• روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف ملی یکجہتی کونسل کی پریس کانفرنس
    روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف ملی یکجہتی کونسل کی پریس کانفرنس
  • ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام یوم آزادی پاکستان و یوم القدس قومی سیمینار سے خطاب
    ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام یوم آزادی پاکستان و یوم القدس قومی سیمینار سے خطاب
  • ملی یکجہتی کونسل کی سپریم کونسل کا اجلاس
    ملی یکجہتی کونسل کی سپریم کونسل کا اجلاس
  • ھدیۃ الہادی پاکستان کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس میں شرکت
    ھدیۃ الہادی پاکستان کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس میں شرکت
  • جماعت اہل حرم کے زیراہتمام خاتون جنت کانفرنس میں دیگر مہمانان گرامی کے ہمراہ
    جماعت اہل حرم کے زیراہتمام خاتون جنت کانفرنس میں دیگر مہمانان گرامی کے ہمراہ
  • متحدہ جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس میں شرکت
    متحدہ جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس میں شرکت
  • مودی کا دورہ اسرائیل اور مسئلہ کشمیر سیمینار ، ملی یکجہتی کونسل پاکستان
    مودی کا دورہ اسرائیل اور مسئلہ کشمیر سیمینار ، ملی یکجہتی کونسل پاکستان

تازہ ترین

قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں۔۔

قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں۔۔

تحریر: سید اسد عباسخواہ دوستی کا دور ہو یا سرد مہری کا زمانہ، پاکستان کے بارے میں امریکہ کا لہجہ ہمیشہ آمرانہ اور حقارت پر مبنی رہا ہے۔ 1965ء میں...

بی بی سی اور مغربی ذرائع ابلاغ کا طریقہ واردات

بی بی سی اور مغربی ذرائع ابلاغ کا طریقہ واردات

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباسمشرق و سطٰی کے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے، عرب بہار نے پورے خطے میں ہل چل مچا رکھی تھی، ایسے میں حالات حاضرہ...

مغرب کے فکری و اخلاقی ارتقاءمیں اسلام کا ممکنہ کردار

مغرب کے فکری و اخلاقی ارتقاءمیں اسلام کا ممکنہ کردار

ڈاکٹرسید ناصر زیدی٭ عموما معاشرے میں علمی کام کو اس کی گہرائی کے مطابق پذیرائی نہیں ملتی یہی کیفیت البصیرہ کے ساتھ ہے جو نہایت علمی و تحقیقی کام کر...

اسرائیل اور ہندوستان کا گٹھ جوڑ

اسرائیل اور ہندوستان کا گٹھ جوڑ

تحریر: سید اسد عباسکانگریسی راہنما اور ہندوستانیوں کے باپو مہاتما گاندھی اگرچہ یہودیوں کے مقدمے کو درست جانتے تھے، تاہم وہ فلسطین میں مذہبی بنیادوں پر ایک یہودی ریاست کی...

سفیر وحدت امت مولانا محمد اسحاق

سفیر وحدت امت مولانا محمد اسحاق

سید نثار علی ترمذی جدید وسائل ابلاغ کی دستیابی نے ایک نئے جہان علم و دانش سے بھی آشنائی دی۔ اس کے سبب ہم بہت سے ایسے اہل علم سے...

پیغام پاکستان، دیر آید درست آید

پیغام پاکستان، دیر آید درست آید

تحریر: ثاقب اکبر16 جنوری 2018ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا، جب ایوان صدر میں 1829 علماء اور اہل دانش...

علامہ سید ساجد علی نقوی کی وحدت امت کے لیے خدمات

علامہ سید ساجد علی نقوی کی وحدت امت کے لیے خدمات

سید نثار علی ترمذی یہ بھلے دنوں کی بات ہے۔ باغ جناح لاہور کے سبزہ زار میں ایک ظہرانہ منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام کو دعوت تھی۔...

