وحدت الوجود اور خواجہ محمد یار فریدی رحمة اللہ علیہ

سید ثاقب اکبر

چیئرمین البصیرہ اسلام آباد

وحدت الوجود کا نظریہ عرفاءاور فلاسفہ کے مابین ایک قدیم نظریہ ہے جس پر بہت سے اعتراضات بھی کیے گئے اور اس کے حق میں دلائل بھی موجود ہیں ۔ اس نظریہ کے حوالے مدیر اعلی ماہنامہ پیام کی ایک تحقیقی تحریر پیش قارئین ہے ۔ اس تحریر میں جناب ثاقب اکبر نے گڑھی شریف تحصیل خانپور ضلع رحیم یار خان کے معروف صوفی بزرگ خواجہ محمد یار فریدی کے دیوان ” دیوان محمدی “ کامطالعہ کرنے کے بعد اس میں موجود نظریہ وحدت الوجود پر بحث کی ہے ۔ اس مقالے میں دیگر عرفاءو صوفیاءکے وحدت وجود کے حوالے سے نظریات کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ جناب ثاقب اکبر مقالے کے اختتام پر تحریر کرتے ہیں” میں اس قابل نہیں کہ اولیاء، اصفیاءاور عرفاءکے کلام پر کچھ عرض کر سکوں، صرف اظہارِ سپاس گزاری کے طور پر قلم کی کچھ سیاہی صرفِ سخن کی ہے کہ شاید اس سے میرے لیے روشنی کا کچھ سامان ہو سکے۔ وحدت الوجود کے موضوع کا انتخاب اہل دل کی توجہات کا ذریعہ بن جائے تو میرے لیے صد سعادت سے فزوں تر ہے۔“(ادارہ)

صوفیاءکرام اورعرفاءعظام کا ایک بڑا طبقہ وحدت الوجود کے عقیدے کا اظہار کرتا رہا ہے اور اب بھی نظم و نثر میں ان کے اظہارات میں یہ عقیدہ پوری قوت سے جلوہ فرما دکھائی دیتا ہے۔ انہی صوفیاءمیں سے ہماری سرزمین کے نامور بزرگ صوفی حضرت خواجہ محمد یار فریدیؒ قدس سرہ العزیز بھی شامل ہیں۔ ان کا وصال ۱۹۰۱ءمیں ہوا۔ گڑھی شریف تحصیل خانپور ضلع رحیم یار خان میں ان کا دربار عالیہ عقیدت مندوں کے لیے باعث جذب و کشش بنا ہوا ہے۔ انھوں نے فارسی، اردو اور سرائیکی میں اپنے فکر و نظر کو پیرایہ شعر میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ان کے اشعار میں وحدت الوجود کا نظریہ اپنی تابانیوں اور گہرائیوں کے ساتھ موجود ہے۔ اس حوالے سے کئی اہل علم نے پہلے بھی قلم فرسائی کی ہے۔ راقم نے اسی پہلو کو اپنے اس مضمون کا موضوع قرار دیا ہے۔

 ظاہر ہے جن لوگوں کو وحدت الوجود کی حقیقت تک رسائی نہیں ہو سکی ان سے آپ کے لیے حسن ستائش کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ بعض ایسے بھی ہیں جنھوںنے اس نظریے کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی اور عامیانہ و عُمیانہ تقلید کے راستے پر گامزن ہیں۔ ایسے میں اگر ان کی تنقید تیر اندازی معلوم ہو تو اس راستے کے مسافروں کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ ان مسافروں کو کہنا آتا ہے تو سہنا بھی آتا ہے۔اس لیے کہ گاہے یہ لوگ کہنے پر مامور ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت خواجہ خواجگان سید معین الدین چشتی اجمیریؒ فرماتے ہیں:

من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو

چون نگویم؟ چون مرا دلدار می گوید بگو

سرِّ منصوری نھان کردن، نہ حدِّ چون منیست

چون کنم، ھم ریسمان، ھم دار می گوید بگو

وحدت الوجود کا اصطلاحی پس منظر

آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وحدت الوجود کے اصطلاحی پس منظر اور حقیقت پر کچھ بات کرلی جائے۔

عام طور پر فنی پہلو کے اعتبار سے اس اصطلاح کی نسبت سعید الدین فرغانی کی طرف دی جاتی ہے جن کا تعلق مکتب ابن عربی کی تیسری نسل سے ہے۔ البتہ عرفان نظری کا بابا آدم ابن عربی ہی کو کہا جاتا ہے۔ جب کہ یہ اصطلاح ان کے ہاں دکھائی نہیں دیتی، اس کا مفہوم دکھائی دیتا ہے لیکن یہ مفہوم ان سے پہلے بھی بہت سے عرفا ، صوفیاءاور علماءکے ہاں موجود ہے۔ ان میں سے معروف کرخی(م۲۰۰ھ)، خواجہ عبداللہ انصاری(م۴۸۱ھ) اور محمد غزالی(م۵۰۵ھ) کا ذکر بطور نمونہ کیا جاسکتا ہے۔

عرفانِ اسلامی میں وحدت الوجود کی کئی تعریفیں کی جاتی ہیں البتہ مشہور ترین تعریف کچھ یوں ہے:

وحدت الوجود سے مراد ہے کہ ذات ہستی ایک بلکہ یکتا ہے اور اس سے مراد حق تعالیٰ ہے اور جو کچھ اس سے ماسوا ہے وہ اس کا ظہور، نمود اور تجلی ہے اور اس کی شانوں میں سے ایک شان ہے۔

اس کی وضاحت میں علمائے عرفان نظری کہتے ہیں:

جیسے نور کی تابندگی سے رنگ ظاہر ہوتے ہیں، جب خدا اشیاءکو وجود کا افاضہ کرتا ہے یعنی فیض وجود عطا کرتا ہے تووہ عالم میں ظہور پاتی ہیں۔ البتہ اس نظر سے کہ اشیاءکا ازخود کوئی وجود نہیں ہوتا۔

حقیقتِ وجود کے بارے میں ملا صدرا کا نظریہ چونکہ تشکیک پر مبنی ہے اس لیے ان کے نزدیک حقیقتِ وجود واحد ذاتی ہے جو مراتبِ تشکیک رکھتی ہے۔ انھوں نے ہستی کے تین مرتبے بیان کیے ہیں اور وضاحت کی ہے کہ ہر مرتبہ پروردگار کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ ایک ہی مرتبے کا مصداق ہے جسے عرفاء”غیب مطلق“ اور ”ذات احدیہ“ سے تعبیر کرتے ہیں۔

ابن عربی اپنی کتاب فصوص الحکم کی فص ہارونی میں کہتے ہیں کہ عارف وہ ہے جو ہر چیز میں حق کا مشاہدہ کرتا ہے۔

عامر بصریؒ کا بیان

عامر بصریؒ اپنے قصیدہ ذات الانوار میں ”وحدتِ صرف“ کامعنی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

وحدتِ صرف بعض لوگوں کے نظریے کے برعکس حلول نہیں ہے کیونکہ حلول کا اقتضاءتو یہ ہے کہ دو چیزیں ہوں اور ایک دوسری میں حلول کرے عظیم موحدین کے نزدیک وحدت یوں نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک ہر جہت سے وحدتِ مطلق کے سوا کوئی چیز نہیں اور اس نے وجود غیر کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔

حلول کی نفی

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو وحدت الوجود کے قائلین کی طرف حلول کی نسبت دیتے ہیں ان کی یہ نسبت بہتان کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بات ہم ایک دفعہ پھر واضح کرتے ہیں کہ جیسے وحدت الوجود کی اصطلاح سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے قائل اہلِ توحید وجود کی توحید و وحدت کے قائل ہیں۔ ان کی طرف شرک یا دوئی کی نسبت درست نہیں۔ جسے دوسرے دوسرا وجود سمجھتے ہیں وہ اسے مظہر ذات واجب الوجود جانتے ہیں۔

اسی طرح وحدت الوجود کا نظریہ پیش کرنے والوں نے اتحاد و تناسخ کے نظریے کی نفی کی ہے۔ وحدت الوجود کے نظریے کا ان گمراہ کن نظریات سے کوئی تعلق نہیں۔ فلسفے کا نظریہ اصالة الوجود ہو، عرفاءکا نظریہ وحدت الوجود ہو یا ملا صدرا کا ہستی اوروجود کے بارے میں نظریہ تشکیک ہو، وضاحت اور صراحت سے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہیں اور کم فہم اور کج فکر لوگوں نے جو وحدت الوجود کے نظریے کی تشریحات کی ہیں وہ اس مکتب کے عرفاءکی ترجمانی نہیں کرتیں۔

