مغرب کے فکری و اخلاقی ارتقاءمیں اسلام کا ممکنہ کردار

ڈاکٹرسید ناصر زیدی٭
عموما معاشرے میں علمی کام کو اس کی گہرائی کے مطابق پذیرائی نہیں ملتی یہی کیفیت البصیرہ کے ساتھ ہے جو نہایت علمی و تحقیقی کام کر رہاہے۔اس جس کا معاشرے میں ابھی تعارف نہیں۔ ایک اہم نکتہ جس کی جانب میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں بات کرنا آسان ہے تاہم اس کے معاشرے میں کردارکو بیان کرنا نہایت مشکل ہے۔ آپ سے علامہ اقبال یا کسی اور شخصیت کے بارے میں بات کرنے کو کہا جائے تو شاید آپ گھنٹوں بات کرسکتے ہیںتاہم اگر آپ سے کہا جائے کہ ان شخصیات کی معاشرے میں عملی خدمات اور کردار کو بیان کریں تو شاید بہت مشکل ہو ۔میںاس نشست میں مغرب میں اسلام کے کردار کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا ۔ جب مسلم دنیا سے ایک انسان مغربی دنیا میں جاتا ہے وہاں وہ اس معاشرے میں کیا مثبت کام کرسکتا ہے یہ ایک اہم سوال ہے ۔ظاہرا اس کے لیے ایک شرط اس انسان کا عالم ہوناہے۔ اگر عالم نہ ہو تواسلاام کے تناظر میں ہم کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر سکتے۔

ایک اہم بات جو میں نے اس معاشرے میں محسوس کی یہ ہے کہ مغربی دنیا میں ہماری معرفت اور ادراک کو بڑی اہمیت حاصل ہے یعنی ہم چیزوں کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں ۔میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ طرز فکر کے بدلنے سے چیزیں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ مثلا غیر مسلم تک اسلام کا پیغام پہنچانے میں ہماری دلچسپی ہے یا نہیں ۔نہایت افسوس کے ساتھ میں نے محسوس کیا کہ کینیڈا اور جرمنی کے اکثر اسلامی مراکز میں اس بات کی دلچسپی ہی نہیں ہے کہ اسلام کا پیغام موثر طریقے سے غیر مسلم تک پہنچایا جائے۔ جب ہمارا طرز فکر یہ ہے کہ ہم نے اپنے ہی لوگوں پر کام کرناہے اور دوسروں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے تو ظاہرا آپ کے تمام اقدامات اسی سوچ کے مطابق ہوں گے۔
دوسری چیز جو میں نے وہاں عملی طور پر دیکھی کہ اگر میں اپنے آپ کو عقل کل سمجھوں اور یہ سمجھوں کہ کینیڈا میں موجود تمام تر علمائ، متکلمین کو مجھ سے کچھ سیکھناہے مجھے ان سے کچھ نہیں سیکھنا تو پھر میں اس معاشرے میں کام نہیں کر سکتا ۔ مغربی معاشرے میں کام کرنے کے لیے ان چیزوں کوسمجھنا نہایت ضروری ہے ۔ پاکستان کے ماحول میں پلنے بڑھنے والے اور وہاں کے ماحول میں پلنے بڑھنے والے شخص میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ وہاں کے مسائل اور یہاں کے مسائل الگ الگ ہیں۔وہاں کی ذہنیت اور یہاں کی ذہنیت مختلف ہے۔ ان کی ذہنیت اور زبان کو سمجھنا یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے جو وہاں موجود مسلمان مفکرین کو درپیش ہے۔
