قرآن اور عقل و استدلال

فلسفہ اسلامی کے پس منظر میں

سید ناصر زیدی

اسلامی فلسفہ اصطلاح یا حقیقت

 اسلامی فلسفہ ایک محض اصطلاح نہیں ہے بلکہ حقیقت پر مبنی ایسی اصطلاح کا نام ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ فلسفہ اپنی ذات میں نہ اسلامی ہوتا ہے نہ غیر اسلامی، نہ مغربی ہوتا ہے نہ غیر مغربی بلکہ ایسے عقلی اصولوں کا نام ہوتا ہے جو تمام بنی نوع انسان کے گہرے شعور کی غمازی کرتا ہے۔ فلسفہ اسلامی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسلام اور قرآن کا فلسفہ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ توحید،نبوت، قیامت، جیسے بنیادی عقائد جنھیں اصول دین بھی کہا جاتا ہے کو جہاں تک ہو سکے گہرے عقلی استدلال کے ذریعے سمجھے اور پھر اس پر ایمان لائے۔ اللہ کے نزدیک ایسا ایمان جو اندھی تقلید یا کسی ماحول کی تاثیر کا نتیجہ ہو اسے قبول نہیں کیا جاسکتا بلکہ یقین و معرفت کی منزل پر پہنچنا ضروری ہے۔ خود ہر مسلمان کے لیے وجود خدا کے دلائل، نبوت اور بعثت کے فلسفے کا جاننا اور کسی حد تک قیامت کے وجود کا عقلی ادراک ضروری ہے، اگرچہ اس دنیا میں ظاہری طور پر مسلمان ہونے کا دعویٰ قبول کیا جاتااور مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والے سے یہ پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ سمجھ کر مسلمان ہوا ہے یا کسی تقلید یا ماحول کے اثر کی وجہ سے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے درجات کا تعین ان کی معرفت کی بنیاد پر کرے گا۔

فلسفہ اور عقائد

جب ہم اسلامی فلسفہ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مسلمان حکما نے بڑی محنت کے ساتھ خالصةً فلسفیانہ بنیادوں پر اسلامی عقائد کا دفاع کیا ہے۔ قرآن سے اہم فلسفیانہ اصولوں کو بھی اخذ کیاگیا ہے۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ فارابی، ابن سینا، ابن رشد، سہروردی اور ملا صدرا جیسے حکما نے مسلمان ہونے کی وجہ سے زبردستی اپنے عقائد کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان حکماءنے اسلامی عقائد کے دفاع میں جو دلائل بھی پیش کیے وہ تمام دنیا کے فلسفیوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت بھی رکھتے ہیں اور ان میں سے کسی نے بھی اپنی فلسفیانہ حیثیت کا سودا نہیں کیا ہے۔ اس لحاظ سے آج کل الہیات اور فلسفہ میں جدائی کا جو پرچار کیا جارہا ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ الہیاتی مباحث کو صرف اور صرف فلسفیانہ بنیادوں پر ہی پرکھا جاسکتا ہے اور جہاں پر عقل و منطق کی طاقت ختم ہو جاتی ہے وہاں بھی عقل ہی اس بات کا اعلان کرتی ہے۔

یونانی اور اسلامی فلسفہ ،تاثیر اور فرق

فلسفہ اسلامی کی تعبیر کے بارے میں بہت زیادہ ابہامات موجود ہیں جن کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔ فلسفہ اسلامی کے بارے میں وہ بنیادی آراءکو بہت زیادہ نقل کیا جاتا ہے۔ ان آراءکو پیش کرنے میں مستشرقین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے اور دوسرے وہ دانشور ہیں جنھوں نے فلسفہ اسلامی کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر نہیں پڑھا ،یا اس فلسفہ کی گہری بنیادوں سے وہ واقف نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ایک رائے تو یہ پیش کی جاتی ہے کہ فلسفہ اسلامی دراصل یونانی فلسفہ کا ہی تسلسل ہے اور اگر اس میں سے یونانی فلسفہ کو نکال دیا جائے تو فلسفہ اسلامی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی اور دوسری رائے یہ سامنے آتی ہے کہ فلسفہ اسلامی دراصل علم کلام ہی ہے جس میںفلسفی بنیادوں کا عمل دخل بہت کم ہے کیونکہ مسلمان فلاسفہ نے دراصل پہلے سے بنے بنائے عقائد کو ہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جب کہ فلسفہ کا ایک ادنی طالب علم بھی اس بات سے واقف ہے کہ انسان بطور فلسفی پہلے سے کسی عقیدہ کو مان کر اسے ثابت نہیں کرتا بلکہ وہ اسی چیز کو مانتا ہے جس طرف اس کو فلسفی دلائل لے جاتے ہیں۔گویا اسلام صرف ایمان لانے کی بات کرتا ہے اور اس میں اگر فلسفہ کوشامل کرلیا جائے تو ایمان کو باقی رکھنا ممکن نہیں رہ سکتاجبکہ علم کلام کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک متکلم ان عقائد کو ثابت کرنے کے لیے دلائل تلاش کرکے لاتا ہے جنھیں وہ پہلے ہی ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر چکا ہوتا ہے اور اپنے ایمان کا حصہ بنا چکا ہوتا ہے۔

اس گفتگو کو آگے بڑھانے کے لیے فلسفہ اسلامی کی ماہیت اور اس کے بنیادی خدوخال پر روشنی ڈالنا ضروری ہے البتہ ابتداءمیں اس بات کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ خود مسلمان حکماءنے اسلامی فلسفہ کی اصطلاح پر بحث کرنے کے بجائے فلسفہ اسلامی کے تحت آنے والے موضوعات پر گفتگو کی ہے لیکن ایک جامع اصطلاح کے طور پر فلسفہ اسلامی کی حقیقت و ماہیت پر بات نہیں کی۔

بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ ارسطو اور نوافلاطونی فلسفہ یک بنیادوں کو اگر نکال دیا جائے تو فلسفہ اسلامی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ بظاہر یہ خیال ابن رشد کے فلسفے سے بھی پیدا ہوتا ہے جنھوں نے بہت کم مقامات پر ارسطو کے فلسفے کی مخالفت کی ہے۔ تاہم نوافلاطونی فلسفے کے گہرے اثرات سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔

نوافلاطونی (Neo Platonism) فلسفے کو دراصل یونانی فلسفے کا آخری مکتب گردانا جاتا ہے جسے تیسری صدی عیسوی پلوٹینس(Plotinus) نے پیش کیا۔ یہ فلسفہ دراصل افلاطون کے فلسفے کی شرح ہے، تاہم افلاطون اور نوافلاطونی مکتب کے درمیان 6صدیوں کا فاصلہ موجود ہے۔ نوافلاطونی فلسفہ دراصل مابعدالطبیعاتی حقائق پر مبنی ہے جس میں غیر مادی کائنات اور وحدت کے اصول کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس غیر مادی جہان کو انسان کی پیدائش کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے اور پھر اسی سرچشمہ کی طرف انسان کی واپسی کی بات کی گئی ہے۔ فلسفہ نوافلاطونی میں جس انتہائی بسیط جہان واحد یا غیر مادی کائنات کی بات کی گئی ہے وہی عالم مادہ یا مادی کائنات کا خالق بھی ہے۔ یہی بسیط اور غیر مادی کائنات مادی کائنات میں عقل و نفس میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی مادی کائنات میں پھر انسان ایک وجود مطلق کا ادراک کرتا ہے۔ پس اس مادی کائنات میں عقل و نفس کی صورت میں دوغیر مادی چیزیں وجود میں آتی ہیں البتہ نفس کا مرتبہ مظاہر طبیعت اور عقل و خرد کے درمیان میں ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عقل تو ہر لحاظ سے اپنے ادراک میں مستقل ہے اور وجود مطلق سے وابستہ ہے جب کہ نفس اپنی ذات میں غیر مادی ہونے کے باوجود عقل و خرد سے وابستہ ہوتا ہے لہٰذا نفس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ عالم مادہ اور عقل دونوں میں گھل مل جائے۔ بہرحال اس مختصر تفصیل کا مطلب یہ ہے کہ نوافلاطونی فلسفے سے مذہبی فلاسفہ کا متاثر ہونے ایک قدرتی سی بات تھی۔

نوافلاطونی فلسفہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ہم اپنے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان فلاسفہ نے یونانی حکمت و فلسفہ میں بہت زیادہ دلچسپی لی اوریونانی فلسفے کی تعلیمات میں سے وسیع موضوعات کو اپنایا لیکن بڑے پیمانے پریونانی فلسفے کے بہت سے موضوعات کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ فارابی اور ابن سینا کی فلسفی آراءمیں اس حقیقت کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ دونوں فلاسفہ نے ارسطو کے بہت سے نظریات کی تائید میں براہین کا تذکرہ کیا ہے اور بعض جگہ ارسطو کے نظریات کو مکمل بھی کیا ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ بہت سی جگہ انھوں نے ارسطو کے فلسفی نظریات کی مخالفت بھی کی ہے۔

اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے ایسے بہت سے فلسفی مسائل کی طرف توجہ دی ہے جنھیں ارسطو کے فلسفے میں نظرانداز کردیا گیا تھا۔ فارابی اور ابن سینا نے کائنات کے قدیم ہونے سے متعلق ارسطو کے فلسفے کو مسترد کرتے ہوئے حدوثِ عالم کا نظریہ اپنایا۔ جدید نظریات میں وجود ماہیت کے درمیان فرق، واجب و ممکن، نظریہ فیض وصدور، صفات واجب الوجود جیسے واجب الوجود کے لیے علت فاعلی، علم مطلق، قدرت، اختیار، سمع و بصرنیز نبوت اور معاد سے متعلق بہت سی نئی فلسفی ابحاث کا آغاز کیا جن کا ارسطو کے فلسفے میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔

فلسفہ اسلامی اور علم کلام

بنیادی طور پر مسلمان حکماءکا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ دین اور فلسفہ دونوں میں ہمیں حقیقت واحدہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ ابن رشد کا کہنا ہے کہ دین کے اعتقادی اصول دراصل عقلی اصول ہیں، اسی لیے ان میں فلسفیانہ گفتگو کی قابلیت موجود ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اسلامی عقائد سے متعلق دلائل کلامی نوعیت کے ہیں اور انھیں فلسفیانہ دلائل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ مسلمان فلاسفہ کے فلسفیانہ دلائل اور ان کے مذہبی عقائد کے درمیان پائی جانے والی نسبت کا تجزیہ کیا جائے۔ اگر مسلمان فلاسفہ کے فلسفی آثار کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہ جاتا کہ مذہبی عقائد کو براہین فلسفی کے ذریعے ثابت کرنے کا لازمی نتیجہ ہرگز یہ نہیں کہ اس سے فلسفیانہ روش کی برہانی (Reasoning) حیثیت پر بھی فرق آیاہے یعنی یہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے کہ چونکہ اسلامی عقائد کا تعلق قرآن و سنت سے ہے اور ان کا اصل ماخذ وحی الٰہی ہے لہٰذا ان کو برہان و استدلال کی ضرورت نہیں ۔ ہر فلسفی دلیل کو اس کے اپنے معیارات پر پرکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر فلسفی دلیل کے لیے فلسفیانہ بنیادوں پر پورا اترنا ضروری ہے۔ جہاں تک کسی موضوع کا تعلق ہے چاہے وہ اسلامی عقیدہ ہو یا کوئی اور غیر دینی مسئلہ یا موضوع اس کا اس دلیل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