سید ثاقب اکبر، اتحاد امت کے لیے متحرک روح

سید ثاقب اکبر، اتحاد امت کے لیے متحرک روح

سید نثار علی ترمذی یہ ربع صدی سے زیادہ کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ 1986 کے اوائل کی بات ہے جب ثاقب بھائی سے آشنائی ہوئی جو...

سوشل میڈیا کا استعمال، قرآنی تناظر میں

سوشل میڈیا کا استعمال، قرآنی تناظر میں

مفتی امجد عباس اسلام ایک جامع دین ہے، اِس کا اپنا ضابطہِ حیات ہے، یہ انسانی معاشرتی ضروریات کو بخوبی ملحوظ رکھتا ہے، اسی لیے اسے سماجی دین بھی کہا جاتا...

قرآن اور عقل و استدلال

قرآن اور عقل و استدلال

فلسفہ اسلامی کے پس منظر میں سید ناصر زیدی اسلامی فلسفہ اصطلاح یا حقیقت  اسلامی فلسفہ ایک محض اصطلاح نہیں ہے بلکہ حقیقت پر مبنی ایسی اصطلاح کا نام ہے جس کو سمجھنے...

وحدت الوجود اور خواجہ محمد یار فریدی رحمة اللہ علیہ

وحدت الوجود اور خواجہ محمد یار فریدی رحمة اللہ علیہ

سید ثاقب اکبر چیئرمین البصیرہ اسلام آباد وحدت الوجود کا نظریہ عرفاءاور فلاسفہ کے مابین ایک قدیم نظریہ ہے جس پر بہت سے اعتراضات بھی کیے گئے اور اس کے حق میں...

اسرائیلی وزیراعظم کرپشن کے گرداب میں

اسرائیلی وزیراعظم کرپشن کے گرداب میں

ثاقب اکبر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کچھ عرصے سے کرپشن کے الزامات کے گرداب میں ہیں۔ ان کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کی...

پاکستان کیخلاف امریکہ کہاں تک جائیگا؟(2)

پاکستان کیخلاف امریکہ کہاں تک جائیگا؟(2)

تحریر: ثاقب اکبرگذشتہ مطالب جو 5 جنوری 2018ء کو شائع ہوا، اس میں ہم نے موضوع کی مناسبت سے امریکہ کی طرف سے چند ممکنہ اقدامات کے بارے میں بات...

آپ نے اپنی شعوری زندگی کا آغازمختلف مسالک کی کتب کے مطالعہ سے کیا گو کہ آپ کا خاندان روحانی سلسلے سے ہے جہاں اندھا دھند تقلید کا رواج ہے مگر آپ نے اپنے مطالعہ اور بحث و مباحثہ کی بنا پر ایک فقہ سے دوسری فقہ کی طرف رجوع کیا اور اپنے خاندان کی اس طرف رہنمائی فرمائی۔ عموماً اس طرح کے افراد دوسرے مسلک میں جا کر خوب فتنہ پھیلاتے ہیں اور اپنے اسی فن کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں مگر آپ نے ایسا کچھ نہ کیا بلکہ اپنے نئے مسلک کی اصلاح و ترویج کے لیے مثبت سرگرمیوں کو اپنایا۔ آپ کا یہ عمل بھی امت میں افتراق کا باعث نہ بنا جیسا کہ اکثر اس طرح کے افراد سے سرزد ہوتا رہا ہے۔

