اقبال اور عشق رسول

 حقیقت عشق

          یوں لگتا ہے کہ علامہ اقبال کے نزدیک تسخیر کائنات کے لیے جوقوت محرکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں رکھی ہے اس کا نام عشق ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں :

 

عشق کی اک جست نے طے کردیا قصہ تمام

اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں(۱)

          اس سے پہلے کہ ہم علامہ اقبال کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گفتگو کریں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ بات لفظ“عشق” کے بارے میںکرلی جائے۔ لفظ“عشق”عربی زبان کا لفظ ہے البتہ یہ فارسی ،اردو اور دیگر بہت سی زبانوں میں بھی اسی رائج معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔احادیث میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ علامہ اقبال کے ہاں بھی یہ لفظ کثرت سے استعمال ہوا ہے ۔فارسی شاعری اور عرفاءو صوفیا کی اصطلاحات میں بھی یہ لفظ بہت آیا ہے۔

 

لفظ “عشق” اسلامی روایات میں

          استاد مطہری نے اپنی کتاب  “فطرت” میںاس لفظ کے معنی پر بات کرتے ہوئے اسلامی متون میں اس کی موجودگی کا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں :

          ” لفظ عشق“ اور اس کے مشتقات اسلامی احادیث میں نظر آتے ہیں، احادیث میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے البتہ زیادہ نہیں ہوا ۔ عبادت کے بارے میںایک حدیث ہے:

          طُوبیٰ لِمَن عَشِقَ العِبَادَةَ وَاَحَبَّھَابِقَلبِہ وَبَا شَرَھَا بَجَسَدِہ

          خوش قسمت ہے وہ شخص جو عبادت سے عشق رکھتا ہواور اسے اپنے دل سے چاہتا ہو اور عبادت اس کے جسم میں رچ بس گئی ہو ۔(۲)

          استاد مطہری نے ایک اور روایت بھی نقل کی ہے :

           حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب(ع) کی ایک حدیث میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ ظاہراً جب آپ صفین کی طرف جارہے تھے، یعنی جب جنگ صفین میں کوفہ سے شام جارہے تھے تو راستے میں “سرزمین نینوا” کربلا پر پہنچے۔ آپ نے وہاں سے مٹھی بھر مٹی اٹھائی، اسے سونگھا اور پھر فرمایا:

           ایہِ لَکِ اَیَّتُھَا التُّربَةُ لَیُحشَرَنَّ مِنکِ اَقوَام یَدخُلُونَ الجَنَّةَ بِغَیرِ حِسَابٍ۔

          یعنی اے خاک کربلا! تو بڑی خوش قسمت ہے کیونکہ تجھ سے ایسے افراد محشور ہوں گے جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے:

 اس کے بعد آپ نے فرمایا:

          منَاخ رُکَّابٍ وَمَصَارِعُ عُشَّاقٍ

          یہ سواروں کے پڑواﺅ کی جگہ ہے اورعاشقوں کی مقتل گاہ ہے۔(۳)

          استاد مطہری کہتے ہیں کہ محبت جب ایک خاص حالت اختیار کر لے تو اسے “عشق” کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسی حالت جو انسان کے عقل و ارادہ پرغالب آجائے اور اس سے قوت ارادی کو سلب کرلے ،اسی لیے یہ حالت جنون سے شباہت رکھتی ہے گویا عقل وہاں پہ حکم نہیں چلا سکتی۔

قیاس کردم تدبیر عقل در رہ عشق

چو شبنمی است کہ ہر بحری کشد رقمی

          میں نے عشق کی راہ پر جب عقل کی تدبیر کا موازنہ کیا تو مجھے وہ شبنم کے ایک قطرے کی طرح نظر آئی جو سمندر میں کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہے۔(۴)

 

انسانی وجود پر عشق کی تاثیر

          عشق دراصل وسیع، ہمہ گیر اور لا متناہی انسانی جذبوںکی پرواز کا نام ہے اور یہ بقا کی طرف ایک سفر ہے اسی میں رمز تخلیق انسانی اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز پنہاں ہے یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو تمام وابستگیوں سے کاٹ کر ایک سے متصل کر دیتی ہے اور اس میں ارتکاز کی ایک حالت پیدا ہوجاتی ہے۔یہاں تک کہ تمام مادی کائنات انسان کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے ،گویا ایک عاشق کے لیے اس کی یہی کیفیت مادی زندگی کی فنا اور وسیع تر روحانی زندگی کے آغاز سے عبارت ہے ۔جب عشق کی کیفیات انسان کے اندر پھوٹ پڑتی ہیں تو وہ اس کی مادی زندگی کے لیے صورِ اسرافیل بن جاتی ہیں جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں:

