اقبال کا نظریہ اجماع اور عالم اسلام میں اس کا عملی ارتقاء۔۔۔ایک جائزہ

           اجتہاد کے بارے میں اپنے معروف خطبے "The Principle of Movement in Islam"میں علامہ اقبال اجماع کے بارے میں کہتے ہیں:

          ”فقہ اسلام کا تیسرا ماخذاجماع ہے اور میرے نزدیک اسلام کے قانونی تصورات میں سب سے زیادہ اہم ہے لیکن عجیب بات ہے کہ اس نہایت ہی اہم تصور پر اگرچہ صدر اسلام میں نظری اعتبار سے تو خوب خوب بحثیں ہوتی رہیں لیکن عملاً اس کی حیثیت ایک خیال سے آگے نہیں بڑھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ممالک اسلامیہ میں یہ تصور ایک مستقل ادارے کی صورت اختیار کرلیتا ۔ شاید اس لئے کہ خلیفہ چہارم کے بعد جب اسلام میں مطلق العنان ملوکیت نے سرا ٹھایاتو یہ اس کے مفاد کے خلاف تھا کہ اجماع کو ایک مستقل تشریعی ادارے کی شکل دی جاتی۔ اموی اور عباسی خلفاءکا فائدہ اسی میں تھا کہ اجتہاد کا حق بحیثیت افراد مجتہدین کے ہاتھ میں رہے، اس کے بجائے کہ اس کے لئے ایک مستقل مجلس قائم ہو جو بہت ممکن ہے انجام کار ان سے بھی زیادہ طاقت حاصل کرلیتی۔ بہرحال یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ اس وقت دنیا میں جو نئی نئی قوتیں ابھر رہی ہیں، کچھ ان کے اور کچھ مغربی اقوام کے سیاسی تجربات کے پیش نظر مسلمانوں کے ذہن میں بھی اجماع کی قدروقیمت اور اس کے امکانات کا شعور پیداہورہا ہے۔ بلاد اسلامےہ میں جمہوری روح کا نشوونما اور قانون ساز مجالس کا بتدریج قیام ایک بڑا ترقی زاقدم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مذاہب اربعہ کے نمائندے جو سردست فرداً فرداً اجتہاد کاحق رکھتے ہیں، اپنا یہ حق مجالس تشریعی کو منتقل کردیں گے۔ یوں بھی مسلمان چونکہ متعدد فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، اس لئے ممکن بھی ہے تو اس وقت اجماع کی ہی شکل ۔ مزید براں غیر علماءبھی جو امور میں بڑی گہری نظر رکھتے ہیں اس میں حصہ لے سکیں گے۔﴿١﴾

          “اجماع” کالغوی معنی “اتفاق” ہے۔ اس سے مراد “آراءکا اتفاق” ہے۔ اصول فقہ میں اجماع کے مفہوم، حجیت، حدود اور شرائط پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ کن افراد کی آراء کا اتفاق حجیت رکھتا ہے، اس سلسلے میں تمام آراءپر نظر ڈالی جائے تو کثرتِ تعبیر سے خواب پریشاں ہو کر رہ جائے۔ لگتا یہ ہے کہ اقبال نے جس تصور اجماع کو عصری تقاضوں کی روشنی میں قبول کیا ہے اس کی تعریف کچھ یوں بنتی ہے:

”مسلمانوں کے کسی ایک خطے، علاقے یا ملک کے لوگوں کی کثرت آراء سے منتخب ہونے والے افراد کی اکثریت کا کسی قانونی مسئلے پر شریعت اسلامی کے مقاصد کی روشنی میں اتفاق“۔

          اقبال کا تصور اجماع ان علماء کی رائے کے قریب ہے جن کے نزدیک اجماع مسلمانوں کے اہل حلّ و عقد کے اتفاق آراء سے عبارت ہے۔ بعض نے مدینہ کے اہل حق و عقد کے اتفاق رائے کو حجت قرار دیا ہے ۔ یہ مالکیوں کی رائے رہی ہے۔ ان کی اس رائے کا پس منظر یہ ہے کہ اسلام کا سب سے پہلا اور ہم ترین مرکز مدینہ ہی تھا جہاں رسول اللہ نے ہجرت کی تھی اور تبلیغ دین کا بڑا کام یہیں پر سرانجام دیا تھا لہٰذا وہیں کے لوگ دین کے احکام کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ امام مالک آج کے دور میں ہوتے تو عصرِحاضر کے احوال و ظروف کے پیش نظر ان کی یہ رائے نہ ہوتی۔ اس وقت اجماع کی جو تعریف علماءکے مابین زیادہ مقبول ہے ۔ وہ کچھ یوں ہے:

الاجماع ہو اتفاق جمیع المجتہدین من الامة الاسلامیة فی عصر من العصور بعد وفاة الرسول علی حکم شرعی ﴿٢﴾

اجماع رسول اللہ کی وفات کے بعد کسی ایک زمانے میں امت اسلامےہ کے تمام مجتہدین کا کسی حکم شرعی پر اتفاق کا نام ہے۔