آپ کی مسلک کی تبدیلی کے چند ہی برسوں بعد امام خمینی کے انقلاب اسلامی نے ایران میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس انقلاب سے جو پیغام پوری دنیا میں پہنچا وہ وحدت امت کا تھا۔ آپ ان ابتدائی افراد میں شمار کیے جاتے جنھوں نے امام خمینیؒ کے افکارکو سمجھا اور اسے پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ ایسے بہت سارے اقدامات ہیں کہ جن کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے انعقاد پذیر ہونے میں آپ کی تجویز، مشاورت اور حمایت شامل تھی۔ یہاں چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی حمایت اور پیغام کی ترویج کے لیے تحریک وحدت اسلامی اور تحریک آزادی قدس کے نام سے سرگرمیوں کوجاری رکھا۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جس کے آپ دو مرتبہ مرکزی صدر رہے کے نام کی تبدیلی کے لیے شعوری کوشش کی فرقہ وارانہ نام کے بجائے وسیع تر نام اپنایا جائے۔ مگر بعض کوششیں ضروری نہیں کہ کامیاب ہوں مگر ان کے محرکین کی نیت ضرور اہمیت رکھتی ہے۔ ایک اور کوشش کی گئی اور وہ یہ کہ طلبہ سے رابطہ و پیغام رسانی کے لیے ”حزب طلبہ اسلامی“ کی تشکیل ہوئی۔ اس کے آئیڈیا کے پس منظر میں بھی آپ کی مشاورت شامل تھی۔ جب علامہ شہید عارف الحسینی نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی زمام سنبھالی تو ان کی بھرپور کوشش تھی کہ اس فرقہ وارانہ نام سے جلد ازجلد جان چھڑا لی جائے۔ اس مہم میں آپ پیش پیش تھے۔ اس کے علاوہ تحریک نے جتنے کام انجام دیے ان میں آپ کا اس سلسلے میں وافر حصہ تھا کہ اس کے اثرات کم سے کم مرتب ہوں۔ ان میں ایک تو تحریک کا کسی فرقہ کے خلاف سرگرمی میں حصہ نہ لینا، دوسرا اپنے اجتماع کو غیر فرقہ وارانہ عنوانات دینا جیسا کہ ”قرآن و سنت کانفرنس“ حج سیمینار وغیرہ اس کے علاوہ تحریک نے جو انقلابی منشور”ہمارا راستہ“ پیش کیا تو بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا پچھتر سے اسی فیصد حصہ آپ کے قلم سے صادر ہوا۔ یہ منشور اپنی حیثیت میں جہاں ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے وہیں یہ فرقہ وارانہ تعصبات سے پاک عملی دستاویز ہے۔ آپ نے اسی دوران میں دشمنوں کی طرف سے تحریف قرآن کے الزامات، جن کو مستشرقین نے خوب اچھالا ہے، کے رد میں ”قرآن، ہمارا عقیدہ“ کے عنوان سے مختصراً مگر جامع کتابچہ مرتب کیا۔ آپ نقیب وحدت علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کے پورے دور میں ان کے ہم رکاب ہو کر ان کے افکار وحدت کو تقویت دی۔ اس دور میں ان سے اکثر نشستیں ہوتی تھیں جن میں وہ اکثر ایسے سوالات اٹھاتے تھے جو وحدت کی طرف رغبت کی نشاندہی کرتے تھے بات تو ان کی دل کو لگتی تھی مگر ہم خاموشی میں ہی عافیت سمجھتے تھے۔