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل

اگر ہو عشق سے محکم تو صورِ اسرافیل(۵)

          حضرت ذوق شاہ صاحب فرماتے ہیں:

          عشق کی برکت سے عاشق کو بے پناہ قوت حاصل ہوجاتی ہے، وہ ابوالوقت اور ابو الحال بن جاتا ہے، انفس وافاق اس کے زیرنگیں ہوتے ہیں اور وہ جن و ملائکہ کو صید زبوں سمجھنے لگتا ہے۔ کار زار حیات میں عشق ہی نقشِ سلیمانی کا قائم مقام ہے۔

          علامہ اقبال تاریخ انسانی میں وقوع پذیر ہونے والے عظیم الشان اور محیر العقول واقعات کو عشق کا کرشمہ قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق

معرکہ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق (۶)

 

معرکہعقل و عشق

          اس سے پہلے کہ ہم بحث کے اگلے مرحلے میں داخل ہوں علامہ اقبال کے حوالے سے اس بات کا تذکرہ مفیدمعلوم ہوتا ہے کہ انھوںنے بہت سے مقامات پر عشق و عقل کا تقابل کیا ہے اور عشق کی عظمت کو بیان کیا ہے۔اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی عقل ہے جس کی علامہ اقبال عشق کے مقابلے میں سرزنش یا مذمت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی کی یہ عبارت غور طلب ہے :

          علامہ اقبال نے جس شد ومد سے عشق کی مدح و ستائش کی اور عقل کی مذمت کی اس سے عام طور پریہ دھوکا ہوا ہے کہ وہ عقل کے یکسر مخالف ہیں حالانکہ ایسا سمجھنا بالکل غلط ہے علامہ صرف یہ کہتے ہیں کہ عقل یقین سے بے بہرہ اور ظن و تخمین میں ڈوبی ہوئی ہے اس لیے اگر، مگر ،ہچر مچر، تامل و تذبذب کا شکار رہتی ہے اس کے برعکس عشق انجام کا اندیشہ کیے بغیر محبوب کے فرمان کے مطابق سبک گامِ عمل ہوتا ہے، اس لیے منزل پر پہنچ جاتا ہے اور عقل وہم و شک کے گرداب میں غوطے کھاتی رہ جاتی ہے مثلاً فرماتے ہیں:

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل

عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی(۷)

          علامہ اقبال عقل کے مخالف نہیں مگر اس کی حدود وعجزے سے باخبر ہیں۔ اسی طرح وہ عشق کی لامحدود اور بے پناہ قوت سے واقف ہیں۔ دراصل دونوں کی اپنی دنیا اور حدود ہیں۔ عقل جب عشق کے مقابل آتی ہے تو اس سے مراد عقلِ حیلہ گر اور عقلِ مصلحت کیش ہے۔ اس سے مراد عذر تراشنے والی قوتِ فکر ہے۔دوسری طرف عقل فلسفی پیدا کرتی ہے اور عشق عارف پیداکرتا ہے۔ عقل فکر انسانی کو ایک مقام تک ضرور پہنچا دیتی ہے اوردلیل فراہم کرتی ہے لیکن عشق حرکت انگیز ہوتا ہے۔ عشق سراپا عمل بنا دیتا ہے۔ عشق چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ مراد کو پانے کے لیے بے قرار کر دیتا ہے۔ ایک تعبیر کے مطابق عقل اندھے کی لاٹھی ہے اور عشق عارف کے لیے مشاہدہ حق کا سامان ہے۔    

 

عشق مصطفی

           عشق تو جمال مطلق اور کمال مطلق سے ہی ہوتا ہے۔ جہاں بھی نقص آجائے وہاں عشق کامل نہیں ہوسکتا۔عشق حسن، جمال اور کمال ہی سے ہوتا ہے، تاہم اس مادی کائنات میں انسانی توجہ کو ایک نقطہ ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے ۔جیسے عبادت کے رخ کے لیے خانہ کعبہ کا تعین کیا گیا ہے۔اللہ کو کسی ایسے مقام کی ضرورت نہیں اور نہ اللہ ہماری مادی تعبیرات کے مطابق وہ کسی مکان میں رہتا ہے پھر کعبہ اللہ کا گھر کیسے ہوگیا ۔کعبہ کو اللہ کا گھر قرار دینا دراصل نوع انسانی کی مادی حیات میں ایک مادی نقطہ ارتکاز ہی کی حیثیت رکھتا ہے ورنہ نگاہِ عشق میں کعبہ و قبلہ کوئی اور ہے ۔ جیسا کہ غالب کا کہنا ہے :

ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود

قبلہ کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں

          اہل عشق کی نظر میں پیغمبر اکرم کی ذات اللہ کی ازلی و ابدی اورلازوال قدرت ،علم،جمال ،کمال اور جلال کے مظہر تام کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ ہی صاحب معراج ہیں ،آپ ہی کے ذکر کو اللہ نے رفعت بخشی ہے ، آپ ہی کے اسوہ کو حسین قرار دیا ہے اور آپ ہی کو یاسین کہہ کر خطاب کیا گیا ہے ۔آپ کی ذات اس رحیم کی جلوہ گاہ ہے اسی لیے آپ کو رحمت للعالمین قرار دیا گیا ہے۔اس مصور باکمال اور احسن الخالقین کا کمالِ خلقت آپ کی ذات پر ختم ہوتا ہے اسی لیے آپ خاتم النبیین ہیں۔وہ کریم ہے ایسا کہ آنکھیں جسے دیکھ نہیں سکتیں اوررسول کریم ہیں تاکہ انسان کی آنکھوں کو اس کی کرم نمائی تک رسائی ہوسکے۔ لہٰذا آنحضرت کا عشق دو گانہ پرستی کی علامت نہیں بلکہ یگانہ پرستی کا نقطہ  ارتکاز ہے ۔

 

عشق مصطفی ،سرّ دین

          علامہ اقبال نے جس عشق و مستی کا ذکر کیا ہے وہ اسے انسانی ارتقا کے لیے لازم گردانتے ہیں اور وہ صرف عشق رسول سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ علامہ اقبال پر یہ حقیقت آشکار ہوچکی تھی کہ اگر معرفت رسول ہی معرفتِ دین کا دوسرا نام ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک عشق مصطفیٰ سرِّدین بھی ہے اور وسیلہ نجات بھی ۔ اسرار خودی کی نظموں میں ایک نظم میں وہ لکھتے ہیں:

بوریا ممنونِ خواب راحتش

تاجِ کسریٰ زیرپائے امتش

درشبستان حرا خلوت گزید

قوم و آئین و حکومت آفرید

ماند شبہا چشم او محروم نوم

تابہ تخت خسروی خوابید قوم

از کلید دیں درِ دنیا کشاد

ہمچو او بطنِ اُم گیتی نزاد

          ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے خود بوریے پر لیٹ کر زندگی گزاری مگر امت کو فروغ بخشا کہ تاج کسریٰ ان کے قدموں تلے روندا گیا۔ انھوں نے غار حرا میں تنہائی میں راتیں بسر کیں تاکہ آپکی امت تخت خسروی پر متمکن ہو آپ نے یہ راز آشکار کیاکہ دین کی کنجی سے دنیا کا دروازہ کھولو گے تو راہ راست پاﺅ گے۔ (۸)

 

عشق مصطفی اور حصول کمال

          الٰہیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز کمال کی طرف رواں دواں ہے۔ کائنات میں انسان کا مقام اور انسانوںمیں محمد مصطفی کی حیثیت و مقام کو سامنے رکھیں تو پھر علامہ اقبال کی یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے ۔

ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو

آں کہ از خاکش بروید آرزو

یا زِ نور مصطفی آں را بہا است

یا ہنوز اندر تلاش مصطفی است(۹)

          یعنی جہانِ رنگ و بو میں آپ جہاں بھی دیکھیں جس کی خاک سے بھی آرزو پروان چڑھتی ہے اور پیدا ہوتی ہے یا تو اس کی قیمت اور قدر ہستی نور مصطفی کی وجہ سے ہے یا پھر ابھی وہ مصطفی کی تلاش میں ہے۔ یعنی جس نے کچھ پایا وہ بھی نور مصطفی کے صدقے میں ہے اور جو سفر کمال کی طرف گامزن ہے وہ دراصل مصطفی ہی کی تلاش میں ہے گویاکمال کی آخر حد کا نام مصطفی ہے اور جو کوئی بھی منزل کمال کی جستجو میں ہے درحقیقت وہ مقام مصطفی ہی کی تلاش میں ہے۔

 