میں ۷ سال سے کینیڈا میں مقیم ہوں اور تسلسل کے ساتھ ہفتہ وار عیسائی مفکرین کے ساتھ ہماری ایک علمی نشست ہوتی ہے، جس میں میرا مقصد یہ نہیںہوتا کہ میں ان کو کچھ پڑھاﺅں گا بلکہ میرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان سے بائبل کو سمجھوں ۔ہمارے علماءکا رویہ ہے کہ گھر بیٹھ کر بائبل کو سمجھتے ہیں اور پھر فتوی جاری کرتے ہیں یہ ہماری غلطی ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ جب مجھے کسی چرچ میں لیکچر دیناہوتا ہے اور میں بائبل سے تیاری کرتا ہوں اور پھر بائبل کے علماءسے بات کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ نے بائبل کو صحیح نہیں سمجھا ۔اسی طرح وہ قرآن کو نہیں سمجھ سکتے ،اس کے لیے ایک خاص ماحول میں پلنا بڑھنا نہایت ضروری ہے ۔ وہ حتی سادہ سی آیت کوبھی نہیں سمجھ سکتے ۔ ان علمی نشستوں سے میں یہ سیکھتا ہوں کہ ہم نے جب اس معاشرے میں کچھ کرنا ہے تو ہمیں ایسی چیزوں کو مشخص کرنے کی ضرورت ہے جو قرآن اور بائبل دونوں میںمشترکہ طور پر موجود ہیں ۔ایسا کرنے سے ہمیں نئی جہتوں کا پتہ چلتاہے۔ مثلا جب بائبل میں خدا کی مغفرت، محبت، ہمسایوں سے روابط کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے پاس بھی ایسے معارف موجود ہیں لیکن جب ہم ان سے بات کرتے ہیں تو بحث کے نئے رخ سامنے آتے ہیں ۔ یہ رخ اس وقت تک سامنے نہیں آ سکتے جب تک ہم ان کے ساتھ مل کر نہ بیٹھیں ۔ یہ دو طرفہ مسئلہ ہے۔ وہ ہم سے استفادہ کرتے ہیںاورہم ان سے استفادہ کرتے ہیں ۔
جب آپ معاملات کوگہرائی سے دیکھتے ہیں تو اس میں بڑا مشکل ہوتا ہے کہ آپ متعصبانہ انداز سے باہر نکلیں ۔یہ فطری ہے اور مشکل بھی، تاہم فلسفہ اور منطق آپ کی راہنمائی کرتی ہے کہ آپ کسی حد تک غیر جانبدار ہو کر کسی بھی معاملے کے بارے میں فیصلہ کریں یا رائے قائم کریں ۔میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ ان کی اورہماری بات میں زیادہ فرق نہیں، بات کرنے کا انداز مختلف ہے ۔ عام آدمی جب دیکھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ دونوں لوگ مختلف بات کر رہے ہیں ۔یہ گمراہ ہیں ہم گمراہ نہیں ہیں ۔ ایسا نہیں ہے۔بہت سی جگہیں ایسی ہیں جہاں ہمارے اندر مشترکات ہیں ، مشترک بنیادیں ہیں تاہم ان بنیادوں تک پہنچنے کے لیے بھی عقل و فکر اور خرد کی ضرورت ہے۔جب آپ مذہب کی حقیقت اور بنیاد کی جانب جائیں گے جسے ہم معنویت یا مذہب کی اصل روح کہتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب میں قربت میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے تاہم جتنا ہم اس بنیاد سے اوپر آتے ہیں اور مسائل کو ظاہری نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اختلافات اسی قدر زیادہ ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔
جب میں کینیڈا گیا تو میں نے وہاں باقاعدہ طور پر چار شعبوں میں تعلیم حاصل کی ۔ ہمارا کوئی بھی دانشور ، عالم جب تک ان چار شعبوں میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرے وہ اس معاشرے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کر سکتا ۔ ان میں سے ایک مشاورت یا کونسلنگ ہے۔ اس معاشرے کے افراد جب آپ سے اپنے گھریلو یا نفسیاتی مسائل میں مدد مانگنے کے لیے آتے ہیںتو آپ کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ ایسا کرتے ہوئے کس قدر فاش غلطیاں کرتے ہیں ۔ اس بات کا اندازہ مجھے باقاعدہ یونیورسٹی سے کونسلنگ کا ڈپلومہ کرنے کے بعد ہوا۔