دل کی حقیقت قرآن کی نظر میں

دل کی حقیقت ۔۔۔قرآن کی نظر میں

ثاقب اکبر

ارشاد رب العزت ہے:

وَ اللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْءِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ

اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے شکموں سے نکالا تو تم کچھ نہ جانتے تھے البتہ اس نے تمھیں سماعت ،آنکھیں اوردل عطا کیے کہ شاید تم شکر گزار ہوجاؤ۔(۱)

 

قرآن شریف میں دل کا مفہوم بیان کرنے کے لئے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں ایک یہی (اَفْءِدَۃَ) جومذکورہ بالا آیت میں آیاہے اوردوسرا لفظ ’’قلب‘‘جس سے اردو بولنے والے بھی مانوس ہیں۔

اس سلسلے میں سورہ حج کی یہ آیت ملاحظہ کیجیے:

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ

کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان کے دل ہوتے جن سے وہ عقل کا کام لیتے یا کان ہوتے جن سے وہ سنتے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ ان کی ) آنکھیں نابینا نہیں ہیں بلکہ (ان کے)وہ دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں۔(۲)

اس میں آپ نے مشاہدہ کیا کہ لفظ ’’قلوب ‘‘آیا ہے جو ’’قلب‘‘کی جمع ہے۔ قرآن حکیم کی بہت سی آیات میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ مذکورہ بالا آیات میں یہ لفظ دومرتبہ آیا ہے۔ آیت کے معنی پر ذراغورکریں تو آپ پراس لفظ کا قرآنی مفہوم آشکار ہوتا چلا جائے گا۔ قرآن شریف کی نظر میں’’دل ‘‘کی حقیقت کیا ہے،قرآنی آیتوں پر غور سے یہ بات آپ پر کھلے گی۔ یہاں فرمایا گیا کہ کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان کے پاس دل ہوں جن کے ذریعے وہ تعقل کرسکیں۔ جن سے غوروفکر کا کام لے سکیں یا کان ہوں کہ جن سے وہ سن سکیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ دراصل ان کی آنکھیں اندھی نہیں بلکہ دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈاکٹروں نے انسانی بدن میں جس دل سے ہمیں متعارف کروایا ہے بظاہر وہ اور ہے اور قرآن جس دل کا ذکر کررہا ہے وہ اور ہے۔ ڈاکٹروں نے دل کو خون کے لئے پمپنگ مشین (Pumping machine)کا نام دیاہے۔ ابھی جو پہلی آیت آپ کی خدمت میں پیش کی گئی اس کے مطابق انسان اپنی ماں کے شکم سے نکلتا ہے تو کچھ بھی نہیں جانتا ہوتا۔ْ لا تعلمون شیئا یعنی: تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔

لیکن پھر یہ وجود ’’جاننے والا ‘‘کیسے ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے فرمایا: تمھیں کان دیے ،شنوائی عطا کی۔ کونسی قوت شنوائی؟ کان تو گدھے کے بھی ہوتے ہیں ،گھوڑے کے بھی ہوتے ہیں ۔کوچوان خاص طرح سے آواز نکال کر گھوڑے کومتوجہ کرلیتا ہے۔