عشق اور اطاعت

          عشق کی دنیا میں عاشق محبوب کی ادائیں چرانے کے درپے ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ جس سے محبوب راضی ہوجائے۔ اُس کے نزدیک جنت محبوب کی رضا ہی کو پانے کا نام ہے۔ محبوب کی ناراضی اس کے لیے موت ہے۔ اس لیے طاعت مصطفی اور عشق مصطفی دو مختلف چیزیں نہیں۔علامہ اقبال نے رسالت مآب حضرت محمد مصطفی کے دیدار سے متعلق بڑی عمدہ اور عمیق گفتگو کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اتباع رسول اور پیروی مصطفی میں ڈوب جانے کا نام دیدار رسول ہے۔ آپ کی سنت کی پیروی اور اتباع مصطفی کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر خود شناسی حاصل کرنا ہی آپ کا دیدار ہے۔

معنی دیدار آں آخر زماں

حکم او بر خویشتن کردن رواں

درجہاں زی چوں رسول اِنس و جاں

تا چہ او باشی قبول اِنس و جاں

باز خود را بیں ہمیں دیدارِ اوست

سنتِ او سرِّی از اسرارِ اوست(۱۰)

          رسول آخر زماں کے دیدار کا معنی یہی ہے کہ اُن کے حکم کو اپنے وجود پر لاگو کردیا جائے رسولِ انس وجاں کی طرح سے زندگی گزارو تو جیسے وہ انس و جاں کو محبوب ہیں تم بھی مقبول انس وجاں ہوجاﺅ گے۔یعنی محبوب کا وجود خود اپنے آئینہ وجود میں پیدا کرلو۔ان کی سنت دراصل ان کے اپنے رازوں میں سے ایک راز ہے۔

          علامہ اقبال “اسرار و رموزخودی” میں اس مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ عشق اس وقت تک بے معنی ہے جب تک محبوب کی اتباع نہ کی جائے۔ محبوب کی عادات و شمائل افعال و اقوال، رفتار گفتار واخلاق و خصائل، پسند و ناپسند کو اپنے لیے نمونہ عمل بنانا اور تقلید و اتباع کا اہتمام کرنا ازبس لازم ہے۔ محبوب کی ہر ادا ،ہر انداز، ہر بات اورہر حرکت کو اپنے لیے مشعل راہ بنا کر خود کو اُسی طرز پر ڈھالنا عشق صادق کا تقاضا ہے۔ اس لیے عاشق پر لازم ہے کہ ہر ہر امر میں محبوب کے نقش قدم پر چلے۔ اتباع کامل کے بغیر عشق کا ہر دعوی بے معنی ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ شراب عشق پی کر کیف ہی کیف حاصل ہوتا ہے ۔اتباع کرنے والا اگرچہ محبوب کے پرتو میں چل رہا ہوتا ہے لیکن اس کی مثال اس بیج کی سی ہوتا ہے جو زمین کی تاریکی کے اندر نشوونما کی قوت حاصل کرتا ہے اورپھر جب اس کی کونپل زمین سے باہر سر نکالتی ہے تو اس کی تخلیقی قوت کا اظہار ہوتا ہے۔علامہ اقبال اس شعر میں اسی طرف اشارہ کرتے ہیں:

پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں

ہے مگر اس کی طبعیت کا تقاضا تخلیق(۱۱)

          علامہ اقبال اسوہ حسنہ کی تقلید کا سبق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم باغ مصطفی کی ایک کلی ہو، بہار مصطفی کی ہواﺅں سے کھیل کر پھول بن جاﺅ انہی کی بہار ایسی ہے کہ اس سے رنگ اور بوحاصل کرنی چاہیے اور انہی کے اخلاق حسنہ سے مزین ہوجاﺅ۔

غنچہ ای از شاخسارِ مصطفی

گل شو از بادِ بہار مصطفیٰ

از بہارش رنگ و بو باید گرفت

بہرہ از خلق او باید گرفت(۱۲)

          یعنی ایک مومن اور عاشق مصطفی شاخ مصطفی پر ایک غنچے کی طرح سے ہے، اسے چاہیے کہ وہ مصطفی کی بادبہار سے مدد لیتے ہوئے پھول بن جائے۔ اس مصطفی کی بہار سے مومن کو چاہیے کہ وہ رنگ و بو حاصل کرے اور آپ کے خلق سے بھی استفادہ کرے۔

          علامہ تصور عشق مصطفیٰ میں عمل کی گرمی اور عرفان مصطفی کی قوت سے پوری دنیا یہ غالب آنے کی حقیقت سے پردہ کشائی کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

ہر کہ عشق مصطفی سامان اوست

بحر و بر در گوشہ دامانِ اوست(۱۳)

 

ایمان افروز واقعات

           فقیر سید وحید الدین نے “روزگار فقیر” میں علامہ اقبال کی کی زندگی سے بہت سے ایسے واقعات نقل کیے ہیں جو عشق رسول میں ان کی گہرائی کے غماز ہیں۔ علاوہ ازیں ان واقعات سے علامہ اقبال کے منہج عشق پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ایک مقام پراس حوالے سے ان کی کلی کیفیت بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

           علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی زندگی کا سب سے ممتاز،محبوب اور قابل قدر وصف جذبہ عشق رسول ہے۔ ذات رسالت کے ساتھ انھیں جو والہانہ عقیدت تھی اس کا اظہار ان کی چشم نمناک اور دیدہ تر سے ہوتا ہے کہ جب بھی آپ کے سامنے ذکر رسول ہوتا تو آپ بے قابو ہوجاتے تھے۔ اقبال کی شاعری کا خلاصہ، جوہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت مصطفی ہے۔

           فقیر سید وحید الدین نے لاہور میں پیش آنے والا غازی علم الدین شہید کا معروف واقعہ تفصیل سے لکھا ہے ہمیں یہاں پر اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

           علامہ اقبال کو رسول پاک کی ذات سے سچا اور والہانہ عشق تھا۔ سرورکائنات کی شان اقدس میں گستاخانہ کتاب شائع کرنے والے شخص راجپال کو لاہور کے ایک غیرت مند نوجوان غازی علم الدین نے کیفر کردار کو پہنچا کر جب عدالت عالیہ میں سزائے موت پائی تو اس سارے واقعہ کے متعلق علامہ اقبال کے تاثرات بالکل واضح تھے۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے علامہ مرحوم کے جو ملفوظات محفوظ کیے ہیں ان میں علامہ مرحوم کا یہ کہا ہوا فقرہ بھی تھا، جسے غازی علم الدین کی شہادت کے زمانے میں علامہ کی زبان سے بار بار سنا گیا”اَسی گلاں کردے رہے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا“ (ہم باتیں ہی بناتے رہے اور نجار کا لڑکا بازی لے گیا)۔(۱۴)

          علامہ اقبال کی زندگی میں کراچی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں ایک مسلمان نے رسول اسلام کی توہین پر مبنی کتاب لکھنے والے ایک شخص کو بھری عدالت میں قتل کردیا۔اس مسلمان پر مقدمہ چلا اور عدالت نے پھانسی کا حکم جاری کردیا۔اسے بچانے کے لیے سفارش کی غرض سے ایک وفد علامہ اقبال کی خدمت میں پہنچا ۔واقعہ کا خلاصہ تفصیل فقیر سید وحید الدین کی زبانی ملاحظہ کیجیے:

           یہ ۱۹۳۳ء کے اوائل کا ذکر ہے جب سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا، ان دنوں آریہ سماج حیدر آباد (سندھ) کے سیکرٹری نتھو رام نے ”ہسٹری آف اسلام“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں آقائے دوجہاں سرور دو عالم کی شان اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا گیا ۔مسلمانوں میںاس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اضطراب پیدا ہوا جس سے متاثر ہوکر انگریزی حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھورام پر عدالت میں مقدمہ چلایا ،جہاں اس پر معمولی سا جرمانہ ہوا اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ستمبر۱۹۳۴ کا واقعہ ہے کہ مقدمہ اہانت رسول کے ملزم نتھورام کی اپیل کراچی کی عدالت میں سنی جارہی تھی، عدالت دو انگریز ججوں کے بنچ پر مشتمل تھی۔ عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا ہوا تھا۔ غازی عبدالقیوم نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرے تماشائیوں کے ساتھ وکلا کی قطار کے پیچھے نتھورام کے برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھو رام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر دو بھرپور وار کیے۔ نتھو رام چاقو کے زخم کھا کر چیخا اور زمین پر لڑکھڑا کر گر پڑا۔ غازی عبدالقیوم نے نہایت ہنسی خوشی اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔انگریز جج نے ڈائس سے اتر کر اس سے پوچھا تم نے اس شخص کو کیوں قتل کیا؟ غازی عبدالقیوم نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر تمھارے بادشاہ کی ہے، کیا تم اپنے بادشاہ کی توہین کرنے والے کو موت کے گھاٹ نہیں اتارو گے؟اس ہندونے میرے آقا و شہنشاہ کی شان میں گستاخی کی ہے ۔

          غازی پر مقدمہ چلا اس نے اقبال جرم کر لیا۔ جج نے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ غازی عبدالقیوم نے فیصلہ سن کر کہا ”جج صاحب !میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا دی ،یہ ایک جان کس گنتی میں ہے اگر میرے پاس لاکھ جانیں بھی ہوتیں تو ناموس رسول پر نچھاورکردیتا۔ “

