البصیره

پس منظر:

وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مرکز اسلام آباد میں اسلام کی عالمگیر انسانی اخوت کی تعلیمات اور دینی ،تعلیمی و فلاحی پروگرام کی بنیاد پر قائم البصیرہ ٹرسٹ ایک ایسامنفرد ادارہ ہے جس کی ضرورت آج اس سرزمین کا ہر اہل فکر و نظر شدت سے محسوس کررہا ہے۔آج اسلام کی آفاقی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔پیارے وطن پاکستان کی بقا استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔جس سر زمین کو الٰہی ہدایت کی روشنی میں قوت اخوت عوام کا مظہر اور نمونہ ہونا چاہیے تھا اس پر تعصب ،فرقہ واریت،کم نظری،شخصیت پرستی، جمود اور اغیارسے مرعوبیت کے سیاہ بادل ہر طرف چھائے ہوئے ہیں۔ایسے میں اس امر کی شدید اور فوری ضروری ہے کہ اسلام کی آفاقی تعلیمات کے فروغ،پاکستان اور عالم اسلام کی حقیقی مشکلات کے مطالعہ، تحقیق اور ان کے حل کے لئے عالمانہ اور محققانہ تبادلہ خیال اور ہم آہنگی کے لئے جدوجہد کا بصیرانہ آغاز کیا جائے۔
اس ضرورت کا احساس کرتے ہوئے قدیم و جدید علوم سے وابستہ چند افراد نے جو ان مقاصد و نظریات پر ایمان رکھتے ہیں،ان کے عملی تشکل کے لئے اللہ کی نصرت و توفیق سے البصیرہ کی بنیاد رکھی ہے۔
مقاصد:


1. اسلام کی آفاقی تعلیمات کا فروغ اور اشاعت۔
2. ہر قسم کے تعصب، فرقہ واریت، کم نظری، شخصیت پرستی، جمود اور منفی مرعوبیت کا مقابلہ۔
3. انسانوں کے لیے سعادت بخش دین کے انسانی پیغام کا احیا۔
4. دور حاضر میں نوع انسانی کو درپیش بنیادی مسائل اور چیلنجوں کا ادراک اور ان کے حل کے مطالعاتی اور فکری روش کا فروغ۔
5. پاکستان کی مشکلات و مسائل کا مطالعہ اور ان کے علمی و تحقیقی حل کی جدوجہد۔
6. ہر قسم کے فلاحی کاموں کی انجام دہی اور جو افراد یا ادارے یہ کام انجم دے رہے ہوں ان کے ساتھ دست تعاون بڑھانا۔
اس ادارے کے پروگرام میں شامل ہے کہ:
اسلامی وطن پاکستان کی بقا و استحکام کے لیے درکار لٹریچر فراہم کیا جائے۔
اسلام کے آسمانی و الٰہی پیغام و نظام کے ماننے والوں کے مابین ٹھوس، آگاہانہ اور باغور ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کیا جائے۔
اہل تحقیق و جستجو کی علمی و تحقیقی امداد کی جائے۔
جدید و قدیم علوم اور ان کے ماہرین کے مابین ہم آہنگی اور مطالعات و تحقیقات کا تبادلہ کیا جائے۔
اہل علم و دانش کے درمیان ایک علمی ارتباط پیدا کیا جائے۔

البصیرہ کے زیر اہتمام درج ذیل ادارے کام کررہے ہیں:

 

اخوت اکادم:

یہ ایک علمی و تحقیقاتی ادارہ ہے جس کی بنیاد 5مارچ 1995کو ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے رکھی۔ اکادمی کے قیام کا مقصد جدید اذہان میں دین کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کا عصری تناظر میں جواب دینا ہے۔ اکادمی نے معاشرے کے مختلف طبقوں اورمختلف سطح فکر کے افراد کے لیے لٹریچر کی تیاری کو اپنا ہدف قرار دیا۔ اکادمی سے وابستہ دانشور اورمحققین بیک وقت جدید قدیم علوم میں دسترس رکھتے ہیں۔ اکادمی نے عالم اسلام اورپاکستان کے مسائل ومشکلات کے بارے میں شعور آگاہی کو عام کرنے کا مقصد بھی اپنے پیش نظر رکھا ہے۔اس حوالے سے اکادمی کے تین بنیادی شعبے ہیں۔

