قرآنیات

دل کی حقیقت قرآن کی نظر میں

دل کی حقیقت ۔۔۔قرآن کی نظر میں

ثاقب اکبر

ارشاد رب العزت ہے:

وَ اللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا وَّ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْءِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ

اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے شکموں سے نکالا تو تم کچھ نہ جانتے تھے البتہ اس نے تمھیں سماعت ،آنکھیں اوردل عطا کیے کہ شاید تم شکر گزار ہوجاؤ۔(۱)

 

قرآن شریف میں دل کا مفہوم بیان کرنے کے لئے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں ایک یہی (اَفْءِدَۃَ) جومذکورہ بالا آیت میں آیاہے اوردوسرا لفظ ’’قلب‘‘جس سے اردو بولنے والے بھی مانوس ہیں۔

اس سلسلے میں سورہ حج کی یہ آیت ملاحظہ کیجیے:

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَآ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَ لٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ

کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان کے دل ہوتے جن سے وہ عقل کا کام لیتے یا کان ہوتے جن سے وہ سنتے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ ان کی ) آنکھیں نابینا نہیں ہیں بلکہ (ان کے)وہ دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں۔(۲)

اس میں آپ نے مشاہدہ کیا کہ لفظ ’’قلوب ‘‘آیا ہے جو ’’قلب‘‘کی جمع ہے۔ قرآن حکیم کی بہت سی آیات میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ مذکورہ بالا آیات میں یہ لفظ دومرتبہ آیا ہے۔ آیت کے معنی پر ذراغورکریں تو آپ پراس لفظ کا قرآنی مفہوم آشکار ہوتا چلا جائے گا۔ قرآن شریف کی نظر میں’’دل ‘‘کی حقیقت کیا ہے،قرآنی آیتوں پر غور سے یہ بات آپ پر کھلے گی۔ یہاں فرمایا گیا کہ کیا وہ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان کے پاس دل ہوں جن کے ذریعے وہ تعقل کرسکیں۔ جن سے غوروفکر کا کام لے سکیں یا کان ہوں کہ جن سے وہ سن سکیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ دراصل ان کی آنکھیں اندھی نہیں بلکہ دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈاکٹروں نے انسانی بدن میں جس دل سے ہمیں متعارف کروایا ہے بظاہر وہ اور ہے اور قرآن جس دل کا ذکر کررہا ہے وہ اور ہے۔ ڈاکٹروں نے دل کو خون کے لئے پمپنگ مشین (Pumping machine)کا نام دیاہے۔ ابھی جو پہلی آیت آپ کی خدمت میں پیش کی گئی اس کے مطابق انسان اپنی ماں کے شکم سے نکلتا ہے تو کچھ بھی نہیں جانتا ہوتا۔ْ لا تعلمون شیئا یعنی: تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔

لیکن پھر یہ وجود ’’جاننے والا ‘‘کیسے ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے فرمایا: تمھیں کان دیے ،شنوائی عطا کی۔ کونسی قوت شنوائی؟ کان تو گدھے کے بھی ہوتے ہیں ،گھوڑے کے بھی ہوتے ہیں ۔کوچوان خاص طرح سے آواز نکال کر گھوڑے کومتوجہ کرلیتا ہے۔

یہ بھی فرمایا کہ تمھیں آنکھیں دیں لیکن آنکھیں توکتے اور سور کی بھی ہوتی ہیں ۔جیسے ہمارے ماتھے کے نیچے کی آنکھوں کونظرآتا ہے ،حیوانوں کو بھی عموماً دکھائی دیتا ہے۔ پھر انسان کی کس سماعت و بصارت کا ذکر کیا جارہاہے؟ اس سوال کا جواب اگلے مراحل میں آرہا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ انسان کو دل بھی عطا کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ دیا گیا کہ شاید تم شکر گزا رہوجاؤ، لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔شروع میں جب شکم مادر سے انسان نکلا تو ’’ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْءًا‘‘کا مخاطب قرار پایا ۔گویا کان اور آنکھیں اور دل انسان کی نادانی کو دانائی میں بدلنے کا وسیلہ ہیں اور دانائی انسان کوشکرگزار بنانے کا ذریعہ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان ظاہراً علم تو لے کر نہیں آتا، ماں کے پیٹ سے بے علم رونق افروز جہاں ہوتا ہے لیکن علم کے ذرائع ہمراہ لاتا ہے۔ وسائل شناخت سے لیس ہوکر آتا ہے۔ معرفت کے ذرائع ہمراہ لے کر واردمیدان ہوتا ہے۔ علم کے ذرائع ،صلاحیتیں اوراستعداد اپنے پروردگار کی طرف سے لے کر آتا ہے۔ اب اگر ان صلاحیتوں کو بروئے کار لائے تو شکر گزار بن سکتا ہے۔

اس آیت کے حوالے سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سماعت ،بصارت اوردل کا ذکر تو اس میں آیا ہے لیکن زبان کاذکر نہیں آیا۔ اسی طرح لمس کرنے اور چھونے سے بھی انسانی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، اس کابھی ذکر نہیں آیا۔ یعنی حواس خمسہ میں صرف دو کاذکر آیا ہے اور پھر دل کا تذکرہ ہے ۔اس سلسلے میں بہت سے نکات بیان کیے جاسکتے ہیں۔ ہم یہاں جوزیادہ اہم معلوم ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔

ایک امر تو قابل ذکر یہ ہے کہ سماعت و بصارت کے ذریعے حصول علم کی طرف اشارہ کرکے اصولاً محسوسات کو سرچشمہ علم کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے بلکہ علم ومعروفت کوپہلے مرحلے میں محسوسات کا رہین منت تسلیم کر لیا گیا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ محسوسات کا بنیادی سرچشمہ سماعت وبصارت ہی ہیں ۔گویائی،چھونا اورچکھنا وغیرہ کے مرحلے اصولاً سماعت و بصارت کے مرحلے سے گزر کر ہی آتے ہیں۔آنکھیں جتنا دیکھتی ہیں،جتنی کائنات مشاہدہ کرتی ہیں اس کے مقابلے میں زبان کا چکھنا ،ہاتھ کا چھونا اورناک کا سونگھنا انتہائی محدود ہے۔ آواز جتنی دور سے سنائی دیتی ہے ناک اس فاصلے سے سونگھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔بہرحال ہر دو حوالے سے سماعت اور بصارت کے ذکر کو ہم من باب مثال یا اہم ترکاذکر سمجھ سکتے ہیں۔

حواس سے حاصل کردہ معلومات انسان کے اندر سٹور(Store)ہوتی رہتی ہیں۔ یہ ذخیرہ خاص ترکیب وتجزیہ کے عمل سے گزرتا رہتاہے۔ یہ عمل انسان کا دماغ سرانجام دیتا ہے۔ گویا خام مواد (Raw material)خاص شکل میں Developeہوتا رہتاہے۔ اس کے بعد معلومات کے دل نشین ہونے کا مرحلہ آتاہے۔ معلومات کی بنیاد پر محسوسات سے حاصل کردہ خام مواد سے ذہن، اصول بناتا رہتاہے۔یہی معلومات اور اصول انسانی حرکت کے لئے بنیادبنتے ہیں۔ ان مراحل سے گزر کرانسان قدم اٹھانے کے قابل ہوتا ہے۔اس آیت میں اور بھی پہلو قابل غور ہیں لیکن ہم اپنے موضوع کے حوالے سے چند اور آیات قرآنی کا بھی جائزہ لیتے ہیں تاکہ واضح ہوکہ دل کا کردار قرآن کی نظر میں کیا ہے۔

