فقھ

مسئلہ نجاست و طہارت کفار﴿٢﴾

۳۔       اہل کتاب کی نجاست کی تیسری دلیل اجماع بیان کی جاتی ہے، شریف مرتضیٰ لکھتے ہیں:

ومما انفردت بہ الامامیۃ: القول بنجاسۃ سؤر الیھودی والنصرانی وکل کافر۔۔۔ویدل علی صحۃ ذلک مضافاً الی اجماع الشیعۃ علیہ قولہ جل ثناؤہ انما المشرکون نجس(۱﴾

یہودی، عیسائی اور ہر کافر کا جھوٹا نجس ہے، یہ نظریہ امامیہ کے منفردات میں سے ہے۔۔۔اجماع کے علاوہ اس پرخدا کا یہ قول بھی دلالت کرتا ہے کہ مشرکین نجس ہیں۔

  • مشاہدات: 988

مسئلہ نجاست و طہارت کفار﴿١﴾

 

مزمل حسین نقوی

ڈائریکٹر ریسرچ البصیرہ، اسلام آباد

دور حاضر میں کفار کی طہارت اور نجاست کا مسئلہ بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے چونکہ اس وقت اسلام دنیا کے گوشے گوشہ میں پھیل چکا ہے۔ مختلف ادیان سے لوگ اس میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ کبھی شوہر اسلام قبول کر لیتا ہے اور بیوی اپنے دین پر رہ جاتی ہے اور کبھی برعکس۔ نیز مسلمانوں اور غیر مسلموں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ لین دین بڑھ گیا ہے۔

  • مشاہدات: 849

طلاق خلع

تحریر: مزمل حسین نقوی

          عمومی طور پر فقہاءمتفق ہیں کہ طلاق کا اختیار مرد کے پاس ہے۔ مرد جب چاہے اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ اس کے لیے اسے کسی خاص سبب کی ضرورت نہیں ہے۔ جب دل چاہے طلاق دے کر اس سے جدا ہو سکتا ہے۔ بیوی کی پسند یا نا پسند کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ البتہ اخلاقی طورپر اسے بغیر وجہ کے طلاق دینے سے گریز کرنا چاہیے لیکن قانوناً یاشرعاً اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ قاضی ابن البراج (٤٨١ھ) کہتے ہیں:

  • مشاہدات: 765

نکاح مسیار

تحریر: سید مزمل حسین نقوی

اللہ تعالیٰ نے انسان کی جبلت اور فطرت میں کچھ خصوصیات رکھی ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ انہی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت جنسی میلان ہے۔ یہ بہت قوی ہوتی ہے۔ اس پر آسانی سے قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ قرآن کریم میں حضرت یوسف﴿ع﴾ کا یہ جملہ منقول ہے:

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُِّ الَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَیْہِ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَھُنَّ اَصْبُ اِلَیْھِنَّ وَ اَکُنْ مِّنَ الْجٰھِلِیْنَO فَاسْتَجَابَ لَہ رَبُّہ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ اِنَّہ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (۱)

  • مشاہدات: 1922