          بالآخر فروری ۱۹۳۵ میں کراچی کے مسلمانوں کا ایک وفد حکیم الامت علامہ اقبال کی خدمت میںلاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہ وفد جس میں مولوی ثناءاللہ، عبدالخالق اور حاجی عبدالعزیز شامل تھے لاہور پہنچا اور میکلورڈ روڈ والی کوٹھی میں علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہو کر اس مقدمے کی روداد تفصیل سے سنائی۔ اس کے بعد عرض کیا کہ آپ وائس رائے ہند سے ملاقات کریں۔ اپنے اثرورسوخ کو کام میں لائیں اور انھیںاس بات پر آمادہ کریں کہ غازی عبدالقیوم کی سزائے موت عمرقیدمیں بدل دی جائے۔

          علامہ وفد کی گفتگو سن کر دس بارہ منٹ تک بالکل خاموش رہے اور گہری سوچ میں ڈوب گئے ۔وفد کے ارکان منتظر اورمضطرب تھے کہ دیکھیے علامہ کیا فرماتے ہیں۔ توقع یہی تھی کہ جو اب اثبات میں ملے گا کہ ایک عاشق رسول کا معاملہ دوسرے عاشق رسول کے سامنے پیش ہے ۔اس سکوت کو پھر علامہ اقبال ہی کی آواز نے توڑا، انھوں نے فرمایا:

          ”کیا عبدالقیوم کمزور پڑ گیا ہے ؟“

          ارکانِ وفد نے کہا ”نہیں“ اس نے توہر عدالت میں اپنے اقدام کا اقبال اور اعتراف کیا ہے، اس نے نہ تو بیان تبدیل کیا اور نہ لاگ لپیٹ اورایچ پیچ کی کوئی بات کہی۔وہ تو کھلے خزانے کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے، مجھے پھانسی کے پھندے سے بچانے کی کوشش مت کرو۔

          وفد کی یہ گفتگو سن کر علامہ کا چہرہ تمتما گیا، انھوں نے برہمی کے لہجے میں فرمایا:

          جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہوسکتا ہوں؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائس رائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مر گیا تو شہید۔(۱۵)

          فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں:

          لاہور میں غازی علم الدین اور کراچی میں غازی عبدالقیوم کے ان واقعات کا علامہ نے بہت زیادہ اثر قبول کیا اور اپنے اس قلبی تاثر کو تین شعروں میں بیان فرما دیا تھا۔ یہ اشعار ”لاہور اور کراچی“ کے عنوان سے ضرب کلیم میں شائع ہوچکے ہیں مگر غازی عبدالقیوم کے لیے رحم کی درخواست کے اس واقعے کی روشنی میں ان اشعار کا مفہوم کچھ اور زیادہ ابھرتا ہے۔

نظر اللہ یہ رکھتا ہے مسلمانِ غیور

موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معانی کا سفر

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ

قدروقیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

آہ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں؟

حرفِ ”لاَتَدعُ مع اللّٰہِ الٰھاً آخر“(۱۶)

 

عشق رسول میں نازک خیالیاں

          علامہ اقبال نے عشق رسول میں عجیب نازک خیالیوں کا اظہار کیا ہے جن سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی فکر ہر وقت اس بات میں غلطاں رہتی تھی کہ وہ کس طرح رسول اللہ کو اپنے آپ سے راضی کریں یا پھر یہ کہ ان کے وجود اور ہستی سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہوجائے جو عشق رسول کے کسی بھی متصور پہلو کے منافی ہو ۔ اس سلسلے میں ایک عجیب بات فقیر سید وحید الدین نے نقل کی ہے۔وہ لکھتے ہیں :

          محترم حکیم احمد شجاع جو علامہ اقبال کی خدمت میں اکثر حاضر ہوا کرتے تھے، انھوںنے ایک ایسا واقعہ سنایا جس سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اقبال حضور نبی کریم علیہ الصلوٰة والسلام کی ذات اقدس سے کس درجے والہانہ محبت اور بے پناہ عشق رکھتے تھے۔ یہ واقعہ دیکھنے اور پڑھنے میں بہت مختصر ہے مگر حقیقت میں عشق و محبت کا دفتر بے پایاں ہے۔

