آپ پر 45ھ میں مسجد کوفہ میں نماز پڑھتے ہوئے ایک خارجی شقی نے سرپر زہرمیں بجھی ہوئی تلوار کا وار کیا۔ دو روز بعد آپ نے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ آپ کا دور ابتلائوں اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے اسلامی حکمرانی کے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں۔ اسی مناسبت سے ہم ذیل میں آپ کے طرز جہانبانی کے چند پہلوذکر کررہے ہیں۔ اس آئینے میں ہم آج کے عالم اسلام کی حکومتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔



جب اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو عام لوگ اس سے کیا سمجھتے ہیں ؟ عوام کے ذہن میں اس سوال کے جوا ب میں کچھ کمی و بیشی کے ساتھ ایسی تصویر ابھرتی ہے کہ حکومت پر پگڑیوں اور داڑھیوں والے افراد آجائیں گے ۔ ان کی شلواروںکے پائنچے ٹخنوں سے اوپر ہوں گے ۔ جن کے سر پر پگڑی نہیں ہو گی ، ٹوپی ضرور ہو گی ۔ وہ عوام کو بھی اسی طرح کے احکام دیں گے ۔ 



انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان شعور سنبھال رہا تھا تو اس نے اپنی ضروریات اور ماحول کے مطابق چیزیں ایجاد کیں ، بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ایجادات بھی نئی سے نئی سامنے آتی رہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ہراہم ایجاد اپنے ساتھ ایک نئی تبدیلی لے کر آتی ہے ۔ جب انسان نے پتھر سے لوہے کا استعمال سیکھا ، جانور کو سواری کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تو اس سے اس کی زندگی میں ایک نئی اٹھان پیدا ہوئی ۔ جب اس نے خود رو چیزوں کے علاوہ خود چیزیں اگانا شروع کیں تو ایک اور تبدیلی آئی ۔



ان دنوں یہ بحث پھر سے تازہ ہو رہی ہے کہ قومیت و ملت کے مسائل کو کیسے حل کیا جائے پاکستان کی شناخت کیا ہونی چاہیے۔ جب قومی و ملی مفادات میں تصادم ہو تو ترجیح کسے دی جانا چاہیے اور کیوں؟ نیز کیاملی و قومی مفادات میں تطبیق ممکن ہے؟
یہ مسائل بہت پیچیدہ ہیں اور بظاہران کا کوئی سادہ جواب نہیں خصوصاً پاکستان کی شناخت کے حوالے سے موجود سوال کی عمر خود پاکستان سے زیادہ ہے اس لیے کہ اس کے لیے ایسے سوالات پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہی پیدا ہوگئے تھے اور آج بھی ان پر معرکہ آرائی جاری ہے۔



تقریباً پون صدی محنت کشوں کے حقوق کے نام پر دنیا میں اشتراکیت کا غلغلہ رہا۔ اشتراکیت کے مسئلے پر دنیا میں نظریاتی حوالے سے خاصی افراط و تفریط رہی۔ ایک گروہ کو اس میں خوبیوں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا اور دوسرے کو خامیوں کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اشتراکیت کے روس میں عملی زوال اور چین میں جوہری تبدیلیوں کے ساتھ نئی اقتصادی پالیسیوں پر عمل درآمد نے اگرچہ اشتراکیت کے بچے کھچے حامیوں کو بڑی مشکل سے دو چار کر رکھا ہے تاہم اس امر سے انکار نہیں کہ اشتراکیت نے عالمی سطح پر اپنے مدمقابل نظام سرمایہ داری کو ایک طویل عرصے تک فکر و عمل کی دنیا میں سخت مقابلے پر مجبور کئے رکھا۔



معاشرتی و سماجی نظریات ہوں یا کوئی تہذیب اس کی شکل گیری اس کے مفکرین کی انسان شناسی اور تصور کائنات سے وابستہ ہوتی ہے۔ مغرب میں کلیسا کے خلاف ایک ہمہ گیر بغاوت نے جو عملی رخ اختیار کیا اس میں سیاست و حکومت سے مذہب کو بے دخل کردیا گیا اورمذہب کو زیادہ سے زیادہ یہ رعایت دی گئی کہ وہ کسی کا پرائیویٹ معاملہ ہوسکتا ہے۔



’’تاریخ میں کھو نہیں جانا چاہیے تاریخ میں جا کر بیٹھ نہیںجانا چاہیے تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے‘‘ یہ سادہ مگر انتہائی گہرے معانی کے حامل جملے ایک سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے ہیں۔ ایک پیشہ ور فوجی کی زبان سے ایسی گہری باتیں اخبارات میںپڑھ کر مجھے واقعاً حیرت ہوئی۔
تاریخ میں کھو جانے کا معاملہ بڑا اہم اور بہت سنگین ہے۔ انسانوں کے ارتقا میں حائل یہ ایک بہت بڑا پتھر ہے۔ جسے سنگ میل ہونا چاہیے وہ سنگ راہ بن جاتا ہے مجھے اپنا ہی ایک شعر یاد آگیا ہے:



علاقہ اقبال اور دیگر کئی ایک اہل نظر نے تاریخ کو حواس و عقل کے متوازی ایک سرچشمہ علم قرار دیا ہے۔ یہ امر کہاں تک درست ہے اور فلاسفہ کے نزدیک اس کی کیا توجیہ ہے‘ اس سے صرف نظر اس میں شک نہیں کہ تاریخ کا مطالعہ انسانی فکر و نظر اور  مجموعی طور پر انسانی سماج کے ارتقاء میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر جب تاریخ کو انسان کی اجتماعی کارکردگی اور اجتماعی بصیرت کے لیے بطور آئینہ دیکھا جائے۔



(مقالۂ حاضر:  انستھیزیالوجی،درد اور انتہائی نگہداشت کی دسویںبین الاقوامی کانفرنس (International Conference of Anaesthesiology, Pain & Intensive Care) کے موقع پر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈڈیالوجی اینڈ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز (Armed Forces Institute of Cardiology & National Institute of Heart Diseases) راولپنڈی کے شعبہ کی دعوت پر سپرد قلم کیا گیا ہے ۔ اسے پرل کانٹی نینٹل بھوربن میںکانفرنس کی نشست منعقدہ مورخہ 19اکتوبر 2008 میںپیش کیا گیا۔)



۔۱۔ دائمی احکام
روایتی اہل مذہب کا یہ عمومی اصرار رہا ہے کہ جو ’’احکام‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، انھیں ’’دائمی احکام‘‘ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ روّیہ اہل کلیسا میں بھی ہے اوریہود میں بھی، ہندو مذہبی راہنما بھی یہی کچھ کہتے ہیں اورروایتی مسلمان بھی۔ البتہ شدت میں کمی بیشی بھی ہے اوربعض راہنمائوں کا رویہ اور طرز فکر بھی عمومی روش سے مختلف ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے مختلف مکاتب کے روایتی علماء جن امور پر زور دیتے ہیں ان کی چند مثالیں ہم ذیل میں درج کرتے ہیں: