ڈاکٹر ناصر زیدی

ڈاکٹر سید ناصر زیدی



گورنمٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کے بعد انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔ تہران یونیورسٹی سے انھوں نے اسلامی فلسفہ وکلام میں ایم اے کیا اور پھر اسلامی فلسفہ ہی میں تہران یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ایم اے میں ان کے مقالے کا موضوع تھا ’’علامہ اقبال کی فلسفیانہ آراء کا ناقدانہ جائزہ‘‘ پی ایچ ڈی میں ان کے مقالے کا عنوان تھا:’’فلسفہ نبوت کے بارے میں برصغیر پاک و ہند کے متکلمین و فلاسفہ اور ابن سینا کی آراء کا تقابلی مطالعہ‘‘ ان کے دونوں مذکورہ مقالے فارسی میں ہیں اور اس وقت زیر اشاعت ہیں۔
ڈاکٹر زیدی نے تعلیم کے جدید اداروں میں کامیابی کے ساتھ اعلیٰ ترین مدارج طے کرنے کے علاوہ قم المقدسہ کی بین الاقوامی دینی درسگاہ سے بھی درجۂ اجتہاد تک تعلیم حاصل کی۔ اس طرح وہ اسلامی دنیا میں جدید و قدیم علوم میں بیک وقت دستگاہ اور وسعت نظر رکھنے والے انگشت شمار دانشوروں میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر زیدی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ تحقیقات اسلامی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طورپر تحقیقی امور سرانجام دے چکے ہیں۔ بعدازاں وہ ایک عرصے تک اسلامی نظریاتی کونسل میں ڈائریکٹر جنرل ریسرچ کی حیثیت سے مصروف خدمت رہے۔ ان دنوں وہ کینیڈا میں علمی اور تحقیقی امور میں فعال ہیں ۔ان کے متعدد تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے استاد مطہری کی کتاب فلسفۂ تاریخ کے علاوہ متعدد اہم کتابوں کے ترجمے بھی کیے ہیں۔ اصول فقہ کی توسیع اور ارتقاء کے حوالے سے ان کے نظریات خصوصی توجہ کے لائق ہیں۔ وہ دین شناسی میں عقل کی حیثیت کے ازسر نوتعین کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ جدید علم کلام کے لیے وہ علم فلسفہ پر دسترس کو ناگزیر جانتے ہیں۔ ان کی رائے میں اردو کا دامن بنیادی فلسفی مباحث سے بہت حد تک خالی ہے۔ وہ عصر حاضر کی فلسفی فکر پر ملا صدرا شیرازی کے گہرے اثرات کے قائل ہیں۔ ملا صدرا شیرازی کے عمیق مطالعے کے بعد انھوں نے ’’دلائل وجود باری تعالیٰ‘‘ ملا صدرا شیرازی کی نظر میں‘‘ کے موضوع کا انتخاب کیا اور اپنے مطالعات کا حاصل کچھ اس انداز سے پیش کردیا کہ جو ان کے لیے بجا طور پر لائق افتخار اور اہل دانش و بینش کی طرف سے خراج عقیدت کا حقدار ہے۔یہ کتاب البصیرہ کے زیراہتمام شائع ہوئی۔ ان کے بہت سے مقالے ماہنامہ پیام میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔

  • مشاہدات: 197