یہ بھی فرمایا کہ تمھیں آنکھیں دیں لیکن آنکھیں توکتے اور سور کی بھی ہوتی ہیں ۔جیسے ہمارے ماتھے کے نیچے کی آنکھوں کونظرآتا ہے ،حیوانوں کو بھی عموماً دکھائی دیتا ہے۔ پھر انسان کی کس سماعت و بصارت کا ذکر کیا جارہاہے؟ اس سوال کا جواب اگلے مراحل میں آرہا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ انسان کو دل بھی عطا کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ دیا گیا کہ شاید تم شکر گزا رہوجاؤ، لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔شروع میں جب شکم مادر سے انسان نکلا تو ’’ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا‘‘کا مخاطب قرار پایا ۔گویا کان اور آنکھیں اور دل انسان کی نادانی کو دانائی میں بدلنے کا وسیلہ ہیں اور دانائی انسان کوشکرگزار بنانے کا ذریعہ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان ظاہراً علم تو لے کر نہیں آتا، ماں کے پیٹ سے بے علم رونق افروز جہاں ہوتا ہے لیکن علم کے ذرائع ہمراہ لاتا ہے۔ وسائل شناخت سے لیس ہوکر آتا ہے۔ معرفت کے ذرائع ہمراہ لے کر واردمیدان ہوتا ہے۔ علم کے ذرائع ،صلاحیتیں اوراستعداد اپنے پروردگار کی طرف سے لے کر آتا ہے۔ اب اگر ان صلاحیتوں کو بروئے کار لائے تو شکر گزار بن سکتا ہے۔

اس آیت کے حوالے سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سماعت ،بصارت اوردل کا ذکر تو اس میں آیا ہے لیکن زبان کاذکر نہیں آیا۔ اسی طرح لمس کرنے اور چھونے سے بھی انسانی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، اس کابھی ذکر نہیں آیا۔ یعنی حواس خمسہ میں صرف دو کاذکر آیا ہے اور پھر دل کا تذکرہ ہے ۔اس سلسلے میں بہت سے نکات بیان کیے جاسکتے ہیں۔ ہم یہاں جوزیادہ اہم معلوم ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔

ایک امر تو قابل ذکر یہ ہے کہ سماعت و بصارت کے ذریعے حصول علم کی طرف اشارہ کرکے اصولاً محسوسات کو سرچشمہ علم کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے بلکہ علم ومعروفت کوپہلے مرحلے میں محسوسات کا رہین منت تسلیم کر لیا گیا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ محسوسات کا بنیادی سرچشمہ سماعت وبصارت ہی ہیں ۔گویائی،چھونا اورچکھنا وغیرہ کے مرحلے اصولاً سماعت و بصارت کے مرحلے سے گزر کر ہی آتے ہیں۔آنکھیں جتنا دیکھتی ہیں،جتنی کائنات مشاہدہ کرتی ہیں اس کے مقابلے میں زبان کا چکھنا ،ہاتھ کا چھونا اورناک کا سونگھنا انتہائی محدود ہے۔ آواز جتنی دور سے سنائی دیتی ہے ناک اس فاصلے سے سونگھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔بہرحال ہر دو حوالے سے سماعت اور بصارت کے ذکر کو ہم من باب مثال یا اہم ترکاذکر سمجھ سکتے ہیں۔

حواس سے حاصل کردہ معلومات انسان کے اندر سٹور(Store)ہوتی رہتی ہیں۔ یہ ذخیرہ خاص ترکیب وتجزیہ کے عمل سے گزرتا رہتاہے۔ یہ عمل انسان کا دماغ سرانجام دیتا ہے۔ گویا خام مواد (Raw material)خاص شکل میں Developeہوتا رہتاہے۔ اس کے بعد معلومات کے دل نشین ہونے کا مرحلہ آتاہے۔ معلومات کی بنیاد پر محسوسات سے حاصل کردہ خام مواد سے ذہن، اصول بناتا رہتاہے۔یہی معلومات اور اصول انسانی حرکت کے لئے بنیادبنتے ہیں۔ ان مراحل سے گزر کرانسان قدم اٹھانے کے قابل ہوتا ہے۔اس آیت میں اور بھی پہلو قابل غور ہیں لیکن ہم اپنے موضوع کے حوالے سے چند اور آیات قرآنی کا بھی جائزہ لیتے ہیں تاکہ واضح ہوکہ دل کا کردار قرآن کی نظر میں کیا ہے۔

سورہ نور کی ایک آیت ملاحظہ کیجیئے:

رِجَالٌ لاَّ تُلْہِیہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِِیْتَآءِ الزَّکٰوۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ

ایسے مرد ہیں کہ جنھیں تجارت اور لین دین اللہ کے ذکر ،قیامِ نماز اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتا۔ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں تلپٹ ہوجائیں گے۔(۳)

بادی النظر میں اس آیت میں انہی مادی دلوں اورآنکھوں کاذکرکیا گیاہے۔ تاہم گہراغوروفکرکیاجائے تو ان الفاظ کی معنوی حیثیت آشکار ہوجاتی ہے۔ قیامت کا دن نیتوں اورروحانی ملکات کے ظہور وبروز کا دن ہے۔ دلوں اور آنکھوں کے الٹ پلٹ ہوجانے کا مفہوم اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اب ایک اور آیت ملاحظہ کیجیے:

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ۔۔۔

بادیہ نشین کہتے ہیں:ہم ایمان لے آئے ہیں۔ کہیے:تم ایمان نہیں لائے ہو البتہ کہو: ہم نے سرتسلیم خم کر لیا ہے جبکہ ایمان ابھی تک تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔(۴)

ایمان کا تعلق دل سے بیان کیاگیاہے،دماغ سے نہیں۔ ایمان کا تعلق فقط عقلی مرحلے تک نہیں۔ ایمان کا جہاں بھی تعلق دکھائی دے گا دل سے دکھائی دے گا۔ سرجھک جانااورسرتسلیم خم کر لینا ایمان لانے سے مختلف ہے۔حالات کے جبر اورظاہری ووقتی مفادات کے پیش نظر ہوسکتاہے انسان کسی چیز کو قبول کر لے لیکن یہ ایمانی کیفیت نہیں ہوتی۔ ایمان تو وفور شوق سے پوری قلبی کیفیات کے ساتھ قبول کرلینے کا نام ہے۔

یہاں میں آپ کو آیات وحی کی طرف بھی متوجہ کرناچاہوں گا۔ وہ آیات جن میں نزول وحی کا ذکرہے،بتاتی ہیں کہ وحی کا تعلق بھی سینے اور دل سے ہے، وہ بھی ذہن پر نہیں اترتی۔ اس کے نزول کا محل قرآن نے ذات نبی،قلب نبی یا صدر نبی کوقرار دیاہے۔کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی بات پر دوسرے کے دلائل کے سامنے عاجز آجاتا ہے لیکن دل نہیں مانتا،دوسرے کی بات دل میں نہیں اترتی لہٰذا اندر کے انسان میں تبدیلی نہیں آتی۔ جولوگ ہیروئن کانشہ کرتے ہیں شاید آپ کوان کا تجربہ ہو۔ ہیروئن کے خلاف آپ انہیں دلائل دیں۔ آپ کے دلائل کی درستی کو وہ تسلیم کرلیں گے لیکن اکثرنشہ نہیں چھوڑیں گے۔ کیاکریں،دل نہیں مانتا؟ یہ دل کا مسئلہ بڑا اہم ہے۔

بقول غالب:

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد

پر طبیعت ادھر نہیں آئی

عقل تو مان لیتی ہے ،انسان جان تو لیتا ہے لیکن بسادل نہیں مانتا، طبیعت ادھرنہیں آتی۔اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل پر اتارا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جیسے یہ پیغام محمدؐ کے دل پر اترا ہے،ہمارے بھی دل پراترے ۔

آپ سوال کر سکتے ہیں اور آپ کو حق ہے کہ سوال کریں کہ قرآن حکیم نے پھر عقل پر اتنا زور کیوں دیا ہے۔ قرآن کریم کی پے درپے آیات عقل انسانی کو بالواسطہ اور بلاواسطہ خطاب کرتی ہیں پھر یہاں پر عقل کو پیچھے کیوں ہٹایا جارہاہے۔ بقول اقبال:

