علمی مقالات

مغرب کے فکری و اخلاقی ارتقاءمیں اسلام کا ممکنہ کردار

ڈاکٹرسید ناصر زیدی٭
عموما معاشرے میں علمی کام کو اس کی گہرائی کے مطابق پذیرائی نہیں ملتی یہی کیفیت البصیرہ کے ساتھ ہے جو نہایت علمی و تحقیقی کام کر رہاہے۔اس جس کا معاشرے میں ابھی تعارف نہیں۔ ایک اہم نکتہ جس کی جانب میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں بات کرنا آسان ہے تاہم اس کے معاشرے میں کردارکو بیان کرنا نہایت مشکل ہے۔ آپ سے علامہ اقبال یا کسی اور شخصیت کے بارے میں بات کرنے کو کہا جائے تو شاید آپ گھنٹوں بات کرسکتے ہیںتاہم اگر آپ سے کہا جائے کہ ان شخصیات کی معاشرے میں عملی خدمات اور کردار کو بیان کریں تو شاید بہت مشکل ہو ۔میںاس نشست میں مغرب میں اسلام کے کردار کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا ۔ جب مسلم دنیا سے ایک انسان مغربی دنیا میں جاتا ہے وہاں وہ اس معاشرے میں کیا مثبت کام کرسکتا ہے یہ ایک اہم سوال ہے ۔ظاہرا اس کے لیے ایک شرط اس انسان کا عالم ہوناہے۔ اگر عالم نہ ہو تواسلاام کے تناظر میں ہم کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر سکتے۔

  • مشاہدات: 17

امیر المومنین حضرت علی کا طرز جہانبانی

ثاقب اکبر 

آپ پر 45ھ میں مسجد کوفہ میں نماز پڑھتے ہوئے ایک خارجی شقی نے سرپر زہرمیں بجھی ہوئی تلوار کا وار کیا۔ دو روز بعد آپ نے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ آپ کا دور ابتلاﺅں اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے اسلامی حکمرانی کے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں۔ اسی مناسبت سے ہم ذیل میں آپ کے طرز جہانبانی کے چند پہلوذکر کررہے ہیں۔ اس آئینے میں ہم آج کے عالم اسلام کی حکومتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

 

  • مشاہدات: 1324

وحی کی حقیقت

ثاقب اکبر

پیش نظر مقالہ”دین کا آفاقی پیغام“ کے زیرعنوان سلسلہ دروس کے ایک درس کے مطالب پر مشتمل ہے جسے بعدازاں مقالے کی شکل دی گئی ہے۔

 

  • مشاہدات: 1574

سیرت رسول کا بنیادی ماخذ،قرآن

ثاقب اکبر

صدر نشین البصیرہ ،اسلام آباد

 

 سیرت رسول کے حوالے سے دنیا کی تقریباً سوزبانوں میں لاکھوں جلدوں پر مشتمل کتب موجود ہیں۔ (۱)اس سیرت نویسی کا آغاز مغازی رسول کے حوالے سے حضرت عروہؓ بن زبیر(م96ھ) نے پہلی دستاویز تیارکرکے کردیا تھا۔اُن کے بعد یہ سلسلہ مختلف حوالوں سے شروع ہوگیا۔ کسی نے حدیث کے عنوان سے آنحضرت کے اقوال و فرمودات کی جمع آوری سے آغاز کارکیا، کسی نے تاریخ نویسی کے عنوان سے قلم سنبھالا اور کسی نے سیرت نگاری کے عنوان سے کام کی ابتدا کی۔ چودہ صدیاں گزر گئیں اور یہ سلسلہ شرق و غرب میں متنوع انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔ سیرت رسول پر لکھی گئی کتب کی فہارس و کتابیات انسان کو ورطہحیرت میں ڈال دینے کے لیے کافی ہیں۔ یہ بات بڑے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں کسی شخصیت کے بارے میں اتنا نہیں لکھا گیا جتنا آنحضرت کے بارے میں۔ شاید یہ جملہ حق مطلب ادا نہیں کر پایا۔ کہا جاسکتا ہے کہ کسی شخصیت کے بارے میں آنحضرت کی نسبت عشرِ عشیر بھی نہیں لکھا گیا۔ قرآن حکیم کی یہ بات اس پہلو سے بھی حق ثابت ہوتی ہے کہ:   (2) وَرَفَعنَا لَکَ ذِکرَکَ

 

  • مشاہدات: 1929

مذاہب کی مشترکہ بنیادیں- قرآنی نظریہ

ثاقب اکبر

صدر نشین البصیرہ ،اسلام آباد

 

قرآن میں کلمة سوا کے معنی و مفاہیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اہم ترین تین عناصر جنہیں کلمة سواءیعنی مشترک بنیادیں قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا،کسی چیز کو اللہ کا شریک قرار نہ دینا،اللہ کوچھوڑ کر کوئی ایک دوسرے کا رب نہ بنانا ہے۔ تاہم بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو مختلف انداز میں بیان کیا جا رہا ہے  اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنے کا یہ یقینی مطلب ہے کہ کسی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیا جائے۔ یہی اُس کی خالص عبادت کا راستہ ہے۔ اسی طرح توحید پرستی اورشرک کی نفی کا انسانی معاشرے میں عملی نتیجہ یہ ہے کہ سب قومیں اورسب انسان مساوی ہیں، کیونکہ سب مساوی طور پر اللہ کے بندے ہیں۔ کوئی کسی انسان یا کسی قوم کا بندہ نہیں یعنی کسی فرد کو اور کسی قوم کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو ”رب“ کے مقام پر فرض کرے۔ قوموں اورافراد کے ”ارباب“ ہونے کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ سب قومیں ایک دوسرے کے ساتھ مساویانہ اورانسانی برتاﺅ کریں۔


  • مشاہدات: 1367