          دور حاضر کے ممتاز شیعہ مجتہد جعفر سبحانی نے اس سے ملتی جلتی تعریف کی ہے:

الاجماع۔۔۔فی الاصطلاح اتفاق علماءعصر واحد علی حکم شرعی ﴿٣﴾

اجماع۔۔۔اصطلاح میں کسی حکم شرعی پر اےک زمانے کے علماءکے اتفاق سے عبارت ہے۔

          ان تعریفوں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان علماء کے نزدیک اجماع”حکم شرعی“ معلوم کرنے یا اخذ کرنے کا ذریعہ ہے۔ علامہ اقبال نے اجماع کی جس عملی شکل کی وکالت کی ہے روایتی علماء کی تعریف سے ویسا تشکل ظہور پذیر نہیں ہوسکتا۔ کسی بھی اسلامی سوسائٹی میں آزاد عوامی رائے دہی سے جو اسمبلی معرض ِ وجود میں آئے گی اس میںیقینی طور پر مذہبی علماء کی تعداد بہت کم ہوگی۔ ایران میں 1979ءکے اسلامی انقلاب کے بعد جتنی بار بھی مجلس شوریٰ اسلامی کے انتخابات ہوئے زیادہ تر کامیاب اراکین غیر علماء ہی تھے جبکہ وہاں ایک مذہبی حکومت موجود ہے، اسمبلی کے اسپیکر مسلسل علماءمیں سے منتخب ہورہے ہیں اور علماءکی ایک قابل لحاظ تعداد اسمبلی میں پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کی موجودہ پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینٹ) میں اس وقت روایتی علماء کی جتنی بڑی تعداد موجود ہے اس کی مثال ملک کی گزشتہ تارےخ میں نہےںملتی لےکن کسی بھی مکتب فکر کے مذہبی نمائندے پارلےمنٹ کے کسی بھی فےصلے کو “اجماع” کی سند عطا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ تاہم علماء کی کوئی کونسل اجتماعی اجتہاد کی صورت میں کسی نتیجے تک پہنچے تو صورت حال بدل جاتی ہے۔ علامہ اقبال اصولی طور پر تو کسی مجلس قانون ساز سے بالا ایسے ادارے کا وجود خطرناک قرار دیتے ہیں تاہم لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 21مارچ 1932ءکو اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے کہا:

میں تجویز کرتا ہوں کہ علماءکی ایک مجلس تشکیل دی جائے جس میںمسلم قانون دانوں کو بھی شامل کیاجائے جنھوں نے جدید اصول قانون کی تعلیم پائی ہو۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی قانون کی حفاظت اور توسیع اور اگر ضرورت ہو تو جدید حالات کی روشنی میں اس کی تعمیر نو کی جائے۔ اس میں اس روح کے قریب رہاجائے جو اسلامی قانون کے بنیادی اصولوںمیں کار فرما ہے۔ اس مجلس کو آئینی تحفظ حاصل ہونا ضروری ہے تاکہ مسلمانوں کے شخصی قوانین کے سلسلے میں کوئی بل اس وقت تک اسمبلی میں پیش نہ ہوسکے جب تک وہ مجلس کی نظروں سے گزر نہ جائے۔

          علامہ اقبال کی یہ تجویز نقل کرنے کے بعد ڈاکٹر خالدمسعود نے اس پر بجاتبصرہ کیا ہے:

اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تجویز اس وقت کی ہندوستان کی قانون ساز اسمبلیوں کی ہیئت کے پیش نظر دی گئی تھی اور غالباً عارضی تجویز تھی۔﴿٤﴾

          حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ایران کے موجودہ آئین کی رو سے ایک ایسا ادارہ تشکیل پایا ہے جو علامہ اقبال کی مذکورہ بالا تجویز جسے ڈاکٹر خالد مسعود عارضی قرار دے رہے ہیں، سے بہت حد تک مماثلت رکھتاہے۔ اس ادارے کو ”شورائے نگہبان“ کہتے ہیں۔ ایرانی آئین کی دفعہ 91 کی عبارت یہ ہے :

بہ منظور پاسداری از احکام اسلام و قانون اساسی از نظرعدم مغایرت مصوبات مجلس شورای اسلامی با آنھا، شورایی بہ نام شورای نگہبان باترکیب زیر تشکیل می شود:

(1)     شش نفر از فقہای عادل و آگاہ بہ مقتضیات زمان و مسائل روز،انتخاب این عدہ با مقام رہبری است

(2)    شش نفر حقوقدان، دررشتہ ہای مختلف حقوقی،ازمیان حقوقدانان مسلمانی کہ بہ وسیلہ رئیس قوہ قضاییہ بہ مجلس شورای اسلامی معرفی می شوند و با رای مجلس انتخاب می گردند۔

ترجمہ:

احکام اسلام اور آئین کی حفاظت کےلئے یہ دیکھنے کے لئے کہ مجلس شورائے اسلامی کے فیصلے ان کے خلاف نہیں ہیں ایک شوریٰ بنائی جائے گی جس کا نام شورائے نگہبان ہوگا۔ اس کی ترکیب یوں ہوگی:

