قرآنی تعلیمات کی عقلی بنیادیں

قرآنی تعلیمات کی عقلی بنیادیں

ثاقب اکبر

قرآن حکیم کی دعوت کا رخ عقل انسانی کی طرف ہے۔اس نے فکر کو اپیل کی ہے اور عقل کو حرکت میں آنے کی دعوت دی ہے۔

قرآن حکیم کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ کوئی بات خواہ کائنات سے متعلق ہو یا انسان سے،اخلاق سے متعلق ہویا تاریخ سے،عقاید سے متعلق ہو یا احکام سے قرآن حکیم اسے عقل کے پیمانے پر پرکھتا ہے اور اسی معیار پر اسے قبول یا رد کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک اس کی تعلیمات کی سچائی کا انحصار عقل پر ہے اور ان کی سچائی کا پیمانہ عقل ہے۔شاید یہ معلومات قارئین کی نظر میں مفید ہوں:

قرآن حکیم میں تقریباً ستر مقامات پر حجتِ عقل کی طرف اشارہ ہوا ہے یعنی عقل کو حق وباطل ، سچ اور جھوٹ اور صحیح وغلط کے پرکھنے کے لئے کسوٹی قرار دیا گیا ہے۔

قرآن حکیم میں عقل کا مادہ انچاس مرتبہ استعمال ہوا ہے۔

قرآن حکیم میں ’’ف ق ہ‘‘کا مادہ بھی استعمال ہوا ہے جو غور وفکر کرنے اور سمجھنے سوچنے کا معنی دیتا ہے۔

اٹھارہ مرتبہ قرآن پاک میں ’’فکر‘‘کا مادہ استعمال ہواہے۔

غورو فکر ہی کے مفہوم میں ’’تدبر‘‘کا مادہ اور کلمہ بھی قرآن شریف میں چار مرتبہ آیا ہے۔

یہ تو ان آیات کا ذکر ہے جن میں براہ راست عقل وفکر اور تدبر وتفقہ کے کلمات اور مادے استعمال ہوئے ہیں لیکن اگر آپ کھلی نگاہوں سے قرآن حکیم کا مطالعہ شروع کر دیں تو دیکھیں گے کہ مسلسل بالواسطہ یا بلاواسطہ عقل انسانی کو جھنجھوڑتا ہے اور فطرت انسانی کو دعوتِ بیداری دیتاہے۔

قرآن حکیم میں فطرت انسانی کے الٰہی فطرت سے ہم آہنگ ہونے کا مسئلہ کچھ زیادہ گفتگو اور غور وفکر کا محتاج ہے ۔ہم اس حوالے سے یہاں پر مختصراًصرف یہ عرض کرتے ہیں کہ قرآن کے بقول اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے:

فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا(۱)

اللہ کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔

پھر وہ اپنی تعلیمات اسی فطرت کے مطابق پیش کرتا ہے،اسی کو معیار بناتا ہے۔اگر فطرت کا مفہوم واضح ہوجائے تو بہت سے انسانی اور دینی مسائل حل ہوجائیں گے کیونکہ ممکن نہیں کہ دین کی کوئی تعلیم یا کوئی حکم اس فطرت کے مخالف ہو۔

عقل کو اپنی تعلیمات کا جس طرح قرآن نے معیار بنایا ہے،اس کی مثال کسی اور کتاب میں پیش نہیں کی جاسکتی۔

ارشاد الہٰی ہے:

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(۲)

چلنے پھرنے والوں میں سب سے برے وہ گونگے اور بہرے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

’’دواب ‘‘جمع ہے ’’دابہ‘‘کی۔ہر حرکت کرنے والے،جنبش کرنے والے اور چلنے پھرنے والے کو دابہ کہتے ہیں۔گویا حیوان اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔اب ذرا غور کیجئے گدھے کے بھی کان ہوتے ہیں بلکہ گھوڑے سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے بھی بہت بڑے بڑے کان ہوتے ہیں۔ بہت چھوٹے چھوٹے جانور بھی سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں کیا ان کانوں سے بہروں کا ذکر ہے؟اسی طرح گونگوں کا بھی مسئلہ ہے۔چرندوں اور پرندوں کے منہ سے بھی آواز نکلتی ہے۔ چڑیوں کے چہچہوں اور کوئل کی کوکو کاذکر آپ نے سنا ہو گا بلکہ یہ صدائیں آپ نے بھی سنی ہوں گی ۔بلبل اور پپیہے کے نغموں کے بہت تذکرے ہوتے ہیں۔کیا اس نغمہ و آواز سے محروم کو یہاں گونگا کہاگیا ہے؟نہیں بلکہ ’’الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْن‘‘وہ لوگ جو عقل سے کام نہیں لیتے،یہاں ان کا ذکر ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسے انسانوں کو بد ترین کیوں کہا گیا ہے حالانکہ گدھا تو عقل ہی سے محروم ہے۔اسے بدترین کیوں نہیں کہا گیا؟گدھے کو کبھی کسی نے کہا ہے کہ تم بڑے بے وقوف ہو ،عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟اسے یہ بات اس لئے نہیں کہی جا سکتی کہ اس کے پاس عقل ہی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ عقل سے کام نہ لینے والا انسان گدھے سے بدترہے۔

قرآن دلیل دیتا ہے اور دلیل مانگتا ہے:

قرآنی تعلیمات کے عقل وفکر کی بنیاد پر استوار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ قرآن حکیم اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے بھی دلیل ومنطق کو بنیاد بناتا ہے اور دوسروں سے بات کرتے ہوئے ان کے نظریے کی دلیل مانگتا ہے۔ مثلاًاپنے مخالفین کو رسول اللہ کے توسط سے کہتاہے:

قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (۳)

کہو اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل وبرھان پیش کرو۔

ظاہر ہے یہ رویہ اسی کا ہوسکتا ہے جو خوددلیل وبرہان کے پیمانے کو قبول کرتا ہے اور جسے اپنے نقطہ نظر کے منطقی اور استدلالی ہونے پر اعتماد ہے۔

احکام کا منطقی اور بامقصد ہونا:

قرآن مجید نے اپنے خصوصی احکام کے لئے بھی دلیل‘ مقصد اور ہدف بیان کیا ہے۔ قرآن کا اس سلسلے میں رویہ ان مقتدر بادشاہوں کا سا نہیں جو حکم دینے کے بعد کیوں ؟کس لئے؟کے الفاظ سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے حکم پر آنکھیں بند کرکے عمل کیا جائے۔ مثلاً قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن صرف حکم پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ اس کے مقاصد بھی بیان کئے گئے ہیں۔مثلاً ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ(۴)

یقیناً نمازفحش کاموں اور نافرمانیوں سے بچاتی ہے۔

اگرچہ ایسی آیات میں براہ راست عقل کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن عقل کی کارفرمائی ان میں پوری طرح روشن ہے۔گویا یہاں دلیل پیش کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے انسانو اور ایمان والو! ہم نے جو تمہیں بار بار نماز کا حکم دیا ہے تو اس کی کوئی وجہ ہے، کوئی عقلی بنیاد ہے اور یہ خود تمھارے مفاد میں ہے۔ یہ تمہیں ہی گناہوں سے بچاتی ہے، غیر انسانی کاموں سے تمھیں محفوظ رکھتی ہے۔

روزوں کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (۵)

اے ایمان والو! جیسے پہلوں پر روزے فرض کیے گئے تھے تم پر بھی فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

یہاں پر بھی بے دلیل شہنشاہی حکم نہیں بلکہ با دلیل الٰہی حکم ہے۔ روزوں کا مقصد یہ ہے کہ تم پرہیزگار ہو جاؤ تم متقی بن جاؤ۔ جب حلال چیزوں کو حکم خدا پر کچھ عرصے کے لئے چھوڑنے پر آمادہ ہو جاؤ گے تو حرام سے پرہیز کرنے کا شعور خود بخود اجاگر ہوگا۔ جب خدا کی خاطر بھوک پیاس سہنے کے عادی ہو جاؤ گے تو شاید کسی غیر خدا سے بھوک مٹانے کے لئے اپنے نفس کا سودا کرنے سے بچ جاؤ۔

بحث کا ایک نیا باب :

احکام کا مقصد بیان کرنے اور ان کے ہدف دار اور علت دار ہونے سے بحث کا ایک نیا باب کھلتا ہے جو زیر نظر موضوع سے متعلق تو نہیں تا ہم کچھ اشارہ کردینا ہم مفید سمجھتے ہیں۔

اس گفتگو میں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ہر حکم کے پس منظر میں کوئی فلسفہ،وجہ اور سبب کار فرما ہے ۔اگر انسان اس پر نظر رکھتے ہوئے احکام اسلامی کو سمجھے اور اختیار کرے تو ایک فائدہ یہ ہوگا کہ کام انجام دیتے ہوئے اصل مقصد ملحوظ نظر رہے گا مثلاً ابھی بیان ہوا ہے کہ نماز برے کاموں سے بچاتی ہے اب آپ اپنا جائزہ لے سکتے ہیں اگر آپ نماز پڑھتے ہیں اور برے کاموں سے بچتے ہیں تو درست ہے لیکن اگر برے کاموں سے نہیں بچتے تو پڑھ کر بھی نماز نہیں پڑھتے ۔دوسرا فائدہ اور دوسرا نکتہ ہم محققین کے لئے عرض کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ احکام کے استنباط کے عمل میں عقل انسانی اگر حکم کے مقصد تک پہنچ جائے تو بہت مدد ملے گی ،کئی آفاق روشن ہوجائیں گے اور شاید استنباطِ حکم کے مسئلے میں جوبہت سے اختلافات ظہور میں آتے ہیں،ان سے ہم بچ جائیں یا کم ازکم فروعی اختلافات کا چھوٹا ہونا،مقصد کے پیش نظر ہم پر زیادہ روشن ہوجائے۔

آباء کی پیروی_آخر کس دلیل پر؟

قرآن حکیم بعض مقامات پر اپنے نہ ماننے والوں کی دلیل کی کمزوری اور بنیاد کی ناپائیداری کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے ۔اس سلسلے میں آباء واجداد کی اندھی تقلید کی تو بہت مرتبہ مذمت کی گئی ہے اوراس کے بوداپن کی طرف توجہ دلائی گئی ۔ایک آیت ملاخطہ ہو:

وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَنَا اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْءًا وَّ لاَ یَھْتَدُوْنَ )۶(

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا اگرچہ ان کے بڑے کسی چیز کی بھی سوجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں۔

اس سے واضح ہوگیا کہ اسلام کو یہ پسند نہیں کہ آپ اپنے آباء یا اپنی پسند کے کسی فرد کے کام کو ہی بس اپنے لئے دلیل عمل قرار دے لیں۔

آیات الٰہی پر بھی اندھے ہوکر نہ گر پڑیں:

شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہوکہ قرآن تو اس کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ آپ آنکھیں بند کر کے آیات الٰہی پر گر پڑیں ۔قرآن خود اپنی بھی اندھی تقلید کو جائز نہیں گردانتا قرآن تو بصیرانہ پیروی کی دعوت دیتا ہے ۔وہ تو علی وجہ الصبیرت )۷(قدم اٹھانے کا حکم دیتاہے۔

سورہ فرقان کی ایک آیت اس سلسلے میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔اس کی آخری آیات میں’’عباد الرحمن‘‘کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے:

وَالَّذِیْنَ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا (۸)

یہ)عبادالرحمن(وہ لوگ ہیں کہ جب انھیں ان کے رب کی آیات کی طرف متوجہ کیاجاتا ہے تو گونگے اور اندھے ہوکر ان پر نہیں گر پڑتے ۔

گویااجازت نہیں کہ آیات الٰہی پربہرے اور اندھے ہوکر گر پڑیں کیونکہ اللہ تعالی کی آیات آنکھیں کھولنے کے لئے ہیں۔کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے لہٰذا آنکھیں بند کرکے اس پر گر پڑو ۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آنکھیں کھو لو ،غوروفکر کرو،قرآن تو دعوت تفکروتدبر دیتا ہے۔ اللہ کے ہر حکم میں حکمت تلاش کرو،مقصد کی جستجو کرو اور پھر عمل کرتے ہوتے اندھا دھند قدم نہ اٹھاو بلکہ اس حکمت کی روشنی میں آگے بڑھو اور اس مقصد کو پیش نظر رکھو ۔ہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ ’’آیات رب‘‘سے یہاں مراد فقط قرآنی آیات نہیں بلکہ ساری کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیاں ،اس کے وجود کی علامتیں اور اس کے راستے کی راہنمائی کرنے والے سنگ میل ،سب اس میں شامل ہیں۔

قرآنی حروف کی گنتی اور ثواب کا حساب:

