سید ثاقب اکبر نقوی

یک طرف امریکا کو کرونا وائرس کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں اور دوسری طرف ایسی خبریں آرہی ہیں، جن کے مطابق امریکی افواج عراق میں کسی نئی مہم جوئی کی تیاری کر رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا یہ غلطی کرے گا؟ عام حالات ہوتے تو شاید یہ کہا جاسکتا تھا کہ امریکا اپنے مفادات کے حصول یا ان کی حفاظت کے لیے کوئی بھی کارروائی کرسکتا ہے



 
سید ثاقب اکبر نقوی

کورونا وائرس اپنی حشر سامانیوںکے ساتھ ابھی دنیا میں پھیلے جا رہا ہے۔ کسی ایک ملک میں اگر اس پر کسی حد تک قابو پا بھی لیا گیا ہے تو کئی دوسرے ملکوں میں اس کی لائی ہوئی ہولناکیاں نمایاں ہوتی جارہی ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

ایک طرف پوری دنیا پر کرونا وائرس کے خوفناک حملے جاری ہیں، ساری انسانیت خوفزدہ ہے، کرونا کی یلغار 192 ممالک تک جا پہنچی ہے اور بڑے بڑے طاقتور ممالک لرزہ براندام ہیں۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ و جدل بھی اپنی حیرت ناکیوں اور تعجب خیزیوں کے ساتھ جاری ہے۔۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

امریکا عراق میں ایک پیچیدہ اور خفیہ مشن کی تکمیل کے درپے ہے۔ وہ ہر اس قوت کو عراق سے ختم کر دینا چاہتا ہے، جو اسکے عراق پر قبضے کیخلاف آواز اٹھا سکے یا اسکے استعماری مقاصد میں حائل ہوسکے۔ اس کیلئے اسکے پاس آسان راستہ یہ ہے کہ اسکے خلاف بولنے والے ہر فرد اور گروہ کو ایرانی ایجنٹ قرار دیدے، حالانکہ عراق کی منتخب پارلیمان امریکی افواج کے عراق چھوڑنے کی قرارداد منظور کرچکی ہے اور اسکا تقاضا عراقی حکومت بھی کرچکی ہے۔ ویسے بھی عراق عراقیوں کا ہے، امریکیوں کا نہیں۔ امریکا کی کوشش یہ ہے کہ عراق کے وسائل اسکی گرفت میں رہیں، اس کیلئے اسکے کئی منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