          ایک روز حکیم صاحب موصوف علامہ کے مکان پر پہنچے تو علامہ کو بہت زیادہ فکر مند مغموم اور بے چین پایا۔ حکیم صاحب نے گھبرا کر دریافت کیا خیریت تو ہے، آپ آج خلاف معمول بہت زیادہ مضطرب اور پریشان نظر آتے ہیں؟ علامہ نے خاص انداز میں نظریں اوپر اٹھائیں اور غم انگیز لہجے میں فرمایا:

          احمد شجاع یہ سوچ کر میں اکثر مضطرب اور پریشان ہوجاتا ہوں کہ کہیں میری عمر رسول اللہ کی عمر سے زیادہ نہ ہوجائے۔

          واضح رہے کہ علامہ مرحوم کی تاریخ پیدائش ۹نومبر۱۸۷۷ ہے اس حساب سے ۱۹۳۸ میں انتقال کے وقت اس عاشق رسول کی عمر رسول اکرم کے سن مبارک سے دو سال کم تھی یعنی ۶۱سال تھی گویا اللہ تعالیٰ نے علامہ کی اس تمنا اور دعا کو قبول فرما لیا۔(۱۷)

          اس بات میں ہم اتنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ قمری حساب سے بھی علامہ اقبال کی عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کم تھی۔ اگر ۹نومبر۱۸۷۷ سے ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ تک کا حساب لگایا جائے اس کا واضح طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

          رسول اللہ سے علامہ اقبال کے بے پایاں عشق اور آنجناب کی عظمت کا احساس طرح طرح سے علامہ اقبال کے وجود اور کلام سے ظہور میں آتا ہے۔ان کا ایک قطعہ تو ایسے کمال عشق کا مظہر ہے کہ جس کی مثال خال خال ملتی ہے۔روزِ حشر نبی کریم کے مقام عظمت اور اپنی کم مائیگی و انکساری کا احساس شاید اس سے بہتر الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا:

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر

روز محشر عذر ہای من پذیر

ور حسابم را تو بینی ناگزیر

از نگاہ مصطفیٰ پنہاں بگیر(۱۸)

 

رسول اکرم آج بھی زندہ ہیں

          علامہ اقبال کسی ایسی ہستی سے محبت نہیں کرتے تھے کہ موت جسے مار دے وہ ایسے پیغمبر سے عشق کرتے تھے کہ جس کی یادیں اورجس کی محبت آج بھی دلوں کو زندہ کرتی ہے جو ایک ایسا دین لے کر آئے جو مادی حیات کے خاتمے کے بعد بھی ایک ابدی اور دائمی زندگی کا پیغام دیتا ہے چنانچہ علامہ اقبال خان نیاز الدین خان کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:

          میراعقیدہ ہے کہ نبی کریم زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی ان کی محبت سے اسی طرح مستفیض ہوسکتے ہیں جس طرح صحابہ کرام ہوا کرتے تھے۔(۱۹)

          ہم اپنا یہ مضمون ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی کے ان جملوں پر ختم کرتے ہیں:

           علامہ اقبال جس عشق و سرمستی کی بات کرتے ہیں یہ سرشاری اور سرمستی آفتاب مصطفویٰ کے انواروتجلیات کی ایک کرن ہے جب تک اس کا سوز انسان میں ہے اسی وقت تک اسے حقیقی زندگی میسر ہے۔ یہی قوت ہے جس سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے اور ان کا تحفظ ہوتا ہے۔ اسی لیے نصیحت فرماتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفی ایک بحر ذخار کے مانند ہیں جس کی موجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ تم بھی اسی سمندر سے سیرابی حاصل کرو تاکہ تمھیں حیات نو نصیب ہو اور تمھاری وہ بھولی بسری کیفیات جنھیں مادی دنیا نے تم سے چھین لیا ہے از سر نو تم کو میسر آجائیں۔

          علامہ اقبال کے اشعار میں یہ مضمون ملاحظہ کیجیے:

می ندانی عشق و مستی از کجاست؟

ایں شعاعِ آفتابِ مصطفی ست

زندہ تا سوز او در جانِ تست

ایں نگہ دارندہ ایمانِ تست

مصطفی بحر است و موج او بلند

خیز و ایں دریا بجوے خویش بند

یک زماں خود را بہ دریا در فگن

تا روانِ رفتہ باز آید بہ تن(۲۰)

 

 

حوالہ جات

 

۱۔       احمد رضا (مرتب):کلید کلیات اقبال اردو،بال جبریل(لاہور،ادارہ اہل قلم ،دسمبر۲۰۰۵) ص ۳۵۵

۲۔       مطہری،استاد مرتضیٰ :فطرت(تہران،انتشارات صدرا،۱۳۶۹ھ ش)ص ۱۹۰

          استاد مطہری نے یہ حدیث (کافی،ج۲،ص ۸۳) کے حوالے سے لکھی ہے۔

۳۔       مطہری،استاد مرتضیٰ :فطرت(تہران،انتشارات صدرا،۱۳۶۹ھ ش)ص ۱۹۰

          استاد مطہری نے یہ حدیث ((نفس المھموم، ص ۲۰۶)) کے حوالے سے لکھی ہے۔

۴۔       مطہری،استاد مرتضیٰ :فطرت(تہران،انتشارات صدرا،۱۳۶۹ھ ش)ص ۱۹۱

۵۔       احمد رضا (مرتب):کلید کلیات اقبال اردو،بال جبریل(لاہور،ادارہ اہل قلم ،دسمبر۲۰۰۵) ص ۳۹۱

۶۔       سید محمد ذوق شاہ،کتاب سرلیراں،۲۸۰۔۲۸۴

          احمد رضا (مرتب):کلید کلیات اقبال اردو،بال جبریل(لاہور،ادارہ اہل قلم ،دسمبر۲۰۰۵) ص ۴۳۹

۷۔       فاروقی،ڈاکٹر محمد طاہر:اقبال اور محبت رسول(لاہور،اقبال اکادمی پاکستان،۱۹۹۵ئ)ص ۲۶

          ڈاکٹر فاروقی نے اس پیرا میں جو اشعار ذکر کیے ہیں وہ علامہ اقبال کی کتاب بانگ درا سے لیے گئے ہیں۔

۸۔       اقبال، محمد:کلیات اقبال فارسی(لاہور،شیخ غلام علی اینڈ سنز،فروری ۱۹۷۳ئ)ص ۱۹

۹۔       اقبال، محمد:کلیات اقبال فارسی،جاوید نامہ(لاہور،شیخ غلام علی اینڈ سنز،فروری ۱۹۷۳ئ)ص۷۱۶

۱۰۔     اقبال، محمد:کلیات اقبال فارسی،جاویدنامہ(لاہور،شیخ غلام علی اینڈ سنز،فروری ۱۹۷۳ئ)ص ۷۱۸

۱۱۔     احمد رضا (مرتب):کلید کلیات اقبال اردو،ضرب کلیم(لاہور،ادارہ اہل قلم ،دسمبر۲۰۰۵) ص ۶۴۱

۱۲۔     اقبال، محمد:کلیات اقبال فارسی،اسرار ورموز(لاہور،شیخ غلام علی اینڈ سنز،فروری ۱۹۷۳ئ)ص۱۳۱

۱۳۔     اقبال، محمد:کلیات اقبال فارسی،پیام مشرق(لاہور،شیخ غلام علی اینڈ سنز،فروری ۱۹۷۳ئ)ص۱۹۰

١٤۔     فقیر سید وحید الدین:روزگار فقیر(لاہور،اسلامی پبلشنگ کمپنی،سنہ ندارد) تلخیص از صفحہ٣٠

١٥۔     فقیر سید وحید الدین:روزگار فقیر(لاہور،اسلامی پبلشنگ کمپنی،سنہ ندارد) تلخیص از صفحہ٣٢تا٣٨

١٦۔     فقیر سید وحید الدین:روزگار فقیر(لاہور،اسلامی پبلشنگ کمپنی،سنہ ندارد) ص٣٨و٤٩

١٧۔     فقیر سید وحید الدین:روزگار فقیر(لاہور،اسلامی پبلشنگ کمپنی،سنہ ندارد) ص ٧٢

١٨۔     یہ قطعہ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محمد رمضان عطائی کو علامہ اقبال نے عطا فرمایا تھا۔ لاہور: ١٩ فروری ١٩٣٧

          اس نوجوان کو یہ قطعہ عطا کرنے کے بعد علامہ اقبال نے اسے اپنی کلیات میں شامل نہیں کیا۔

١٩۔     مکاتیب اقبال بنام خان نیاز الدین خان(اقبال اکادمی پاکستان،١٩٨٦ئ)، ص ٤٠

٢٠۔     فاروقی،ڈاکٹر محمد طاہر:اقبال اور محبت رسول(لاہور،اقبال اکادمی پاکستان،١٩٩٥ئ)ص ٣٢

           مذکورہ اشعار کے لیے رجوع کیجیے: اقبال، محمد:کلیات اقبال فارسی،مثنوی مسافر(لاہور،شیخ غلام علی اینڈ سنز،فروری ١٩٧٣ئ)ص ٨٦٤