سیاسی

سیاسی (34)




 
سید ثاقب اکبر نقوی

29 دسمبر 2019ء کو امریکی فضائیہ نے شام کی سرحد کے قریب صوبہ الانبار کے ضلع القائم میں عراق کی سرکاری ملیشیاء الحشد الشعبی کے ایک بریگیڈ کتائب حزب اللہ کی چھائونی پر فضائی حملہ کیا،




 
سید ثاقب اکبر نقوی

گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی افغان صدر کو بھی بلا لیا گیا تھا اور وہیں پر ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کروائی گئی۔۔۔




28 صفر 1441ھ کو جب عالم اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوم وفات اور ان کے فرزند ارجمند سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کا یوم شہادت منایا جا رہا تھا، لبنان سے عصر حاضر کے ایک عظیم محقق اور عالم آیت اللہ سید جعفر مرتضیٰ عاملی کی رحلت کی خبر پہنچی۔ وہ ایک ماہ کی علالت کے بعد اس روز اپنے آبائے اطہار کی خدمت میں جا پہنچے۔ آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کا تعلق جنوبی لبنان سے تھا۔ وہ حضرت حسین ذوالدمعہ بن زید بن علی بن حسین کی نسل پاک سے تھے۔ وہ 25 صفر 1364 ہجری کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد گرامی علامہ مرتضیٰ عاملی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔۔۔




سید اسد عباس

عزیز و محترم قارئین! میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ کیسا نظام حکومت ہے کہ جس میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اور اس سے بہرہ انسان دونوںکو ایک ہی پلڑے یعنی ووٹ میں تولا جاتا ہے۔سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر کا بھی ایک ووٹ اور غلام حسین جو لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے کہ ووٹ کسے دینا چاہیے کا بھی ایک ہی ووٹ۔شاید علامہ اقبال نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے




سید اسد عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سپیشل فورسز نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو قتل کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بغدادی نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ پھٹنے سے بغدادی کی شناخت ممکن نہیں ہے، دھماکے کے سبب سرنگ بغدادی کے اوپر گری جس کے سبب اس کی باقیات بھی نہیں مل پائی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مشن کے لیے ہمیں روس، عراق ، کردوں کا تعاون حاصل رہا، یہ ایک مشکل مشن تھا جسے بغیر کسی نقصان کے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بغدادی ہماری افواج کے حملے کے سبب چلا رہا تھا اور پھر جب اس نے دیکھا کہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بغدادی پر حملے کا واقعہ شام کے علاقے ادلب میں پیش آیا جہاں اس وقت شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی اطلاعات اس سے قبل بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں روس، ایران، عراق اور شام سبھی نے ابوبکر کے قتل کا دعوی کیا ہے تاہم اب چونکہ امریکہ کہ رہا ہے کہ بغدادی مارا گیا ہے تو دنیا کو یقین کرنا چاہیے کہ اب دوبارہ بغدادی کا تذکرہ کہیں سننے کو نہیں ملے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بڑے دہشت گرد پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا بھی دعوی کیا تھا۔





 
سید اسد عباس

چین میں 21 جنوری 2020ء کو بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس ہونے جا رہا ہے، جس کی سربراہی چین اور انڈیا مشترکہ طور پر کریں گے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔




گذشتہ ماہ کے اختتام پر پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کا نام فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ کی گرے کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا۔ اس پر عمل درآمد جون سے ہوگا۔ اس اقدام کے باعث پاکستان کو نئی سخت معاشی پابندیوںکا سامنا کرنا پڑے گا۔ گرے لسٹ میں ان ملکوں کا نام شامل کیا جاتا ہے جنھیں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام میں تعاون نہ کرنے والے ممالک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان کے علاوہ اس وقت ایتھوپیا، عراق، سربیا، شام، ٹرینیڈیڈ اینڈ ٹوبیگو،تیونس، ویناٹو اور یمن شامل ہیں۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت، ترکی، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سمیت 37ممالک شامل ہیں۔ خلیج تعاون کونسل میں سر Category سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ مذکورہ بالا واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمائے کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہو گی اور ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس فیصلے سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساخت کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ایشیا پیسیفک گروپ میں بھی پاکستان کی شمولیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

ان دنوں ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ساتھ ایران میں ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ گویا اک نئے انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

نماز جمعہ ہم نے مشہد مقدس میں امام جمعہ و نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ کی امامت میں ادا کی۔ جنوری کی 17 تاریخ تھی۔ تہران میں ایک غلغلۂ انقلابی اور ولولۂ جانبازی کے مناظر ہم اپنی رہائش گاہ سے نکلتے ہوئے ٹی وی کے پردۂ سیمیں پر دیکھ چکے تھے۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ہمراہ ہم پارک فن آوری، مشہد میں بھی گئے۔ آپ اسے "پارک آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی" کہہ سکتے ہیں۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« February 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29  

تازہ مقالے