(1)     زمانے کے تقاضوں سے آگاہ اور عصری مسائل سے واقف عادل فقہاء میں سے چہ افراد جنھیں رہبر منتخب کریں گے۔

 (2)    مسلمان قانون دانوں میں سے قانون کے مختلف شعبوں کے ماہر چھ افراد جنھیں عدلیہ کے سربراہ مجلس شورائے اسلامی کو تجویز کریں گے اور وہ مجلس کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے ۔

          آئین کی دفعہ 92کی عبارت یہ ہے:

کلیہ مصوبات مجلس شورای اسلامی باید بہ شورای نگہبان فرستادہ شود، شورای نگہبان موظف است آن راحد اکثر ظرف دہ روز از تاریخ وصول از نظر انطباق برموازین اسلام وقانون اساسی مورد بررسی قراردھد و چنانچہ آن را مغایر ببیند برائی تجدید نظر بہ مجلس باز گرداند۔ در غیر این صورت مصوبہ قابل اجرا است۔﴿٥﴾

مجلس شورائے اسلامی کے تمام بل شورائے نگہبان کو بھجوائے جائیں گے۔ شورائے نگہبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بل کی وصولی کے بعد زیادہ سے زیادہ دس دن کے اندر اس کے اسلامی معیارات اور آئین کے مطابق ہونے کے بارے میں تحقیق کرے۔ اگر خلاف پائے تو مجلس کو نظرثانی کیلئے واپس کردے وگرنہ بل قابل اجراء ہے۔

          علامہ اقبال  کو ایران کے 1906ء کے آئین میں موجود علماء کی الگ کونسل پر اعتراض تھا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ عارضی طور پر تو ایسا اہتمام قبول کیاجاسکتا ہے لیکن مستقل طور پر ایسا ہونا خطرناک ہے۔ وہ کہتے ہیں :

          1906ء کے ایرانی دستور میں تو اس امر کی گنجائش رکھ لی گئی ہے کہ جہاں تک امور دینی کا تعلق ہے ایسے علماءکی جو معاملات دنیوی سے بھی خوب واقف ہیں ایک الگ مجلس قائم کردی جائے تاکہ وہ مجالس کی سرگرمیوں پر نظررکھے۔ یہ چیز بجائے خود بڑی خطرناک ہے لیکن ایرانی نظریہ دستورکا تقاضا کچھ ایسا ہی تھا کیونکہ اس نظریے کی رو سے بادشاہ کی حیثیت اس سے زیادہ نہیںکہ امام غائب کی عدم موجودگی میں جو اس کا حقیقی وارث ہے، ملک کی حفاظت کا ذمہ دار ٹھہرے۔ رہے علماءسو بحیثیت نائبین امام ا ن کا حق ہے کہ قوم کی ساری زندگی کی نگرانی کریں۔ گو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ سلسلہ امامت کی عدم موجودگی میں وہ اپنا یہ دعویٰ کس طرح ثابت کرسکتے ہیں۔ بہرحال ایرانی نظریہ  دستور کچھ بھی ہو یہ انتظام بڑا خطرناک ہے اور سنی ممالک اسے اختیار بھی کریں تو عارضی طور پر۔ انہیں چاہئے کہ مجالس قانون ساز میں علماء کو بطور ایک موثر جزو شامل تو کرلیں لیکن علماء بھی ہر امر قانونی میں آزادانہ بحث و تمحیص اور اظہار رائے کی اجازت دیتے ہوئے اس کی رہنمائی کریں۔ بایں ہمہ شریعت اسلامی کی غلط تعبیرات کا سدباب ہوسکتا ہے تو صرف اس طرح کہ بحالت موجودہ بلاد اسلامیہ میں فقہ کی تعلیم جس نہج میں ہورہی ہے اس کی اصلاح کی جائے۔ فقہ کا نصاب مزید توسیع کا محتاج ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ جدید فقہ کا مطالعہ بھی بااحتیاط اور سوچ سمجھ کر کیاجائے۔﴿٦﴾

          1906ء کے ایرانی آئین میں اگرچہ علماءکی اےک الگ کونسل تجویز کی گئی تھی لیکن وہ دورِ بادشاہت تھا اور بادشاہ علماء کو قانون سازی کے امور میں اتنا اہم مقام نہیں دینا چاہتا تھا اور پھر دستور میں یہ امر بھی واضح نہیں تھا کہ اگر ایسی کونسل نہ بنائی گئی تو پھر مجلس کے پاس کردہ بل کا نفاذ نہ ہوسکے گا۔ لہٰذا عملی طور پر ایسی کوئی کونسل معرض وجود میں نہ آئی۔ اگرچہ محمد رضا شاہ پہلوی اپنے خلاف تحریک کے عروج کے زمانے میں یہ کونسل قائم کرنے پرآمادہ تھا تاہم وقت خاصا آگے بڑھ چکا تھا اور اب حالات کی لگام اس کے ہاتھ میں نہ رہی تھی۔ بہرحال علامہ اقبال تو اس صورت کو بھی مناسب خیال نہ کرتے تھے تو پھر ایران کے موجودہ آئین کے بارے میں ان کی کیارائے ہوتی۔ یہ سوال اپنی جگہ پرخاصا اہم ہے ۔