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دیں

اسی طرح عقل وعشق کے معاملات میں شعراء نے ہمیشہ عقل کی مذمت کیوں کی ہے جبکہ قرآن مجید نے عقل کو بہت اہمیت دی ہے۔ عام شعراء ہی نے نہیں صوفیاء اورعرفاء نے ہمیشہ عقل کی مذمت ہے اہل دل ہمیشہ عقل کی مذمت کیوں کرتے ہیں؟ اقبال کہتے ہیں:

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

کیا قرآن کسی اور عقل کی تائید کرتا ہے اور عرفاء کسی اورعقل کی مذمت کرتے ہیں؟زیرنظرپہلی آیت میں بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ ہم نے تمھیں سماعت ،بصارت اور عقل عطا کی ہے بلکہ سماعت وبصارت کے ساتھ دل عطا کیے جانے کا تذکرہ ہے۔ہم اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم نے ابھی جن آیات کا ذکر کیا ہے ان کے مطابق بعض لوگوں کے بارے میں فرمایا گیاہے کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں بلکہ یہ دل کے اندھے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ بصارت سے نہیں بلکہ بصیرت سے محروم ہیں۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے :ِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَاریعنی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گے۔ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ کیااطمینان وخوف ،الفت ونفرت جیسے احساسات اورکیفیات کا تعلق ہمارے اس دل سے ہوتا ہے جو ہمارے سینے کے اندر ہے یا نہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہوتاہے۔ آپ اکثر کہتے ہوں گے یا سنتے ہوں گے کہ’’میرا دل دھک دھک کررہاہے‘‘ یا ’’میرا دل ڈوب رہاہے‘‘یا ’’دل اچھل رہا ہے‘‘یا ’’دل حلق سے باہر آرہا ہے‘‘۔

یہ سب درست ہے ایسا ہی ہوتا ہے۔مختلف کیفیات اسی دل پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہیں۔کہنے کو تو یہ ایک پمپنگ مشین ہے لیکن انسانی جذبات وکیفیات سے لاتعلق اپنے کام میں مشغول نہیں ہے،اس پر ان چیزوں کابلاواسطہ اثر ہوتا ہے ۔

بعض اوقات بری خبر کسی تک پہنچانے کے لئے بہت احتیاط کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں اسے یہ خبر نہ پہچانا وگرنہ اس کاہارٹ فیل ہوجائے گا۔ اس ظاہری اورمادی دل کے ساتھ بہت سی معنوی اور روحانی حقیقتیں وابستہ ہیں۔ یہ مستقیما انسان شناسی کاموضوع ہے معرفت الانسان کے علم سے اس کا تعلق ہے۔ دل کا انسانی بدن اورروح سے تعلق اسی کے ضمن میں لائق مطالعہ ہے۔ انسان کی اصل اس کی روح ہی ہے لیکن اس روح کی نشوونما اس بدن انسانی کے بغیر میسر نہیں۔یہ مسئلہ پودے اور زمین کے باہمی تعلق سے ظریف تر ہے۔

دل کا بہت بڑا کردار قرآن حکیم نے بیان کیا ہے۔ قرآن کے نزدیک دل سنتے بھی ہیں بہرے بھی ہوتے ہیں ،دیکھتے بھی ہیں ، نابینا بھی ہوتے ہیں، تدبر بھی کرتے ہیں ،الفت بھی کرتے ہیں اور نفرت بھی کرتے ہیں۔ارشاد ہوتا ہے ۔

وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہ اِخْوَانًا

اللہ کی اپنے اوپر اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں الفت پیداکردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے ۔(۵)

پہلے جن کے دلوں میں باہم عداوت تھی اب بعثت نبوی کے صدقے میں وہ آپس جڑ گئے۔ قریب ہوگئے اور اب ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے الفت پیدا ہوگئی۔

اسی طرح دل نرم بھی ہوتے ہیں اورسخت بھی ،موم بھی اور پتھر بھی، آپ’’ سنگ دل‘‘تو روز سنتے ہیں۔