پھرآپ جب امام خمینیؒ کے اربعین کی تقریبات میں شرکت کے لیے گئے تو واپس نہیں پلٹے۔ معلوم ہوا کہ آپ علم دین حاصل کررہے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ گزرا کہ ان کے خطوط آنا شروع ہو گئے جن کاہم برادر بزرگ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہیدؒ کی نگرانی میں اجتماعی مطالعہ کرتے تھے، وہ انہی ابحاث پر ہوتے کہ ہمیں وسیع سوچنا چاہیے۔ نیک اور اچھی بات پر کسی ایک مسلک یا مکتب کی اجارہ داری نہیں ہونا چاہیے۔ بعض اوقات ان پر سوالات اٹھائے جاتے جن کا وہ جواب دیتے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قم، ایران رہ کر آئے۔ میں نے اشتیاق میں ان سے وہاں کے احوال پوچھا تو فرمایا کہ ”میں تو مایوس ہوگیا تھا۔ دوستوں سے وہاں کافی طویل نشستیں ہوئیں جن کی بنا پر اب میں حوصلے میں ہوں۔“ میں نے مزید تفصیل پوچھی تو آپ نے کہا کہ جلد ہی ایک نشست میں اس پر بات ہوگی۔ آصف بلاک، علامہ اقبال ٹاﺅن لاہور والے دفتر میں ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جو نماز مغرب سے شروع ہوئی اور اگلے دن ظہرین پر اختتام پذیر ہوئی جس میں شہیدؒ نے تفصیل سے وسیع تر اسلامی پلیٹ فارم کی اہمیت پر بات کی۔ اس موقع پر برادر ثاقب کا کئی صفحات پر مشتمل خط بھی پڑھ کر سنایا گیا تھا۔ خط کی روشنی میں مختلف افراد کی ذمہ داریاں لگی تھیں کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کریں اور آئندہ نشست میں اس کی تفصیل پیش کریں۔ (دعا اور کوشش ہے کہ یہ خطوط دستیاب ہو جائیں) لیکن قدرت نے کچھ اور طے کیا ہوا تھا کہ جیسے ہی یہ وحدت و اتحاد کا حامل قافلہ اسلام آباد کی سرزمین پر قدم رنجہ فرما ہوا اور ڈاکٹر محمد علی نقوی نے بذات خود خوش آمدید کہا وہ ساتھ ہی درجہ شہادت پر فائز ہو گئے۔ سوچا کیا تھا ہو کیا گیا۔

بہرحال ثاقب بھائی نے اخوت اکیڈمی کی بنیاد ڈالی توراقم اس وقت سے اس کے عملی کاموں میں شریک رہا۔ کئی نشیب و فراز آئے مگر چلتے رہے۔ آپ سے بہت نشستیں ہوئیں ہم بھی بھلا کب آسانی سے ماننے والے تھے جب کہ آپ کے نظریات کے حوالے سے ہر طرف سے تنقید ہو رہی ہو اورآپ تنہا اس کا دفاع کرنے والے تھے۔ آپ نے بارہا فرمایا کہ انھوں نے امام خمینی، استاد مطہری، باقر الصدراور علامہ اقبال کے افکار کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور علی وجہ البصیرت یہ راستہ اپنایا ہے کہ اسلام کی تعلیمات آفاقی ہیں تو کیوں انھیں گروہوں میں بانٹا جائے۔ فرقہ واریت، گروہ بندی، تعصب اور اس بنا پر نفرت، قتل و غارت، یہ کہیں بھی اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں نہ ہی مذکورہ رہبران اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے۔ ان کی بات میں وزن تھا اور میں خود علامہ اقبال اوراستاد مطہری کا خاصا مطالعہ کر چکا تھا۔ آپ کے افکار ان بزرگوں کی تعلیمات میں روشن باب کی صورت میں جلوہ گر ہیں۔ آخر ہم اپنے دل کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہاں سے بات آگے بڑھتی ہے کہ اخوت اکیڈمی نے اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ ماہنامہ پیام اور سہ ماہی رسالہ ”المیزان“ جاری ہوا تو نئے موضوعات سامنے آئے اور اس کے علاوہ فکری نشستوں اور سیمیناروں کا سلسلہ شروع ہوا، جو ابھی تک جاری ہے۔ مزید دیگر مسالک کے علماءکرام اور دانشوروں سے میل ملاقاتیں، مختلف موضوعات پر مضامین اور کتب کی اشاعت غرضیکہ ”دو بول محبت کے جس نے بھی کہے اس کو افسانہ سنا ڈالا، تصویر دکھا ڈالی“ اور پھر لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا کے مصداق بیس بائیس سال کا سفر طے ہو چکا ہے۔ آپ کے افکار آپ کے قلم سے جاری وہ تحریریں ہیں جن میں مضامین کی تعداد ہزاروں میں ہے، سے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا انتخاب بھی علیحدہ کتابی صورت میں آنا ضروری ہے مگر آپ کی دو کتابیں قابل مطالعہ ہیں: ایک”پاکستان کے دینی مسالک“ اور دوسری ”امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی“۔