تاہم اس مقام پر ضروری ہے کہ ہم دینی موضوعات کی اسلامی فلسفہ پر تاثیر کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ دینی عقائد نے کس حیثیت سے یا کن جہات سے مسلمان حکماءکو متاثر کیا ہے۔ کیا ان کا مسلمان ہونا یا پہلے سے کسی عقیدے کا حامل ہونا ان کے فلسفی دلائل کی فلسفیانہ حیثیت کو بھی متاثر کرتا ہے یا نہیں؟ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دینی عقائد نے مندرجہ ذیل صورتوں میں مسلمان فلاسفہ کو متاثر کیا ہے:

(الف) نئے موضوعات کے اعتبار سے تاثیر

دینی تعلیمات نے مسلمان فلاسفہ کو نئے موضوعات سے متعارف کروانے میں نہایت اہم کردارادا کیا ہے۔ دین اسلام نے مسلمانوں کو نئے سوالات کا سامنا کرنے پر مجبورکیا ہے۔ ان سوالات کا تعلق وجودیاتی (Existential) مباحث سے ہے۔ وجود خدا، توحید، اسماءو صفات الٰہی، کائنات کی خلقت کا مقصد، معاد کی کیفیت، دین کی ضرورت، نظریہ فطرت اور ان جیسے بہت سے مسائل نے مسلمان حکماءکو سوچنے پر مجبور کردیا جس کے بعد انھوں نے خالص فلسفی بنیادوں پر ان موضوعات پر کام کیا لیکن مسلمان فلاسفہ کے لیے ایک فلسفی ہونے کی حیثیت سے ہرگز ممکن نہیں تھا کہ وہ کسی دینی مسئلے کے اثبات کی خاطر اپنی فلسفیانہ حیثیت کو پس پشت ڈال دیں۔ اس سلسلے میں بہترین مثال معاد جسمانی کی پیش کی جاسکتی ہے۔

پہلے تو معاد کی صورت میں انسان کی واپسی کا سفر کس نوعیت کا ہوگا؟ آیا یہی جسم اُس دنیا میں بھی ہوگا یا انسان کا روحانی وجود ہوگا اور یہ جسم اسی دنیا میں ختم ہو جائے گا۔ پہلے تو یہ چیز قرآن و سنت کے ذریعے ایک مسئلے کے طور پر مسلمان فلاسفہ کے سامنے آئی اور ایک موضوع ہونے کی حیثیت سے یہ مسئلہ دینی تعلیمات کے بعد ہی ہمارے سامنے آیا۔ پھر دوسرے مرحلے میں مسلمان فلاسفہ نے اس موضوع کو فلسفیانہ بنیادوں پر جانچنا شروع کیا۔ ابن سینا نے برہان و استدلال کے ذریعے بڑی تفصیل سے معاد جسمانی پر بحث کی لیکن فلسفی دلائل کی روشنی میں معاد روحانی کو ثابت کیا جب کہ وہ قلبی طور پریہی سمجھتے تھے کہ دینی تعلیمات کی رو سے معاد کو جسمانی ہی ہونا چاہیے اور اسی جسم کو قیامت میں جزا و سزا کا سامنا ہوگا۔ پھر وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ فلسفی اعتبارسے وہ معاد جسمانی کو ثابت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ان کے پاس کوئی ایسی فلسفی برہان نہیں ہے جو معاد جسمانی کو ثابت کر سکے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دینی عقائد کا ایک مسلمان فلسفی پر اثر ہوتا ہے تو پھر ابن سینا کو کسی بھی طرح سے معاد جسمانی کو ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی چاہے انھیں اس کے لیے غیر برہانی انداز ہی اپنانا پڑتا جب کہ ابن سینا نے خود ہی اس بات کی وضاحت کردی کہ وہ اپنے فلسفیانہ دلائل کی روشنی میں معاد روحانی کو ہی ثابت کر سکے ہیں لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت میں وہ معاد جسمانی کے عقیدے کے سامنے ہی سر تسلیم خم ہوتے ہیں۔

(ب) ایک نئے استدلال کی تلاش میں دینی تعلیمات کی تاثیر

قرآن و سنت میں ایسے بہت سے مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے جنھوں نے مسلمان فلاسفہ کو استدلال اور برہان کی ایک نئی راہ دکھانے میں اہم کردارادا کیا۔ مثال کے طور پر ہر مسلمان فلاسفہ نے وجود خدا کو ثابت کرنے کے لیے برہان صدّیقین کے نام سے ایک اہم برہان قائم کیا ہے لیکن اس کی ہدایت انھیں قرآن کی اس آیت سے حاصل ہوئی ہے:

 سَنُرِیہِم اٰیٰتِنَا فِی الاٰفَاقِ وَفِیٓ اَنفُسِہِم حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُم اَنَّہ الحَقُّ اَوَلَم یَکفِ بِرَبِّکَ(فصّلت:۵۳)

اس آیت میں خدا شناسی کے تین راستوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا کو اس کی نشانیوں کے ذریعے پہچانو یا اپنے نفس کے ذریعے خدا کی شناخت حاصل کرو لیکن تیسرا راستہ بہت اہمیت کا حامل ہے جس نے ابن سینا جیسے فلسفی کو سخت متاثر کیا اور وہ ہے اللہ کو اللہ کے ذریعے پہچاننا۔ ایسی آیت سے ہدایت حاصل کرنے کے بعد ابن سینا نے برہان صدیقین کی بنیاد رکھی جسے بعد میں ملا صدرا نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

(ج) فلسفیانہ استدلال میں مغالطے کی طرف توجہ

دینی تعلیمات نے مسلمان فلاسفہ کو اس بات کی طرف توجہ دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے کہ ان کے استدلال میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی موجود ہے لہٰذا انھیں اپنے برہان و استدلال کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض عقائد اتنی وضاحت کے ساتھ قرآن میں بیان کیے گئے ہیں کہ جن کے خلاف استدلال پیش کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، دوسری طرف ایک فلسفی ہونے کی حیثیت سے ایک مسلمان فلسفی دلیل و برہان کا راستہ بھی نہیں چھوڑ سکتا لہٰذا اب اگر وہ کسی دینی حکم کو قطعی اور ناقابل تاویل سمجھتا ہے تو وہ اس نتیجے پر بھی پہنچ جاتا ہے کہ اس کی عقل و فکر غلطی اور اشتباہ سے محفوظ نہیں ہے اور وہ اپنی دلیل میں خطا کا مرتکب ہوسکتا ہے لہٰذا وہ ازسرنو اپنے استدلال کا جائزہ لیتا ہے۔ اسے پھر اس بات کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے مقدماتِ استدلال میں کسی نہ کسی جگہ کوئی غلطی موجود ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ملا صدرا سے پہلے کے فلاسفہ حدوثِ عالم کے مسئلے میں عالم کے قدیم ہونے کے قائل تھے لیکن اس کے بعض روایات سے متصادم ہونے کی وجہ سے پھر انھوں نے حدوثِ ذاتی اورحدوث دہری کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ روایات میں حدوثِ ذاتی اور حدوثِ دہری کی بات کی گئی ہے نہ کہ حدوثِ زمانی کی لیکن ملا صدرا نے اپنے نظریہ حرکت جوہری کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ دینی متون میں حدوثِ زمانی کی ہی بات کی گئی ہے نہ کہ حدوثِ ذاتی کی۔

پس جب ہم فلسفہ اسلامی کی ماہیت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ فلسفہ اسلامی نہ تو یونانی فلسفہ کا تسلسل ہے اور نہ ہی علم کلام ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان فلاسفہ یونانی فلسفہ کے محض تابع نہیں تھے بلکہ انھوں نے بہت سے مقامات پر یونانی فلسفے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ شائد فلسفہ اسلامی کی ماہیت کو بیان کرنے کے لیے اگر درمیان کا راستہ اختیار کیا جائے تو وہ زیادہ مناسب ہوگا یعنی نہ تو اسلامی فلسفہ محض یونانی فلسفے کے تابع ہے اور نہ ہی یہ علم کلام کی کوئی شکل ہے اور اپنی فلسفیانہ شناخت کھو چکا ہے بلکہ یہ فلسفہ اسلامی علاقوں میں دینی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھا ہے لیکن ان دینی موضوعات نے استدلال اور برہان کی نوعیت پر کوئی اثر نہیں ڈالا البتہ مسلمان حکماءکو نئے موضوعات اور استدلال کی نئی جہات سے ضرور متعارف کروایا ہے۔ اس لحاظ سے فلسفہ اسلامی کو فلسفہ اسلام نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ فلسفہ کئی صدیوں پر محیط مسلمان فلاسفہ کی کاوشوں کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

دوسری طرف مسیحیت میں جب ایمان کی بات کی جاتی ہے تو ساتھ ہی عقل کی نفی بھی کی جاتی ہے یا کم ازکم عقلی استدلال کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی لیکن اسلام ایسے کسی ایمان کوقبول نہیں کرتا جو علمی و عقلی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔ ہمارے ملک پاکستان میں اکثریت کی دین داری عوامی ہے۔ عقلی و منطقی بنیادوں پر استوار نہیں ہے اور جب دینداری کی بنیاد عقلی و منطقی نہ ہو تو بھی اسلامی احکام کی حکمت اور فلسفہ پر توجہ مرکوز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ عوامی دین داری میں جذبات اور احساسات کی حاکمیت ہوتی ہے اور ہر چیز کو جذباتی رنگ میں دیکھا جاتا ہے جس کے نہایت خطرناک نتائج اس معاشرے پرمرتب ہو رہے ہیں۔

قرآن و عقل

 قرآن ۶۰ سے زیادہ مقامات پر عقل و فکر، شعور و تدبر اور آگاہی و بصیرت کی بات کرتا ہے اور ایسا دنیا کی کسی اور مذہبی کتاب میں نہیں ملتا۔ کسی بھی مذہبی کتاب میں عقل و برہان پر اتنا زور نہیں دیا گیا جب کہ قرآن اپنے مخالفین کو واضح طور پر برہان لانے کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو دلیل و برہان پیش کرو(ھَاتُوا بُرھَانَکُم اِنکُنتُم صٰدِقِینَ ) قرآن کا اتنا زیادہ عقل و منطق اور غوروفکر پر زور دینے کاایک مطلب یہ سمجھانا بھی ہے کہ عقل استعمال کرنے کا وہاں پر ہی کہا جاتا ہے جب کوئی چیز نظر نہ آتی ہو اور اس کے ظاہر سے باطن کی طرف عقل کے ذریعے سفر کرنے کی ضرورت ہوتی ہو۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن ہمیں ظاہر سے اوپر اٹھ کر اور ظاہر پرستی کو چھوڑ کر گہرائیوں میں جا کر حقائق تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

