکمران یحیٰی خان نے پاکستان کی ”نمائندگی“ کی۔ اس جشن کے بعد شاہ ایران دس برس مزید پورے نہ کرسکا اور ایرانی عوام نے ایک ایسا انقلاب برپا کیا کہ جس کے بعد کیلنڈر میں ایک اور تبدیلی آئی۔ ایران کی انقلابی حکومت نے کیلنڈر کو ہجری شمسی میں تبدیل کر دیا۔ گویا اب اس کیلنڈر کا مبداء ہجرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، البتہ اسے شمسی اعتبار سے شمار کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی طرح ہجری قمری کیلنڈر بھی جاری ہے۔ مذہبی تقریبات اور ایام کے لئے یہی کیلنڈر استعمال ہوتا ہے۔

  • مشاہدات: 219

انقلاب اسلامی ایران، انتالیس برس۔حصہ اول

 

تحریر: ثاقب اکبر

ایران کا اسلامی انقلاب 11فروری 1979ء کو امام خمینی کی قیادت میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ 11فروری 2018ء کو اس انقلاب کو 39 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ دنیا میں بہت سے انقلاب آئے ہیں، جدید تاریخ میں فرانس کا انقلاب اور پھر روس کا اشتراکی انقلاب بڑے انقلابات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایران میں آنے والا انقلاب دیگر انقلابات سے ماہیت اور اپنی تاثیر کے اعتبار سے خاصا مختلف ہے۔ یہ انقلاب ابھی تک اپنے اثرات دنیا پر مرتب کر رہا ہے اور اس کی پیش رفت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شاہ ایران جو امام خمینی کی پندرہ سالہ جلا وطنی کے بعد تہران میں اترنے سے پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکا تھا، شہنشاہوں کی تاریخ میں اپنی ایک خاص حیثیت رکھتا تھا۔ وہ اس خطے میں امریکہ کی آشیرباد رکھنے والا ایک انوکھا لاڈلا حکمران تھا، اس کا کروفر مثالی تھا۔ سعودی عرب سے بھی زیادہ اس کی شہنشاہیت کو قوی اور موثر سمجھا جاتا تھا۔ سعودی شاہی خاندان سے اس کے بڑے قریبی تعلقات تھے۔ ایک مرتبہ جب وہ سعودی عرب کے دورے پر پہنچا تو شاہ عبدالعزیز کے شہزادے اس کے سامنے رقص کر رہے تھے۔ ایسا ہی رقص کچھ عرصہ پہلے ہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریاض آمد کے موقع پر ان کے حضور ہوتا دیکھا ہے۔  امریکہ کے ساتھ شاہ ایران کے قریبی تعلقات یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کے ایران میں اثر و رسوخ کا یہ عالم تھا کہ شاہ نے بیک جنبش قلم ایران میں موجود پچاس ہزار امریکیوں کو سفارتکاروں کا درجہ دے دیا اور حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اس ملک میں جو بھی جرم کریں، ایران میں ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکے گا۔

  • مشاہدات: 216

انقلابِ اسلامی ایران اور اتحاد امت کی کوششیں(2)

تحریر: ثاقب اکبر

ایران کی اسلامی قیادت نے اتحاد و وحدت کے حوالے سے فقط تلقین اور نصیحت سے کام نہیں لیا بلکہ اس کے لئے دور رس عملی اقدامات بھی کئے ہیں۔ ان میں سے ہم چند ایک کا ذکر ذیل میں کرتے ہیں

  • مشاہدات: 1068

انقلابِ اسلامی ایران اور اتحاد امت کی کوششیں(1)


تحریر: ثاقب اکبر

فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب امام سید روح اللہ الموسوی الخمینی کی قیادت میں کامیاب ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا عصر جدید میں منفرد انقلاب تھا۔ اس انقلاب نے سرمایہ داری اور اشتراکی نظام کی گرفت میں بٹی دنیا میں ایک ہمہ گیر ارتعاش برپا کر دیا۔

  • مشاہدات: 1166