سب سے بڑا مسئلہ جو ہمارے علماءکو درپیش ہے ممکن ہے کسی کو اس سے اختلاف ہو تاہم یہ میرا اپنا تجربہ ہے جس پر بات ہو سکتی ہے وہ یہ کہ جب ہم دینی مدرسہ سے پڑھ کر آتے ہیں تو ہمارا ایک مزاج بنا ہوا ہوتا ہے،ہماری فطرت ثانیہ ہوتی ہے کہ ہم سے دنیا کاکوئی بھی سوال کرلو ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں ۔یہ چیز مجھے پتہ چلی کہ جب تک آپ کسی علم کو پروفیشنل انداز سے نہیں سیکھیں گے اور یہ کام سیکھنے کے بعد قرآن و سنت کو اس کے مطابق پیش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس وقت تک آپ صحیح انداز سے کام نہیں کر سکیں گے۔
جب آپ تعلیم کو ماہرین سے حاصل کریں گے تو آپ کو قرآن سے بھی نئی جہات سمجھ میں آئیں گی ۔ قرآن اس ضرورت کی جانب اشارہ کرتا ہے، تاہم ہم اس جانب توجہ نہیں دیتے ۔دوسری چیز نفسیات ہے، میں نے علم نفسیات کے بہت سے کورس کئے۔ جب تک انسان یونیورسٹی میں یہ تعلیم ماہرین سے حاصل نہ کر لے اس وقت تک قرآن کریم کے نفسیاتی احکام اور پیغامات کو حاصل نہیں کرسکتا۔اس میدان میں مغرب میں بہت کام ہو رہا ہے۔ اسی طرح ذہنی صحت پر کام ہے۔ مغربی دنیا میں اسے بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ ہم اسے کوئی قابل ذکر توجہ نہیں دیتے ۔ میں نے Psycho-Social Rehabilitation میںدو سال کا ڈپلومہ کیا ۔ اس شعبے میں مجھے اسلام کے حوالے سے بھی presentationدینے کا موقع ملا ۔ میں نے بتایا کہ اسلام ذہنی صحت میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اس کے مختلف پہلوﺅں میں بہتری کے حوالے سے کیا کر سکتا ہے۔لہذا جب تک ہم علم نفسیات کو نہیں پڑھتے بحیثیت ایک مبلغ آپ میں ایک خلا باقی رہتا ہے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم قرآن کریم کی اس جہت کو سمجھ سکیں جب تک ہم اس شعبے کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کرتے ۔
تیسری چیز جس کا وہاں کورس کروایا جاتا ہے سی پی ای ہے ۔ یعنی Clinical Pastoral Education۔اس کورس کا تعلق spiritual care سے ہے۔ اس کورس میں بتایا جاتا ہے کہ ایک مبلغ اور ایک عالم نے مریضوں کو کس طرح روحانی اور معنوی لحاظ سے تقویت پہنچانی ہے ۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ اس دوران میں آپ نے صرف اپنی فکر کو ہی استعمال نہیں کرنا بلکہ اپنے جذبات اور احساسات پر بھی کام کرنا ہے۔یہ کورس کرنے کے بعد مجھے علم ہوا کہ ہم اپنے احساسات کو سمجھنے سے بھی قاصر ہیں ۔اپنے جذبات کے اظہار سے بھی قاصر ہیں ۔ یہ تربیت وہاں دی جاتی ہے کیونکہ اگر کسی مریض نے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی تو آپ کو اس کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک آپ اپنے احساسات اور جذبات کو نہیں پہچانیں گے، آپ مریض کے ساتھ connect نہیں کر سکتے ۔ جب میں کسی ایشیائی مریض کو دیکھتا تو میرا استاد اسے توجہ نہ دیتا تھا لیکن جب کسی انگریز مریض کی جانب سے مجھے پذیرایی ملتی تو وہ بہت خوش ہوتا تھا ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی روحانی ضروریات ہوتی ہیں خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ مریض کو ضرورت ہے کہ اسے اس کی حیثیت سے باہر کسی روحانی قوت سے جوڑا جائے۔