سید نثار علی ترمذی

سید نثارعلی ترمذی


محقق و مصنف جناب سید نثار علی ترمذی روز اول سے البصیرہ سے وابستہ ہیں۔ وہ البصیرہ کے لاہور چیپٹر کے مسؤل بھی ہیں۔ پیام کے صفحات پر ان کی تحریریں ہمیشہ قارئین سے خراج تحسین وصول کرتی رہتی ہیں۔ اتحاد امت کے حوالے سے ان کی علمی و عملی کاوشیں طویل اور گراں قدر ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی دو نہایت اثر انگیز کتب بھی منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک ’’نقیب وحدت: علامہ عارف حسین الحسینیؒ ‘‘ ہے اور دوسری ’’مولانا مودودیؒ : داعی اتحاد امت‘‘ ہے۔ ان کتب کے نام ہی ان کے مندرجات کے موضوع اور مقاصد کو جاننے کے لیے کافی ہیں۔ ان کی پہلی کتاب پر تقریظ رقم کرتے ہوئے البصیرہ کے صدر نشین سید ثاقب اکبر لکھتے ہیں:
راقم کی سوچی سمجھی رائے میں شہید راہ حق علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کے مخلص رفیق سید نثار علی ترمذی نے اتحاد امت اسلامی کے موضوع پر اُن کے افکاروکردار پر مشتمل یہ کتاب تالیف کرکے جہاں ان کی رفاقت کا حق ادا کیا ہے وہاں امت اسلامیہ کے درد کے درماں کے لیے اس نسخۂ کیمیا کی ایک مرتبہ پھر نشان دہی کی ہے جو قرآن و سنت میں بہت نمایاں طور پر مذکور ہونے کے باوجود امت میں مہجور اور فراموش شدہ ہے۔ امت کی پس ماندگی و رسوائی کا علاج اسی کے سوا اور کسی نسخے سے ممکن ہی نہیں۔ یہ کتاب امت اسلامیہ کے ہر دردمند دل کی آواز ہے تاہم شہید زندہ علامہ حسینیؒ کے چاہنے والوں کے لیے خاص طور پر ایک بصیرت افروز تحفہ ہے۔ ان کے افکار زندہ کا مطالعہ کرکے ان کی راہ وروش سے گہری آشنائی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ورق گردانی کے دوران میں شہیدؒ کی پاک روح سے قاری کے پیمانِ وفا کی تجدید ہوجائے یا کسی کے دل میں وحدت امت کے لیے جذبہ پیدا ہوجائے تو سمجھیے برادر عزیز سید نثار علی ترمذی کی زحمت ہی ان کے بے قرار دل کے لیے وجہ تسکین ہوگئی ہے۔‘‘
جب کہ سید نثار علی ترمذی کی دوسری کتاب ’’مولانا مودودیؒ :داعی اتحاد امت‘‘ پر ’’حرفے چند‘‘ کے زیر عنوان انھوں نے اس کتاب کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ اس میں انھوں نے جناب نثار علی ترمذی کی اس لائق قدر کاوش کو بھی مختلف الفاظ میں سراہا ہے اور ضمناً ترمذی صاحب سے اپنی رفاقت کا بھی ذکر کیا ہے: چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
ہمارے رفیق دیرینہ سید نثار علی ترمذی نے کئی برسوں کی محنت اور مسلسل تگ و دو سے یہ اوراق مرتب کرکے ہمارے لیے پیش کیے ہیں۔ ’’مولانا مودودیؒ : داعی اتحاد امت‘‘ ان کے سلسلہ تحریر و تحقیق کا دوسرا نقش دل آویز ہے۔ قبل ازیں ’’نقیب وحدت: علامہ عارف حسین الحسینیؒ ‘‘ کی تالیف لطیف کا قابل قدر کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ سید نثار علی ترمذی جنھیں ہم ’’نثار بھائی‘‘ کہتے ہیں اول روز سے البصیرہ کے فکر و عمل کا حصہ ہیں۔ ان کی جوانی بھی پرخلوص دینی جدوجہد میں گزری ہے۔ وہ ہمیشہ سے ایک باوقار، فعال اور حوصلہ مند ساتھی کی حیثیت سے ہماری کاوشوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ عالمِ اسلام کے مسائل پر نظر رکھتے ہیں۔ اتحاد امت کے نظریے سے ان کی وابستگی علیٰ وجہ البصیرہ ہے۔
برادر عزیز سید نثار علی ترمذی کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے مولانا مرحوم کے وسیع اور متنوع لٹریچر کا جانفشانی سے مطالعہ کیا ہے۔ اس میں سے بہت مفید اور کارآمد حصوں کو اپنے موضوع کی مناسبت سے انتخاب کیا ہے، اسے مرتب اور حوالوں سے مزین کرکے دل درد مند رکھنے والے احباب کی خدمت میں پیش کردیاہے۔ انھوں نے اس ضمن میں مولانا پر ہونے والے اعتراضات اور مولانا کی طرف سے دیے گئے جوابات کو بھی عمدگی سے جمع کیا ہے نیز مولانا مرحوم کے بعض اہم اقدامات کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ امت اسلامیہ کی وحدت واتحاد کے لیے کیسا محکم اور واضح موقف رکھتے تھے۔
تاریخ اسلامی میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ کسی ایک مسلک سے تعلق رکھنے والی کوئی شخصیت دوسرے مسلک کے خلاف ہونے والے غلط پراپیگنڈا کے ابطال کے لیے قلم اٹھائے یا کسی دوسرے مسلک سے تعلق رکھنے والی شخصیت کے مثبت کردار کو نمایاں کرنے کے لیے قلم فرسائی کرے لیکن اس میں شک نہیں کہ ایسا ہونا شاذ و نادر ہی ہے کیونکہ اس کے لیے بہت بڑا حوصلہ اور عالی ظرفی درکار ہے۔
سید نثار علی ترمذی آج ایسے ہی مفاخرِ امت میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ شیعہ پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھیں مولانا مودودیؒ کے لٹریچر میں موجود ان فکری و فقہی پہلوؤں کا خوب ادراک ہے جو شیعی نقطۂ نظر سے مطابقت نہیں رکھتے لیکن جمال وزیبائی کے عاشق ہمیشہ حسن و جمال ہی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ انھوں نے مولانا مرحوم کے فکرو عمل کے ان جوانب پر نگاہ ڈالی جو ساری امت کے لیے مفید اور گراں قدر ہیں انھیں میں سے اتحاد و اتفاق کے لیے ان کی مساعی بھی ہیں جنھیں بہت سلیقے سے ترتیب دے کر موصوف نے اس کتاب میں پیش کردیا ہے۔

  • مشاہدات: 319