” پاکستان کے دینی مسالک“ نے جہاں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں وہیںمابین مسالک بہت سی غلط فہمیاں کا ازالہ کیاہے۔ اس سے باہمی نفرت، کدورت اور تعصب میں کمی آئی ہے، اس کے اثرات دائمی ہیں۔ اس کتاب نے مسالک کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔ اس سے اس نظریہ کو بھی تقویت حاصل ہوئی ہے کہ مابین مسالک مشترکات بہت زیادہ ہیں اور اختلافات انتہائی کم ہیں۔

اس کتاب کو پوری امت کے لیے تحفہ سمجھنا چاہیے اس پر مولف کی جتنی تحسین کی جائے وہ کم ہے۔ ”ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی“ میں آپ کے افکار کابنیادی اور بیشتر حصہ شامل ہے۔ اس میں سے چند نکات ہم مضمون کا حصہ بنا رہے ہیں تاکہ وحدت امت کے حوالے سے ایک خاکہ سامنے آسکے۔

آپ نے پاکستان میں فرقہ واریت کے چودہ اسباب درج کیے ہیں جب کہ تاریخی اسباب اس کے علاوہ ہیں۔ مذکورہ نکات کا خلاصہ پیش خدمت ہے:

          ۱۔       انقلاب اسلامی ایران پر غیر عادلانہ ردعمل

          ۲۔       جنرل ضیاءکے فرقہ وارانہ اقدامات

          ۳۔       شیعہ عوام کا جنرل ضیاءکے اقدامات پر ردعمل

          ۴۔       روس کا افغانستان پر حملہ اور جہاد کے نام پر لشکر کشی

          ۵۔       فرقہ وارانہ بنیادوں پرمساجد و مدارس کا قیام

          ۶۔       ذاکرین و خطباءکی تعصب و فرقہ واریت پر مبنی تقاریر

          ۷۔       کشمیر کی آزادی کے نام پر بعض جہادی تنظیمیں

          ۸۔       بیرون ملک سے فرقہ وارانہ اثرات

          ۹۔       غیر ملکی ایجنسیوں جن میں بھارت سرفہرست نے سوئے استفادہ کیا

          ۰۱۔     بغیر تحقیق و آگاہی کے ایک دوسرے کے مسلک کے خلاف فتویٰ بازی

          ۱۱۔     غربت و بے روزگاری کی وجہ سے فرقہ واریت کا آسان راستہ اپنایاجانا

          ۲۱      اسلام کی آفاقی تعلیمات فراموش کر دی گئیں

          ۳۱۔     مدارس کے نصاب کا عصری تقاضوں کے مطابق نہ ہونا

          ۴۱۔     فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی۔

 

یہ نکات نشاندہی کرتے ہیں کہ آپ نے فرقہ واریت کے پورے قضیے کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور ان تمام اسباب کا غیرجانبدارانہ تجزیہ کیا ہے جو حقیقت کے قریب تر ہیں۔

آپ نے اسباب کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ حل کی طرف بھی متوجہ کیا ہے، اس میں شخصیت پرستی کے مضمرات کو زیر بحث لاتے ہوئے حضرت علیؑؑ کے اس فرمان کا سہارا لیا ہے کہ ”حق کو افراد کی مدد سے نہیں بلکہ افرادکو حق کی مدد سے پہچانو۔“ مزید وضاحت کی کہ ”انسان کو چاہیے کہ حق اور سچائی کو مجرد حالت میں پہچانے۔ انسانی عقل کا بنیادی کردار یہی ہے کہ وہ انسان کو اصول، کلیات، حق اور باطل کی پہچان میں مدد دیتی ہے۔ دیکھا جائے تو بیشتر لڑائیاں اور اختلافات شخصیت پرستی اور ان کی اندھا دھند تقلید کی وجہ سے ہیں۔ بعض اوقات قرآن مجید کی نص اور حضور کا فرمان ثانوی حیثیت اختیارکر لیتے ہیں۔