          رہی بات ان کے اپنے ملک کی تو پاکستان ان کی وفات کے کئی سال بعد معرض وجود میں آیا اور یہاں پر بھی قومی اسمبلی سے الگ ایک آئینی ادارہ قائم ہوگیا جسے اس وقت “اسلامی نظریاتی کونسل” کہا جاتا ہے۔ البتہ یہ ادارہ ارتقاء کی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر خالد مسعود اس طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی علامہ اقبال  کی رائے سے مطابقت کا بھی جائزہ لیتے ہیں:

          قیام پاکستان کے بعد اگرچہ قانون ساز اسمبلی میں واضح اکثریت مسلمانوں کی تھی اور اس لحاظ سے علامہ اقبال کی اس تجویز کو عملی جامہ پہنانا ممکن تھا کہ اسمبلی کو اجماع و اجتہاد کا ادارہ بنالیاجائے لیکن بوجوہ ایسانہ ہوسکا۔ اس کی بجائے پہلے پہل علماء کا خصوصی بورڈ قائم ہوا جو قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کی نگرانی و رہنما ئی کرسکے۔ تحقیقی ادارے مثلاً ادارہ تحقیقات اسلامی وغیرہ بھی قائم ہوئے۔ علماء کی مجالس اسلامی مشاورتی کونسل اور اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے آئینی تحفظات کے ساتھ قائم ہوئیں لیکن یہ چونکہ قانون ساز اسمبلی کا باقاعدہ حصہ نہیں اس لئے علامہ اقبال کی تجویز عمل میں نہیں لائی جاسکی اور وہ طریقہ جسے وہ سنی ملکوں کے لئے خطرناک سمجھتے تھے اکثر اسلامی ممالک میں رائج چلا آرہا ہے۔﴿٧﴾

          پاکستان میں مذکورہ ادارے کی حیثیت ہمیشہ مشاورتی رہی۔1973ءکے آئین کی دفعہ 229 کے مطابق :

          صدر اور گورنر اسلامی کونسل سے رائے طلب کرسکیں گے۔ اگر کسی ایوان یا صوبائی اسمبلی کے 2/5 ارکان حمایت کریں گے تو ایوان یا اسمبلی کسی سوال کو کونسل کی رائے معلوم کرنے کےلئے اس کے پاس بھیج سکے گی کہ کیاکوئی مسودہ قانون اسلامی اصولوں سے متصادم ہے یا نہیں؟

          علاوہ ازیں آئین کی دفعہ 230 کے مطابق کونسل پارلےمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو سفارشات پیش کرے گی نیز طلب کئے جانے پر صدر، گورنر،پارلےمنٹ، کسی اےک ایوان یا صوبائی اسمبلی کو مشورے فراہم کرے گی۔﴿٨﴾

          گویا ایران کے آئینی ادارے “شورائے نگہبان” اور پاکستان کے آئینی ادارے “اسلا می نظریاتی کونسل” میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شورائے نگہبان کی تائید کے بغیر ایران میں کوئی قانون نہیں بن سکتا جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل فقط سفارش کرسکتی ہے یا اس سے مشورہ طلب کیا جاسکتاہے۔ البتہ شورائے نگہبان کی اس حیثیت کی وجہ سے ایران میں قانون سازی کے عمل کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور ابتدائی دس سالہ تجربے کے بعد محسوس کیا گیا کہ مجلس اور شوریٰ کے مابین بہت سے بل ادھرسے ادھر آتے جاتے رہتے یا پھر ان کا سفر رک جاتا جبکہ بعض امور نہایت اہم ہوتے ہیں اور فیصلے کے متقاضی ہوتے ہیں۔ یہ سب اس کے باوصف ہوتا رہاکہ اسمبلی میں بھی علماء اور فقہا کی قابل ذکر تعداد ہوتی تھی نیز دونوں اداروں میں موجود علماء ایک ہی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے امام خمینی کی زندگی کے آخری سال (١٩٨٩) میں آئین میں ترمیم کرکے ایک نیا ادارہ قائم کیا گیاجسے  “شورای تشخیص مصلحت نظام” کہتے ہیں۔ اس کے بعد صورت حال یہ ہوگئی کہ اگر کوئی بل دو مرتبہ شورائے نگہبان کی طرف سے نامنظور ہوجائے اور مجلس کو پھر بھی اس پر اصرار ہو تو اسے “شورائے تشخیص مصلحت نظام” کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ یہ شوریٰ نظام یعنی نظام حکومت و ریاست کی مصلحت کی روشنی میں اس کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے۔ اس میں مجلس، شورائے نگہبان، حکومت اور عدلیہ کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس شوریٰ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