 اسلام میں غوروفکر یعنی تفکر کو اہم ترین عبادت قرار دیا گیا ہے اور ایک حدیث کے مطابق ایک گھنٹے کا غوروفکر70برس کی عبادت سے افضل ہے۔ اس قسم کی بہت سی روایات کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی عبادت میں فکرومعرفت کا عنصر شامل کریں۔ صرف نماز، روزہ، حج جیسے احکام کو ظاہری طور پر انجام دینا اور ان کی روح سے بے خبر رہنے اور ان کی اصل حکمت پر توجہ نہ کرنے کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں اور ان نتائج کو پاکستان کے مسلمانوں میں عملی طور پر دیکھا بھی جاسکتا ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرتے ہیں یا بے گناہ اور معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں وہ آپ سے اور مجھ سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں لیکن صرف نمازیں پڑھنے سے ہر انسان ٹھیک نہیں ہوجاتا۔ قرآن میں بیان کردہ تمام احکام اسی وقت موثر ثابت ہوتے ہیں جب اس آگاہی و معرفت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ حتی خلوص کی منزل بھی اگرچہ ضروری ہے لیکن اخلاص کے ساتھ اگر فہم و شعور نہ ہو تو ایسی عبادات بھی منفی نتائج کی حامل ہو سکتی ہیں۔

 ماہ مبارک رمضان میں لوگوں کی تمام تر توجہ قرآن ختم کرنے میں ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کے ثواب میں کوئی کلام نہیں لیکن اس بات پر توجہ کوئی نہیں دیتا یا اس بات پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ قرآن کو سمجھ بھی لیا جائے۔ اس کے اخلاقی پیغامات کو سمجھنے کے بعد اپنی زندگی میں انھیں عملی طور پرنافذ بھی کیا جائے۔

 جب قرآن یہ کہتا ہے:

 الَّذِی خَلَقَ المَوتَ وَالحَیٰوةَ لِیَبلُوَکُم اَیُّکُم اَحسَنُ عَمَلًا(سورة الملک:۲)

وہ ذات وہ ہے جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کس کا عمل زیادہ خوبصورت ہے۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن عمل کی کیفیت پر زور دیتا ہے کمیت پر نہیں۔

اس آیت میں واضح طور پر کہا جارہا ہے کہ تمھارے عمل کی کیفیت اچھی ہونا چاہیے مقدار نہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ کیفیت کا تعلق غوروفکر اور آگاہی و معرفت کے ساتھ عبادت کرنے سے ہے۔

 قرآن میں ایسی بہت سی آیات ہیںجن میں عقل و استدلال پر زور دیا گیا ہے۔

سورة فرقان میں اللہ تعالیٰ عبادالرحمن کی صفات بیان کرتا ہے یعنی اللہ کے حقیقی بندوں کی صفات کیا ہونا چاہئیں۔ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 وَالَّذِینَ اِذَا ذُکِّرُوا بِاٰیٰتِ رَبِّہِم لَم یَخِرُّوا عَلَیہَا صُمًّا وَّعُمیَانًا(فرقان:۷۳)

اس آیت میں کہا جارہا ہے کہ اللہ کے بندے وہ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے قرآن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے یا انھیں آیات الٰہی کی یاد ہانی کروائی جاتی ہے تو وہ ان کے سامنے اندھے اور بہرے بن کر سجدہ ریز نہیں ہوجاتے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ قرآنی آیات کو صرف مقدس سمجھ کر چومنے کا عمل انجام نہ دو بلکہ ان پر غوروفکر کرو ہم نے ان میں بڑے گہرے پیغامات رکھے ہیں جو تمھاری زندگیوں کو تبدیل کرسکتے ہیں۔

 اللہ تعالیٰ سورة زمر کی آیت نمبر۱۸  میں نہایت اہم پیغام دیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

 الَّذِینَ یَستَمِعُونَ القَولَ فَیَتَّبِعُونَ اَحسَنَہ(زمر:۱۸)

یعنی اس آیت میں عقل کی تعریف بھی بیان کردی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صاحب ایمان وہ ہوتا ہے کہ جو ہر ایک کی بات کو غور سے سنتا ہے اور اس میں سے بہترین کو اپنے لیے انتخاب کرتا ہے۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنے اندر پہلے تواتنی صلاحیت پیدا کریں کہ اچھے کو برے سے تمیز دے سکیں۔گویا قرآن صرف علم کی بات نہیں کرتا بلکہ بصیرت و حکمت کی بات بھی کرتا ہے۔ انبیاءکے آنے کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:

 ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الاُمِّیِّنَ رَسُولًا مِّنہُم یَتلُوا عَلَیہِم اٰیٰتِہ وَیُزَکِّیہِم وَ یُعَلِّمُہُمُ الکِتٰبَ وَالحِکمَةَ(سورہ جمعہ:۲)

کہ انبیاءکو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ کتاب کی تعلیم دیں اور حکمت بھی سکھائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی ہمارے پاس علم تو ہو سکتا ہے، معلومات کا ذخیرہ تو ہو سکتا ہے، یونیورسٹی کی ڈگریاں تو ہو سکتی ہیں لیکن حق و باطل کی تمیز دینے کی ممکن ہے ہمارے اندر صلاحیت موجود نہ ہو۔ پس قرآن صرف علم کی بات نہیں کرتا بلکہ بصیرت و حکمت کی بات بھی کرتا ہے۔ اور ایک مقام پر قرآن کہتا ہے:

 اِن تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجعَل لَّکُم فُرقَانًا (انفال:۲۹)