اسی طرح آپ نے مسجد کے مرکزی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ”اللہ کا گھر، اللہ کے بندوں کے لیے“ کا نعرہ دیا۔ مسجد کو فرقہ وارانہ پہچان سے نکال کر الٰہی اور توحیدی پہچان دینے کی ضرورت پر زوردیا۔ جو مصلحین وحدت امت کے نظریے پر کام کررہے ہیں انھوں نے مسجد کی دور نبوی والی حیثیت کی بحالی کو بنیادی نکتہ قرار دیا ہے کہ اگر مسجد اپنا صحیح کردار ادا کرنا شروع کردے تو امت کے بہت سے مسئلہ حل ہو سکتے ہیں۔

          آپ دینی مسالک کے مابین قربت اور اتحاد کے حوالے سے جو نکات اٹھائے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ

٭        مشترکات بہت زیادہ ہیں مختلفات بہت کم ہیں۔

٭        مشترکات اساسی ہیں اس لیے انھیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

٭        اگر کسی مسلک کے پاس اپنے موقف کے بارے میں قوی دلائل موجود ہوں تو ایک دوسرے سے میل ملاقات سے ہی ایک دوسرے کو قائل یا قانع کر سکتے ہیں۔

٭        دین کے معاملے میں جذبہ ہمیشہ یہ ہونا چاہیے کہ حق کے ساتھ وابستہ رہنا ہے اور یہ میرے اللہ سے مربوط ہے۔

٭        اختلافات کے باوجود ملنے جلنے میں آخر کار امت اسلامیہ ہی کی بھلائی ہے۔

٭        ایک مسلک کے لوگ جو عقیدہ بیان کریں اسے تسلیم کیا جائے مخالف یا مقابل کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کا عقیدہ بیان کرے۔

٭        مناظرے کی منفی روش نے مختلف مسالک کے مابین نفرت اور دوری کو فروغ دیا ہے، اس کے بجائے مثبت مباحثے کو فروغ دیا جائے، دلیل سے بات سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جائے۔

٭        دوسرے مسالک کو غلط ثابت کرنے کی مناظرانہ روش سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔

٭        حقیقی علماءکو ہی کسی مسلک کا نمائندہ سمجھاجانا چاہیے۔

٭        مختلف دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے متعدد علوم مشترک ہیں۔

٭        جن امور یا علوم میں اختلاف ہے ان میں بھی اشتراک کی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

          آپ کی گفتگو اور تحریروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ اتحاد اسلامی کی درج ذیل صورت یا فارمولہ پر اتفاق رکھتے ہیں:

          ایک دوسرے کے بارے میں آگاہی کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول یا برداشت کرنے کی بنیاد پر اتحاد کر لیا جائے اس حوالے سے مشترکات بہت سے ہیں۔ عقیدتی بھی اور عملی بھی نیز مشترکہ دشمن کا مقابلہ اتحاد کے بغیر ممکن نہیں۔

          آپ اس حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

          ”ہماری رائے میں اس حوالے سے سب سے اہم پہلو دین اسلام کی آفاقی اور دائمی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھنا اور ان کی ترجیحی حیثیت کا قائل ہونا ہے اگر قرآن حکیم اہل کتاب کے ساتھ ایک فارمولے کی بنیاد پر اتحاد کی تجویز پیش کرتا ہے تو دین اسلام کے ماننے والوں کے مابین اتحاد تو اس سے کہیں آسان تر ہو سکتا ہے اور اس اتحاد کی وسیع تر بنیادیں موجود ہیں۔ہمیں اس اتحاد کی صورتیں تلاش کرنے سے پہلے مقاصد بعثت نبوی اور مقاصد شریعت کا عمیق جائزہ لینا ہوگا اور ان کا تعین ہو جانے کی صورت میں ہمارے لیے اتحاد کے راستے ہموار ہو جائیں گے۔

آپ نے جہاں وحدت آفرین افکار پر مشتمل تحریروں کا انبارلگا دیا وہیں پر ان کے عملی نفاذ کے لیے بھی جدوجہد کی ہے ان میں چند ایک کا ذکر یہاں کرتے ہیں:

٭        آپ نے فرقہ وارانہ ماضی کے برعکس خود کو ہر قسم کی فرقہ وارانہ سرگرمیوں سے دور رکھا۔

٭        آپ نے ملک بھر میں تمام معتدل علماءکرام اور دانشوروں سے رابطہ کیا، ان سے تبادلہ خیال کیا اور انھیں قائل کیا کہ وہ اس امت محمدی کے اتحاد کے لیے مل جل کر کوششیں کریں۔ اس کے دوررس اثرات مرتب ہوئے۔

٭        ماہنامہ ”پیام“ کا بلا تعطل جاری رکھنا۔ یہ رسالہ ان چند جریدوں میں سے ایک ہے کہ جس میں فرقہ وارانہ مواد کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے صفحات تمام مسالک کے لیے مہیا ہیں مگر فرقہ واریت، تعصب سے بچ کر۔

٭        آپ نے اہل قلم کی راہنمائی کی کہ وہ جہاں بھی ہیں اس پیغام کو پھیلاتے رہیں۔

٭        اخوت اکیڈمی جو اب ”البصیرہ“ کے نام سے توسیع پا چکی ہے کی طرف سے بامقصد پروگرامز، سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے، یہ سلسلہ جاری ہے جس میں تمام مسالک کے علماء، دانشور اور اہل قلم شریک ہو کر خطاب کر چکے ہیں۔ اسی طرح آپ بھی دیگر مسالک کے پروگرامز میں شریک ہو کر اپنے افکار کو پہنچا چکے ہیں۔

٭        آپ نے اس حوالے سے علمی میدان میں کام کرنے والوں کی رہنمائی فرمائی، ان کے علمی، قلمی و مالی معاونت فرمائی تاکہ وہ دلجمعی سے وحدت امت کے لیے تحریری کام کر سکیں۔ اس ضمن مختلف یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی اور ایم فل کے طالب علموں کو درکار معلومات و رہنمائی بہم پہنچا چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ بلامبالغہ کہاجاسکتا ہے ملک میں جہاں بھی کوئی وحدت امت کے لیے علمی کام کرنا چاہتا ہے تو بہترین اور موضوع کے مطابق مواد کے لیے ریسورس پرسن ثاقب اکبر صاحب ہی قرار پاتے ہیں۔

٭        آپ خود بھی ایک روحانی سلسلہ سے وابستہ ہیں اور مریدین کو وحدت کے افکارسے مستفید فرماتے ہیں وہیں آپ نے مشائخ، گدی نشینوں اور روحانی سلسلہ کے بزرگوں کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے تنظیم سازی کا راستہ اپنایا۔ اب یہ اہم طبقہ بھی اس قافلے کا ہم رکاب ہے۔

٭        شروع دن سے آپ تبادلہ خیال کے لیے سٹڈی سرکل و گروہی نشستوں کا اہتمام کرتے چلے آرہے جن کا سلسلہ ادھر ٹوٹا ادھر جڑا کی طرح ہے۔ اس میں تمام مسالک کے دانشور شریک ہو کر دلیل سے اپنی رائے پیش کرتے ہیں اور دلیل سے دوسروں کی بات سننے کاحوصلہ کرتے ہیں۔ یہ اقدام ایک دوسرے کے افکار سے آگاہی اور سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ اس سلسلہ کو ملک کے ہر اہم شہر تک پھیلانے کی ضرورت ہے۔

٭        آپ کا اہم ترین کام”ملی یکجہتی کونسل“ کا احیاءہے۔ اس کے لےی آپ نے قابل قدر کاوشیں کی ہیں۔

