اخلاقیات

عیدِ فطر۔۔۔ فطرت کی طرف واپسی

تحریر: ثاقب اکبر

’’عید‘‘، عود کرنے اور واپسی کے معنی میں ہے اور ’’فطر‘‘ فطرت سے ہے۔ جب انسان رمضان شریف کے مہینے میں اطاعتِ الٰہی کے ذریعے اپنی روح کا تزکیہ کرلیتا ہے اور آئینہ دل کو پاک کر لیتا ہے تو پھر فطرت الٰہی کا رنگ ابھر آتا ہے۔ وہی فطرت الٰہی جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

  • مشاہدات: 581

حسد

تحریر: مزمل حسین نقوی

ہر اخلاقی برائی نقصان دہ ہے کبھی یہ نقصان دنیا میں نظر آجاتا ہے اور کبھی آخرت تک موقوف ہو جاتا ہے۔ احادیث کی رو سے حسد ایک ایسی بیماری اور برائی ہے جس کا شکار شخص دنیا میں نفسیاتی اذیت اٹھاتا ہے اور اندر ہی اندر گھٹ کر مختلف ذہنی اور جسمانی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ امیرالمومنین﴿ع﴾ فرماتے ہیں:

  • مشاہدات: 956

جھوٹ

تحریر: مزمل حسین نقوی

’’کمالِ اخلاق‘‘ کے زیرعنوان البصیرہ کے شعبہ تحقیق کے مدیر جناب سید مزمل حسین نقوی نے ایک نیا سلسلہ مضامین شروع کیا ہے۔ اس کا آغاز ’’جھوٹ‘‘ کی حقیقت اور قباحت کے بیان سے کیا جارہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مکارم اخلاق میں سب سے اہم’’سچ‘‘ اور صدق ہے۔ سچ کی تعریف اور حقیقت ایسی ہے جو انسانی وجدان سے پھوٹتی ہے۔ اگر جھوٹ کی حقیقت اور برائی کو سمجھ لیا جائے اور اس سے اجتناب کا فیصلہ کیا جائے تو پوری زندگی سچ سے عبارت ہوجائے گی۔ادارہ)

  • مشاہدات: 610

ایک بیماری جو صرف انسانوں میں ہوتی ہے

تحریر: ثاقب اکبر
بہت سی بیماریاں انسانوں اور حیوانوں میں مشترک ہیں۔ موسموں کے اثرات تو نباتات اور حیوانات پر بھی واضح ہیں۔ قلت آب اور کثرت آب سے بھی سب متاثر ہوتے ہیں اور بھی طرح طرح کی بیماریاں سب میں پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کی طرح حیوانوں اور پودوں کے لیے بھی ڈاکٹروں اور طبیبوں کی ضرورت پڑگئی اور اب تو جیسے انسانوں کی بیماریوں کے علاج کیلئے سپشلسٹ ہوتے ہیں اس طرح جانوروں کی مخصوص بیماریوں کے لیے متخصص بننے لگے ہیں۔

  • مشاہدات: 845

حسن ظن و سوئے ظن

مزمل حسین نقوی

ظن کے معانی گمان کرنے کے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں:

الف:حسن ظن   ب:سوئے ظن

حسن ظن یعنی اچھا گمان، خوش بینی، اچھی سوچ، اس کے مقابلے میں سوئے ظن ہوتا ہے یعنی بد گمانی غلط سوچ۔

  • مشاہدات: 1600