اگر آپ اس کو کسی قوت سے نہیں جوڑیں گے تو وہ اس قدر دباﺅ میں آجائے گا کہ اس کے لیے بچنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اگر مریض مسلمان ہے تو آپ کو اس کی ٹیکنیک کاپتہ ہونا چاہئے۔ اسی طرح اگر کسی اور مذہب کا مریض ہے تو اس کی روحانی ضروریات مختلف ہیں جو ایک مبلغ یا روحانی کو معلوم ہونی چاہئیں ۔ میں نے وہاں مسلمان مریضوں کی روحانی ضروریات پر ایک پریزینٹیشن دی ،یہ تمام spiritual care professionals کے لیے بالکل نئی چیز تھی ۔ ہمارے کورس کا حصہ تھا کہ مرنے والے مریض کو کیسے ذہنی اور قلبی سکون پہنچانا ہے۔ مسلمان مریض سے جب آپ پوچھیں گے کہ آپ کیسے ہیں تو وہ کہے گا میں ٹھیک ہوں لیکن ممکن ہے ایسا نہ ہو، وہ تکلیف میں ہو، تاہم اپنے ثقافتی یا دینی مزاج کے سبب وہ ایسا کہ رہا ہو کہ میں ٹھیک ہوں ۔انگریز مریض براہ راست بات کرتا ہے، وہ اپنی کیفیت حقیقی طور پر بیان کرتا ہے۔ میں نے انگریز مریضوں کو دیکھا کہ وہ اسلام کے احکام کو بہت پسند کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کو سراہتے ہیں کہ اسلام میں شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں اسلام اور مسلم مبلغین بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ البتہ ہسپتال میں spiritual care کے بہانے تبلیغ کی سختی سے ممانعت ہے۔
ای سی ای (Early Child Education ) کے شعبے میں بھی وہاں بہت کام ہوا ہے۔ اگر آپ اس موضوع کو نہیں پڑھیں گے آپ اس موضوع پر قرآن کے احکام سے کچھ نہیں نکال سکیں گے ۔ میں نے مغرب میں کوئی شعبہ ایسا نہیں دیکھا جہاں اسلام اپنا کردار نہ ادا کرسکے ۔اخلاقیات کو ہی لے لیں یورپ میں اخلاقیات کا بحران ہے ۔میں نے ان سے کہا کہ جب تک آپ اخلاقیات کو اپنے نصاب کا حصہ نہیں بنائیں گے اس بحران سے نہیں نکل سکتے ۔ ضروری نہیں کہ اسلام کی بات کی جائے سب مذاہب کے لوگ بیٹھیں اور اخلاقیات کا نصاب تشکیل دیں ۔ اسی طرح دیگر شعبہ جات میں بھی اسلام ایک نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔گزشتہ دنوں محبت اور ہمدردی کے عنوان سے ایک کانفرنس ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ دوسرے مذاہب کے لوگ ان موضوعات پر بڑی مشکل سے چیزیں ڈھونڈ کر لاتے ہیں جبکہ ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے۔ مسئلہ فقط یہ ہے ہمارا طرز فکر اور دینے کا انداز غلط ہے۔جب تک ہم وہاں اپنا پیغام پہنچانے کے مواقع خود پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک ہم اپنا پیغام نہیں دے سکتے ۔ ہمیں اس کے لیے مختلف طریقے اپنانے پڑیں گے تاکہ ہم اپنا پیغام ان تک پہنچا سکیں ۔