تالیف و تحقیق :

یہ شعبہ مختلف موضوعات پر تحقیق و تالیف کا کام کرتا ہے۔ اس شعبے میں تفسیر قرآن، علوم حدیث، کلام جدید، فقہ، اصول فقہ اور فلسفہ جیسے بنیادی اسلامی علوم میں مختلف کام کیے ہیں۔ اسی شعبے کے زیراہتمام ملک کے مختلف روزناموں میں عالم بھی لکھتے جاتے ہیں۔ اب تک ملکی و بین الاقوامی موضوعات پر سینکڑوں کام شائع ہو چکے ہیں۔ اہم مواقع پر اور قومی بین الاقوامی سطح پر منعقد ہونے والے سیمیناروں کے لیے علمی، اخلاقی اور معلوماتی موضوعات پر تحقیقی مقالے لکھے جاتے ہیں۔

ترجمہ:

اکادمی کے شعبہ ترجمہ کے زیراہتمام مختلف دینی موضوعات پر عالم اسلام کے جید علماء کی کتابوں کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ اس شعبے نے اب تک بیسوں کتابوں کا ترجمہ کیا ہے جن میں سے بہت سی شائع ہو چکی ہیں۔

اسکالرز لائبریری:

محققین اوردانشوروں کے لیے یہ کتب خانہ ایک مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں قرآنیات، حدیث،فقہ،اصول و قانون، کلام جدید، عقائد،تقابل ادیان، لغات،تاریخ،شخصیات، سیرت وسوانح،اخلاق، عرفان، پاکستانیات سیاسیات،دائرۃ المعارف اورشعروادب جیسے موضوعات پر ہزاروں بنیادی اورمفید کتب شامل ہیں۔

البصیرہ پبلی کیشن:

اس ادارے کے تحت مختلف علمی وادبی موضوعات پرمبنی گراں قدر کتب کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں دیگر اجاروں کے ساتھ بھی علمی و تکنیکی تعاون کیا جاتا ہے۔

تربیت مترجمین اورمحققین:

ادارے میں اول روز سے ترجمہ ،اسلوب تحقیق ، مقالہ نویسی اور تدوین کے شعبوں میں تربیت کا آغاز کردیاگیا تھا۔ اس سلسلے میں ادارے کے سربراہ معاونین سے استفادہ کرنے والی بیسیوں شخصیات علمی شعبوں میں مصروف خدمت ہیں ، جن کی سینکڑوں تالیف ،تحقیقات اور تراجم سے تشنگان علم استفادہ کر رہے ہیں۔

مقاصد:
اس ادارے کے مقاصد میں یہ امور شامل ہیں:
عوام تک درست معلومات کی فراہمی
عالمی اسلام کے مسائل کی نشاندہی
امت اسلامیہ کے مابین وحدت و اتحاد کا فروغ
دین اسلام کی درست شناخت
وطن عزیز پاکستان کی ترقی اور استحکام
ادارے کی پالیسی
قانون کے احترام اور قانونی مساوات
رائے اور عقیدے کی آزادی
ہر طرح کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مخالفت
ماہنامہ پیام:

اکادمی کا پہلا جریدہ ،ماہنامہ پیام ہے جو 1995 سے ایک وقفے کے ساتھ تاحال جاری ہے۔ اس میں مختلف اسکالر ز کے انتہائی مفید مضامین شائع ہوتے ہیں۔اس میں معارف اسلامی، عالم اسلام، پاکستانیات، سیرت وسوانح اور ادب جیسے موضوعات پر تخلیقی اور معیاری مواد شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک ے سنجیدہ ، دانشور اور اہل علم حلقے میں مقبول ہے۔