تری قتل گاہ سے وقت عصر
ترے خوں کا رنگ لیے ہوئے

 




کَہ نہ سکے جو پیاروں سے
باتیں کیں دیواروں سے

 




چلو چلتے ہیں اس در پر اگرچہ وقت شام آیا
در زہراؑ سے کب کوئی ہے بے نیل و مرام آیا

 




جو نام’’ حضرت شبیرؑ ‘‘ لکھ دیا جائے 
لقب ’’رسول ؐ کی تصویر ‘‘ لکھ دیا جائے 

 




مالکِ چادرِ عصمت ہے اور تطہیر کی ملکہ ہے 
باپ نے جس کو عطا کردی خلعت اُمّ ابیھا ہے

 




ماتم شہ میں جو ہم ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں
پایۂ تختِ ستم شاہی ہلا دیتے ہیں

 




اب بہت تھوڑی سی ہے مہلتِ ہجراں جاناں!
ہو گیا خستہ شکستہ قفسِ جاں جاناں!

 




وہ شجر ہے کہاں سرکوہ بتا
تو جس کی اوٹ میں چھپ چھپ کر

 




دنیا والوں نے خواب دیکھا ہو
چاند آنگن میں میرے اُترا ہو

 




کہنے لگے حسین ؑ کہ اے ربِّ دو سرا
دوراہے پر ہے ظالموں نے لا کھڑا کیا