سورہ نور کی ایک آیت ملاحظہ کیجیئے:

رِجَالٌ لاَّ تُلْہِیہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِِیْتَآءِ الزَّکٰوۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ

ایسے مرد ہیں کہ جنھیں تجارت اور لین دین اللہ کے ذکر ،قیامِ نماز اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتا۔ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں تلپٹ ہوجائیں گے۔(۳)

بادی النظر میں اس آیت میں انہی مادی دلوں اورآنکھوں کاذکرکیا گیاہے۔ تاہم گہراغوروفکرکیاجائے تو ان الفاظ کی معنوی حیثیت آشکار ہوجاتی ہے۔ قیامت کا دن نیتوں اورروحانی ملکات کے ظہور وبروز کا دن ہے۔ دلوں اور آنکھوں کے الٹ پلٹ ہوجانے کا مفہوم اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اب ایک اور آیت ملاحظہ کیجیے:

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ۔۔۔

بادیہ نشین کہتے ہیں:ہم ایمان لے آئے ہیں۔ کہیے:تم ایمان نہیں لائے ہو البتہ کہو: ہم نے سرتسلیم خم کر لیا ہے جبکہ ایمان ابھی تک تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔(۴)

ایمان کا تعلق دل سے بیان کیاگیاہے،دماغ سے نہیں۔ ایمان کا تعلق فقط عقلی مرحلے تک نہیں۔ ایمان کا جہاں بھی تعلق دکھائی دے گا دل سے دکھائی دے گا۔ سرجھک جانااورسرتسلیم خم کر لینا ایمان لانے سے مختلف ہے۔حالات کے جبر اورظاہری ووقتی مفادات کے پیش نظر ہوسکتاہے انسان کسی چیز کو قبول کر لے لیکن یہ ایمانی کیفیت نہیں ہوتی۔ ایمان تو وفور شوق سے پوری قلبی کیفیات کے ساتھ قبول کرلینے کا نام ہے۔

یہاں میں آپ کو آیات وحی کی طرف بھی متوجہ کرناچاہوں گا۔ وہ آیات جن میں نزول وحی کا ذکرہے،بتاتی ہیں کہ وحی کا تعلق بھی سینے اور دل سے ہے، وہ بھی ذہن پر نہیں اترتی۔ اس کے نزول کا محل قرآن نے ذات نبی،قلب نبی یا صدر نبی کوقرار دیاہے۔کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی بات پر دوسرے کے دلائل کے سامنے عاجز آجاتا ہے لیکن دل نہیں مانتا،دوسرے کی بات دل میں نہیں اترتی لہٰذا اندر کے انسان میں تبدیلی نہیں آتی۔ جولوگ ہیروئن کانشہ کرتے ہیں شاید آپ کوان کا تجربہ ہو۔ ہیروئن کے خلاف آپ انہیں دلائل دیں۔ آپ کے دلائل کی درستی کو وہ تسلیم کرلیں گے لیکن اکثرنشہ نہیں چھوڑیں گے۔ کیاکریں،دل نہیں مانتا؟ یہ دل کا مسئلہ بڑا اہم ہے۔

بقول غالب:

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد

پر طبیعت ادھر نہیں آئی

عقل تو مان لیتی ہے ،انسان جان تو لیتا ہے لیکن بسادل نہیں مانتا، طبیعت ادھرنہیں آتی۔اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل پر اتارا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جیسے یہ پیغام محمدؐ کے دل پر اترا ہے،ہمارے بھی دل پراترے ۔

آپ سوال کر سکتے ہیں اور آپ کو حق ہے کہ سوال کریں کہ قرآن حکیم نے پھر عقل پر اتنا زور کیوں دیا ہے۔ قرآن کریم کی پے درپے آیات عقل انسانی کو بالواسطہ اور بلاواسطہ خطاب کرتی ہیں پھر یہاں پر عقل کو پیچھے کیوں ہٹایا جارہاہے۔ بقول اقبال:

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دیں

اسی طرح عقل وعشق کے معاملات میں شعراء نے ہمیشہ عقل کی مذمت کیوں کی ہے جبکہ قرآن مجید نے عقل کو بہت اہمیت دی ہے۔ عام شعراء ہی نے نہیں صوفیاء اورعرفاء نے ہمیشہ عقل کی مذمت ہے اہل دل ہمیشہ عقل کی مذمت کیوں کرتے ہیں؟ اقبال کہتے ہیں:

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

کیا قرآن کسی اور عقل کی تائید کرتا ہے اور عرفاء کسی اورعقل کی مذمت کرتے ہیں؟زیرنظرپہلی آیت میں بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ ہم نے تمھیں سماعت ،بصارت اور عقل عطا کی ہے بلکہ سماعت وبصارت کے ساتھ دل عطا کیے جانے کا تذکرہ ہے۔ہم اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم نے ابھی جن آیات کا ذکر کیا ہے ان کے مطابق بعض لوگوں کے بارے میں فرمایا گیاہے کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں بلکہ یہ دل کے اندھے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ بصارت سے نہیں بلکہ بصیرت سے محروم ہیں۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے :ِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَاریعنی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گے۔ایک سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ کیااطمینان وخوف ،الفت ونفرت جیسے احساسات اورکیفیات کا تعلق ہمارے اس دل سے ہوتا ہے جو ہمارے سینے کے اندر ہے یا نہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہوتاہے۔ آپ اکثر کہتے ہوں گے یا سنتے ہوں گے کہ’’میرا دل دھک دھک کررہاہے‘‘ یا ’’میرا دل ڈوب رہاہے‘‘یا ’’دل اچھل رہا ہے‘‘یا ’’دل حلق سے باہر آرہا ہے‘‘۔

یہ سب درست ہے ایسا ہی ہوتا ہے۔مختلف کیفیات اسی دل پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہیں۔کہنے کو تو یہ ایک پمپنگ مشین ہے لیکن انسانی جذبات وکیفیات سے لاتعلق اپنے کام میں مشغول نہیں ہے،اس پر ان چیزوں کابلاواسطہ اثر ہوتا ہے ۔

بعض اوقات بری خبر کسی تک پہنچانے کے لئے بہت احتیاط کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں اسے یہ خبر نہ پہچانا وگرنہ اس کاہارٹ فیل ہوجائے گا۔ اس ظاہری اورمادی دل کے ساتھ بہت سی معنوی اور روحانی حقیقتیں وابستہ ہیں۔ یہ مستقیما انسان شناسی کاموضوع ہے معرفت الانسان کے علم سے اس کا تعلق ہے۔ دل کا انسانی بدن اورروح سے تعلق اسی کے ضمن میں لائق مطالعہ ہے۔ انسان کی اصل اس کی روح ہی ہے لیکن اس روح کی نشوونما اس بدن انسانی کے بغیر میسر نہیں۔یہ مسئلہ پودے اور زمین کے باہمی تعلق سے ظریف تر ہے۔

دل کا بہت بڑا کردار قرآن حکیم نے بیان کیا ہے۔ قرآن کے نزدیک دل سنتے بھی ہیں بہرے بھی ہوتے ہیں ،دیکھتے بھی ہیں ، نابینا بھی ہوتے ہیں، تدبر بھی کرتے ہیں ،الفت بھی کرتے ہیں اور نفرت بھی کرتے ہیں۔ارشاد ہوتا ہے ۔

وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہ اِخْوَانًا

اللہ کی اپنے اوپر اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں الفت پیداکردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے ۔(۵)

پہلے جن کے دلوں میں باہم عداوت تھی اب بعثت نبوی کے صدقے میں وہ آپس جڑ گئے۔ قریب ہوگئے اور اب ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے الفت پیدا ہوگئی۔

اسی طرح دل نرم بھی ہوتے ہیں اورسخت بھی ،موم بھی اور پتھر بھی، آپ’’ سنگ دل‘‘تو روز سنتے ہیں۔

شعراء کے ’’پتھر کے صنم‘‘کا ذکر تو آپ نے بہت سناہوگا۔قرآن حکیم نے بھی سنگدلوں کا ذکر کیا ہے:

فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً

پس ان کی عہد شکنیوں کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیے۔(۶)

انھوں نے نافرمانی کی، اللہ سے باندھا گیا عہد توڑ دیا تو اس وجہ سے اللہ نے ان پرلعنت کی اوران کی دلوں کو بہت سخت بنادیا۔ یہ بھی فرمایا:

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ

پھراس کے بعد تمھارے دل بہت سخت ہوگئے، اتنے کہ یہ پتھروں جیسے ہوگئے۔(۷)

ایسے ہی نرم دلی کاذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے بارے میں فرماتا ہے:

لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ

تمھارے پاس خود تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے،جسے تمھارا رنج میں پڑنا بہت ناگوار گزرتاہے۔ تمھاری بھلائی اسے بہت پسند ہے اوروہ مومنوں کے لئے نہایت شفیق اورمہربان ہے۔(۸)

اگرچہ آیت میں قلب کالفظ نہیں آیا لیکن یہ سب پر آشکار ہے کہ رافت ورحمت کے جذبات کا تعلق دل سے ہے۔ ایک اور آیت ملاحظہ کیجیے جس میں خود رسول پاکؐ کومخاطب قرار دیا گیا ہے:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ

پس یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان کے لئے نرم دل واقع ہوئے ہواگر تم تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے گرد سے منتشر ہوگئے ہوتے۔(۹)

حضرت ابراہیم کے حوالے سے اطمینان قلب کاذکر قرآن حکیم میں موجودہے۔ انھوں نے کہا: یا اللہ: تومُردوں کوکیسے زندہ کرتاہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا کیا تو ایمان نہیں رکھتا، تو وہ کہنے لگے ایمان تو رکھتا ہوں میں تواپنے دل کے اطمینان کے لیے پوچھ رہا ہوں:

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰھمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَ لٰکِنْ لِّیَطْمَءِنَّ قَلْبِیْ(۱۰)

دل امتحان بھی دیتا ہے۔ قرآن شریف میں ہے: ہم نے ان کے دلوں کاامتحان لے لیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ہے :

اُوْلٰٓءِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی (۱۱)

یہ وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے تقویٰ کے اعتبار سے امتحان لے لیا ہے۔

دل مریض بھی ہوتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:

فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ

ان کے دلوں میں روگ ہے۔(۱۲)

ان آیات سے پھریہ ظاہر ہوتاہے کہ قرآن مجید میں مذکورہ دل کامفہوم دل کے طبی مفہوم سے کہیں وسیع تر ہے۔ البتہ میڈیکل سائنس جس کے ساتھ سائیکالوجی کاالحاق ہوگیا ہے، میں بہت پیش رفت ہوچکی ہے۔ انسانی شناخت کا علم ترقی کررہا ہے۔ شعوراور لاشعور پربہت عمدہ تحقیقات ہوئی ہیں۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ قرآن شریف کہیں گہرے مطالب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ قرآن دل کا باایمان اور بے ایمان ہونا بتاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بات سادہ سی نہیں ہے۔

اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ عقل اوردل میں کیا تفاوت ہے، کیا اختلاف ہے؟ ہماری رائے یہ ہے کہ ان میں اصولاً کوئی جھگڑا نہیں ہے۔دونوں کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ان دونوں کا اپنا اپنا کردار ہے اوراپنا اپنا مرحلہ ہے۔ پہلا مرحلہ ہوتاہے کسی بات کا سمجھنا اور دوسرا مرحلہ ہے اس کادل نشین ہونا اور دل میں جاگزیں ہونا۔ بعض عرفاء جنھوں نے معرفت انسان کے حوالے سے غور وفکر کرکے عمدہ رازہائے فطرت سے پردہ اٹھایا ہے،انھوں نے انسان کے ڈھانچے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرانسان کا سب چیزوں سے اوپر ہے۔ یہ اس امر کی بھی علامت ہے کہ ہر دوسری چیز کو اس کے نیچے ہوناچاہیے۔ دماغ سب سے اوپر ہے لہٰذا دماغی عمل اورذہنی کام کا درجہ بھی سب سے پہلے ہے۔ انسان کے تمام کاموں کوپہلے عقل کے معیار پر رکھنے کی ضرورت ہے ۔وہ جبلی خواہشات جن کاتعلق بدن کے دیگر حصوں سے بنتا ہے انہیں اس سر اوردماغ کے ماتحت ہونا چاہیے ۔دل کودماغ کے نیچے رکھا گیا ہے۔ یہ انسانی جذبات کا سرچشمہ ہے۔ ہاں ان جذبات کو عقل کے ماتحت ہونا چاہیے۔انسان کا اپنا ڈھانچہ اس راہ و روش کومتعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔ زندگی کی عملی تشکیل بھی اس ڈھانچے کے مطابق ہونا چاہیے۔

انسان کی کیفیات گا ہے ایسی ہوتی ہیں کہ کام تو کررہاہوتا ہے لیکن بے دلی کے ساتھ،کبھی آپ نے کسی ضدی بچے کو اسکول جاتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ بعض کی اپنے دفتر آتے ہوئے بھی ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ اگرچہ ذہن کہتا ہے کہ دفتر جانا اہم ہے ،ضروری ہے لیکن دل نہیں چاہ رہا ہوتا۔ یہی ضدی بچے اسکول سے گھر آرہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ ان کا دل بھی شریک ہوتاہے۔ عقل کی باتیں جب دل نشین ہوجاتی ہیں تو انسان ان پرخوشی خوشی عمل کرتاہے ،ان کے لئے خوشی خوشی حرکت کرتاہے، یا پورے اطمینان سے قدم اٹھاتا ہے۔

البتہ اگر ایک بات دل میں ہے لیکن وہ سر سے ہوکرنہیں آئی، یعنی عقل نے اسے نہیں پرکھا ،فکر نے اسے نہیں جانچا اور وہ معیار عقل پر پوری نہیں اترتی تو وہ دل میں بسا کر اور سینے سے لگا کر رکھنے کے قابل نہیں ہے۔ سوچے سمجھے بغیردل میں رکھی گئی باتوں کی صحت مشکوک ہوتی ہے اور وہ اکثر دل کو بھی بیمار اور روگی کردیتی ہیں۔ عقل کا کام حق وباطل اورسچ اورجھوٹ میں تمیز کرنا ہے۔ انسان کی سماعت و بصارت کوزبان و بیان کو اور ہاتھ پاؤں کو سب کو عقل کے ماتحت ہونا چاہیے۔ نیچے کے سارے اعضاء دل کی خواہشات پر حرکت کرتے ہیں اوران خواہشات کو عقل کی نظارت سے ہوکر گزرناچاہیے۔ دل کے ارمان ہی نہیں دل کا ایمان بھی عقل کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہم نے جن چیزوں کودین سمجھ رکھا ہے مذہبی عقائد قرار دے رکھا ہے اوران کی بنیاد پرہم بہت کچھ کرتے ہیں انھیں بھی پہلے عقل کی کسوٹی پرپرکھنے کی ضرورت ہے۔ انسان مذہبی عقائد کے نام پردوسروں سے لڑتا ہے جھگڑتا ہے ،مارتا ہے اور مرتا ہے، اپنا سب کچھ مذہب کے نام پر تج کردیتا ہے کیا اس نے ان کے بارے میں کبھی آزاد ہوکر سوچا ہے؟ اگر ہم اپنے نظریات وعقائد کواپنی عقل پر پیش کرنا شروع کردیں تو مذہب کے نام پر ہونے والا زیادہ تر فساد فی الارض ختم ہوجائے ۔