قرآن و سنت کا ترجمہ وہاں اہمیت نہیں رکھتا ، ہم کو ان آیات و روایات کو وہاں کے معاشرے کے مطابق ڈھال کر بتانے کی ضرورت ہے۔ہم نے کونسلنگ کی فیلڈ میں دیکھا اور سیکھا کہ زندگی میں مشکلات ہر کسی کے ساتھ ہیں۔ ہمیں کورس میں سکھایا گیا کہ یہ واقعات یا حادثات اگر ہماری suffering کا باعث بنتے ہیں تو ایسا خود ہمارے اپنے زاویہ نگاہ کی وجہ سے ہے ۔ کیونکہ ایک ہی واقعہ کسی کے لیے ذہنی مشکلات کا باعث بنتا ہے اور کسی کے لیے نہیں لہذا اس کو نہایت گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ہم لوگ کلامی بحثوں پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ یقین مانیں کہ آج کی دنیامیں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ برہان امکان ووجوب، اور برہان نظم کی بحث سنے ۔آج لوگ نتائج کی جانب متوجہ ہیں۔ اگر آپ کے عقیدے نے آپ کے ایمان اور قلب و ذہن پر کوئی اثر نہیں کیا تو کوئی اس کو توجہ نہیں دے گا۔یورپ کے لوگ زیادہ سچے اور امین ہیں۔ ان کے سامنے مسلمان ممالک بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ آپ کس اسلام کی بات کرتے ہیں جو آپ کے معاشرے میں کوئی تبدیلی نہ لا سکا ۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ضروری نہیں کہ علم انسان کے ایمان یا اخلاق کو بہتر کر سکے، یہ معلومات ہو سکتی ہیں ، مفاہیم ہو سکتے ہیں لیکن ایمان اور اخلاق کسی اور چیز کا نام ہے ۔ کلام جدید کا تعلق نتائج سے ہے اور نتائج کو مغرب میں بہت اہمیت حاصل ہے۔اسی طرح ایک اور چیز جو میں نے وہاں محسوس کی یہ ہے کہ ہماری زبان وہاں بہت اہانت آمیز ہوتی ہے۔ ایک بہت معروف عالم وہاں انگریزوں کی طہارت کے حوالے سے بہت پست زبان استعمال کر رہا تھاکہ یہ پانی کا استعمال نہیں کرتے ۔ ہم ایک پہلو کو لے کر بات کرتے ہیں جبکہ دیکھا جائے تو انھوں نے سیکیورٹی ، سیفٹی اور حفظان صحت کے شعبے میں بہت ترقی کی ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم فقط وہ پہلو دیکھتے ہیں جس سے ہم لوگوں کو نظریاتی طور پر برین واش کر سکیں ، خود کو ان سے ممتاز کر سکیں اور ایک نفرت کی فضا کو جنم دے سکیں ۔
کسی ایک ملک میں رہ کر کثیر الثقافتی معاشرے کا کیا مطلب ہے۔ یہ اسی وقت پتا چلتا ہے جب انسان اس معاشرے میں زندگی گزارے ۔ اس معاشرے میں رہ کر پتہ چلتا ہے کہ ان کی ثقافت کیا ہے اور multiculturalism اور multirelgious معاشرے کا مطلب کیا ہے۔ ہم جب کسی سے بات کرتے ہیںتو ممکن ہے آپ کی بات اچھی ہو اور آپ کی نیت بھی ٹھیک ہو لیکن یہ مخاطب کی ثقافت میں اچھی تصور نہ کی جاتی ہو ۔ چونکہ وہ آپ کی زبان کو دیکھ رہا ہے لہذا ایسی صورتحال میں مسائل جنم لیتے ہیں ۔مثلا ہم پاکستانی ایک دوسرے کی بات میں مخل ہوتے ہیں ایک بات ختم نہیں ہوئی ہوتی کہ دوسرا بیچ میں بول پڑتا ہے ۔یورپ میں اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے ۔ پس کثیر الثقافتی معاشرے کو سمجھے بغیر اگر کوئی عالم یا مبلغ وہاں کام کاآغاز کرے گا تو اسے ناکامی کا سامنا ہوگا۔اسی طرح کثیر المذہب ہوناہے ، جرمنی جا کر مجھے پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ ہمارے مابین تو لڑنے والی بات ہی کوئی نہیں ہے مسلک کی بات تو بہت بعد کی ہے مذاہب میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ لڑا جائے ۔ہر کوئی ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام کر رہا ہے۔جو ہم کرتے ہیں اس کو پیسٹرل سٹائل کہا جاتا ہے کہ کسی کے مذہب کو تبدیل کرنے کے لیے کوشش کرنا ۔ کینیڈا میں جا کر بھی ہمارا سارا زور دوسروں کو convert کرنے کی طرف ہوتا ہے ۔لہذا علم نفسیات ، علم کلام اور اس قبیل کے دیگر علوم کا جاننا اور پڑھنا نہایت ضروری ہے تاکہ ہمیں مذہبی تبلیغ کی دوسری جہات کا بھی علم ہو۔