یعنی اگر تم تقوی اختیار کرو گے تو اللہ تمھیں اس کے نتیجے میں فرقان عطاکرے گا جس کا مطلب ہے صحیح و غلط کو اور حق و باطل کو ایک دوسرے سے تمیز دینے کی صلاحیت۔

 سورة زخرف کی آیت نمبر۸۰  میں اہل جہنم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ قیامت کے روز کہیں گے کاش ہم نے دنیا میں سن لیا ہوتا یا غور کر لیا ہوتا تو آج ہم جہنم کی آگ میں نہ جلتے۔ گویا قیامت کے دن انسان کو اس بات پر افسوس ہوگا کہ اس نے اپنی عقل کو استعمال کیوں نہیں کیا۔ باوجود اس کے کہ انسان اس دنیا میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا، اس نے ایسا کرنے میں غفلت سے کام لیا۔ اسی لیے قرآن خود عقل کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے عقل کو استعمال کرنے پر زور دیتا ہے کیونکہ عقل کا ہونا ایک چیز ہے اور عقل کو صحیح سمت میں استعمال کرنا ایک الگ بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علیؑ نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں انبیاءکے آنے کا ایک فلسفہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ انسانوں کی دفن ہوجانے والی عقلوں کو باہر نکالتے ہیں۔ یعنی انبیاءکے آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو عقل استعمال کرنا سکھائیں جو انسان کو الہٰی رخ کی طرف لے جاسکے اور اس میں تزکیہ و تہذیب کا باعث بن سکے۔

 قرآن صرف عقل و منطق اور غوروفکر کرنے کی بات نہیں کرتا بلکہ قرآن شدت کے ساتھ ان رکاوٹوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے جو انسان کی عقل کومفلوج کر دیتی ہیں۔ قرآن بہت وضاحت کے ساتھ کہتا ہے کہ آباﺅ اجداد کی اندھی تقلید، نفس کی خواہشات اور فطرت کی آوازنہ سننے سے انسان کی عقل شکست سے دوچار ہو جاتی ہے۔ قرآن بہت خوبصورت انداز میں یہ بھی بتاتا ہے کہ کبھی اخلاقی بے راہ روی اور اخلاقی برائیاں انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور اسے عمل سے دور کر دیتی ہیں۔ انسان کے اندر ظلم و ستم کی عادت، تکبر و غرور اور طمع وحسد جیسی اخلاقی برائیاں عقل کی راہ میں نہایت اہم رکاوٹیں ہیں ۔ قرآن عقل کے مقابلے میں ظن و گمان کی مذمت کرتا ہے اور جہاں دلیل و برہان کی حمایت کرتا ہے وہاں ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ے جو ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ہماری انفرادی،اجتماعی اورخاندانی زندگی میں اس کا بہت عمل دخل ہے، ہم بہت سے مقامات پر ظن و گمان کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھتے ہیں جن کے بہت خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں خاندانوں کے خاندان صرف اس لیے اجڑ جاتے ہیں کہ وہاں علم کے بجائے وہم و گمان کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں ایک اہم آیت ہے:

 وَ لَا تَقفُ مَا لَیسَ لَکَ بِہ عِلم(اسرائ:۳۶)

یعنی اس چیز کی پیروی مت کرو جس کا تمھیں علم نہیں ہے۔

گویا علم و یقین کی منزل پر پہنچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ پیغمبر اسلام کے دور میں جو لوگ قیامت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارے لیے صرف یہی دنیا ہے، اسی میں ہم نے مرنا ہے، اسی میں جینا ہے، ان لوگوں کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ ان کے پاس اپنی بات کے ثبوت میں کوئی علمی ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ اپنے وہم و گمان کی بنیاد پر ایسی بات کرتے ہیں۔

 اِن ہُم اِلَّا یَظُنُّونَ (جاثیہ:۲۴)

 ایک اور آیت میں قرآن انبیاءکے آنے کا ایک مقصد یہ بھی بیان کرتا ہے کہ لوگوں کے پاس روز قیامت حیل و حجت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور کل کو وہ یہ استدلال پیش نہ کرسکیں کہ ہماری تو کوئی رہنمائی کرنے والاموجود ہی نہیں تھا۔

 رُسُلًا مُّبَشِّرِینَ وَ مُنذِرِینَ لِئَلَّا یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّة بَعدَ الرُّسُلِ(نساء:۱۶۵)

رسول کہ جو بشارت دینے والے اور متنبہ کرنے والے تھے تاکہ انسانوں کے پاس رسولوں کے آنے کے بعد کوئی حجت باقی نہ رہے۔

 اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ عقل و حجت کو کتنی اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے اور کسی شخص کو اس وقت تک سزا نہیں دے گا جب تک اس پر حجت تمام نہ ہو جائے۔

قرآن عقل و منطق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اکثریت کی پیروی کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ قرآن یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر انسان عقل و فکر کے ساتھ اور حقیقی علمی و منطقی معیارات کو مدنظر رکھے تو ضروری نہیں کہ ہر جگہ اکثریت ہی حق پر ہو اور اکثریت ہی کو صحیح سمجھا جائے بلکہ اصل حق کسی چیز کا عقلی و منطقی تقاضوں پر پورا اترنا ہے۔ اگر کسی کے پاس ٹھوس دلیل ہے اگرچہ وہ اقلیت میں ہی کیوں نہ ہو اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔ قرآن کہتا ہے:

 اِن تُطِع اَکثَرَ مَن فِی الاَرضِ یُضِلُّوکَ عَن سَبِیلِ اللّٰہِ(انعام:۱۱۶)

اے رسول اگر تم اکثریت کی پیروی کرو گے تو یہ تمھیں اللہ کے راستے سے گمراہ کردے گی۔