عقل کی جوباتیں دل نشین نہیں ہوتیں وہ بھی گویاہوا کہ دوش پر رکھے ہوئے چراغ کی طرح ہوتی ہیں۔ دانائی اور بصیرت کی باتیں تو سینے سے لگا کر رکھنے کے قابل ہوتی ہیں ۔اگر سنبھال کر نہ رکھی گئی ہوں تو پھر عقل بڑی حیلہ گر بھی ہوتی ہے۔ وہ بڑی تاویلیں کرنے لگتی ہیں ۔ وہ بات سے بات نکال لیتی ہے۔

ایک شخص جسے ہم فقیہ کہتے ہیں، وہ وسائل اجتہاد سے کام لیتے ہوئے غوروخوض کرکے ایک فقہی حکم نکال لاتاہے۔ فقط ظواہر احکام کودیکھنے والا اس کے ظاہر پر عمل کرکے فارغ ہوجاتاہے لیکن ایک عارف اور ولی خدا کے حکم پر کیفیات ایمانی کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ وہ اپنے آقا کے حکم کو دل میں بسا لیتا ہے وہ اس کے ذریعے رضائے الٰہی اور لقائے الٰہی کی تمنا کرتا ہے۔ دین جب تک آرزو نہ بن جائے، تمنا نہ بن جائے اور ایمان نہ بن جائے اپنا صحیح کردارادا نہیں کرسکتا اوراپنی مطلوبہ تاثیر پیدانہیں کرسکتا۔ ہمارے عرفاء انہی کیفیات کو عشق کانام دیتے ہیں۔ وہی عشق جو اپنے ابتدائی مرحلے میں نپاتلا ہوتا ہے اورآخری مرحلے میں بے کراں ہوجاتا ہے یہ عشق فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہوتاہے۔ عمرگزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تندی کندی میں نہیں بدلتی ،اس کی شوخیاں ماندنہیں پڑتیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوجاتا ہے اور یہی وہ ایمان وعشق ہے جو انسان کے قدم بڑھانے میں قوت محرکہ کاکام دیتاہے اور پرواز کے لئے بال جبریل بن جاتا ہے۔

یہ قوت محرکہ کا مسئلہ انفرادی طور پر بھی اہم ہے اوراجتماعی لحاظ سے بھی قوت محرکہ کے بغیر انفرادی حرکت بھی ختم ہوجاتی ہے اورمعاشرتی رفتار بھی۔ کمیونزم کی تباہی اور نابودی کی ایک وجہ اہل نظر نے یہی بیان کی ہے کہ وہ اس قوت محرکہ سے محروم ہے جسے ہم ایمان کہتے ہیں اورجس کا ٹھکانادل ہے ۔ کمیونزم نے کہا کہ آپ خوب محنت کریں اورماحصل میں سے صرف ضرورت کے مطابق لے لیں۔ ساتھ کمیونزم نے نظریات پر ہاتھ مارا اورکہا کہ معاشرے کی تمام تر حرکت کی بنیاد اقتصاد اورمعاشیات ہے۔پھر کہا اس کائنات کا کوئی والی وارث نہیں۔ انسان حسن اتفاق یا سوئے اتفاق سے پیداہوگیاہے۔ اپنی خلقت کے حوالے سے کوئی جواب دہی نہیں رکھتا ۔موت آئی تو مرجائے گا۔ موت اس کا اختتام ہے۔ پھر کہاکہ آپ اپنی اضافی آمدن بیماروں ، بوڑھوں اور بچوں کے لئے چھوڑدیں، اپنی محنت کا وہ نتیجہ جو آپ کی ابتدائی ضروریات سے زیادہ ہے وہ دوسروں کے لئے ایثار کریں ۔موت کے بعد ظلمت ناپیدا کنارہے۔ جس کے بعد کوئی حیات نہیں عدم ہی عدم ہے وجود کا کوئی پتہ نہیں۔ جب یہی زندگی ہے توپھر کوئی اپنی کمائی دوسروں کے لئے کیوں چھوڑے؟اس سوال کا کمیونزم کے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس کاجواب ’’ایمان ‘‘والوں کے پاس ہی ہوسکتا ہے۔ جن کے پاس’’ایمان‘‘کا جذبہ محرکہ ہے وہ ایثار کریں گے اور مسکرا کر۔

سیدہ زینب سب کچھ قربان کرکے اورامام حسین جیسے بھائی کی شہادت کی خبر سن کر سجدہ ریز ہوگئیں اورجب انھیں اپنے بھائی کی لاش کے پاس سے گزارا گیا تو کہنے لگیں:

اللھم تقبل منا ھذا القلیل من القربان

’’پروردگارا! ہماری یہ قلیل قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرما‘‘۔(۱۳)

یہ سب ایمان کا ہی نتیجہ ہے ۔یہی وہ ایمان ہے جو دلوں میں جاگزیں ہوتاہے۔

وحی کا تعلق بھی دل سے بیان کیا گیا ہے ۔وحی اور ایمان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایمان پاک دل میں جاگزیں ہوتا ہے اوروحی انتہائی شفاف سینوں اورنہایت پاکیزہ دلوں پراترتی ہے۔وحی دراصل معرفت ودانائی کی پاکیزہ ترین اور اعلیٰ ترین صورت کا نام ہے۔ البتہ اس کے بہت سے درجے ہیں۔جس کی طرف قرآن حکیم نے یہ کہہ کراشارہ کیا ہے:

فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰہَا

نفس انسانی کوہم نے فجور وتقویٰ ہر دو کی بصیرت کا الہام کیا ہے (۱۴)

پھر اس کے بعد بالاتر درجے ہیں:مثلاً فرمایا گیا:

وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا

جولوگ ہماری طرف آنے کی جدوجہد کرتے ہیں ہم انھیں اپنے راستوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔(۱۵)

یعنی ان دلوں پرہدایت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔یہ الہام و ہدایت دونوں،دلوں پر نزول کرتے ہیں۔ ہدایت یافتہ دل محبت بھی کرتے ہیں اورنفرت بھی، نرم بھی ہوتے ہیں اور سخت بھی۔ دل کو سخت ہونا بھی چاہیے ان چوروں کے لئے جو ایمان جیسا گوہرچرانے کے درپے ہوتے ہیں اور انھیں محبت کرنا ہی چاہیے ان نور بانٹنے والوں سے جودلوں کی ظلمت کی روشنی میں بدل دیتے ہیں۔ دلوں کونفرت کرناہی چاہیے۔ بری قدروں اور غلط راہ وروش سے جو انسان سے اس کا شرف چھین لیتی ہیں اور پیار کرنا چاہیے اعلیٰ انسانی قدروں سے جنھیں ہم انبیاء کالایا ہوادین کہتے ہیں۔

******

حوالہ جات

۱۔       ۱۶۔سورہ النحل ،۷۸

۲۔       ۲۲۔الحج،۴۶

۳۔       ۲۴۔النور،۳۷

۴۔       ۴۹۔الحجرات ،۱۴

۵۔       ۳۔آل عمران،۱۰۳

۶۔       ۵۔المائدہ،۱۳

۷۔       ۲۔ البقرۃ،۷۴

۸۔       ۹۔التوبۃ،۱۲۸

۹۔       ۳۔آل عمران،۱۵۹

۱۰۔     ۲۔بقرہ:۲۶۰

۱۱۔     ۴۹۔حجرات:۳

۱۲۔     ۲۔البقرۃ،۱۰

۱۳۔     شاکری،حسین :العقیلہ والفواطم (قم،ط :ادارہ حکمت )ص۶۱

۱۴۔     ۹۱۔الشمس ،۸

۱۵۔     ۲۹۔العنکبوت ،۲۹

  • مشاہدات: 314

قرآنی تعلیمات کی عقلی بنیادیں

قرآنی تعلیمات کی عقلی بنیادیں

ثاقب اکبر

قرآن حکیم کی دعوت کا رخ عقل انسانی کی طرف ہے۔اس نے فکر کو اپیل کی ہے اور عقل کو حرکت میں آنے کی دعوت دی ہے۔

قرآن حکیم کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ کوئی بات خواہ کائنات سے متعلق ہو یا انسان سے،اخلاق سے متعلق ہویا تاریخ سے،عقاید سے متعلق ہو یا احکام سے قرآن حکیم اسے عقل کے پیمانے پر پرکھتا ہے اور اسی معیار پر اسے قبول یا رد کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک اس کی تعلیمات کی سچائی کا انحصار عقل پر ہے اور ان کی سچائی کا پیمانہ عقل ہے۔شاید یہ معلومات قارئین کی نظر میں مفید ہوں:

قرآن حکیم میں تقریباً ستر مقامات پر حجتِ عقل کی طرف اشارہ ہوا ہے یعنی عقل کو حق وباطل ، سچ اور جھوٹ اور صحیح وغلط کے پرکھنے کے لئے کسوٹی قرار دیا گیا ہے۔

قرآن حکیم میں عقل کا مادہ انچاس مرتبہ استعمال ہوا ہے۔

قرآن حکیم میں ’’ف ق ہ‘‘کا مادہ بھی استعمال ہوا ہے جو غور وفکر کرنے اور سمجھنے سوچنے کا معنی دیتا ہے۔

اٹھارہ مرتبہ قرآن پاک میں ’’فکر‘‘کا مادہ استعمال ہواہے۔

غورو فکر ہی کے مفہوم میں ’’تدبر‘‘کا مادہ اور کلمہ بھی قرآن شریف میں چار مرتبہ آیا ہے۔

یہ تو ان آیات کا ذکر ہے جن میں براہ راست عقل وفکر اور تدبر وتفقہ کے کلمات اور مادے استعمال ہوئے ہیں لیکن اگر آپ کھلی نگاہوں سے قرآن حکیم کا مطالعہ شروع کر دیں تو دیکھیں گے کہ مسلسل بالواسطہ یا بلاواسطہ عقل انسانی کو جھنجھوڑتا ہے اور فطرت انسانی کو دعوتِ بیداری دیتاہے۔

قرآن حکیم میں فطرت انسانی کے الٰہی فطرت سے ہم آہنگ ہونے کا مسئلہ کچھ زیادہ گفتگو اور غور وفکر کا محتاج ہے ۔ہم اس حوالے سے یہاں پر مختصراًصرف یہ عرض کرتے ہیں کہ قرآن کے بقول اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے:

فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا(۱)

اللہ کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔

پھر وہ اپنی تعلیمات اسی فطرت کے مطابق پیش کرتا ہے،اسی کو معیار بناتا ہے۔اگر فطرت کا مفہوم واضح ہوجائے تو بہت سے انسانی اور دینی مسائل حل ہوجائیں گے کیونکہ ممکن نہیں کہ دین کی کوئی تعلیم یا کوئی حکم اس فطرت کے مخالف ہو۔

عقل کو اپنی تعلیمات کا جس طرح قرآن نے معیار بنایا ہے،اس کی مثال کسی اور کتاب میں پیش نہیں کی جاسکتی۔

ارشاد الہٰی ہے:

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(۲)

چلنے پھرنے والوں میں سب سے برے وہ گونگے اور بہرے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

’’دواب ‘‘جمع ہے ’’دابہ‘‘کی۔ہر حرکت کرنے والے،جنبش کرنے والے اور چلنے پھرنے والے کو دابہ کہتے ہیں۔گویا حیوان اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔اب ذرا غور کیجئے گدھے کے بھی کان ہوتے ہیں بلکہ گھوڑے سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے بھی بہت بڑے بڑے کان ہوتے ہیں۔ بہت چھوٹے چھوٹے جانور بھی سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں کیا ان کانوں سے بہروں کا ذکر ہے؟اسی طرح گونگوں کا بھی مسئلہ ہے۔چرندوں اور پرندوں کے منہ سے بھی آواز نکلتی ہے۔ چڑیوں کے چہچہوں اور کوئل کی کوکو کاذکر آپ نے سنا ہو گا بلکہ یہ صدائیں آپ نے بھی سنی ہوں گی ۔بلبل اور پپیہے کے نغموں کے بہت تذکرے ہوتے ہیں۔کیا اس نغمہ و آواز سے محروم کو یہاں گونگا کہاگیا ہے؟نہیں بلکہ ’’الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْن‘‘وہ لوگ جو عقل سے کام نہیں لیتے،یہاں ان کا ذکر ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسے انسانوں کو بد ترین کیوں کہا گیا ہے حالانکہ گدھا تو عقل ہی سے محروم ہے۔اسے بدترین کیوں نہیں کہا گیا؟گدھے کو کبھی کسی نے کہا ہے کہ تم بڑے بے وقوف ہو ،عقل سے کام نہیں لیتے ہو؟اسے یہ بات اس لئے نہیں کہی جا سکتی کہ اس کے پاس عقل ہی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ عقل سے کام نہ لینے والا انسان گدھے سے بدترہے۔

قرآن دلیل دیتا ہے اور دلیل مانگتا ہے:

قرآنی تعلیمات کے عقل وفکر کی بنیاد پر استوار ہونے کی دلیل یہ ہے کہ قرآن حکیم اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے بھی دلیل ومنطق کو بنیاد بناتا ہے اور دوسروں سے بات کرتے ہوئے ان کے نظریے کی دلیل مانگتا ہے۔ مثلاًاپنے مخالفین کو رسول اللہ کے توسط سے کہتاہے:

قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (۳)

کہو اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل وبرھان پیش کرو۔

ظاہر ہے یہ رویہ اسی کا ہوسکتا ہے جو خوددلیل وبرہان کے پیمانے کو قبول کرتا ہے اور جسے اپنے نقطہ نظر کے منطقی اور استدلالی ہونے پر اعتماد ہے۔

احکام کا منطقی اور بامقصد ہونا:

قرآن مجید نے اپنے خصوصی احکام کے لئے بھی دلیل‘ مقصد اور ہدف بیان کیا ہے۔ قرآن کا اس سلسلے میں رویہ ان مقتدر بادشاہوں کا سا نہیں جو حکم دینے کے بعد کیوں ؟کس لئے؟کے الفاظ سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ ان کے حکم پر آنکھیں بند کرکے عمل کیا جائے۔ مثلاً قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن صرف حکم پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ اس کے مقاصد بھی بیان کئے گئے ہیں۔مثلاً ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ(۴)

یقیناً نمازفحش کاموں اور نافرمانیوں سے بچاتی ہے۔

اگرچہ ایسی آیات میں براہ راست عقل کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن عقل کی کارفرمائی ان میں پوری طرح روشن ہے۔گویا یہاں دلیل پیش کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے انسانو اور ایمان والو! ہم نے جو تمہیں بار بار نماز کا حکم دیا ہے تو اس کی کوئی وجہ ہے، کوئی عقلی بنیاد ہے اور یہ خود تمھارے مفاد میں ہے۔ یہ تمہیں ہی گناہوں سے بچاتی ہے، غیر انسانی کاموں سے تمھیں محفوظ رکھتی ہے۔

روزوں کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (۵)

اے ایمان والو! جیسے پہلوں پر روزے فرض کیے گئے تھے تم پر بھی فرض کیے گئے ہیں تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔

یہاں پر بھی بے دلیل شہنشاہی حکم نہیں بلکہ با دلیل الٰہی حکم ہے۔ روزوں کا مقصد یہ ہے کہ تم پرہیزگار ہو جاؤ تم متقی بن جاؤ۔ جب حلال چیزوں کو حکم خدا پر کچھ عرصے کے لئے چھوڑنے پر آمادہ ہو جاؤ گے تو حرام سے پرہیز کرنے کا شعور خود بخود اجاگر ہوگا۔ جب خدا کی خاطر بھوک پیاس سہنے کے عادی ہو جاؤ گے تو شاید کسی غیر خدا سے بھوک مٹانے کے لئے اپنے نفس کا سودا کرنے سے بچ جاؤ۔

بحث کا ایک نیا باب :

احکام کا مقصد بیان کرنے اور ان کے ہدف دار اور علت دار ہونے سے بحث کا ایک نیا باب کھلتا ہے جو زیر نظر موضوع سے متعلق تو نہیں تا ہم کچھ اشارہ کردینا ہم مفید سمجھتے ہیں۔

اس گفتگو میں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ہر حکم کے پس منظر میں کوئی فلسفہ،وجہ اور سبب کار فرما ہے ۔اگر انسان اس پر نظر رکھتے ہوئے احکام اسلامی کو سمجھے اور اختیار کرے تو ایک فائدہ یہ ہوگا کہ کام انجام دیتے ہوئے اصل مقصد ملحوظ نظر رہے گا مثلاً ابھی بیان ہوا ہے کہ نماز برے کاموں سے بچاتی ہے اب آپ اپنا جائزہ لے سکتے ہیں اگر آپ نماز پڑھتے ہیں اور برے کاموں سے بچتے ہیں تو درست ہے لیکن اگر برے کاموں سے نہیں بچتے تو پڑھ کر بھی نماز نہیں پڑھتے ۔دوسرا فائدہ اور دوسرا نکتہ ہم محققین کے لئے عرض کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ احکام کے استنباط کے عمل میں عقل انسانی اگر حکم کے مقصد تک پہنچ جائے تو بہت مدد ملے گی ،کئی آفاق روشن ہوجائیں گے اور شاید استنباطِ حکم کے مسئلے میں جوبہت سے اختلافات ظہور میں آتے ہیں،ان سے ہم بچ جائیں یا کم ازکم فروعی اختلافات کا چھوٹا ہونا،مقصد کے پیش نظر ہم پر زیادہ روشن ہوجائے۔

آباء کی پیروی_آخر کس دلیل پر؟

قرآن حکیم بعض مقامات پر اپنے نہ ماننے والوں کی دلیل کی کمزوری اور بنیاد کی ناپائیداری کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے ۔اس سلسلے میں آباء واجداد کی اندھی تقلید کی تو بہت مرتبہ مذمت کی گئی ہے اوراس کے بوداپن کی طرف توجہ دلائی گئی ۔ایک آیت ملاخطہ ہو:

وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَنَا اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْءًا وَّ لاَ یَھْتَدُوْنَ )۶(

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا اگرچہ ان کے بڑے کسی چیز کی بھی سوجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں۔

اس سے واضح ہوگیا کہ اسلام کو یہ پسند نہیں کہ آپ اپنے آباء یا اپنی پسند کے کسی فرد کے کام کو ہی بس اپنے لئے دلیل عمل قرار دے لیں۔

آیات الٰہی پر بھی اندھے ہوکر نہ گر پڑیں:

شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہوکہ قرآن تو اس کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ آپ آنکھیں بند کر کے آیات الٰہی پر گر پڑیں ۔قرآن خود اپنی بھی اندھی تقلید کو جائز نہیں گردانتا قرآن تو بصیرانہ پیروی کی دعوت دیتا ہے ۔وہ تو علی وجہ الصبیرت )۷(قدم اٹھانے کا حکم دیتاہے۔

سورہ فرقان کی ایک آیت اس سلسلے میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔اس کی آخری آیات میں’’عباد الرحمن‘‘کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے:

وَالَّذِیْنَ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا (۸)

یہ)عبادالرحمن(وہ لوگ ہیں کہ جب انھیں ان کے رب کی آیات کی طرف متوجہ کیاجاتا ہے تو گونگے اور اندھے ہوکر ان پر نہیں گر پڑتے ۔

گویااجازت نہیں کہ آیات الٰہی پربہرے اور اندھے ہوکر گر پڑیں کیونکہ اللہ تعالی کی آیات آنکھیں کھولنے کے لئے ہیں۔کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے لہٰذا آنکھیں بند کرکے اس پر گر پڑو ۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آنکھیں کھو لو ،غوروفکر کرو،قرآن تو دعوت تفکروتدبر دیتا ہے۔ اللہ کے ہر حکم میں حکمت تلاش کرو،مقصد کی جستجو کرو اور پھر عمل کرتے ہوتے اندھا دھند قدم نہ اٹھاو بلکہ اس حکمت کی روشنی میں آگے بڑھو اور اس مقصد کو پیش نظر رکھو ۔ہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ ’’آیات رب‘‘سے یہاں مراد فقط قرآنی آیات نہیں بلکہ ساری کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیاں ،اس کے وجود کی علامتیں اور اس کے راستے کی راہنمائی کرنے والے سنگ میل ،سب اس میں شامل ہیں۔

قرآنی حروف کی گنتی اور ثواب کا حساب:

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک یہی سنا ہے کہ اگر ہم نے الف،لام اور میم اپنی زبان سے ادا کردیا تو ہماری تیس نیکیاں ہوگئیں ۔اس کے لئے احادیث بھی جب پڑھ کر سنادی گئیں تو بس پھر کیا تھا ؟حروف گنے اور انھیں دس سے ضرب دی اور ثواب کا بینک بیلنس دیکھ کر خوش ہوگئے۔ ہم تو قرآن کی آیات پر بھی آنکھیں بند کرکے گرے ہوئے تھے ،اب روایات بھی ہماری مدد کو آگئیں ،ہمیں اور بھی تھپکیاں مل گئیں اور لوریاں سنائی دینے لگیں ۔ضرورت تو اس بات کی تھی کہ آیات وروایات کو ہم آنکھیں کھول کر دیکھتے ۔ ان کا مقصودو مطلوب سمجھنے کی کوشش کرتے ۔اس مسئلے کوواضح کرنے کے لئے ہم ایک مثال عرض کرتے ہیں :

آپ مجھ سے پوچھیں :کیا آپ نے فلاں کتاب پڑھی ہے؟میں کہوں :جی ہاں!