شعراء کے ’’پتھر کے صنم‘‘کا ذکر تو آپ نے بہت سناہوگا۔قرآن حکیم نے بھی سنگدلوں کا ذکر کیا ہے:

فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً

پس ان کی عہد شکنیوں کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیے۔(۶)

انھوں نے نافرمانی کی، اللہ سے باندھا گیا عہد توڑ دیا تو اس وجہ سے اللہ نے ان پرلعنت کی اوران کی دلوں کو بہت سخت بنادیا۔ یہ بھی فرمایا:

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ

پھراس کے بعد تمھارے دل بہت سخت ہوگئے، اتنے کہ یہ پتھروں جیسے ہوگئے۔(۷)

ایسے ہی نرم دلی کاذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے بارے میں فرماتا ہے:

لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ

تمھارے پاس خود تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے،جسے تمھارا رنج میں پڑنا بہت ناگوار گزرتاہے۔ تمھاری بھلائی اسے بہت پسند ہے اوروہ مومنوں کے لئے نہایت شفیق اورمہربان ہے۔(۸)

اگرچہ آیت میں قلب کالفظ نہیں آیا لیکن یہ سب پر آشکار ہے کہ رافت ورحمت کے جذبات کا تعلق دل سے ہے۔ ایک اور آیت ملاحظہ کیجیے جس میں خود رسول پاکؐ کومخاطب قرار دیا گیا ہے:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ

پس یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان کے لئے نرم دل واقع ہوئے ہواگر تم تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے گرد سے منتشر ہوگئے ہوتے۔(۹)

حضرت ابراہیم کے حوالے سے اطمینان قلب کاذکر قرآن حکیم میں موجودہے۔ انھوں نے کہا: یا اللہ: تومُردوں کوکیسے زندہ کرتاہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا کیا تو ایمان نہیں رکھتا، تو وہ کہنے لگے ایمان تو رکھتا ہوں میں تواپنے دل کے اطمینان کے لیے پوچھ رہا ہوں:

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰھمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنْ لِّیَطْمَءِنَّ قَلْبِیْ(۱۰)

دل امتحان بھی دیتا ہے۔ قرآن شریف میں ہے: ہم نے ان کے دلوں کاامتحان لے لیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے :

اُوْلٰٓءِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی (۱۱)

یہ وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے تقویٰ کے اعتبار سے امتحان لے لیا ہے۔

دل مریض بھی ہوتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:

فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ

ان کے دلوں میں روگ ہے۔(۱۲)

ان آیات سے پھریہ ظاہر ہوتاہے کہ قرآن مجید میں مذکورہ دل کامفہوم دل کے طبی مفہوم سے کہیں وسیع تر ہے۔ البتہ میڈیکل سائنس جس کے ساتھ سائیکالوجی کاالحاق ہوگیا ہے، میں بہت پیش رفت ہوچکی ہے۔ انسانی شناخت کا علم ترقی کررہا ہے۔ شعوراور لاشعور پربہت عمدہ تحقیقات ہوئی ہیں۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ قرآن شریف کہیں گہرے مطالب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن دل کا باایمان اور بے ایمان ہونا بتاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بات سادہ سی نہیں ہے۔

اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ عقل اوردل میں کیا تفاوت ہے، کیا اختلاف ہے؟ ہماری رائے یہ ہے کہ ان میں اصولاً کوئی جھگڑا نہیں ہے۔دونوں کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان دونوں کا اپنا اپنا کردار ہے اوراپنا اپنا مرحلہ ہے۔ پہلا مرحلہ ہوتاہے کسی بات کا سمجھنا اور دوسرا مرحلہ ہے اس کادل نشین ہونا اور دل میں جاگزیں ہونا۔ بعض عرفاء جنھوں نے معرفت انسان کے حوالے سے غور وفکر کرکے عمدہ رازہائے فطرت سے پردہ اٹھایا ہے،انھوں نے انسان کے ڈھانچے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرانسان کا سب چیزوں سے اوپر ہے۔ یہ اس امر کی بھی علامت ہے کہ ہر دوسری چیز کو اس کے نیچے ہوناچاہیے۔ دماغ سب سے اوپر ہے لہٰذا دماغی عمل اورذہنی کام کا درجہ بھی سب سے پہلے ہے۔ انسان کے تمام کاموں کوپہلے عقل کے معیار پر رکھنے کی ضرورت ہے ۔وہ جبلی خواہشات جن کاتعلق بدن کے دیگر حصوں سے بنتا ہے انہیں اس سر اوردماغ کے ماتحت ہونا چاہیے ۔دل کودماغ کے نیچے رکھا گیا ہے۔ یہ انسانی جذبات کا سرچشمہ ہے۔ ہاں ان جذبات کو عقل کے ماتحت ہونا چاہیے۔انسان کا اپنا ڈھانچہ اس راہ و روش کومتعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔ زندگی کی عملی تشکیل بھی اس ڈھانچے کے مطابق ہونا چاہیے۔

انسان کی کیفیات گا ہے ایسی ہوتی ہیں کہ کام تو کررہاہوتا ہے لیکن بے دلی کے ساتھ،کبھی آپ نے کسی ضدی بچے کو اسکول جاتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ بعض کی اپنے دفتر آتے ہوئے بھی ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ اگرچہ ذہن کہتا ہے کہ دفتر جانا اہم ہے ،ضروری ہے لیکن دل نہیں چاہ رہا ہوتا۔ یہی ضدی بچے اسکول سے گھر آرہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ ان کا دل بھی شریک ہوتاہے۔ عقل کی باتیں جب دل نشین ہوجاتی ہیں تو انسان ان پرخوشی خوشی عمل کرتاہے ،ان کے لئے خوشی خوشی حرکت کرتاہے، یا پورے اطمینان سے قدم اٹھاتا ہے۔

البتہ اگر ایک بات دل میں ہے لیکن وہ سر سے ہوکرنہیں آئی، یعنی عقل نے اسے نہیں پرکھا ،فکر نے اسے نہیں جانچا اور وہ معیار عقل پر پوری نہیں اترتی تو وہ دل میں بسا کر اور سینے سے لگا کر رکھنے کے قابل نہیں ہے۔ سوچے سمجھے بغیردل میں رکھی گئی باتوں کی صحت مشکوک ہوتی ہے اور وہ اکثر دل کو بھی بیمار اور روگی کردیتی ہیں۔ عقل کا کام حق وباطل اورسچ اورجھوٹ میں تمیز کرنا ہے۔ انسان کی سماعت و بصارت کوزبان و بیان کو اور ہاتھ پاؤں کو سب کو عقل کے ماتحت ہونا چاہیے۔ نیچے کے سارے اعضاء دل کی خواہشات پر حرکت کرتے ہیں اوران خواہشات کو عقل کی نظارت سے ہوکر گزرناچاہیے۔ دل کے ارمان ہی نہیں دل کا ایمان بھی عقل کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہم نے جن چیزوں کودین سمجھ رکھا ہے مذہبی عقائد قرار دے رکھا ہے اوران کی بنیاد پرہم بہت کچھ کرتے ہیں انھیں بھی پہلے عقل کی کسوٹی پرپرکھنے کی ضرورت ہے۔ انسان مذہبی عقائد کے نام پردوسروں سے لڑتا ہے جھگڑتا ہے ،مارتا ہے اور مرتا ہے، اپنا سب کچھ مذہب کے نام پر تج کردیتا ہے کیا اس نے ان کے بارے میں کبھی آزاد ہوکر سوچا ہے؟ اگر ہم اپنے نظریات وعقائد کواپنی عقل پر پیش کرنا شروع کردیں تو مذہب کے نام پر ہونے والا زیادہ تر فساد فی الارض ختم ہوجائے ۔

عقل کی جوباتیں دل نشین نہیں ہوتیں وہ بھی گویاہوا کہ دوش پر رکھے ہوئے چراغ کی طرح ہوتی ہیں۔ دانائی اور بصیرت کی باتیں تو سینے سے لگا کر رکھنے کے قابل ہوتی ہیں ۔اگر سنبھال کر نہ رکھی گئی ہوں تو پھر عقل بڑی حیلہ گر بھی ہوتی ہے۔ وہ بڑی تاویلیں کرنے لگتی ہیں ۔ وہ بات سے بات نکال لیتی ہے۔

ایک شخص جسے ہم فقیہ کہتے ہیں، وہ وسائل اجتہاد سے کام لیتے ہوئے غوروخوض کرکے ایک فقہی حکم نکال لاتاہے۔ فقط ظواہر احکام کودیکھنے والا اس کے ظاہر پر عمل کرکے فارغ ہوجاتاہے لیکن ایک عارف اور ولی خدا کے حکم پر کیفیات ایمانی کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے آقا کے حکم کو دل میں بسا لیتا ہے وہ اس کے ذریعے رضائے الٰہی اور لقائے الٰہی کی تمنا کرتا ہے۔ دین جب تک آرزو نہ بن جائے، تمنا نہ بن جائے اور ایمان نہ بن جائے اپنا صحیح کردارادا نہیں کرسکتا اوراپنی مطلوبہ تاثیر پیدانہیں کرسکتا۔ ہمارے عرفاء انہی کیفیات کو عشق کانام دیتے ہیں۔ وہی عشق جو اپنے ابتدائی مرحلے میں نپاتلا ہوتا ہے اورآخری مرحلے میں بے کراں ہوجاتا ہے یہ عشق فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہوتاہے۔ عمرگزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تندی کندی میں نہیں بدلتی ،اس کی شوخیاں ماندنہیں پڑتیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوجاتا ہے اور یہی وہ ایمان وعشق ہے جو انسان کے قدم بڑھانے میں قوت محرکہ کاکام دیتاہے اور پرواز کے لئے بال جبریل بن جاتا ہے۔

یہ قوت محرکہ کا مسئلہ انفرادی طور پر بھی اہم ہے اوراجتماعی لحاظ سے بھی قوت محرکہ کے بغیر انفرادی حرکت بھی ختم ہوجاتی ہے اورمعاشرتی رفتار بھی۔ کمیونزم کی تباہی اور نابودی کی ایک وجہ اہل نظر نے یہی بیان کی ہے کہ وہ اس قوت محرکہ سے محروم ہے جسے ہم ایمان کہتے ہیں اورجس کا ٹھکانادل ہے ۔ کمیونزم نے کہا کہ آپ خوب محنت کریں اورماحصل میں سے صرف ضرورت کے مطابق لے لیں۔ ساتھ کمیونزم نے نظریات پر ہاتھ مارا اورکہا کہ معاشرے کی تمام تر حرکت کی بنیاد اقتصاد اورمعاشیات ہے۔پھر کہا اس کائنات کا کوئی والی وارث نہیں۔ انسان حسن اتفاق یا سوئے اتفاق سے پیداہوگیاہے۔ اپنی خلقت کے حوالے سے کوئی جواب دہی نہیں رکھتا ۔موت آئی تو مرجائے گا۔ موت اس کا اختتام ہے۔ پھر کہاکہ آپ اپنی اضافی آمدن بیماروں ، بوڑھوں اور بچوں کے لئے چھوڑدیں، اپنی محنت کا وہ نتیجہ جو آپ کی ابتدائی ضروریات سے زیادہ ہے وہ دوسروں کے لئے ایثار کریں ۔موت کے بعد ظلمت ناپیدا کنارہے۔ جس کے بعد کوئی حیات نہیں عدم ہی عدم ہے وجود کا کوئی پتہ نہیں۔ جب یہی زندگی ہے توپھر کوئی اپنی کمائی دوسروں کے لئے کیوں چھوڑے؟اس سوال کا کمیونزم کے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس کاجواب ’’ایمان ‘‘والوں کے پاس ہی ہوسکتا ہے۔ جن کے پاس’’ایمان‘‘کا جذبہ محرکہ ہے وہ ایثار کریں گے اور مسکرا کر۔