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک یہی سنا ہے کہ اگر ہم نے الف،لام اور میم اپنی زبان سے ادا کردیا تو ہماری تیس نیکیاں ہوگئیں ۔اس کے لئے احادیث بھی جب پڑھ کر سنادی گئیں تو بس پھر کیا تھا ؟حروف گنے اور انھیں دس سے ضرب دی اور ثواب کا بینک بیلنس دیکھ کر خوش ہوگئے۔ ہم تو قرآن کی آیات پر بھی آنکھیں بند کرکے گرے ہوئے تھے ،اب روایات بھی ہماری مدد کو آگئیں ،ہمیں اور بھی تھپکیاں مل گئیں اور لوریاں سنائی دینے لگیں ۔ضرورت تو اس بات کی تھی کہ آیات وروایات کو ہم آنکھیں کھول کر دیکھتے ۔ ان کا مقصودو مطلوب سمجھنے کی کوشش کرتے ۔اس مسئلے کوواضح کرنے کے لئے ہم ایک مثال عرض کرتے ہیں :

آپ مجھ سے پوچھیں :کیا آپ نے فلاں کتاب پڑھی ہے؟میں کہوں :جی ہاں!

ِِآپ پوچھیں :اس میں مذکورفلاں نظرےئے کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

میں کہوں :جناب یہ کتاب میں نے پڑھی تو ہوئی ہے ،سمجھی نہیں ہوئی۔

تو کیا آپ نہیں کہیں گے:کیسا عجیب آدمی ہے؟کیا کتاب پڑھنے کا مطلب ہجے کرکے ،حروف کو جوڑ کرپڑھنا ہے ؟ہر گز نہیں پڑھنے کا مطلب حتی المقدور سمجھ کر پڑھنا ہے تو پھر یہ قرآن بے چارہ اتنا مظلوم کیوں ہے ؟صرف اسی پر پڑھنے کا اطلاق بے سمجھے پڑھنے پر کیوں ہوتا ہے ؟شاید یہ دنیا کی واحد ایسی کتاب ہے اور سب سے مظلوم بھی کہ جس کا آپ ایک لفظ بھی نہ سمجھے ہوں پھر بھی دعویٰ کر سکتے ہیں کہ میں نے قرآن پڑھ رکھا ہے ۔حروفِ قرآن سے آیات قرآن کت رسائی ہوتی ہے۔ آیات کی تلاوت معانی و مفاہیم جاننے کی رغبت پیدا کرتی ہے اور اگلے مرحلے میں قارئ قرآن کی فکر ونظر بدل جاتی ہے۔ گویا حروف و الفاظ کی تلاوت معارف قرآنی تک رسائی کا مقدمہ ہے۔ گویا مذکورہ احادیث ہمیں قرآن حکیم کے اصل مقصد تک پہنچنے کے لیے رغبت دلاتی ہیں۔ زبان سے حروف کی ادائیگی تک رُک جانا ان روایات کے مقصد کے خلاف ہے کیونکہ ایسی روایات کے مقابلے میں دیگر روایات بھی ہیں جو قرآن کے صرف حرف ادا کرنے والے قاریوں کی مذمت کرتی ہیں اور قرآن حکیم کی کئی ایک آیات بھی واضح طور پر قرآن مجید میں فکرو تدبر نہ کرنے والوں کی مذمت کرتی ہیں۔ اس لیے کسی ایک روایت کو سامنے رکھ کر اور دیگر آیات و روایات کو نظرانداز کرکے اس کا مفہوم متعین کرنا درست نہیں۔

ہم نے ثواب کا بھی معنی نہیں سمجھا،ہم نے حسنہ اور نیکی کا مفہوم بھی نہیں سمجھا۔روایات یہ کہنا چاہتی ہیں کہ قرآن کے ایک ایک حرف سے تمھاری فکر ،فضیلت اور بصیرت کے دس دس درجے بلند ہوں گے ۔اس کا حرف حرف تمھارے لئے حسنات اور بھلائیوں کے دروازے کھول دے گا ۔تمھیں ثواب ہوگا ۔یعنی اسے پڑھو کہ اس کے پڑھنے سے تمھیں فائدہ حاصل ہوگا۔

قرآن کی ایک عجیب وغریب آیت ہے۔انسان اس پر غوروفکر کرے تو کانپ اٹھتاہے اور اللہ کے حضور اپنی موجودگی کو عجیب حالت میں پاتا ہے۔آیت یوں ہے:

وَ مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا(۹)

جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا بلکہ اور بھی بھٹکا ہوا۔

گویا جو اس دنیا میں اندھے ہیں آخرت میں اندھے ہی محشور ہوں گے ۔بصیرت سے محروم ،دانائی سے محروم، معرفت الٰہی سے محروم ،سب اندھے ہیں ۔ یہ سب اندھے اٹھائے جائیں گے ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن کے ماتھے کے نیچے کی آنکھیں نہیں دیکھتیں وہ اندھے اٹھائے جائیں گے۔ان میں سے تو بہت سے عارف باللہ گزرے ہیں ۔ان میں سے تو بہت سوں کو رسول اللہ اور اولیا ء اللہ کی صحبتیں اوران کا فیضان نصیب ہوا ہے،کیا وہ سب اندھے محشور ہوں گے اورنمرود ،شداد اور فرعون آنکھوں والے محشور ہوں گے ؟نہیں، ہر گز نہیں ۔نبی پاک کے ایک نابینا صحابی کی پاک دلی کا ذکر تو خود خدا تعالیٰ نے کیا ہے۔چہرے پر سجی آنکھیں تو جانوروں کے پاس بھی ہیں۔یہاں اس امر کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ جو بینائی ،بصیرت اور دانائی یہاں میسر نہیں، آخرت میں بھی نصیب ہونے کا امکان نہیں ۔لہٰذا انسان کو تمناکرنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ آنکھوں کے سامنے جوپردے پڑے ہیں ،وہ ہٹ جائیں۔

علت ومعلول کا اصول:

قرآنی تعلیمات کی عقلی بنیادوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ قرآن علت و معلول اور سبب ومسبب کے اصول کو تسلیم کرتا ہے ۔مثلاً ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ )۱۰(

اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔

مراد یہ ہے کہ اچھا عمل کرو گے تو اللہ کے قانون کے مطابق اچھا نتیجہ پاؤگے ۔اللہ کے قانون اوراللہ کی سنتیں اس کائنات کی سانسوں میں رواں دواں ہیں ۔یہ قانون الٰہی ہے کہ قومیں اگر اپنی حالت کو تبدیل کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوں گی اور جدوجہد کریں گی تو تبدیلی عمل میں آئے گی۔فقط آرزو کرنے اور بیٹھ رہنے سے نتیجہ مرتب نہیں ہوگا۔

عقل پر اعتماد:

بعض مقامات پرقرآن حکیم نے براہِ راست حکم دینے کے بجائے عقل انسانی سے پوچھا ہے کہ بتاؤ اس مسئلے میں کیا حکم ہونا چاہیے ؟بس جو حکم عقل کا ہے وہی حکم اللہ کا ہے ۔مثلاً فرماتا ہے:

ہَلْ جَزَآءُ الْاِِحْسَانِ اِِلَّا الْاِِحْسَانُ )۱۱(

کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ ہے ؟

یہاں نہیں فرماتا کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہے،بھلائی کے جواب میں بھلائی کیا کرو بلکہ انسانی عقل پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے کہ بتاؤ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ ہے؟یعنی کسی کے کہنے کی کیا ضرورت ہے یہ تو عقل انسانی پر روز روشن کی طرح واضح ہے۔

حسن وقبح عقلی یا شرعی:

یہیں سے ایک اور بحث کی طرف راستہ کھلتا ہے اور وہ ہے احکام کے بارے میں حسن وقبح عقلی یا شرعی کی بحث۔ قدیم ایام میں علمائے اسلام کے مابین اس بحث کا بازار گرم رہا ہے ۔ہم یہاں پر صرف اشارہ کرنے پر اکتفا کریں گے ۔بحث یہ ہے کہ کسی چیز کو اچھا یا برا قرار دینے کا معیار کیا ہے؟کسی چیز میں حسن ہوتا ہے یا قبح ہوتا ہے،عقل اس کے حسن یا قبح کی نشاندہی یا تائید کرتی ہے اور پھر شریعت بھی کہتی ہے کہ یہ چیز اچھی ہے یا بری ہے۔ یا پھر ایسا نہیں شریعت کسی چیز کو اچھا کہے تو وہ اچھی ہو جاتی ہے اور برا کہہ دے تو بری قرار پاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ عقل بھی اچھا یا برا قرار دے ۔مثلاً قمار بازی کیا عقلاً بری چیز تھی ،قبیح تھی اسی لئے شریعت نے بھی اسے برا کہہ دیا ہے یا پھر برائی اور قباحت اس میں شریعت کے کہنے سے پیدا ہوگئی ہے۔اس سلسلے میں علماء میں دو سر سخت مخالف گروہ رہے ہیں ۔اسی طرح مثلاً شریعت نے کہا ہے کہ شراب نہ پیو اسے ’’رجس من عمل الشیطان‘‘قرار دیا ہے ۔اب کیا یہ قرآن کے کہنے سے رجس ہوگئی یا رجس تھی اور قرآن نے بتایا ہے۔دیگر مخلوقات پر انسانی امتیاز اور ضرورت کے دلائل کو ملحوظ رکھا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ دین کے ہرحکم کا مقصد انسان کو سعادت وکمال سے ہمکنار کرنا ہے تو احکام میں حسن وقبح عقلی کے نظریے کی تائید کے سوا چارہ نہیں رہتا۔البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب اللہ کانبی آکراپنے عظیم خلق وکردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکم دیتا ہے تو حکم عقل کوبہت تقویت حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ایک ایمانی کیفیت جمع ہوجاتی ہے لیکن اللہ کا کہنا ،نبی کا کہنا درحقیقت انسانی عقل وفطرت ہی کی تائید ہے۔یہاں اس امرکی طرف اشارہ ضروری ہے کہ عقل بحیثیت عقل مطلق زیر بحث ہے۔