ِِآپ پوچھیں :اس میں مذکورفلاں نظرےئے کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟

میں کہوں :جناب یہ کتاب میں نے پڑھی تو ہوئی ہے ،سمجھی نہیں ہوئی۔

تو کیا آپ نہیں کہیں گے:کیسا عجیب آدمی ہے؟کیا کتاب پڑھنے کا مطلب ہجے کرکے ،حروف کو جوڑ کرپڑھنا ہے ؟ہر گز نہیں پڑھنے کا مطلب حتی المقدور سمجھ کر پڑھنا ہے تو پھر یہ قرآن بے چارہ اتنا مظلوم کیوں ہے ؟صرف اسی پر پڑھنے کا اطلاق بے سمجھے پڑھنے پر کیوں ہوتا ہے ؟شاید یہ دنیا کی واحد ایسی کتاب ہے اور سب سے مظلوم بھی کہ جس کا آپ ایک لفظ بھی نہ سمجھے ہوں پھر بھی دعویٰ کر سکتے ہیں کہ میں نے قرآن پڑھ رکھا ہے ۔حروفِ قرآن سے آیات قرآن کت رسائی ہوتی ہے۔ آیات کی تلاوت معانی و مفاہیم جاننے کی رغبت پیدا کرتی ہے اور اگلے مرحلے میں قارئ قرآن کی فکر ونظر بدل جاتی ہے۔ گویا حروف و الفاظ کی تلاوت معارف قرآنی تک رسائی کا مقدمہ ہے۔ گویا مذکورہ احادیث ہمیں قرآن حکیم کے اصل مقصد تک پہنچنے کے لیے رغبت دلاتی ہیں۔ زبان سے حروف کی ادائیگی تک رُک جانا ان روایات کے مقصد کے خلاف ہے کیونکہ ایسی روایات کے مقابلے میں دیگر روایات بھی ہیں جو قرآن کے صرف حرف ادا کرنے والے قاریوں کی مذمت کرتی ہیں اور قرآن حکیم کی کئی ایک آیات بھی واضح طور پر قرآن مجید میں فکرو تدبر نہ کرنے والوں کی مذمت کرتی ہیں۔ اس لیے کسی ایک روایت کو سامنے رکھ کر اور دیگر آیات و روایات کو نظرانداز کرکے اس کا مفہوم متعین کرنا درست نہیں۔

ہم نے ثواب کا بھی معنی نہیں سمجھا،ہم نے حسنہ اور نیکی کا مفہوم بھی نہیں سمجھا۔روایات یہ کہنا چاہتی ہیں کہ قرآن کے ایک ایک حرف سے تمھاری فکر ،فضیلت اور بصیرت کے دس دس درجے بلند ہوں گے ۔اس کا حرف حرف تمھارے لئے حسنات اور بھلائیوں کے دروازے کھول دے گا ۔تمھیں ثواب ہوگا ۔یعنی اسے پڑھو کہ اس کے پڑھنے سے تمھیں فائدہ حاصل ہوگا۔

قرآن کی ایک عجیب وغریب آیت ہے۔انسان اس پر غوروفکر کرے تو کانپ اٹھتاہے اور اللہ کے حضور اپنی موجودگی کو عجیب حالت میں پاتا ہے۔آیت یوں ہے:

وَ مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا(۹)

جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا بلکہ اور بھی بھٹکا ہوا۔

گویا جو اس دنیا میں اندھے ہیں آخرت میں اندھے ہی محشور ہوں گے ۔بصیرت سے محروم ،دانائی سے محروم، معرفت الٰہی سے محروم ،سب اندھے ہیں ۔ یہ سب اندھے اٹھائے جائیں گے ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن کے ماتھے کے نیچے کی آنکھیں نہیں دیکھتیں وہ اندھے اٹھائے جائیں گے۔ان میں سے تو بہت سے عارف باللہ گزرے ہیں ۔ان میں سے تو بہت سوں کو رسول اللہ اور اولیا ء اللہ کی صحبتیں اوران کا فیضان نصیب ہوا ہے،کیا وہ سب اندھے محشور ہوں گے اورنمرود ،شداد اور فرعون آنکھوں والے محشور ہوں گے ؟نہیں، ہر گز نہیں ۔نبی پاک کے ایک نابینا صحابی کی پاک دلی کا ذکر تو خود خدا تعالیٰ نے کیا ہے۔چہرے پر سجی آنکھیں تو جانوروں کے پاس بھی ہیں۔یہاں اس امر کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ جو بینائی ،بصیرت اور دانائی یہاں میسر نہیں، آخرت میں بھی نصیب ہونے کا امکان نہیں ۔لہٰذا انسان کو تمناکرنی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ آنکھوں کے سامنے جوپردے پڑے ہیں ،وہ ہٹ جائیں۔

علت ومعلول کا اصول:

قرآنی تعلیمات کی عقلی بنیادوں پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ قرآن علت و معلول اور سبب ومسبب کے اصول کو تسلیم کرتا ہے ۔مثلاً ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ )۱۰(

اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔

مراد یہ ہے کہ اچھا عمل کرو گے تو اللہ کے قانون کے مطابق اچھا نتیجہ پاؤگے ۔اللہ کے قانون اوراللہ کی سنتیں اس کائنات کی سانسوں میں رواں دواں ہیں ۔یہ قانون الٰہی ہے کہ قومیں اگر اپنی حالت کو تبدیل کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوں گی اور جدوجہد کریں گی تو تبدیلی عمل میں آئے گی۔فقط آرزو کرنے اور بیٹھ رہنے سے نتیجہ مرتب نہیں ہوگا۔

عقل پر اعتماد:

بعض مقامات پرقرآن حکیم نے براہِ راست حکم دینے کے بجائے عقل انسانی سے پوچھا ہے کہ بتاؤ اس مسئلے میں کیا حکم ہونا چاہیے ؟بس جو حکم عقل کا ہے وہی حکم اللہ کا ہے ۔مثلاً فرماتا ہے:

ہَلْ جَزَآءُ الْاِِحْسَانِ اِِلَّا الْاِِحْسَانُ )۱۱(

کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ ہے ؟

یہاں نہیں فرماتا کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہے،بھلائی کے جواب میں بھلائی کیا کرو بلکہ انسانی عقل پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے کہ بتاؤ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ ہے؟یعنی کسی کے کہنے کی کیا ضرورت ہے یہ تو عقل انسانی پر روز روشن کی طرح واضح ہے۔

حسن وقبح عقلی یا شرعی:

یہیں سے ایک اور بحث کی طرف راستہ کھلتا ہے اور وہ ہے احکام کے بارے میں حسن وقبح عقلی یا شرعی کی بحث۔ قدیم ایام میں علمائے اسلام کے مابین اس بحث کا بازار گرم رہا ہے ۔ہم یہاں پر صرف اشارہ کرنے پر اکتفا کریں گے ۔بحث یہ ہے کہ کسی چیز کو اچھا یا برا قرار دینے کا معیار کیا ہے؟کسی چیز میں حسن ہوتا ہے یا قبح ہوتا ہے،عقل اس کے حسن یا قبح کی نشاندہی یا تائید کرتی ہے اور پھر شریعت بھی کہتی ہے کہ یہ چیز اچھی ہے یا بری ہے۔ یا پھر ایسا نہیں شریعت کسی چیز کو اچھا کہے تو وہ اچھی ہو جاتی ہے اور برا کہہ دے تو بری قرار پاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ عقل بھی اچھا یا برا قرار دے ۔مثلاً قمار بازی کیا عقلاً بری چیز تھی ،قبیح تھی اسی لئے شریعت نے بھی اسے برا کہہ دیا ہے یا پھر برائی اور قباحت اس میں شریعت کے کہنے سے پیدا ہوگئی ہے۔اس سلسلے میں علماء میں دو سر سخت مخالف گروہ رہے ہیں ۔اسی طرح مثلاً شریعت نے کہا ہے کہ شراب نہ پیو اسے ’’رجس من عمل الشیطان‘‘قرار دیا ہے ۔اب کیا یہ قرآن کے کہنے سے رجس ہوگئی یا رجس تھی اور قرآن نے بتایا ہے۔دیگر مخلوقات پر انسانی امتیاز اور ضرورت کے دلائل کو ملحوظ رکھا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ دین کے ہرحکم کا مقصد انسان کو سعادت وکمال سے ہمکنار کرنا ہے تو احکام میں حسن وقبح عقلی کے نظریے کی تائید کے سوا چارہ نہیں رہتا۔البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب اللہ کانبی آکراپنے عظیم خلق وکردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکم دیتا ہے تو حکم عقل کوبہت تقویت حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ایک ایمانی کیفیت جمع ہوجاتی ہے لیکن اللہ کا کہنا ،نبی کا کہنا درحقیقت انسانی عقل وفطرت ہی کی تائید ہے۔یہاں اس امرکی طرف اشارہ ضروری ہے کہ عقل بحیثیت عقل مطلق زیر بحث ہے۔

انبیاء عقلی خزینوں کونکالتے ہیں:

اس سلسلے میں امیر المومنین حضرت علی کاایک بہت خوبصورت قول ہے۔آپ فرماتے ہیں:

فبعث فیھم رسلہ وواتر الیھم انبیاء یستادوھم میثاق فطرتہ وینکروھم منسی نعمتہ ویحتجوا علیھم بالتبلیغ ویثیر وا لھم دفائن العقول ویروھم ا لایات المقدرۃ(۱۲)

پس اللہ نے ان میں اپنے رسول مبعوث کئے اور لگاتار انبیاء بھیجے تاکہ ان سے فطرت کے عہد وپیمان پورے کروائیں اس کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں، پیغام ربانی پہنچا کر حجت تمام کردیں ،عقل کے دفینوں کو ابھاریں اور انہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔۔۔

غور کیجئے رسول اللہ کے وصئ کریم نے بعثت انبیاء کا مقصد کیا سمجھا ہے۔ فرما رہے ہیں کہ فطرت انسانی میں پہلے سے موجود میثاق کو پورا کروانے کے لئے انبیاء آئے ہیں۔جو نعمتیں انسان بھول جاتے ہیں انبیاء انھیں یاد دلاتے ہیں۔ یاد وہی چیز دلائی جاتی ہے جو لاشعور کے نہاں خانے میں کہیں چھپی ہو‘ پردے میں چلی گئی ہو۔ عقل کے خزینوں اور دفینوں کو ابھارنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ خود انسان کے اندر جو خزانے مخفی ہیں‘ صلاحیتیں خوابیدہ ہیں‘ جو کمالات پنہاں ہیں انہیں ابھارنے کے لیے انبیاء تشریف لاتے ہیں۔

اگر نبی کہتے ہیں کمزوروں اور ضعیفوں کی مدد کرو‘ ہمسایوں کے دکھ سکھ میں شریک ہو‘ غیر اللہ کی غلامی سے نجات پاؤ‘ اپنے نفس کو جنت سے کم قیمت پر نہ بیچو‘ قطع رحمی نہ کرو‘ جھوٹ نہ بولو‘ ظلم نہ کرو‘ عدل قائم کرو‘ اپنے جسم کے ساتھ ساتھ سوچ کو بھی پاک کرو۔۔۔ تو اس میں کونسی چیز ایسی ہے کہ انسانی فطرت و عقل جس کی تائید نہیں کرتی۔

رہ گئیں بعض ایسی باتیں جو قرآن حکیم یا نبی کریم سے ثابت ہوں اور بعض لوگوں یا بہت سے انسانوں کو ان کی حکمت سمجھ نہ آتی ہو تو دین کی کلیات کی حکمت روشن ہو جانے کے بعد اور قرآن کی تعلیم اور رسول کی زندگی حکیمانہ اصولوں پر استوار ثابت ہو جانے کے بعد ہر فرد کے لیے ہر بات کی حکمت ثابت ہونا کب ضروری رہ جاتا ہے۔

حوالہ جات

۱۔         ۳۰۔روم:۳۰

۲۔         ۸۔انفال:۲۲

۳۔         ۲۔بقرہ:۱۱۱

۴۔         ۲۹۔عنکبوت:۴۵

۵۔         ۲۔بقرہ:۱۸۳

۶۔         ۲۔بقرہ:۱۷۰

۸۔         ۲۵۔فرقان:۷۳

۹۔         بنی اسرائیل:۷۲

۱۰۔      ۱۳۔رعد:۱۱

۱۱۔      ۵۵۔الرحمن:۶۰

۱۲۔      نہج البلاغہ، خطبہ نمبر۱

  • مشاہدات: 330

حروف مقطعات(۴)

مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہ

ثاقب اکبر

قبل ازیں ہم تین قسطوں میں قرآن حکیم کے حروف مقطعات کے بارے میں مختلف آراء اور ان کا تجزیہ قارئین’’ نور معرفت‘‘ کی خدمت میں پیش کرچکے ہیں۔ پیش نظر قسط اس سلسلے میں ہماری معروضات کا آخری حصہ ہے۔ جو موضوعات قبل ازیں زیر بحث آ چکے ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  • مشاہدات: 680

حروف مقطعات(۳)

مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہ

ثاقب اکبر

حروف مقطعات کے بارے میں عربی اور فارسی زبانوں میں مفسرین اور اسلامی دانشوروں نے نسبتاً زیادہ کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں حکما ء اور عرفاء کے نظریات بھی خاصے کی چیز ہیں۔ بعض علماء اور عرفاء نے ایسے ایسے مطالب ان حروف کے حوالے سے بیان کیے ہیں کہ انسان کی فکر و نظر کو جذب کر لیتے ہیں اور انسان کو مجبور کر لیتے ہیں کہ وہ ان پر گہری نظر ڈالیں۔

  • مشاہدات: 797

حروف مقطعات(۲)

مختلف آراء کا تجزیاتی مطالعہ

ثاقب اکبر

حروف مقطعات کا قرآن مجید میں موجود ہونا غیر معمولی ہے۔ ایسے حروف گذشتہ آسمانی کتب میں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے بارے میں زیادہ عجیب بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات پر اعتراض کے لیے تیار رہتے تھے، انھوں نے بھی حروف مقطعات کے بارے میں اعتراض نہیں کیا۔

  • مشاہدات: 1157