قرآن و فلسفی استدلال

یہ بات درست نہیں کہ قرآن کا فلسفی استدلال سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن بعض مقامات پر بڑے گہرے فلسفی دلائل کا سہارا لیتا ہے اور بعض جگہ ایسے موضوعات پیش کرتا ہے جن کی تشریح صرف فلسفہ کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں قرآن کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے فلسفہ کو صرف مادہ اور مادی اشیاءسے مشروط نہیں کیا اور اس فلسفہ کی شدت سے نفی کی ہے جسے صرف مادہ کے ارتقا کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ قرآن نے ماورائے طبیعت حقائق کو عقلی بنیادوں پر دیکھا ہے اور اپنے پڑھنے والے کو مادی دنیا کے افق سے اوپر لے جا کر اس کو ماورائے طبیعت حقائق سے بھی روشناس کروایا ہے۔

قرآن جب کہتا ہے:

 لَو کَانَ فِیھِمَآ اٰلِہَة اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا(انبیاء:۲۲)

اگر کائنات میں دو خدا ہوتے تو یہ کائنات تباہ ہو جاتی، تو قرآن کی یہ آیت انتہائی گہرے فلسفی استدلال پر مبنی ہے۔ عقلی استدلال کے بغیر اس بات کو سمجھنا ممکن نہیں ہے کہ دو خداﺅں کی صورت میں کائنات میں فساد کیسے لازم آسکتا ہے، اسی لیے کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دونوں خدا آپس میں دوست بھی تو ہو سکتے ہیں اور مل کر ہم آہنگی کے ساتھ بھی تو اس کائنات کو خلق کر سکتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہم آپس کی ہم آہنگی کے ساتھ کوئی بھی کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ بہرحال اس وقت میں اصل فلسفی استدلال کو بیان نہیں کرنا چاہتا لیکن برہان تمانع کے نام سے معروف خالص فلسفی دلیل کے ذریعے ہی اس آیت کی تشریح کی گئی ہے۔

 قرآن ایک مقام پر اثبات وجود باری تعالیٰ کے سلسلے میں برہان فطرت کی طرف اشارہ کرتا ہے، قرآن کہتاہے:

 فَاِذَا رَکِبُوا فِی الفُلکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخلِصِینَ لَہُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجّٰھُم اِلَی البَرِّ اِذَا ھُم یُشرِکُونَ(عنکبوت:۶۵)

جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں (اور ہر طرف طوفان میں گھر جاتے ہیں) تو نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارتے ہیں لیکن جب ہم ان کی مدد کرتے ہیں اور انھیں خشکی تک پہنچا دیتے ہیں تو یہ پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس آیت میں برہان فطرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اب دنیا کی کوئی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی اور وہ تمام دنیوی اسباب سے مایوس ہو جاتا ہے تو اس کی فطرت پکار پکار کر اسے کہتی ہے کہ اس کائنات میں کوئی ایسی طاقت ضرور ہے جو اسے بچا سکتی ہے۔ فطرت کا یہ راستہ بڑی گہری فلسفیانہ بنیادوں پر استوار ہے جس کی تفصیل تو یہاں بیان نہیں کی جاسکتی لیکن اشارةً یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جب انسان میں کسی چیز کی حقیقی طلب پیدا ہوتی ہے تو اس کے مطلوب کا خارجی دنیا میں ہونا بھی ضروری ہے۔ مثلاً انسان کو پیاس لگتی ہے جو انسان کی ایک حقیقی طلب ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کائنات کے بنانے والے اور انسان کو خلق کرنے والے نے اس حقیقی طلب کو تو رکھا ہو لیکن اس کا تقاضا پورا نہ کیا ہو اور پانی پیدا نہ کیا ہو۔ اسی طرح بھوک کا مسئلہ بھی ہے۔ پھر جب انسان مشکلات میں گھرتا ہے اور اس کو مدد کے لیے کوئی دنیوی سہارا ن ہیں ملتا تو وہ ایک قدرت مطلقہ کے وجود کا احساس کرتا ہے اور اگر یہ حقیقی طلب ہے تو اس قدرت مطلقہ کا خارج میں ہونا بھی ضروری ہے۔ اس دلیل کے کچھ عقلی مقدمات ہیں جن کے بغیر یہ برہان مکمل نہیں ہو سکتا تاہم یہاں پر صرف اسی نکتے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ قرآن کس طرح گہری فلسفیانہ بنیادوں کو اہمیت دیتا ہے۔

عالم آخرت کے وجود پر قرآن عقلی استدلال پیش کرتا ہے قرآن قیامت کے وجود پربہت سے عقلی دلائل پیش کرتا ہے۔ مثلاً قرآن کہتا ہے کہ انسان اپنے تجربے اوردل کی گہرائیوں سے اس بات کا احساس کرتا ہے کہ اس دنیا میں نہ تو کسی کو اس کی نیکی کا مکمل اجر دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی ظالم کو اس کے ظلم کی مکمل سزا دی جاسکتی ہے۔ پس ایک ایسے جہان کا ہونا ضروری ہے جہاں ظالم کو اس کے ظلم کا اور نیک انسان کو اس کی نیکی کا مکمل اجر مل سکے۔ اسی طرح قرآن نظام عدل کے ذریعے یوم آخرت کے وجود پراستدلال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جب اللہ نے انسان کے وجود کے اندر ایک عدالتی نظام رکھا ہے جس کے تحت انسان خود ہی اپنے لیے جج ہوتا ہے خود ہی مجرم ہوتا ہے اور خود ہی اپنے خلاف فیصلہ سناتا ہے جو دراصل قرآن کے نزدیک نفس کے اس مرتبے کی طرف بھی اشارہ ہے جو انسان کو اس کے برے کام پر ملامت کرتا ہے۔ اس کو نفس لوامہ یا ضمیر و وجدان سے تعبیر کیا جاتا ہے تو پھر اس پوری کائنات کے لیے ایک نظام عدل ہونا چاہیے جہاں تمام خلق خدا کا حساب لیا جائے۔ بہرحال اس دلیل کا فلسفہ سے کیا تعلق ہے اور اسے کس طرح عقلی استدلال کہا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے مزید علمی بحث کی ضرورت ہے جو یہاں پر مقصود نہیں ہے۔