آپ اپنی نجی محفلوں میں اس بات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ مذہبی جماعتوں کو تکفیریت،فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف جمع ہونا چاہیے۔ آپ یہ درد دل ہر اس شخص پرآشکار کرتے جس کے اندر ذرا سی چنگاری نظر آتی۔ ان کی نظریں بار بار محترم قاضی حسین احمد مرحوم کی شخصیت سے طرف اٹھتی تھیں اور آپ اس کا تذکرہ مرحوم سے بارہا کر چکے تھے۔ آخر ایک دن جب قاضی صاحب نے امیر جماعت اسلامی کی ذمہ داری سے فراغت پائی تو آپ کی گویا دل کی مراد پوری ہو گئی۔آپ نے قاضی مرحوم سے پے درپے

ملاقاتیں کرکے انھیں قائل کیا کہ اب ”امت محمدی کے اتحاد ووحدت“ کے لیے کام کریں گے۔ یوں ”ملی یکجہتی کونسل“ جو کہ برائے نام رہ گئی تھی وہ کچھ قدیم اصولوں اورکچھ جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحوم قاضی حسین احمد کی قیادت میں فعال ہو گئی۔ بہت سی نئی جماعتوں اور اداروں کواس میں نمائندگی دی گئی۔ اس دن سے آج تک یہ پلیٹ فارم اپنی ذمہ داریاں، احسن طریقے سے ادا کررہا ہے۔ آپ بغیر کسی ستائش و امید کے متواتر اس کے بنیادی امورانجام دے رہے ہیںگو کہ اس سے آپ کا تحریری و علمی کام قدرے متاثر ہوا ہے مگر یہ کارنامہ جس کی وجہ سے امت اسلامیہ پاکستان ایک پلیٹ فارم پر جمع نظر آتی ہے، کے اثرات ابدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

آپ کے اور بہت امور ہیں جنھیں سامنے لانے کی ضرورت ہے مگر طوالت کے پیش نظر اسی پر اکتفا کرتے ہیں، آپ نے جب سے نظریہ وحدت امت کو اپنایا ہے اس میں وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ مزید پختگی آتی جارہی ہے۔

آپ سفر میں ہوں یا حضر میں، یہی درد امت جسے بقول مرحوم قاضی حسین احمد”درد مشترک“ کے نام سے یاد کرتے ہیں کو اپنا حرز جاں بنائے ہوئے ہیں۔ ہر صبح آپ اس امید سے کرتے ہیں کہ امت کے اتحاد کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ اللہ اس عزم کو مزید توانا کرے۔ آمین۔

         

 

 

 

 

 

پبلیکشنز

  • نقیب وحدت
    نقیب وحدت
  • حروف مقطعات
    حروف مقطعات
  • تاریخ یعقوبی
    تاریخ یعقوبی
  • چلو ایران کو چلتے ہیں
    چلو ایران کو چلتے ہیں
  • نغمہ یقیں
    نغمہ یقیں
  • پاکستان کے دینی مسالک
    پاکستان کے دینی مسالک
  • اسلامی معیشت میں بچت اور سرمایہ کاری
    اسلامی معیشت میں بچت اور سرمایہ کاری
  • فقہ اور عرف
    فقہ اور عرف
  • فقہ اور عقل
    فقہ اور عقل
  • ہیومنزم کی نظر میں خدا اور دین
    ہیومنزم کی نظر میں خدا اور دین
  • صحیفہ انوریہ
    صحیفہ انوریہ
  • پاکستان کا نظریاتی بحران اور اقبال
    پاکستان کا نظریاتی بحران اور اقبال
  • جماعت اسلامی پاکستان ایک حاصل مطالعہ
    جماعت اسلامی پاکستان ایک حاصل مطالعہ
  • دلائل وجود باری تعالی ملا صدرا کی نظر میں
    دلائل وجود باری تعالی ملا صدرا کی نظر میں
  • میری یادیں
    میری یادیں
  • تعلیم الاحکام
    تعلیم الاحکام
  • قرآن اور ہمارا عقیدہ
    قرآن اور ہمارا عقیدہ
  • زلیخا عشق مجازی سے عشق حقیقی تک