          اگر چہ ایران میں تمام ادارے مسلسل ایک ٹائم فریم کے مطابق اپنا کام کرتے رہتے ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ تین اداروں کی شمولیت سے قانون سازی کا سفر طویل ہوجاتا ہے۔

          پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل اگرچہ ایک مشاورتی ادارہ ہے تا ہم مختلف ادوار میں اس ادارے نے خاصی اہمیت بھی حاصل کی۔ سابق صدر جنرل ضیاءالحق نے مذہبی حوالے سے متعدد موضوعات پر کونسل سے مشاورت طلب کی۔ زکوٰة و عشر آرڈیننس اور حدود آرڈیننس کے نفاذ سے قبل کونسل نے اس حوالے سے بہت کام کیا۔ اس وقت باقاعدہ مقننہ موجود نہ تھی بلکہ ایک نامزد شوریٰ تھی۔ اسی شوریٰ کے پلیٹ فارم سے جنرل محمد ضیاء الحق نے ان قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا۔ دونوں آرڈیننس ہمیشہ اختلافی رہے اور معرکہ آرائی کا عنوان بنتے رہے۔ پہلا بڑا معرکہ تو زکوٰة و عشر آرڈیننس کے حوالے سے ہوا اور پھر مختلف گروہ اس سے مستثنیٰ ہوتے رہے اور اب اس آرڈیننس کے تحت لاگو کی گئی زکوٰة کی ادائیگی تقریباً تمام شہریوں کے لیے ایک طرح سے اختیاری ہوکر رہ گئی ہے جبکہ حدود آرڈیننس پر اس وقت تک معرکہ آرائی جاری ہے۔ یہ آرڈیننس حال ہی میں نظر ثانی کے لیے ایک مرتبہ پھر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا گیا تاہم جب معاملہ قومی اسمبلی میں پہنچا تو پھر ایک نئی معرکہ آرائی شروع ہوگئی۔

          آئین کے مطابق تمام قوانین پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مکمل نظر ثانی کی ذمہ داری بھی کونسل کو ادا کرنا تھی۔ کونسل نے اپنے تئیں اس سلسلے میں خاصا وقیع کام کیا ہے لیکن چونکہ یہ سب کچھ سفارشات کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت اور مقننہ کے لیے یہ سفارشات کسی قانونی وجوب(Binding )کا باعث نہیں ہیں اس لئے سفارشات کے یہ تمام دفاتر ایک علمی خدمت کے طور پر موجود ہیں ۔ البتہ یہ امر خاصی اہمیت رکھتا ہے کہ ملک میں دوسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے والے مذہبی اتحاد “متحدہ مجلس عمل” نے اپنے انتخابی منشور میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو “اسلامی قوانین” کے طور پر نافذ کرنے کا ذکر کیا ہے اور اس مذہبی اتحاد کے قائدین بارہا اپنی تقاریر اور بیانات میں ان سفارشات کو نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

          اس حوالے سے ایک دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب حدود آرڈیننس میں ترامیم کے لیے پیش کیے گئے حکومتی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسی مذہبی اتحاد نے اسلامی نظریاتی کونسل بلکہ تمام ریاستی اداروں سے ماورا ایک اورراستہ اختیار کیا۔

          اس تمام بحث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اجماع کے حوالے سے جو تصور علامہ اقبال نے پیش کیا تھا وہ پاکستان میں تاحال عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔

          اجتہاد کے بارے میں اپنے لیکچر میں جس تیسرے ملک کا ذکر علامہ اقبال نے کیا ہے اور دوسروں سے زیادہ کیا ہے وہ ترکی ہے جس کا سرکاری نام “جمہوریہ ترکی” ہے جبکہ ایران اور پاکستان دونوں “اسلامی جمہوریہ” ہیں۔ ترکی کا آئین سیکولر ہے۔ اس آئین نے ملک کی مسلح افواج کو اس کی سیکولر بنیادوں کا محافظ قرار دے رکھا ہے۔ جب اسلام اور اس کے منابع قانون سازی کے لیے وہاں ماٰخذ ہی قرار نہیں پاسکتے تو اجتہاد کے اسلامی قانون حرکت کا ذکر ہی منتفی ہوجاتا ہے۔ جمہوریہ ترکی کی افواج سیکولرزم کے حوالے سے خاصی سنجیدہ ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کی کسی مذہبی علامت کو بھی حکومتی ایوانوں میں برداشت نہیں کرتیں ۔ ترکی کی گزشتہ قانون ساز اسمبلی میں ایک ایسی رکن منتخب ہوگئی تھیں جو اپنے تصور کے مطابق اسلامی حجاب کے ساتھ ایوان میں آتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکولرزم کا تقاضا ےہ ہے کہ ہر شخص اپنے نظریات میں آزاد ہے لیکن وہ اپنا نظریہ دوسروں پر نہیں ٹھونس سکتا۔ ان کی رائے تھی کہ وہ اپنا یہ حجاب دوسروں پر مسلط نہیں کرتیں اور دوسرے بھی انھیں ترک حجاب مجبور نہ کریں ۔ بہر حال مختلف حیلوں بہانوں سے انھیں پارلیمنٹ سے فارغ کردیاگیا۔

          جیسا کہ علامہ اقبال کی عبارات سے ظاہر ہوتا ہے ان کے نزدیک “بلاد اسلامیہ میں جمہوری روح کا نشوونما اور قانون ساز مجالس کا بتدریج قیام ایک بڑا ترقی زا قدم” تھا۔ اس سلسلے میں اگر عالم اسلام کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ رفتہ رفتہ خاندانی بادشاہتوں اور شخصی آمرتیوں کا سلسلہ عالم اسلام میں کم ہوتا جارہا ہے اگرچہ اس حوالے سے ظہور اسلام کی سرزمین اور مشرق وسطیٰ میں صورت حال میں کوئی قابل ذکر تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی لیکن مسلم آبادی کے بڑے بڑے ممالک میں ” جمہوری روح کا نشوونما“ یقینی طور پر زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ او آئی سی (Organization of Islamic Conference)کے موجودہ ستاون اراکین میں سے چالیس اپنے آپ کو ”جمہوریہ“ (Republic) کہلاتے ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ بھی ایسے ممالک یا علاقے ہیں جہاں جمہوری تصور حکومت کو عملی طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اس کے لیے افغانستان اور فلسطینی ریاست کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ جہاں پر خاندانی حکمرانی کا نظام قائم ہے ان میں سے بعض ممالک میں منتخب قانون ساز ادارے موجود ہیں۔ اس کے لیے اردن اور کویت کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا یہ بات اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان عوام نے عام طور پر شورائی اور جمہوری طرز حکومت کی درستی کو تسلیم کرلیا ہے بلکہ اسے گزشتہ نظاموں کے نعم البدل کے طور پر قبول کر لیا ہے اور وہ عصر حاضر میں حکومت اور قانون سازی کے شورائی و اجتماعی تصور ہی کو درست سمجھتے ہیں۔ البتہ ابھی حقیقی جمہوریت اور اقبال کے تصور اجماع کے مطابق اسلامی سرزمینوں پر قانون سازی کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے تاریخ کو کچھ سفر مزید طے کرنا ہے۔ تاہم ہماری رائے میں اس راستے میں کچھ نظری اور عملی پہلو نہایت اہم ہیں۔ ہم ذیل میں چند ایک کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

﴿١﴾     اقبال کا تصور اجماع ان کے نظریہ اجتہاد کے مجموعی فریم ورک میں ہی قابل فہم ہے اور اسی فریم ورک میں قابل عمل ہے۔ اس کے لیے انھوں نے فقہ اسلامی کے بنیادی ماٰخذ قرآن و حدیث کے بارے میں جو گفتگو کی ہے وہ معنی خیز ہے۔ ہم یہاں اشارةً ان کے چند جملے نقل کرتے ہیں:

          قرآن حکیم کو اسلامی قانون کا اولین ماخذ قرار دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

قرآن کوئی قانونی ضابطہ نہیں، اس کا حقیقی منشا یہ ہے کہ ذہن انسانی میں اس تعلق کا جو اسے کائنات اور خالق کائنات سے ہے اعلیٰ اور بہتر شعور پیدا کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پاک میں قانونی نوعیت کے کچھ عام اصول اور قواعد و ضوابط موجود ہیں۔۔۔

          احادیث رسول کو وہ اسلامی قانون کا دوسرا ماخذ قرار دیتے ہیں البتہ ان کی مصدر قانون کے طور پر حیثیت کا وہ جس طرح تعین کرتے ہیں وہ ہماری روایتی مذہبی فکر سے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں:

۔۔۔ جہاں تک مسئلہ اجتہاد کا تعلق ہے ہمیں چاہیے کہ ان احادیث کو جن کی حیثیت سر تا سر قانونی ہے، ان احادیث سے الگ رکھیں جن کا قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر اول الذکر کی بحث میں بھی ایک بڑا اہم سوال یہ ہوگا کہ ان میں عرب قبل اسلام کے اس رسم و رواج کا جسے جوں کا توں چھوڑ دیا گیا، یا جس میں حضور رسالت مآب نے تھوڑی بہت ترمیم کردی کس قدر حصہ موجود ہے لیکن یہ وہ حقیقت ہے جس کا انکشاف مشکل ہی سے ہو سکے گا۔۔۔﴿٩﴾

          خوش قسمتی سے محققین کی زحمات سے ایسی متعدد کتب منظر عام پر آچکی ہیں جن میں قبل اسلام کے اس رسم و رواج کی نشاندہی کی گئی ہے جسے زمانہ پیغمبر اسلام میں جوں کا توں چھوڑ دیا گیا تھا۔ بعض دانشوروں نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ منقول سنت کا وہ حصہ جس کی حیثیت سر تا سر قانونی ہے اس میں قبل اسلام کے رسم و رواج کا حصہ بہت زیادہ ہے۔ ﴿١٠﴾