سیدہ زینب سب کچھ قربان کرکے اورامام حسین جیسے بھائی کی شہادت کی خبر سن کر سجدہ ریز ہوگئیں اورجب انھیں اپنے بھائی کی لاش کے پاس سے گزارا گیا تو کہنے لگیں:

اللھم تقبل منا ھذا القلیل من القربان

’’پروردگارا! ہماری یہ قلیل قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرما‘‘۔(۱۳)

یہ سب ایمان کا ہی نتیجہ ہے ۔یہی وہ ایمان ہے جو دلوں میں جاگزیں ہوتاہے۔

وحی کا تعلق بھی دل سے بیان کیا گیا ہے ۔وحی اور ایمان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایمان پاک دل میں جاگزیں ہوتا ہے اوروحی انتہائی شفاف سینوں اورنہایت پاکیزہ دلوں پراترتی ہے۔وحی دراصل معرفت ودانائی کی پاکیزہ ترین اور اعلیٰ ترین صورت کا نام ہے۔ البتہ اس کے بہت سے درجے ہیں۔جس کی طرف قرآن حکیم نے یہ کہہ کراشارہ کیا ہے:

فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا

نفس انسانی کوہم نے فجور وتقویٰ ہر دو کی بصیرت کا الہام کیا ہے (۱۴)

پھر اس کے بعد بالاتر درجے ہیں:مثلاً فرمایا گیا:

وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا

جولوگ ہماری طرف آنے کی جدوجہد کرتے ہیں ہم انھیں اپنے راستوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔(۱۵)

یعنی ان دلوں پرہدایت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔یہ الہام و ہدایت دونوں،دلوں پر نزول کرتے ہیں۔ ہدایت یافتہ دل محبت بھی کرتے ہیں اورنفرت بھی، نرم بھی ہوتے ہیں اور سخت بھی۔ دل کو سخت ہونا بھی چاہیے ان چوروں کے لئے جو ایمان جیسا گوہرچرانے کے درپے ہوتے ہیں اور انھیں محبت کرنا ہی چاہیے ان نور بانٹنے والوں سے جودلوں کی ظلمت کی روشنی میں بدل دیتے ہیں۔ دلوں کونفرت کرناہی چاہیے۔ بری قدروں اور غلط راہ وروش سے جو انسان سے اس کا شرف چھین لیتی ہیں اور پیار کرنا چاہیے اعلیٰ انسانی قدروں سے جنھیں ہم انبیاء کالایا ہوادین کہتے ہیں۔

******

حوالہ جات

۱۔       ۱۶۔سورہ النحل ،۷۸

۲۔       ۲۲۔الحج،۴۶

۳۔       ۲۴۔النور،۳۷

۴۔       ۴۹۔الحجرات ،۱۴

۵۔       ۳۔آل عمران،۱۰۳

۶۔       ۵۔المائدہ،۱۳

۷۔       ۲۔ البقرۃ،۷۴

۸۔       ۹۔التوبۃ،۱۲۸

۹۔       ۳۔آل عمران،۱۵۹

۱۰۔     ۲۔بقرہ:۲۶۰

۱۱۔     ۴۹۔حجرات:۳

۱۲۔     ۲۔البقرۃ،۱۰

۱۳۔     شاکری،حسین :العقیلہ والفواطم (قم،ط :ادارہ حکمت )ص۶۱

۱۴۔     ۹۱۔الشمس ،۸

۱۵۔     ۲۹۔العنکبوت ،۲۹