 قرآن کے مطابق حضرت ابراہیم ؑنے جب یہ کہا کہ میں ایسے چاند، سورج، ستارے کی پرستش نہیں کرتا جو غروب ہونے والا ہو تو دراصل حضرت ابراہیم ؑنے برہان حرکت اور برہان محبت کا سہارا لیا۔

گویا حضرت ابراہیم کہنا چاہتے ہیں محبت اس سے کی جاتی ہے جس سے انسان کو فائدہ پہنچتا ہو اور اس کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہو لیکن جو چیز غروب ہونے والی ہے، جو چیز زوال کا شکار ہونے والی ہے وہ کامل نہیں ہوسکتی۔ وہ ہمیشہ فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اسی طرح جہاں حرکت ہوتی ہے وہاں تغیر ہوتا ہے اور تغیر نقص کی علامت ہے۔

عقلی روش کے فوائد

 عقل و منطق اور غوروفکر کے ساتھ زندگی گزارنے بہت اہم فوائد ہیں۔ پہلے تو انسان کو دلیل اور استدلال سے محبت ہوجاتی ہے اور وہ شخصیات کی پرستش سے نکل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگ جذباتی وابستگی کی وجہ سے ایسے افراد سے عشق کی حد تک محبت کرنے لگ جاتے ہیں جن کی بات میں عقلی و منطقی لحاظ سے کوئی وزن نہیں ہوتا۔

اسی طرح عقل و منطق کے نتیجے میں انسان حق کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے اور حق کی جستجو اس کی زندگی کا حقیقی مقصد بن جاتی ہے۔ ہم اگر غور کریں تو ہم میں سے اکثریت کو حق تک پہنچنے میں دلچسپی کم اور اپنے گروہوں، گروپوں اور فرقوں کی حمایت کا شوق زیادہ ہوتاہے۔

 عقلی و منطقی استدلال اور غوروفکر کرنے سے انسان چیزوں کے حقیقی علل و اسباب کی طرف متوجہ ہونے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ حقیقی علل و اسباب تک رسائی انسان کو بہت سی مشکلات اور پریشانیوں سے نجات دلا دیتی ہے۔ جب انسان اصل علت تک پہنچ جاتا ہے تو وہ اپنے غم واندوہ اور ذہنی دباﺅ کو بھی کنٹرول کرلیتا ہے۔

 عقل و منطق کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ انسان مخالف عقیدہ کو برداشت کرنے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہ بہت بڑی مشکل ہے کہ ہم کسی بھی ایسی رائے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ہماری رائے سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ ملک میں اگر ایک دوسرے کے خلاف ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی فضا ہے، اگر فرقہ واریت نظر آتی ہے، اگر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم خود کو حقِ مطلق سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے ہی خول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ حق صرف ہمارے پاس ہے لیکن صاحبان عقل و خرد کبھی خود کو حق مطلق نہیں سمجھتے بلکہ وہ حق و حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت کی وجہ سے جہاں کہیں بھی حق اور حقیقت کی بات نظر آتی ہے اس کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ وہ اس چیز کو بھی چھوڑ دیتے ہیں جسے وہ آج تک حق سمجھتے رہے ہیں اور بعد میں ان پر ثابت ہو گیا کہ ان کی سوچ یا ان کا نظریہ غلط تھا۔ کبھی کبھی ہم اپنی فکر کے عادی ہو جاتے ہیں جس طرح کوئی نشہ کاعادی ہو جاتاہے کوئی چائے کا عادی ہو جاتا ہے، اسی طرح کبھی ہم اپنی سوچ کے عادی ہو جاتے ہیں اور ہم اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

 غوروفکر کی وجہ سے انسان اپنی خامیوں کی طرف بھی متوجہ ہوجاتا ہے۔ ہم ہمیشہ دوسروں کی کمزوریاں اور خامیاں تو تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن اپنی خامیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ غوروفکر کرنے سے انسان اپنے عیوب کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جب انسان کو اپنی بیماری کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے علاج کی بھی فکر کرتا ہے۔

ہماری ذمہ داریاں اجتماعی بھی ہیں

 قرآن کی رو سے ہماری صرف انفرادی ذمہ داریاں نہیں ہیں بلکہ من حیث القوم بھی ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ قرآن کی رو سے قیامت کے دن ایک نامہ اعمال انفرادی حیثیت میں دیا جائے گا اور ایک اجتماعی اور قومی حیثیت میں، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ من حیث القوم دنیا میں عقلی،فکری، ثقافتی اوراجتماعی لحاظ سے ہمارا کیا مقام ہے۔ جو لوگ باہر کی دنیا سے واقف ہیں وہ بخوبی اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم دنیا کی نظروں میں کیا مقام رکھتے ہیں اور دنیا کو کیا تاثر دے رہے ہیں۔ ایک سول سوسائٹی کے طور پر خود کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے کے لیے ہمیں کتنا طویل فاصلہ طے کرنے کی ضرورت ہے۔