اگر ہمیں یہی نہیں پتہ نہ چلے کہ کسی عقیدے کے جنم لینے میں کیا عوامل دخیل ہوتے ہیں تو ہم دوسرے کے عقیدے کا احترام کس طرح کر سکتے ہیں ۔اس معاشرے میں جب میں نے قرآن کے حوالے سے حضرت مسیح اور حضرت مریم ؑ کے بارے میں بات کی تو عیسائی بہت حیران ہوئے کہ قرآن حضرت عیسی
علیہ السلام ، حضرت مریم ؑ کے بارے اتنی خوبصورت باتیں کرتا ہے۔میں جب دیگر مذاہب کے علماءکے پا س جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ان کی میز پر سب کچھ موجود ہوتا ہے اگر موجود نہیں ہوتا تو وہ قرآنی تحقیقات ہیں جن میں اس معاشرے کے حقیقی ایشوز پر قرآن کے نقطہ نطر کو بیان کیا گیا ہو۔ حالانکہ قرآن ایک خزانہ ہے لیکن ہم اس کو صحیح انداز سے متعارف نہیں کروا سکے ۔
میں نے ایک کانفرنس میں قرآن کے تصور رحمت سے متعلق بات کی جسے اس معاشرے میں بے حد سراہا گیا ۔ میں نے کوشش کی کہ اللہ کی رحمت کے قرآن کریم میں بیان کردہ تمام پہلوﺅں پر روشنی ڈالوں ،یہ کائنات رحمت کے اصول پر استوار ہے، رحمت للعالمین کا تذکرہ ، بسم اللہ میں الرحمن اور الرحیم کا تذکرہ ، رسول اکرم کی نرم دلی کا تذکرہ۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ اس طرح ان کے سامنے ہمارا مثبت چہرہ جاتا ہے۔ حتی کہ فرعون کے بارے کہا کہ اس سے بھی نرم لہجے سے بات کروشاید کہ اس کے دل میں خوف پیدا ہو جائے ۔ اب فرعون سے بدتر کون ہو گا لیکن جب ہم یہ پیغام دیتے ہیں کہ لوگوں سے اچھے طریقے سے بات کرو تو اس سے ہمارا ایک اچھا تاثر مغرب میں ابھرتا ہے۔
مغرب کے لوگ اخلاق کو قانون کے تناظر سے دیکھتے ہیں ، بچہ اس لئے بزرگ کے لیے اپنی جگہ نہیں چھوڑتا کہ وہ اس کا احترام کرتا ہے بلکہ قانون ہے۔ پس جب تک قانون ہے، اخلاق ہے جس روز قانون نہیں اس روز اخلاقیات ختم ۔ یہاں اسلام اس معاشرے کی مدد کر سکتا ہے ۔اسلام بہت گہرائی میں جا کر اخلاقیات کی بات کرتا ہے خواہ کوئی دیکھنے والانہ ہو ، قانون نہ ہو تب بھی آپ کو اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرنا ہے۔غصہ پر قابو پانے کے حوالے سے ہمارے پاس بہت مواد ہے ۔مختصر یہ کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے ہم ان کی ذہنیت ، ان کی ثقافت اور ان عقائد کو سمجھیں اور اس کے بعد قرآن و سنت سے کوئی ایسی چیز پیش کریں جو واقعی ان کے لیے قابل استفادہ ہو ۔


٭ڈاکٹر سید ناصر زیدی ایک محقق ، دانشور اور عالم ہیں ۔اسلامی نظریاتی کونسل کے شعبہ تحقیق میں کام کرنے کے بعد آپ کینیڈا تشریف لے گئے جہاں ایک تحقیقی ادارے سے منسلک ہیں بہت سی عالمی و علاقائی کانفرنسوں میں نمائندگی کر چکے ہیں ۔ کینیڈامیں آپ درج ذیل ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
Muslim Chaplain, University of British Columbia
Research Associate, Vancouver School of Theology
Muslim Spiricual Care Professional, Vancouver General Hospital
Resident Alim, Fatimia Services Society of British Columbia