مولانا رومیؒ کا نظریہ

مولانا جلال الدین رومی کے ہاں وحدت الوجود کا نظریہ مختلف پیرایوں میں دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے طرح طرح سے اس عقیدے کو بیان کیا ہے مثلاً وہ کہتے ہیں:

تفرقہ بر خیزد و شرک و دویی

وحدت است ا ندر وجود معنوی

مثنوی ما دکان وحدت است

غیر واحد ھرچہ بینی آن بُت است

ما عدم ھاییم وھستی ھا نما

تو وجود مطلق وھستی ما

ایک اور مقام پر کہتے ہیں:

آنھا کہ طلبکار خدایید، خدایید

بیرون ز شما نیست، شمایید شمایید

ذاتید و صفاتید، گھی عرش و گھی فرش

در عین بقایید و منزہ ز فنایید

شیح محمود شبستری کے چند اشعار

آٹھویں صدی کے معروف عارف شیخ محمود شبستری کے چند اشعار کو ان کے نظریہ وحدت الوجود کی مناسبت سے پیش کیا جاتا ہے:

جناب حضرت حق را دویی نیست

درآن حضرت من ما و تویی نیست

من و ما و تو و اوھست یک چیز

 کہ در وحدت نباشد ھیچ تمییز

شود با وجہ باقی، غیرھالک

یکی گردد سلوک و سیرو سالک

موضوعات عرفانی کی مشکل

موضوعات عرفانی کی مشکل یہ ہے کہ زبانیں مادی وجود اور مادی کائنات کی ضروریات کے مطابق بنی ہیں اور انھوں نے رفتہ رفتہ ارتقاءپایا ہے۔وہی الفاظ جو کسی مادی مصداق کے لیے بنے تھے جب اہل باطن کے ہاتھ آئے تو وہ عالم باطن اور معنویات کے لیے بھی استعمال ہونے لگے۔ ان کے ذریعے سے باطنی مسائل کو بیان کرنا نہایت مشکل تھا۔ وحدت الوجود کے نظریے کوبھی لفظوں میں بیان کرنا واقعاً بہت مشکل ہے اور جنھیں اس تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور انھوں نے اپنی ہنر مندی سے اسے بیان کیا ہے ان کے مطالب کی حقیقت تک پہنچنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استاد مرتضیٰ مطہری کے بقول اگر محی الدین ابن عربی کے شاگرد اور خاص مرید صدرالدین قونوی فصوص الحکم کی شرح نہ لکھتے تو دنیا میں کوئی اسے سمجھنے والا نہ ہوتا۔ عرفاءکے نزدیک عرفان ہستی مطلق اور عالم وجود کے حقائق کی معرفت ہے کہ جو مشاہدہ حضوری سے حاصل ہوتی ہے، حصولی طریق سے نہیں۔ اس سے الفاظ کی نارسائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ بہت سے لوگوں کو وحدت الوجود کا نظریہ سمجھ نہیں آیا لہٰذا وہ اس کے خلاف طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ نظریہ کسی عارف کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کر کے سیکھا جائے بلکہ حاصل کیا جائے۔ چنانچہ ملا صدرا ایک مقام پر کہتے ہیں:

بعض جاہل اور نام نہاد صوفیوں نے عارف علماءکے طریقے کی تقلید کیے بغیر عرفان کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور عرفان کے مقام پر نہیں پہنچے۔

امام خمینیؒ کا نقطہ نظر

اسی نظریے کی بنیاد پر امام خمینی حق اور خلق کے مابین مباینت کا شدت سے انکار کرتے ہیں اور ہر طرح کی کثرت، دوگانگی اور تغایر کو ایک اعتباری امر سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں جو کچھ ہے وہی ہے۔ عالم امکان اور عالم کثرات سب کے سب اس وحدہ لا شریک کے صفات و اسماءہیں۔ لہٰذا عالم میں ہر چیز ایک ایسا مظہر ہے جو مُظہِر کی حکایت کرتا ہے۔ عالم آفرینش اپنی تمام تر وسعت کے ساتھ ذات واحد کا جلوہ و پَرتو ہے کہ جس نے رنگا رنگ آئینوں اور متعدد تعینات میں خود کو ظاہر کیا ہے۔

وحدت وجود کے حامل عارف کی نظر میں عالم ،ہویت حق کی صورت ہے اور مخلوقات، خالقیت حق کی نمود ہیں۔ وہ عرفاءکہ جو خالق و مخلوق کے مابین ارتباط و عشق کے دوہرے رابطے کے قائل ہیں وہ اس آیہ شریفہ سے استفادہ کرتے ہیں:

وَ نَفَختُ فِیہِ مِن رُّوحِی۔

اور اس معروف حدیث سے بھی :

خلق اللّٰہ آدم علی صورتہ

 اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

اس نظریے کی بنیاد پر ہی امام خمینی کی نظر میں انسان اللہ کے اسم و صفت کا مظہر ہے اور اسی ”اسم“ یا ”عین ثابت“ سے اپنے خدا سے مرتبت ہوتا ہے۔

قرآن حکیم اور وحدت الوجود

قرآن حکیم میں بعض آیات ایسی ہیں جن کی توجیہ ”وحدت وجود“ کے نظریے کے سوا کسی اور طرح ممکن نہیں۔ ہاں البتہ ظاہر سے ہٹ کر معانی بیان کرنے والے بہت کچھ کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے۔ تاہم جو خود آیات کہتی ہیں انھیں پانے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم چند ایک آیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

 فَاَینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجہُ اللّٰہِ (البقرہ:۱۱۵

پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے۔

 کُلُّ مَن عَلَیہَا فَانٍ O وَّیَبقٰی وَجہُ رَبِّکَ ذُو الجَلاَلِ وَالاِکرَامِ (الرحمن:۶۶ و ۶۷)

جو بھی روئے زمین پر ہیں سب فنا ہو جانے والے ہیں،صرف تمھارا رب جو صاحب جلال و اکرام ہے اس کا چہرہ باقی رہنے والا ہے۔

وَ نَفَختُ فِیہِ مِن رُّوحِی(الحجر:۲۹)

اور ہم نے اس (انسان کے پتلے ) میں اپنی روح میں سے پھونکا۔

 اَللّٰہُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ(النور:۳۵)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

حضرت خواجہ محمدیار فریدیؒ کا نظریہ وحدت الوجود

خواجہ محمد یار فریدیؒ کا نظریہ وحدت الوجود عارفین کاملین کے پاک و صاف سرچشمے سے ماخوذ دکھائی دیتا ہے۔ جب وہ ایک بات صراحت سے بار بار بیان کرتے ہیں تو ہمیں ان کے عرفانی مطالب جو بعض ظاہر بینوں کے لیے متشابہات کی حیثیت رکھتے ہیں، کو ان کے کلام کی محکمات کی طرف پلٹانا چاہیے۔ ہم انہی محکمات میں سے ایک شعر پیش کرتے ہیں:

ہے مسجود میرا خدا جانتا ہے

خدائے محمد بجائے محمد

وحدت الوجود کا نظریہ رکھنے والے جیسا کہ ہم گذشتہ سطور میں کہہ چکے ہیں جسے دوسرے دوسرا وجود سمجھتے ہیں وہ اسے مظہر ذات واجب الوجود جانتے ہیں۔ چنانچہ حضرت خواجہ فریدیؒ بھی اسی مفہوم میں اپنے مطالب پیش کرتے ہیں مثلاً رسول اللہ کے بارے میںفرماتے ہیں:

ہر آن میں ہر شان کے مظہر ہی محمد ہیں

ایک اور مقام پر وہ اپنے دلبر کو حق کا مظہر قرار دیتے ہیں:

آج دلبر کو ہم نے دیکھ لیا

حق کے مظہر کو ہم نے دیکھ لیا

اپنے مرشد حضرت خواجہ فریدؒ کے بارے میں کہتے ہیں:

آیات بینات ہیں مکھڑا فرید کا

دیدارِ کرد گار ہے چہرہ فرید کا

جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ یہاں آیات بینات کی ترکیب لے کر آئے ہیں اور یہ خالص قرآنی ترکیب ہے۔

حضرت خواجہ فریدیؒ یہ بات واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ مقام عرفانی اور کائنات کے اپنے مالک سے اس تعلق تک ہر کسی کو رسائی حاصل نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