﴿٢﴾     اجتہاد کے بارے میں اپنے لیکچر میں علامہ اقبال نے مشہور اندلسی فقیہ امام شاطبی کے نظریے کو از سر نو قانون سازی کے لیے بطور راہنما اصول اختیار کرنے پر زور دیا ہے، جن کے نزدیک شریعت اسلامیہ کو پانچ چیزوں کی حفاظت منظور ہے، دین، جان، مال، عقل اور نسل۔

          یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ عالم اسلام میں “مقاصد شریعت” کے عنوان سے علامہ شاطبی اور دیگر علماکے نظریات پر خاصی دلچسپ اور مفید بحثوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں شاطبی کے علاوہ امام غزالی، ابن عاشور اور ابن رشد کے نظریات زیر بحث ہیں۔ مقاصد شریعت کے حوالے سے جاری یہ بحث بہت سے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کا باعث بن سکتی ہے اور اجتہاد کے نظریے کو تحرک بخشنے کے علاوہ درست سمت میں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ البتہ اس کے لیے اہل اجتہاد کو قبول کرنا ہوگا کہ اس موضوع پر بحث کا اصل مقام اصول فقہ ہے جس کی تشکیل نو عصر حاضر میں نا گزیر ہوچکی ہے۔ ممکن ہے ےہ کہا جائے کہ اصول فقہ میں موجود قواعد مثلاً ”قاعدہ لاضرر “میں ضمنی طورپر مقاصد شریعت کا موضوع آجاتا ہے لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ عنوان کا تعین مسئلے کو دیکھنے کے لیے زاویہ بھی معین کردیتا ہے۔ ”مقاصد شریعت “کا عنوان ” قاعدہ لاضرر“ کے عنوان سے بہت وسیع ہے اور استنباط مسائل و احکام کے عمل میں ہر جگہ نہایت موثر کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف معاشروں ، زمانوں اور حالات میں مقاصد شریعت کی بحث انتہائی گرہ کشا ثابت ہوسکتی ہے نیز فقہ کے تصور کو توسیع دے کر شریعت کو آفاقی اور پائیدار بنیادیں فراہم کرسکتی ہے۔

﴿٣﴾     مجالس قانون ساز کو اجتہاد کا حق دینے کے جواز یا فائدے کے حوالے سے اقبال کی یہ بات بھی خصوصی توجہ کی مستحق ہے:

اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مذاہب اربعہ کے نمائندے جو سردست فرداً فرداً اجتہاد کا حق رکھتے ہیں، اپنا یہ حق مجالس تشریعی کو منتقل کردیں گے۔ یوں بھی مسلمان چونکہ متعدد فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں، اس لئے ممکن بھی ہے تو اس وقت اجماع کی یہی شکل۔

          سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجالس قانون ساز کو اجتہاد کا حق دینے سے فرقوں کا مسئلہ کس طرح حل ہوتا ہے؟

          قرآن و حدیث کے ماٰخذ قانون اسلامی ہونے کے حوالے سے اقبال کے تصور اور مقاصد شریعت کو حکم شریعت پر مقدم کرنے کے حوالے سے ان کے نظریے کو سامنے رکھا جائے تو اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کے قانون ساز اسمبلی بحیثیت مجموعی کسی خاص فرقے کی نمائندہ نہیں ہوتی بلکہ عوام کی کثرت رائے سے منتخب افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایسی اسمبلی اگر مقاصد شریعت کی روشنی میں عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے جب کسی نتیجے پر پہنچے گی اور اس سارے عمل میں اقبال کے الفاظ میں ” اس روح کے قریب رہے گی جو اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں میں کار فرما ہے“ تو امید کی جاسکتی ہے کہ نتیجہ کسی خاص فرقے کے نمائندہ مذہبی عالم کے انفرادی اجتہاد سے بہتر ہوگا اور اس نتیجہ فکر پر کسی خاص فرقے کی مہر بھی نہیں ہوگی۔

          البتہ اقبال کے تصور اجماع پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات واضح رہنا چاہیے کہ ان کی عبارات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عصری مسائل اور زمان و مکان کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے نئے تقاضوں کی روشنی میں ”معاملات“ میں پارلیمنٹ کے حق اجتہاد کی بات کررہے ہیں۔ اگر چہ امام خمینیؒ ولی فقیہ کے اختیارات کا دائرہ معاملات سے وسیع تر قراردیتے ہیں۔

          یہ موضوع اس سے زیادہ غور و فکر اور بحث و نظر کا متقاضی ہے جسے کسی الگ مقالے میں زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔

﴿٤﴾     اقبال کا نظریہ اجماع پڑھنے یا سننے والے ہمارے عام لوگ جب اپنے ملک کی پارلیمنٹ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسے اجتہاد کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کہنے کی باتیں بہت سی ہیں تاہم ہماری رائے میں اگر پاکستان کے 1973 کے آئین میں مجلس شوریٰ کے ارکان کی اہلیت کے لئے جو شرائط درج ہیں وہ اپنی حقیقی سپرٹ کے ساتھ روبہ عمل آجائیں تو ایک ایسا ادارہ معرض وجود میں آسکتا ہے جس سے بجا طور پر عصری تقاضوں کے مطابق اجتہاد کی توقع کی جاسکے۔ مجلس شوریٰ کے رکن کی اہلیت کے لیے آئین میں موجود شرائط ملاحظہ کیجئے :

