کوثرِ الفت کے چھینٹے میرے گیتوں کا نکھار
شعر بکھرائیں مرے تیری مودّت کی پھوار

 




سنتے ہیں پھر قسیمِ درد مائلِ التفات ہے
دل کی دھمک میں گونج ہے سینے پہ پھر سے ہات ہے

 




کب کہا میں نے کہ مینار کلیسائی دے
بانٹنے والے مجھے فیضِ مسیحائی دے

 




میں کہاں جنت ماویٰ کے لیے مرتا ہوں
باغِ رضواں کی طلب اُن کے لیے کرتا ہوں

 




اک سوز کہانی ہے اک درد کا قصّہ ہے
اور اس سے سوا یہ غم کس کنبے نے جھیلا ہے

 




شبِ ہجرانِ غم انگیز ہماری خاطر
ایک طوفانِ بلا خیز ہماری خاطر

 




دنیا والوں نے خواب دیکھا ہو
چاند آنگن میں میرے اُترا ہو

 




’’دُر دریائے سرمد است علیؑ
جانشینِ محمدؐ است علیؑ‘‘

 




شب کا مسافر
تیرہ شبی میں

 




برس برس سے مری ارضِ جاں پہ چھائے ہیں
عجیب ٹھہرے ہوئے وحشتوں کے سائے ہیں