ہر ایک کا حصہ نہیں دیدار کسی کا

بوجہل کو محبوب دکھائے نہیں جاتے

جب یہ بات واضح ہو گئی کہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا نور، اس کا جلوہ اور اس واجب الوجود کا مظہر ہے تو پھر ایسے عاشقانہ اشعار کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے جس میں عاشق بڑی وارفتگی سے اپنے محبوب اور مرشد کا ذکر کرتا ہے:

خرامِ ناز میں آیا تو دیکھا اور پہچانا

محمد مصطفےٰ یعنی خدا مٹھن کی گلیوں میں

خدا کو ہم نے دیکھا ہے سدا مٹھن کی گلیوں میں

خدا بے پردہ ہے جلوہ نما مٹھن کی گلیوں میں

فرید پاک کی صورت میں بے صورت کا جلوہ ہے

تو بے رنگی میں آ صورت مٹا مٹھن کی گلیوں میں

احتیاط کا راستہ

حقیقت یہ ہے کہ اہل اور حقیقی عرفاءجو کچھ کہتے ہیں اس کی بنیادیں قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔ وہاں ہمارے بہت سے ظاہر بین اور حرفیت پسند طرح طرح کی تاویل کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تاویلیں دورازکار ہوتی ہیں۔ اس کی بھی بیشتر وجہ یہ ہے کہ وہ ان حقائق تک فکری رسائی نہیں رکھتے جو عالم باطن اور جہان غیب کے بارے میں قرآن حکیم بیان کرتا ہے۔ اس سلسلے میں بہترین راستہ تو یہ ہے کہ ایک مومن کہے کہ مجھے اس کی حقیقت کا پتہ نہیں لیکن اس کے لیے جذبہ ¿ ایمانی درکار ہے جو ”ہمہ دانی“ کی نفی کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔

 حرفیت پسندوں کا تو یہی حال ہے۔ رہ گئے وہ لوگ جو کائنات کو فقط حسی و مادی سمجھتے ہیں وہ باطنی حقائق کی طرف آتے ہی نہیں۔ وہ ہر چیز کی مادی تاویل کے درپے رہتے ہیں۔ ہم اس ضمن میں گزارش کریں گے کہ عرفاءو صوفیاءکے اقوال و اشعار پر بھی گہری نظر سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ سمجھ نہ آئیں تو ضروری نہیں کہ ہر بات ہر آدمی کی سمجھ میں آجائے انھیں ان کے حال میں چھوڑ کر آگے نکل جائیں اور فتویٰ بازی سے اجتناب کریں۔ احتیاط کا راستہ یہی ہے، ورنہ بہت بلند مرتبہ ہستیاں اور شخصیتیں پہلے بھی ظلم کا شکار رہی ہیں اور اب بھی ان کے خلاف طرح طرح کی باتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 چند مزید آیات قرآنی

اس سے پہلے کہ ہم حضرت خواجہ احمد یار فریدیؒ کے چند مزید اشعار پیش کریں چند مزید آیات قرآنی تفہیم مطلب اور تقریب معنی کے لیے پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

وَ مَا رَمَیتَ اِذرَمَیتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیٰ(انفال:۱۷)

اور جب آپ نے کنکریاں پھینکیں تو وہ آپ نے نہیں پھینکیں وہ تو اللہ نے پھینکیں۔

 اِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُونَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوقَ اَیدِیہِم(فتح:۱۰)

جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہوتا ہے۔    

وَ لَا تَقُولُوا لِمَن یُّقتَلُ فِیسَبِیلِ اللّٰہِ اَموَات بَلاَحیَآئ وَّ لٰکِن لَّا تَشعُرُونَ (بقرہ:۱۵۴)

جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہو جاتے ہیں انھیں مردہ مت کہو، وہ تو زندہ ہیں البتہ تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔

چند مزید اشعار

حضرت خواجہؒ فرماتے ہیں:

صورتِ رحمان ہے تصویر میرے پیر کی

علّم القرآن ہے تقریر میرے پیر کی

کیا خدا کی شان ہے یا خود خدا ہے جلوہ گر!