٭        اس کا کردار اچھا ہو اور وہ عام طور پر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی نہ کرتا ہو۔

٭      اسلام کا مناسب حد تک علم رکھتا ہو اور اسلامی فرائض کی بجا آوری کرتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتا ہو۔

٭        دیانتدار ، سمجھ دار اور امین ہو۔

٭        کسی اخلاقی جرم کی پاداش میں سزا نہ ہوئی ہو اور نہ ہی جھوٹی گواہی کا مرتکب پایا گیا ہو۔(۱۱)

          البتہ علامہ اقبال کی آرزو ہے کہ “غیر علما جو امور میں گہری نظر رکھتے ہوں” انھیں مجالس قانون ساز میں پہنچنا چاہئے۔ توقع ہے کہ عالم اسلام میں جوں جوں جمہوری روح مزید نشوونما حاصل کرتی جائے گی اور مسلمان علم و تعلیم سے آراستہ ہوتے چلے جائیں گے بہتر افراد مجالس قانون ساز میں پہنچیں گے۔

          علاوہ ازیں اقبال نے عارضی طور پر علماءکو ایک موثر جزو کے طور پر ایسی مجالس میں شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ تاہم علماءسے انھوں نے تقاضا کیا ہے کہ وہ ”ہر امر قانونی میں آزادانہ بحث و تمحیص اور اظہار رائے کی اجازت دیتے ہوئے اس کی راہنمائی کریں۔“

          عالم اسلام میں ایسے علماءیقینی طور پر موجود ہیں لیکن انھیں عوام و خواص کا اس قدر اعتماد بھی حاصل ہے؟ یہ سوال اگرچہ اہم ہے لیکن جوں جوں استدلالی اور عقلی روش پروان چڑھے گی توں توں ایسے افراد کی قدر و قیمت کا زیادہ شعور پیدا ہوگا اور پھر اس سلسلے میں صورت حال بہتر ہوتی چلی جائے گی، انشااللہ

          بہر صورت اہل بصیرت اور اہل سوز کو ہمہ گیر اور تحرک زا اجتہاد کا دروازہ کھولنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حواشی

 

﴿١﴾     تشکیل جدید الہٰیات، ص ١٧٣، سید نذیر نیازی، بزم اقبال ١٩٥٨

﴿٢﴾     عودہ، عبدالقادر: التشریع الجنائی الاسلامی، بیروت، دارالکاتب العربی، ج ۱، ص ١٧٩

﴿٣﴾     سبحانی، جعفر: الموجز فی اصول الفقہ، قم، موسستہ الامام الصادقؑ، ١٤٢٢ ھ، ص ۱۷۱

البتہ یہاں یہ وضاحت مفید معلوم ہوتی ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت کے تصور اجماع میں ایک جوہری فرق ہے۔ شیعوں کے نزدیک وہ اجماع جحیت رکھتا ہے جس میں ”معصوم“ بھی شامل ہو اگرچہ اس کی شمولیت اجمالی طور پر ہو۔

﴿٤﴾     خالد مسعود، ڈاکٹر: اقبال کا تصور اجتہاد، اسلام آباد، مطبوعاتِ حرمت ِ، ص ٢٣٣

﴿٥﴾     قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران، انتشارات علمی تہران، اشاعت اول، ١٣٧٢ ھ ش

﴿٦﴾     تشکیل جدید الہٰیات ﴿محولہ بالا﴾

﴿٧﴾     اقبال کا تصور اجتہاد، ص 235

﴿٨﴾     صفدر محمود، ڈاکٹر ، آئین پاکستان، لاہور، جنگ پبلیشرز ، 1991،ص148

﴿٩﴾     معروف دانشور محمد مجتہد شبستری کی کتاب ” ہرمنوتیک، کتاب و سنت“ میں اس موضوع پر سیر حاصل کی گئی ہے۔ اسے ادارہ طرح نو، تہران نے شائع کیا ہے۔ سید محمد علی ایازی نے بھی اس سلسلے میں خاصا وقیع کام کیا ہے۔ ان کا ایک تفصیلی مقالہ ” جامعیت دین“ موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی کی طرف سے شائع کردہ کتاب ” جامعیت شریعت“ میں شامل ہے۔ یہ کتاب قم سے 1995 ءمیں شائع ہوئی ہے۔

 

توضیحات

﴿١﴾     علامہ اقبال کی جن عبارتوں کا حوالہ درج نہیں کیا گیا وہ تمام تر اجتہاد کے بارے میں آپ کے اس خطبے سے ماخوذ ہیں جو “تشکیل جدید الہٰیات” میں شامل ہے۔

﴿٢﴾     یہ مقالہ اکتوبر ٢٠٠٦ء کے اواخر میں سپرد قلم کیا گیا۔