انبیاء عقلی خزینوں کونکالتے ہیں:

اس سلسلے میں امیر المومنین حضرت علی کاایک بہت خوبصورت قول ہے۔آپ فرماتے ہیں:

فبعث فیھم رسلہ وواتر الیھم انبیاء یستادوھم میثاق فطرتہ وینکروھم منسی نعمتہ ویحتجوا علیھم بالتبلیغ ویثیر وا لھم دفائن العقول ویروھم ا لایات المقدرۃ(۱۲)

پس اللہ نے ان میں اپنے رسول مبعوث کئے اور لگاتار انبیاء بھیجے تاکہ ان سے فطرت کے عہد وپیمان پورے کروائیں اس کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں، پیغام ربانی پہنچا کر حجت تمام کردیں ،عقل کے دفینوں کو ابھاریں اور انہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔۔۔

غور کیجئے رسول اللہ کے وصئ کریم نے بعثت انبیاء کا مقصد کیا سمجھا ہے۔ فرما رہے ہیں کہ فطرت انسانی میں پہلے سے موجود میثاق کو پورا کروانے کے لئے انبیاء آئے ہیں۔جو نعمتیں انسان بھول جاتے ہیں انبیاء انھیں یاد دلاتے ہیں۔ یاد وہی چیز دلائی جاتی ہے جو لاشعور کے نہاں خانے میں کہیں چھپی ہو‘ پردے میں چلی گئی ہو۔ عقل کے خزینوں اور دفینوں کو ابھارنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ خود انسان کے اندر جو خزانے مخفی ہیں‘ صلاحیتیں خوابیدہ ہیں‘ جو کمالات پنہاں ہیں انہیں ابھارنے کے لیے انبیاء تشریف لاتے ہیں۔

اگر نبی کہتے ہیں کمزوروں اور ضعیفوں کی مدد کرو‘ ہمسایوں کے دکھ سکھ میں شریک ہو‘ غیر اللہ کی غلامی سے نجات پاؤ‘ اپنے نفس کو جنت سے کم قیمت پر نہ بیچو‘ قطع رحمی نہ کرو‘ جھوٹ نہ بولو‘ ظلم نہ کرو‘ عدل قائم کرو‘ اپنے جسم کے ساتھ ساتھ سوچ کو بھی پاک کرو۔۔۔ تو اس میں کونسی چیز ایسی ہے کہ انسانی فطرت و عقل جس کی تائید نہیں کرتی۔

رہ گئیں بعض ایسی باتیں جو قرآن حکیم یا نبی کریم سے ثابت ہوں اور بعض لوگوں یا بہت سے انسانوں کو ان کی حکمت سمجھ نہ آتی ہو تو دین کی کلیات کی حکمت روشن ہو جانے کے بعد اور قرآن کی تعلیم اور رسول کی زندگی حکیمانہ اصولوں پر استوار ثابت ہو جانے کے بعد ہر فرد کے لیے ہر بات کی حکمت ثابت ہونا کب ضروری رہ جاتا ہے۔

حوالہ جات

۱۔         ۳۰۔روم:۳۰

۲۔         ۸۔انفال:۲۲

۳۔         ۲۔بقرہ:۱۱۱

۴۔         ۲۹۔عنکبوت:۴۵

۵۔         ۲۔بقرہ:۱۸۳

۶۔         ۲۔بقرہ:۱۷۰

۸۔         ۲۵۔فرقان:۷۳

۹۔         بنی اسرائیل:۷۲

۱۰۔      ۱۳۔رعد:۱۱

۱۱۔      ۵۵۔الرحمن:۶۰

۱۲۔      نہج البلاغہ، خطبہ نمبر۱