ملتی ہے اللہ سے تصویر میرے پیر کی

اس موقع پر قرآن حکیم کی یہ آیات یاد آتی ہیں:

اَلرَّحمٰنُ O عَلَّمَ القُراٰنَ O خَلَقَ الاِنسَانَ O(الرحمن:۱تا۳)

نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں قرآن حکیم کا ارشاد گرامی ہے:

وَمَا یَنطِقُ عَنِ الہَوٰی O اِن ہُوَ اِلَّا وَحی یُّوحٰیO (نجم:۳و۴)

وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے، وہ تو جو کچھ کہتے ہیں وہ ان پر وحی کیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے ہم ایک حدیث کی طرف اشارہ کر آئے ہیں جسے یہاں ایک مرتبہ پھر بیان کرتے ہیں۔ یہ حدیث مختلف پیرائے میں معتبر ترین کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ مثلاً صحیح بخاری(حدیث نمبر۶۲۲۷ )اورصحیح مسلم( حدیث نمبر۶۹۴۱ و۲۶۱۲)کی عبارت یوں ہے:

خلق اللہ آدم علی صورتہ

اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔

حضرت خواجہؒ نبی پاک کے عاشقِ دلباختہ ہیں۔ انھوںنے جس وارفتگی سے سید المرسلین خاتم النبیین رحمة للعالمین کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے وہ خال خال ہی دکھائی دیتا ہے البتہ وہ بھی اہل دل کے ہاں ۔ فرماتے ہیں:

محمد دی صورت ہے صورت خدا دی

میڈے دل توں نقشہ مٹا کوئی نئیں سگدا

ایک اور مقام پر کہتے ہیں:

حی و قیم ہے ہمارا مصطفےٰ صلی علیٰ

تا ابد رائج رہے سکہ رسول اللہ کا

دو شعر اور دیکھیے:

کہوں کیا عشق میں یارو کہ کیا معلوم ہوتا ہے

بہر صورت بہر مورت خدا معلوم ہوتا ہے

خدا کہتے ہیں جس کو مصطفےٰ معلوم ہوتا ہے

جسے کہتے ہیں بندہ خود خدا معلوم ہوتا ہے

ان کا ایک اور شعر دیکھنے سے پہلے اس آیہ مجیدہ کی تلاوت کیجیے:       

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الاَرضِ(جمعہ:۱)

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔

زمانہ چھان مارا نیک و بد کو غور سے دیکھا

ہر اک شئے میں حقیقت کا پتہ معلوم ہوتا ہے

اسی سلسلے کے چند اور اشعار ملاحظہ کیجیے:

بیند ہمہ جا عاشق بیدار ہو اللّٰہ

دلدار ہواللہ دل آزار ہو اللّٰہ

رمزِ حرم ومعدنِ اسرار ہو اللّٰہ

کنزِ کرم واحمدِ مختار ہو اللّٰہ

در صورتِ آں یوسف بازار ہو اللّٰہ

در شکلِ زلیخای خریدار ہو اللّٰہ

اہل عرفان و تصوف کے ہاں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ قبلہ اہل ولا امام الاولیاءاور سید العرفاءکے عنوان سے جانے جاتے ہیں، ان سے اظہار عقیدت اور توسل وارفتہ کی کیفیت ملاحظہ ہو:

دلہائے اہل دل بسجودِ تو شاغل اند

مسجودِ قلبِ اہل ولی یا علی مدد

درظلِ لطفِ عامِ تو عالم پناہ یافت

ظل خدائے بے بدلی یا علی مدد

امتنان و تشکر

آخر میں ناچیز حضرت خواجہ غلام قطب الدین فریدیؒ زیب سجادہ دربار حضرت خواجہ محمد یار فریدیؒ کی اس کریم النفسی اور کرم فرمائی پر ان کا ممنونِ احسان ہوں کہ انھوں نے اس خاکسار کو اس قابل سمجھا کہ میں قطب الاقطاب حضرت خواجہ یار محمد فریدیؒ قدس سرہ العزیز کے دیوانِ محمدی کے حوالے سے چند سطور سپرد قلم کروں۔ میں اسے اپنے لیے اعزاز واکرام سمجھتا ہوں۔ میں اس قابل نہیں کہ اولیاء، اصفیاءاور عرفاءکے کلام پر کچھ عرض کر سکوں، صرف اظہارِ سپاس گزاری کے طور پر قلم کی کچھ سیاہی صرفِ سخن کی ہے کہ شاید اس سے میرے لیے روشنی کا کچھ سامان ہو سکے۔ وحدت الوجود کے موضوع کا انتخاب اہل دل کی توجہات کا ذریعہ بن جائے تو میرے لیے صد سعادت سے فزوں تر ہے۔